Logo
Meri Masom Kali
26 Episodes
Meri Masom Kali EP 13
Episode 13

میری معصوم کلی 13

Meri Masom Kali


تیرواں حصہ - 13th Part

 

ہما کے لیے دو بچیوں کو پالنا مشکل عمل تھا تو اس نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ تیری رضا کے لیے اس بچی کو پال رہی ہوں۔ بچی کے بارے میں جھوٹ بھی مجبور ہو کر بول رہی ہوں تاکہ میرا شوہر خوبصورت بچی پا کر خوش ہو جائے اور میرا گھر بچا رہے۔ اور دوسرے یہ معصوم کلی میرے شوہر کے برے برتاؤ سے بچی رہے گی۔ جب موقع ملے تو سچائی بتا دوں گی۔ وہ دونوں کے ساتھ برابر امتیازی سلوک روا رکھنے لگی۔ پڑوسن خالہ اس کے حسن سلوک کو دیکھ کر متاثر ہوتی۔ 

سسر اٹھتے بیٹھتے دعائیں دیتے وہ بیٹے کو جانتے تھے وہ بھی بہو کے فیصلے سے متفق ہو گئے۔ وہ بیٹی کے غم سے نڈھال تھے پھر پوتی اور نواسی سے دل بہلانے لگتے۔ وہ بیٹی کو یاد کر کے روتے۔ انہیں آخری دیدار بھی بیٹی کا نصیب نہ ہوا۔ وہ بہت بیمار اور کمزور رہنے لگے تھے۔ بیٹے کے پاکستان آتے ہی جلد اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔

ساجد عروبہ کو دیکھ دیکھ کر جیتا تھا۔ اس نے دن رات کے لیے ملازمہ رکھ لی تھی۔ اگر دونوں بچیاں اکھٹی روتی تو ساجد چیختا تو وہ پہلے اسے بہلاتی اور نتاشا کو ملازمہ کے حوالے کر دیتی۔ ساجد اپنی عروبہ کے خوب ناز نخرے اٹھاتا اس کی ہر خواہش پوری کرتا۔ اس کو کوئی کام نہ کرنے دیتا۔ ہما سمجھاتی

"کل کلاں اس کی شادی ہونی ہے اس کو کام کاج سیکھنے دیں اگلے گھر جا کر کیا کرے گی۔"

وہ تڑخ کر جواب دیتا

"میں اس کی شادی ایسے لوگوں میں کروں گا جو اس کو شہزادی بنا کر رکھیں گے اور کام کاج نہیں کرنے دیں گے۔" 

وہ پوچھتی کھبی ایسا سسرال دیکھا ہے تو وہ کہتا

"پھر میں اس کی شادی ہی نہیں کروں گا۔" 

وہ آہ بھر کر یہ کہتی اٹھ جاتی 

"آپ سے کون بحث کرے"



سعد کا آفس ہما کے گھر کے نزدیک ترین تھا تو ساجد اور ہما کا اسے سختی سے آرڈر تھا کہ وہ لنچ بریک میں ادھر آ کر کھانا کھائے گا۔ پھر ہما نے اسے ریکویسٹ کی تھی کہ وہ آفس سے واپسی پر نتاشا کی پڑھائی میں مدد کر دیا کرے۔ نرگس مروت میں مان گئی ایک تو اس کے بیٹے کو گھر کا کھانا نصیب ہو رہا تھا دوسرے وہ جانتی تھی کہ ہما کو نتاشا کی پڑھائی کی بہت فکر رہتی ہے وہ اسے ایم بی اے کروا رہی تھی پرائیوٹ طور پر۔

نتاشا کے لیے سعد کی کمپنی نعمت تھی۔ ایک ماں کے بعد وہی اس کو عزت سے مخاطب ہو کر حال بھی پوچھتا۔ تو وہ سارے وقت میں اس کے آنے کا انتظار کرتی رہتی۔ وہ جانتی تھی کہ سعد اور عروبہ کے بارے میں سنتی آئی تھی کہ نرگس خالہ اسے بچپن سے اپنی بہو بنانے کے بارے میں بولتی رہتی تھی۔ اور کسی کو بھی اس رشتے پر اعتراض نہ تھا۔ سعد ہر وقت مزاق اڑاتا نہ جانے میری ماں کو اس بھوتنی میں کیا نظر آتا ہے۔ مجھے تو یہ پوری چڑیل لگتی ہے سب مسکراتے۔ خالہ پیار سے ڈانٹ دیتی کہ خبردار جو میری لاڈلی بھانجی کے بارے میں کچھ بولا تو لاکھوں میں ایک ہے۔ دنیا میں اس جیسی خوبصورت کوئی نہیں۔ عروبہ مسکرا کر آنی کہہ کر نرگس کے گلے لگ جاتی اور عروبہ اسے انگوٹھا دیکھاتی وہ جواب میں مسکرا کر سر جھکا لیتا۔

عروبہ سعد سے فالتو بات کھبی نہ کرتی، نہ اسے لفٹ دیتی بلکہ ہر وقت کانوں میں ہیڈفون لگائے اسی میں مگن رہتی۔ نتاشا سعد کی خدمتگار بنی رہتی۔

سعد اپنی فرمائشیں کرتا۔ نتاشا آج چائے کے ساتھ پکوڑے تو بنا لو وہ مسکراتی ہوئی چل پڑتی۔ پکوڑے بنا کر عروبہ کے آگے بھی رکھ دیتی۔ کبھی کیچپ دینا بھول جاتی تو وہ اسے ڈانٹ کر بلاتی۔ سعد اسے سرزش کرتا تو وہ اسے جتا کر کہتی یہ میرے ڈیڈ کا گھر ہے۔ یہ اس گھر کی ملازمہ ٹائپ رشتہ دار ہے۔ اس لیے میں اسے ہر وقت اس کی اوقات یاد دلاتی رہتی ہوں۔ نرگس پرجوش طریقے سے اس کی بات کی تائید کرتی۔ سعد افسوس کرتا رہ جاتا۔ نتاشا کی آنکھوں میں آئی نمی کو محسوس کرتا اور اس کی دلجوئی میں لگ جاتا۔ اس سے ہنسی مزاق کی باتیں کرتا تو وہ جلد سب کچھ بھول جاتی۔ جب سے وہ بڑی ہو رہی تھی ہما اب کافی حد تک اس کے فیور میں شوہر کو سنا جاتی۔ عروبہ کو بھی سمجھانے لگ جاتی مگر وہ باپ کی شہ پر اثر نہ لیتی۔

عروبہ سعد کے آنے یا نہ آنے پر کسی کوئی تاثر نہ دیتی۔ وہ نتاشا کو پڑھاتا اس سے فری ہوتا،اس سے ہنسی مزاق کرتا حتکہ اس کی تعریفیں بھی کرتا رہتا مگر عروبہ پر کچھ اثر نہ ہوتا۔ سعد ہر وقت اس پر طنز کرتا رہتا کھبی وہ جواب دیتی کھبی جواب دینا بھی ضروری نہ سمجھتی۔

عید وغیرہ کے موقع پر وہ پارلر سے تیار ہو کر آتی ہر کوئی تعریف کرتا مگر سعد دیکھتے ہی کہتا بھوتنی آ گئی۔ وہ کھبی چڑتی کھبی دھیان نہ دیتی۔ جبکہ وہ نتاشا کی بہت تعریف کرتا کھبی اس کے کھانے کی، کھبی اس کو جو اسٹور نما کمرہ ملا تھا اس کی صفائی ستھرائی اور سلیقے کی۔ جبکہ وہ عروبہ کے کمرے کی خوب برائی کرتا۔ وہ کھبی ان کے کمروں میں گیا نہیں تھا مگر دروازے دونوں کے کمروں کے کھلے رہتے تھے اور عروبہ اس لیے نہ بند کرتی تھی کہ اس نے کمرے میں بیٹھ کر نتاشا کو چارجر پکڑانے اور چارجر لگانے تک کے لیے بھی آوازیں دیتی رہتی تھی۔ سعد نتاشا سے کہتا تم کیوں اس کا ہر حکم ملازموں کی طرح مانتی ہو۔ تمھارے یہ نانا کا بھی گھر ہے ماموں کا بھی گھر ہے تمھارا بھی اس گھر پر حق ہے۔ تو وہ جواب میں کہتی ایک ماں کے علاوہ کوئی میرے ساتھ رشتہ نہیں جوڑتا تو وہ دکھ محسوس کرتے ہوئے لاجواب ہو جاتا۔

ساجد نے بیوی سے کہا 

"عروبہ جوان ہو گئی ہے اور پڑھائی سے بھی فارغ ہے، آپا سے کہو کہ آ کر شادی کی تاریخ طے کریں۔"

ہما نے نرگس کو فون کر کے ساجد کا پیغام دیا تو اس نے جو جواب دیا وہ ہما کے لیے شاک سے کم نہ تھا۔


جاری ہے۔ 

دعاگو رائٹر عابدہ زی شیریں

پلیز اسے لائک، شئیر اور کمنٹ کرنا نہ بھولیں۔ جزاک اللہ۔



Continue Reading
Episode 14
میری معصوم کلی 14

Reader Comments

No comments yet. Be the first to share your thoughts!

Log in to leave a comment.

Related Novels

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Premium Membership

Unlock the Full Library

One subscription. Every story. Unlimited reading.

PKR 300
30 Days of Unlimited Access
Go Premium Now

Secure payment  ·  Instant access

Full Novel Library
Access every premium & exclusive novel — no episode locked
Unlimited Reading
Read as much as you want, whenever you want, at your pace
Support the Author
Your subscription directly supports Abida Z Shireen's work
New Episodes First
Be the first to read every new episode as soon as it drops
A F S R N
Join thousands of readers already enjoying premium access
Loved by readers
Our Literary World

Experience the Best Urdu Novels Online

Dive into decades of storytelling by Pakistan's most beloved author, now at your fingertips.

50+
Published Novels
30+
Years of Writing
1M+
Readers Worldwide
100%
Authentic Stories
01

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Read Her Story
Abida Z Shireen
Author
02

Captivating Novels & Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Browse All Novels
Reading Urdu Novels on Tablet and Phone
Novels
03

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen's verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Explore Poetry
Elegant Desk with Pens and Books
Poetry