Meri Masom Kali
26 Episodes
بائیسواں حصہ - 22nd Part
سعد نے دادی سے کہا
'اس کی خوشی عروبہ سے ہے۔ باقی اب آپ کی مرضی۔"
بیٹے کی خوشی کا سوچ کر باپ پگھل گیا اور دادا نے بھی ہاں میں ہاں ملائی کہ ہمیں بچے کی خوشی دیکھنی ہے۔
اب ہما سخت پریشان تھی۔ عروبہ رو رہی تھی ساجد اس کے رونے سے تڑپ رہا تھا اچانک اس کی طبیعت خراب ہو گئی۔ نتاشا پاس تھی اس کی حالت دیکھ کر تڑپ کر اسے تھاما اور چلا چلا کر پاپا کرنے لگی۔ ساجد اسے اپنے لیے اتنا مضطرب اور تڑپتا دیکھ کر حیران رہ گیا، سب جمع ہو گئے۔ عروبہ بھی پریشانی سے ڈیڈ ڈیڈ کرتی آگے بڑھی۔ سعد جلدی سے ہاسپٹل لے گیا۔ سب ساتھ چلے گئے صرف نرگس اور اس کی ساس گھر پر رہی۔
ڈاکٹر نے چیک کیا اور کہا
" minor سا دل کا اٹیک ہوا ہے انہوں نے کوئی stress سے دور رکھیں ورنہ ان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔"
ساجد ہوش میں آ چکا تھا۔ باہر سے اسے سب کی آوازیں آ رہی تھیں۔ سب سے زیادہ نتاشا کی آواز میں تڑپ تھی، جو سعد سے بار بار پوچھ رہی تھی سعد میرے پاپا کیسے ہیں ڈاکٹر نے کیا کہا ہے۔
ڈاکٹر نے جب ملنے کی اجازت دی تو سب سے پہلے تیزی سے نتاشا بھاگتی اندر پہنچی اور اس کا ہاتھ پکڑ کر روتے ہوئے بولی
"پاپا کیسے ہیں آپ۔"
اس نے گردن ہلا دی پھر وہ ڈاکٹر کے گرد ہو گئی۔
"ڈاکٹر صاحب میرے پاپا ٹھیک ہو جائیں گے نا۔"
اس نے اس کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھا اور ساجد سے بولا
"بھائی آپ کی بیٹی تو بہت پریشان ہے آپ خود انہیں تسلی دیں کہ آپ ٹھیک ہیں"
اور باہر نکل گیا۔ ہما جو بے آواز رو رہی تھی اٹھی اور نتاشا کو گلے لگا کر تسلی دیتے ہوئے بولی
"فکر نہ کرو صبر کرو"
ڈاکٹر نے انہیں سٹریس سے منع کیا ہے تمہارے اس طرح پریشان ہونے سے انہیں سٹریس ملے گا تو وہ فوراً چپ ہو گئی۔
نتاشا اتنے پراعتماد طریقے سے رو رو کر ساجد سے بات کر رہی تھی کہ عروبہ بھی حیران تھی کہ وہ اس کے ڈیڈ سے اتنا پیار کرتی ہے۔
نرگس کا سسر بھی نتاشا کے سر پر پیار سے ہاتھ رکھ کر تسلی دے رہا تھا اور ساجد حیرانگی کے ساتھ دل میں شرمندگی محسوس کر رہا تھا کہ وہ اسے باپ کا درجہ دیتی ہے اور اس نے اسے کھبی بیٹی کا درجہ نہیں دیا۔
عروبہ بھی باپ کے پاس آئی اور ہاتھ پکڑ کر پیار جتانے لگی مگر ساجد کو اس کے پیار میں وہ گرم جوشی اور تڑپ نہ نظر آئی جو نتاشا میں تھی۔ وہ سوچنے لگا جس بیٹی کی محبت میں اتنا سٹریس لیا کہ ہاسپٹل پہنچ گیا وہ نارمل انداز میں سب کو کہہ رہی ہے فکر کی کوئی بات نہیں۔ ابھی تھوڑی دیر تک ہم ڈیڈ کو گھر لے جائیں گے اور نتاشا انتہائی پریشان لگ رہی ہے۔
ساجد کو گھر لے آئے تو نتاشا کھبی سوپ بنا کر زبردستی پلا رہی ہے اور کھبی دلیا بنا کر لا رہی ہے۔
ساجد کے گھر آنے کے کچھ دیر بعد نرگس لوگ بغیر ہاں یا نہ کیے چلے گئے۔
ساجد چند دن تک ٹھیک ہو گیا اب اس کا رویہ نتاشا سے بہتر ہونے لگا جب وہ زبردستی اسے کچھ کھلاتی تو پیار سے احتجاج کرتے ہوئے کہتا
"بس بیٹا"
اب وہ اسے کبھی کبھار بیٹا پکارنے لگا۔ عروبہ اگر اسے کچھ سناتی تو وہ عروبہ کو ٹوک دیتا عزر یہ دیتا کہ اب یہ عادت تمہیں چھوڑنی پڑے گی۔ سعد کے گاؤں والے سنیں گے تو نہ جانے کیا ہو۔ تو اس نے کافی حد تک اسے تنگ کرنا چھوڑ دیا تھا اسے تو اب بس ایک ہی ٹاپک ملا تھا ہائے کیا ہو گا سعد کی دادی مانے گی یا نہیں۔ باپ نے صاف کہہ دیا کہ اب کوئی غلطی کی گنجائش نہیں ہے تمہیں عروبہ کو فالو کرنا پڑے گا تب ہی تم منزل کو پا سکو گی۔ تو اس نے اب نتاشا سے روٹی پکانا سیکھنا شروع کر دیا۔
ساجد سعد سے اکثر فون پر پوچھتا کہ دادی مانی تو وہ کہتا ابھی نہیں لیکن آپ فکر نہ کریں میں کوشش کر رہا ہوں امید ہے کہ انشاء اللہ مان جاہیں گی۔
نتاشا جو پہلے عروبہ سے دبی دبی رہتی تھی۔ اب اس میں کمی آ چکی تھی عروبہ حیران تھی کہ نتاشا کو اب ڈیڈ کچھ اہمیت بھی دینے لگے ہیں۔ مجھے بھی اسے اب کچھ نہیں کہنے دیتے نہ خود کچھ کہتے ہیں۔ اس کے باوجود نتاشا نہ تو غرور میں آئی ہے نہ ہی اس نے اسے سکھانے میں کوئی احسان جتایا ہے اور نہ ہی اسے کھبی پرانے برے روئیے کے باعث کھبی کچھ جتلانا ہے۔ بلکہ اسے ہر چیز دل سے سکھاتی ہے۔ اور اسے لگتا اب وہ پہلے سے زیادہ اس سے پیار کرتی ہے۔
ہما نے ساجد سے کہا کہ گراسری لانی ہے تو ہمیشہ ہما، نتاشا اور ساجد جاتے۔ عروبہ کو اس طرح کی شاپنگ کرنے کے لیے جانے کا کوئی شوق نہ تھا وہ گھر پر رہی اور آجکل وہ گھر کے کاموں میں دلچسپی لے رہی تھی۔ باپ نے کہا تھا کہ جلد از جلد سارے کام سیکھ لو تاکہ کھبی تمھارے اوپر ایسا موقع آئے تو کامیابی ملے۔ ادھر سے نرگس نے بھی اس کی جان کھائی ہوئی تھی کہ جلد سارے کاموں میں پرفیکٹ ہو جاؤ تاکہ اگر ایسا کوئی موقع آئے تو کوئی شرمندگی نہ ہو۔ صرف دو سال کے لیے محنت کر لو پھر سعد تمہیں باہر ساتھ لے جائے گا اسے فیملی ویزہ مل جائے گا۔
عروبہ مستقبل کے خواب بننے لگی کہ وہ سعد کے ساتھ ملک سے باہر جائے گی ابھی تک وہ جہاز میں بھی نہ بیٹھی تھی اسے ملک سے باہر جانے کا اور جہاز میں سفر کرنے کا بہت شوق تھا۔ اس کا اظہار وہ ساجد سے کئی بار کر چکی تھی اور اس نے پرامس کیا تھا کہ وہ اسے ملک کے کسی شہر کے سفر میں جہاز پر لے کر جائے گا مگر اسے ابھی تک دفتری معاملات سے فرصت نہ ملی تھی۔
نتاشا اسے دل سے کام سکھاتی تھی اور کافی کام وہ سیکھ چکی تھی ذہین تھی بہت جلدی سیکھ لیتی تھی۔ پھر نئی نئی ڈشز نیٹ سے بھی سیکھ رہی تھی اپنے مطلب کے لیے۔ اب نتاشا سے فالتو بات تو نہ کرتی تھی مگر طنز کرنے کافی کم کر دیے تھے۔ اب اگر اپنی عادت کے مطابق اگر کر بھی جاتی تو نتاشا کاچہرہ اب پرسکون ہی رہتا اور وہ پہلے کی طرح دکھی صورت نہ بناتی۔ عروبہ اس کے confidence پر حیران تھی۔
آج وہ اپنے ڈیڈ کو خوش کرنے کے لیے کریلے گوشت پکا کر چولہا بند کر کے جلدی جلدی آٹا گوندھ رہی تھی کہ وہ لوگ آنے والے تھے اور ساجد کو گھر کی روٹی پسند تھی۔ ہاتھ آٹے سے بھرے ہوئے تھے کہ باہر ڈور بیل بجی وہ بمشکل دوپٹہ کر کے غصے سے گئی کہ آج ان بچوں کو سیدھا کرتی ہوں جو بال کے لیے ٹائم بے ٹائم بیل کرتے رہتے ہیں دروازہ کھولا تو سامنے نرگس اپنی ساس کو تھامے کھڑی تھی اور باقی سب پیچھے تھے۔ وہ گھبرا سی گئی جلدی سے ہاتھوں کی طرف دیکھا اور بولی
"دراصل میں آٹا گوندھ رہی تھی۔"
وہ لوگ اندر آ گئے اور اس نے سعد سے کہا
'پلیز تم انہیں بٹھاؤ میں آتی ہوں۔"
جلدی سے آٹا فائنل کیا، اس کے کام کرنے کی سپیڈ بھی کافی تیز تھی۔ آج اس نے ڈیڈ کے لیے کھیر بھی بنائی تھی۔ جلدی سے ڈیڈ کو فون پر بتایا اس نے جوس پلانے کا کہا وہ ان کے لیے جوس ڈال کر سلیقے سے دوپٹہ لیے اندر گئی اور سب کو جوس پیش کیے۔ دادی نے اسے بڑے غور سے دیکھا وہ دل میں سوچنے لگی کہ کسی کو جیتنے کے لیے کتنے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ اس پینڈو سی بڑھیا کو کتنا پروٹوکول دینا پڑ رہا ہے۔ اس نے سوچا بس ذرا شادی ہو جانے دو پھر گاؤں میں میں کیسے ان پیڈوؤں کو پوچھوں گی اپنی مرضی کروں گی۔
جاری ہے۔
دعاگو رائٹر عابدہ زی شیریں
پلیز اسے لائک، شئیر اور کمنٹ کرنا نہ بھولیں۔ جزاک اللہ۔

Reader Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts!
Log in to leave a comment.