Pyar Nay Dard Ko Chun Liya
Episodes
دعا کو اور گھر والوں کو ملک وحید کے گھر والوں کے بارے میں یہ سوچنا کہ دعا اور اس کے گھر والوں کا یہ ان کو اچھا نہیں لگے گا متاثر کر گیا ورنہ وہ لوگ چاہتے تو ٹرک بھر کر لا سکتے تھے مگر انہوں نے شوآف نہیں کیا۔ ہاں البتہ مٹھائیاں اور پھل وہ اتنا لے کر آئے کہ پورے گاؤں میں بانٹنے کے لئے کافی تھا۔
دعا سمپل مگر خوبصورت جوڑا دیکھ کر بہت خوش ہوئی جب اس نے سنا کہ ملک وحید نے سب اس کی پسند کو مدنظر رکھتے ہوئے اور خود اپنی پسند سے شاپنگ کی ہے تو وہ بہت متاثر اور خوش ہوئی کہ ایک تو اس کی چواہس بہت اچھی تھی دوسرا اس نے تینوں جوڑے اس کے ناپ کے سلے ہوئے تھے جس کے لئے انہوں نے اس سے دعا کا ساہز مانگا تھا تو دعا گاوں کے ہی ایک ٹیلر سے سلواتی تھی اور اس ٹیلر کی بہن نے سلائی کا کورس کیا ہوا تھا اور اس کی بہن گھر پر ہی کسٹمر کے کیڑے سلائی کرتی تھی اور دعا اسے گھر جا کر اپنی پسند کے سمپل ڈیزائن سمجھا کر آتی تھی اور وہ بہت بہترین کپڑے سلائی کرتی تھی دعا کی مدد سے ہی اس نے گھر میں ہیلپرز رکھی ہوئی تھیں دعا نے اس کے کام کو بڑھانے کے لئے نیٹ ورک بھی کیا تھا جس سے وہ بہت خوش تھی کہ تمام گھر والوں کو گھر بیٹھے کاروبار مل گیا تھا اور وہ اسے دعائیں دیتے تھے ان سے ایان نے ان کو ملوا دیا تھا اور ملک وحید نے خود ہی سمپل اور اچھے ڈیزائن ان کو بتاے تھے اور اس وقت تک ملک وحید صرف منگنی کے حساب سے اس نے شاپنگ کی تھی خود اپنی پسند سے۔ جب جانے سے تھوڑی دیر پہلے باپ نے ملک وحید کو سرپراہز دیا کہ آج نکاح ہے منگنی نہیں تو پوچھا اب کیا شاپنگ بڑھانی ہے کیا جیولرز اپنا خاندانی ہے اس سے بھاری زیورات منگواے جا سکتے ہیں مگر ملک وحید نے صاف منع کر دیا کہ ایک زرا بھر بھی فالتو شاپنگ نہیں ہو گی سب کچھ مناسب ہے۔ اگر وہ اچھے لوگ ہوے تو وہ ہماری حیثیت کو نہیں دیکھیں گے اور اتنے میں ہی خوش ہو جائیں گے۔ میں تو ہر چیز ایک ایک کر رہا تھا مگر ان گھر کی عورتوں کی وجہ سے کمازکم تین تین کی ہیں۔ انہوں نے میری جان کھا لی تھی کہ ایک ایک بہت کم ہے۔ ہماری حیثیت کے حساب سے۔ تو میں نے انہیں کہا کہ میں کسی حیثیت کو نہیں مانتا۔ حیثیت اپنی زاتی ہو تو مزہ ہے۔ باپ دادا کی چھوڑی جاہیدار سے انسان صرف دولتمند کہلا سکتا ہے نیک اور اچھا نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقام تقویٰ اور پرہیزگاری پر ہے دولت پر نہیں۔ اگر گھر والے کسی اچھی لڑکی کو جھکی میں سے بھی میرے لئے لے کر آتے تو تب بھی وہ میرے لیے اتنی ہی قابل احترام ہوتی۔
جب دعا کو ان سب باتوں کا علم ہوا تو وہ اپنے ہونے والے جیون ساتھی پر فخر محسوس کرنے لگی۔
وہ تیار ہو کر بہت پیاری لگ رہی تھی اس نے اور اس کی دوست نما بھابی نے ملکر اسے گھر پر ہی تیار کیا تھا۔ وہ بہت خوش تھی۔ خوشی دعا کے چہرے سے پھوٹ رہی تھی اور تانیہ دعا کو خوش دیکھ کر دل میں سکون محسوس کر رہی تھی۔گھر والے بھی دعا کو خوش دیکھ کر خوش تھے جو بھابی اور اس کے بھائی کی چھیڑ چھاڑ سے خوشی محسوس کر رہی تھی اور شرما رہی تھی۔
نکاح کا مرحلہ آیا تو ملک وحید کے باپ نے مولوی صاحب کو دوسرے کمرے میں انتظار کرنے کا بولا اور وقار اور ایان سے بولا کہ جو کچھ لکھنے لکھانے کے معاملات ہیں وہ ابھی پہلے طے کر لیتے ہیں بعد میں نکاح پڑھاتے ہیں۔
ایان نے وقار صاحب کو بڑی مشکل سے اس بات پر راضی کیا تھا کہ جو حق مہر شرعی ہو گا صرف وہی لکھواے گا اس سے زیادہ کچھ نہیں اگر لڑکی کی قسمت اچھی ہو تو وہ شرعی میں بھی خوش رہتی ہے اور نہ اچھی ہو تو مال و دولت اس کی قسمت نہیں سنوار سکتے ہیں۔ بس اپنے رب کی زات پر بھروسہ کر کے شرعی اصول پر چلیں گے تو وقار کو مجبوراً ماننا پڑا۔
جب ملک وحید اور اس کے باپ نے ایان اور وقار کی شرعی
حق مہر کی بات سنی تو وہ جوش و جزبات سے اٹھ کھڑا ہوا اور اٹھ کر ان کو گلے لگا لیا اور رندھی ہوئی آواز میں بولا کہ دعا کی عزت اب ہمیشہ میرے دل میں قائم رہے گی جب اسے یہ بھی پتا چلا کہ دعا نے بھی صرف شرعی حق مہر کی بات کی ہے۔
ملک وحید بھی بہت متاثر ہوا اور نکاح شرعی حق مہر پر ادا ہو گیا۔
دعا کو تیار کر کے بڑے ھال میں لایا گیا ملک وحید کو ساتھ بٹھایا گیا۔ جب اس کا سسر اسے سلامی دینے لگا تو ایان نے بڑھ کر روکتے ہوئے کہا کہ سلامی صرف شادی پر دی جاے ابھی نہیں۔ اس وقت ان کو صرف دعاؤں کی ضرورت ہے۔ تو ملک وحید کے باپ نے ایان کو پیار سے تھپکی دیتے ہوئے کہا کہ برخوردار میں تم بہن بھائی سے بہت متاثر ہوا ہوں تم لوگوں کی ماہیں الگ الگ تھیں مگر تربیت ایک ہی ہے تو پاس کھڑی مسز آفاق نے تانیہ کا ہاتھ پیار سے پکڑ کر کہا کہ یہ سب اس عظیم عورت کی تربیت ہے جس نے میرے بیٹے کو شوہر کی اولاد سمجھتے ہوئے اس کی تربیت پر دھیان دیا ورنہ وہ ایسا نہ ہوتا ابھی میں نے اسے کلی اختیار نہیں دیا تھا پھر بھی جہاں تک ممکن ہو سکا یہ اسے اچھی باتیں سمجھاتی رہتی تھی۔ اگر اس کی دسترس میں دیتی تو یہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوتا۔
تانیہ شرما سی گئی کیونکہ وقار اسے پیار اور فخر سے دیکھ رہا تھا۔
دونوں کو سب ملکر دعائیں دے رہے تھے اور مووی اور پکچرز بنوا رہے تھے کیونکہ ملک وحید نے مووی والوں کا بندوبست کیا ہوا تھا اور انہیں ہدایت تھی کہ وہ گھر سے زرا فاصلے پر انتظار کریں نکاح شروع ہونے سے پہلے انہیں بلا لیا جائے گا۔
ملک وحید نے دعا کی فرمائش پر پورے گھر میں کیمرے لگوائے ہوئے تھے۔
دعا نکاح کے وقت اپنے بابا کو یاد کر کے رونے لگی اسے دیکھ کر اس کا دادا مسز آفاق اور سب رونے لگے۔ وقار نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ میری بیٹی میرا گھر تمھارا میکہ ہے۔ اور میں تمھارا باپ۔
نکاح کے بعد ان کی جوڑی کی سب تعریف کرنے لگے۔ دعا شرمیلی مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائے بہت خوش لگ رہی تھی ساس بلاہیں لیتے نہ تھکتی تھی۔ ایک ماہ بعد ہی شادی کی تاریخ مقرر کر دی گئی۔
ملک وحید کے باپ نے کہا کہ اب ہم دو خاندان نہیں ایک ہی خاندان ہیں تو میں آپ لوگوں کی عزت ہماری عزت ہے اور ہماری عزت آپ لوگوں کی عزت ہے اس لیے میں آپ لوگوں سے درخواست کروں گا کہ ہم ملکر اس شادی کو ایک ہی جگہ سرانجام دیں۔ ایک ہی جگہ مہندی ہو اور بارات بھی اسی جگہ پر ہو اور ولیمہ بھی اسی جگہ پر دیا جائے ہم ہر فنکشن کا خرچہ آپس میں بانٹ کر کریں ایک ہی گاوں کے لوگ ہیں سوائے چند لوگوں کے سب مہمان گاوں والے مشترکہ ہیں اس سے یہ ٹینشن بھی نہیں ہو گی کہ لڑکی والے کیا سوچیں گے اور لڑکے والے کیا سوچیں گے۔
ایان اور وقار نے ان کی اس تجویز کو سراہا اور حامی بھر لی۔ تمام معاملات بخوبی طے پا گئے تو ملک وحید جو دعا کے ساتھ بیٹھا آہستہ آہستہ دعا سے گفتگو بھی کر رہا تھا اور وہ سر جھکائے دھیمے لہجے میں جواب بھی دے رہی تھی۔ خوشی ملک وحید کے چہرے سے پھوٹی پڑ رہی تھی۔جب باپ نے ایان سے جانے کی رخصت چاہی تو اس نے کہا کہ ہم نے آپ لوگوں کے لئے ایک ایک جوڑا گفٹ کا خریدا تھا اور لیڈیز کے لئے ایک ایک سونے کی رنگ۔ اور مردوں کے لئے ایک ایک موبائل جو ہم آپ کو گفٹ دینا چاہتے ہیں تو ملک وحید نے کہا کہ بہت شکریہ ان تمام گفٹس کا مگر ہم ابھی نہیں لیں گے شادی کے وقت لیں گے
۔ ایان نے کہا کہ ہم شادی پر اور دیں گے تو ملک وحید کے باپ نے کہا کہ ہم نے آپ کی مانی ہیں اب آپ کو ہماری بھی ماننی پڑے گی اور آپ نے اچھا آہیڈیا دیا ہے ہم بھی آپ لوگوں کو ایسے ہی گفٹس دیں گے مگر شادی کے وقت اور آپ کو بھی قبول کرنے پڑیں گے اگر ہماری لیڈیز کو گفٹس کا تجسس بڑھ رہا ہے تو آپ ابھی دے دیں اور اس شرط پر کہ آپ بھی یہی گفٹس ہماری طرف سے شادی پر قبول کریں گے اور یہ گفٹس ابھی دے دیں آپ لوگوں نے اتنے خلوص سے لیے ہیں تو ہم انکار نہیں کریں گے مگر شادی پر دوبارہ نہیں لیں گے اور آپ لوگوں کو شادی پر دیں گے۔
ایان نے ماں کی طرف دیکھا ماں نے کہا جی ٹھیک ہے ہم بھی آپ کے خلوص کو نہیں ٹھکراہیں گے۔
ملک وحید کے باپ نے اس کا اور سب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگوں نے ایک نئ بنیاد ڈالی ہے اور سب کچھ لین دین کو اوپن رکھا ہے کہ آپ کیا دیں گے اور ہم کی دیں گے اس سے یہ فائدہ ہوا ہے کہ ہم میں تکلفات کی دیوار ہٹ چکی ہے اور زہنی ازیت بھی ختم کہ ایک دوسرے پر برتری حاصل کرنے کے لیے خوب لین دین کیا جاتا ہے اور پھر بھی دل بےچین رہتا ہے کہ کہیں ہم ان نے ان سے کم تو نہیں برتا۔ لوگ اپنی حیثیت کو دیکھانے کے لیے اور دنیا کو خوش کرنے کے لئے ایک دوسرے پر بازی لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ مجھے یہاں رشتہ کر کے یہ شعور ملا ہے کہ بجائے اپنا شملہ اونچا رکھنے اور لوگوں میں واہ واہ کروانے کی بجائے کہ دنیا میں نام ہو کہ فلاں نے ایسی شادی کی کہ دنیا میں نام بڑھا مگر میں اب اپنے رب کو خوش کرنے کے لیے اس شادی کو سادگی سے سرانجام دوں گا اور اسراف سے بچوں گا اور وہی پیسہ بچا کر اس گاوں کی فلاح و بہبود پر لگاوں گا۔
ایان نے کہا کہ ہم بھی آپ کے ساتھ ملکر چلیں گے اور مل کر اپنے وطن اپنے گاوں کاسوچیں گے انشاءاللہ۔
ان کو تحائف دیتے ہوئے کہا گیا کہ یہ ہماری طرف سے آخری رسم ہے۔ جو ہم دونوں گھرانے اپنے گھر والوں کو خوش کرنے کے لیے کریں گے اس کے بعد کوئی ایسی رسمیں نہیں نبھائی جاہیں گی بس گھر والے ایک بار خوش ہو جائیں ورنہ ایک دم سے ان سے سب کروایا تو سب ہاسپٹل میں ملیں گے سب نے قہقہہ لگایا اور مسز آفاق نے مزاق میں کہا کہ آپ کی طرف سے مجھے گولڈ کی رنگ اور سوٹ کا انتظار رہے گا۔
ملک وحید نے کہا کہ بہن جی فکر نہ کریں کل ہی آپ سب کے گفٹس بھجوا دیں گے۔ وقار کے بیٹے نے زور سے ہرے بولا کہ ویسے بھی میرا موبائل پرانا ہو چکا تھا اور ڈیڈ لے کر نہیں دے رہے تھے اور انکل میں اپنی پسند سے لوں گا آخر ملک وحید صاحب کا آدھا گھر والا ہوں۔
ملک وحید نے ہلکہ سا سر جھکا کر دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا ویلما سالا جی آپ کو ساتھ لے چلوں گا اور لیڈیز سوٹوں کے لئے ہم لیڈیز کو بھی ان کی پسند سے لے دیں گے اگر سب کی اجازت ہو تو۔
ایان نے جواب دیا ہم اب ایک فیملی ہیں سب تیاری ایک دوسرے کی پسند سے اور اکھٹے کریں گے اور مجھے دعا کو ملک وحید کے ساتھ بھیجنے میں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ نکاح ہو چکا ہے۔ مسز افاق نے کچھ بولنا چاہا تو ایان نے اشارے سے منع کر دیا۔
ملک وحید کے گھ کی عورتوں سے صبر نہ ہوا اور انہوں نے ادھر ہی گفٹس کھول کر اور انگوٹھیاں پہن لیں۔ اور بہت تعریف کرنے لگیں اور بہت خوش ہوئیں۔
ایان نے ملک وحید کے باپ سے کہا کہ شادی کے موقع پر اگر دولہا دولہن کی پسند کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کو بجٹ دے دیا جائے کہ اس میں اپنی پسند سے شاپنگ کر لو تو کوئی حرج نہیں۔ ورنہ چیز پسند نہ آئے تو خریدنے کی خواری اور پیسہ دونوں برباد ہو تے ہیں۔ ہم شادی پر کم سے کم اخراجات کریں گے اور فالتو پیسہ برباد نہیں کریں گے انشاءاللہ۔
ملک وحید کے باپ نے تعریف کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگوں کا ہمارے خاندان کے ساتھ رشتہ ایک نعمت خداوندی ہے نکاح اگر نہ ہوتا پہلے تو شاید مجھے یہ سب مناسب نہ لگتا اور میں نہ اتفاق کرتا مگر اب مجھے کوئی اعتراض نہیں۔
ملک وحید نے سالے کو کہا سالے صاحب کل صبح تیار رہنا ہم سب شاپنگ کرنے جاہیں گے صرف ایک ویک میں اسے مکمل کریں گے اور آپ کا موباہل بھی کل آپ کی پسند سے لیں گے۔ ہمارے گھر کی عورتیں اور آپ کے گھر کی عورتیں ہم اب ایک فیملی ہیں اپنا اپنا بجٹ بھی سیٹ کر لیں گے کہ کونسی چیز کتنے بجٹ میں لینی ہے لسٹ بنا لیں گے اور اس لسٹ اور بجٹ کے حساب سے پلان کر کے شاپنگ کریں گے آپ لوگ اپنی رائے لکھیں ہم اپنی پھر اسی کو ایڈٹ کر کے پلان بنا کر چلیں گے انشاءاللہ۔
سب نے اتفاق کیا۔اادھر ہی اس مسئلے کو بھی نمٹانے کے لئے سب نے کام شروع کر دیا۔
ایان نے رات کے کھانے کا باہر سے آرڈر کر دیا۔ دونوں پارٹیوں نے لسٹ بنانی شروع کر دی۔ دونوں طرف کی عورتیں ایک طرف ہو گئی اور وقار کا بیٹا، ملک وحید اور ایان ایک طرف بیٹھ کر پلان کرنے لگے۔
ملک وحید کا باپ اور وقار صاحب نے کہا کہ ہم اس مسئلے سے باہر ہیں ہمیں جوان نسل کے فریش دماغ پر بھروسہ ہے۔ وہ اپنی باتوں میں مشغول ہو گئے۔ دادا کھبی بیٹھتے اور کھبی اٹھ کر چلے جاتے۔
مسز آفاق اور ملک وحید کے گھر والے ان سے گپ شپ کرتی رہی۔ اور ایسے لگ رہا تھا کہ وہ لوگ آپس میں کب سے ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔
جاری ہے۔
پلیز اسے لاہک، شہیر اور کمنٹ کرنا نہ بھولیں شکریہ۔
ناول نگار عابدہ زی شیریں۔

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.