Pyar Nay Dard Ko Chun Liya
Episodes
وقار بیٹی کی بدنصیبی پر رو رہا تھا جبکہ ارم باپ کو تسلیاں دے رہی تھی کہ وہ ایان کے ساتھ خوش ہے۔ اس نے بچپن سے اس کے ہی خواب دیکھے تھے وہ زرا جزباتی ہیں اور احساس کمتری کا شکار ہیں مجھے اپنے اللہ سے اچھی امید ہے کہ وہ وہ جلد ٹھیک ہو جائیں گے۔
باپ نے آہ بھرتے ہوئے کہا کہ پوتڑوں کے بگڑے کہاں سدھرتے ہیں۔
ارم نے وثوق سے کہا کہ پاپا میں نے ہمیشہ ان کی خامیوں پر نہیں بلکہ خوبیوں پر نظر رکھی ہے۔
باپ کے قریب بیٹھے بھائی نے جل کر کہا مگر کوئی خوبی نظر بھی تو آئے۔ جو شخص عمر میں بڑا ہو تعلیم میں بھی بیوی کے مقابلے میں کم ہو غصے والا اور اکڑو ہو پھر سب سے بڑھ کر عورت کی عزت نہ کرتا ہو اس کے ساتھ زندگی گزارنا کتنا مشکل عمل ہے۔ میں تو کہتا ہوں اب تمھیں واپس جانے کی ضرورت نہیں ہے تم اس سے خلع لے لو۔ اب پاپا آپ یہ نہ کہنا کہ طلاق بری چیز ہے وغیرہ وغیرہ۔ اگر آپ بھی اس لالچی عورت کو طلاق نہ دیتے تو آج ہم مصیبت کی زندگی گزار رہے ہوتے۔
ارم نے اسے ڈانٹ کر کہا کہ تم مجھ سے صرف ایک سال ہی بڑے ہو اپنا دماغ زیادہ نہ لگایا کرو اور دوسروں کے معاملے میں ٹانگ اڑانی بند کر دو۔ ہر وقت میرے شوہر کی براہیاں لگے رہتے ہو۔ پاکستان کے نوے پرسنٹ مرد ایسے ہی ہیں۔ اس میں ان کا قصور نہیں۔ وہ جو بچپن سے دیکھتے آ رہے ہیں وہی کریں گے۔ تعلیم کی کمی پھر ماحول ہی ایسا بنا ہو تو وہ کیا کریں۔ ہمیں ایسے لوگوں کو چھوڑنے کی بجائے سدھارنے کی کوشش کرنی چاہیے آخر وہ ہمارے اپنے ہیں۔
ارم کا بھائی غصے سے اٹھتے ہوئے بولا ٹھیک ہے پھر ساری زندگی اس کو سدھارنے میں لگا دو شاید آخری چند سالوں میں انسان بن جائے۔
وقار نے بیٹی کو پیار کرتے ہوئے کہا کہ ہماری فرسودہ روایات کی بھینٹ ہم بچوں کو چڑھایا جاتا ہے۔ بےشک میری بہن تھی مگر آفاق صاحب بہت چھوٹے تھے اور میری بہن کے جوڑ کا کوئی نہ تھا رشتہ خاندان سے باہر نہیں کرتے تھے۔ پھر بے جوڑ شادیاں کر دی جاتی تھی۔اسی طرح میری شادی کی گئی اگرچہ میری بیوی بہت اچھی تھی تو نباہ ہو گیا مگر میرے دل میں بغاوت پلتی رہی کہ میری بیوی مجھ سے بڑی ہے میں ناشکرا تھا بڑی چھوٹی سے فرق نہیں پڑتا بس زہنی ہم آہنگی ہونی چاہیے۔
ارم نے کہا کہ پاپا میں بھی تو یہی کہتی ہوں مجھے ایان شروع سے ہی پسند تھے۔ مجھے میچور عمر کے مرد پسند تھے۔ ایان گورے چٹے اونچے لمبے خوبرو مرد تھے میں ان کو دیکھ دیکھ کر خوش ہوتی تھی۔ انہوں نے جوانی میں کھبی کسی عورت کی طرف نہیں دیکھا ہمیشہ مجھے اپنی منگ سمجھا اور میرا انتظار کیا۔ میں نے تعلیم مکمل کی۔ موبائل رکھا مگر وہ بس خاموش تماشائی بنے رہے۔ اب جبکہ وہ مجھے اپنا سمجھ کر پابندیاں لگاتے ہیں تو یہ بھی ان کی محبت کا اظہار ہے۔ وہ کس پر لاہیں۔ ابھی ان کے دل میں پرانے غصے بھرے ہوئے ہیں جب بھڑاس نکل جائے گی ان کا بچہ آ جائے گا تو مجھے اللہ تعالیٰ سے اچھی امید ہے وہ جلد میری طرف پلٹیں گے انشاءاللہ جلد ہی۔ بس آپ صبر کریں ٹینشن نہ لیں۔ آپ اکیلے ہی نانو کی فوتگی پر جاتے رہیں ان سے میرے حوالے سے کوئی بات نہ کریں ورنہ وہ بار بار مجبور کرنے سے اور ضد میں آ جاہیں گے بس اب میں بچہ ہونے کے بعد ہی وہاں جاوں گی۔
وقار نے اسے پیار کرتے ہوئے فخر سے کہا کہ مجھے تم پر تمھاری ماں کی تربیت پر ناز ہے۔ تم جیسے خیالات کی مالک سرکش مرد کو بھی سدھار لیتی ہیں۔ اور اپنا گھر بچائے رکھتی ہیں۔ تم نے اپنی باتوں سے مجھے مطمئن کر دیا ہے۔ اب میں داماد کی عزت کروں گا نارمل رہوں گا ایسے رہوں گا جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ شکر اللہ تعالیٰ کا کہ میری بیٹی اپنے باپ کے گھر میں ہے میں اس کی کمپنی کو غنیمت سمجھوں گا بعد میں شاید وہ اسے لمبے عرصے کے لیے میکے نہ آنے دے۔
وقار آفاق نگر گیا تو اس کی بہن نے ارم کا حال پوچھا۔ وقار نے دیکھا ایان جاتے جاتے رک گیا ہے اور بہانے سے کھڑا ہو گیا ہے۔
وقار نے بڑھا چڑھا کر بتاتے ہوئے کہا کہ وہ تو بہت کمزور ہو گئی ہے کچھ ٹھیک سے کھاتی پیتی بھی نہیں ہے اور پریشان رہتی ہے اکیلی جو ہے۔ کوئی عورت اس کے پاس نہیں ہے باپ بھائی کیا کرسکتے ہیں۔
ایان نے ماں کو بلایا اور تانیہ کو وقار کے ساتھ بھیجنے پر اصرار کیا۔
ماں نے احتجاج کیا تو ایان بولا ماں۔؛ ان کا اصل گھر اب وہی ہے۔ دعا جو پاس سے گزر رہی تھی اس نے کہا ضرور ضرور۔ میری ماں کو اب عزت سے اپنے گھر رہنا چاہیے۔
وقار نے پرجوش طریقے سے خوش ہوتے ہوئے کہا کہ میں اس بات کی تاہید کرتا ہوں۔
تانیہ کو سب منانے لگے پھر وقار نے بھی اسے اپنے رویے کی معافی مانگی تو وہ جانے پر راضی ہو گئی۔
جاری ہے۔
پلیز اسے لاہک، شہیر اور کمنٹ کرنا نہ بھولیں شکریہ۔
ناول نگار عابدہ زی شیریں۔

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.