Loading...
Logo
Back to Novel
Pyar Nay Dard Ko Chun Liya
Episodes
Pyar Nay Dard Ko Chun Liya

پیار نے درد کو چن لیا 14

From Pyar Nay Dard Ko Chun Liya - Episode 14

وقار بیٹی کی بدنصیبی پر رو رہا تھا جبکہ ارم باپ کو تسلیاں دے رہی تھی کہ وہ ایان کے ساتھ خوش ہے۔ اس نے بچپن سے اس کے ہی خواب دیکھے تھے وہ زرا جزباتی ہیں اور احساس کمتری کا شکار ہیں مجھے اپنے اللہ سے اچھی امید ہے کہ وہ وہ جلد ٹھیک ہو جائیں گے۔


باپ نے آہ بھرتے ہوئے کہا کہ پوتڑوں کے بگڑے کہاں سدھرتے ہیں۔


ارم نے وثوق سے کہا کہ پاپا میں نے ہمیشہ ان کی خامیوں پر نہیں بلکہ خوبیوں پر نظر رکھی ہے۔


باپ کے قریب بیٹھے بھائی نے جل کر کہا مگر کوئی خوبی نظر بھی تو آئے۔ جو شخص عمر میں بڑا ہو تعلیم میں بھی بیوی کے مقابلے میں کم ہو غصے والا اور اکڑو ہو پھر سب سے بڑھ کر عورت کی عزت نہ کرتا ہو اس کے ساتھ زندگی گزارنا کتنا مشکل عمل ہے۔ میں تو کہتا ہوں اب تمھیں واپس جانے کی ضرورت نہیں ہے تم اس سے خلع لے لو۔ اب پاپا آپ یہ نہ کہنا کہ طلاق بری چیز ہے وغیرہ وغیرہ۔ اگر آپ بھی اس لالچی عورت کو طلاق نہ دیتے تو آج ہم مصیبت کی زندگی گزار رہے ہوتے۔


ارم نے اسے ڈانٹ کر کہا کہ تم مجھ سے صرف ایک سال ہی بڑے ہو اپنا دماغ زیادہ نہ لگایا کرو اور دوسروں کے معاملے میں ٹانگ اڑانی بند کر دو۔ ہر وقت میرے شوہر کی براہیاں لگے رہتے ہو۔ پاکستان کے نوے پرسنٹ مرد ایسے ہی ہیں۔ اس میں ان کا قصور نہیں۔ وہ جو بچپن سے دیکھتے آ رہے ہیں وہی کریں گے۔ تعلیم کی کمی پھر ماحول ہی ایسا بنا ہو تو وہ کیا کریں۔ ہمیں ایسے لوگوں کو چھوڑنے کی بجائے سدھارنے کی کوشش کرنی چاہیے آخر وہ ہمارے اپنے ہیں۔


ارم کا بھائی غصے سے اٹھتے ہوئے بولا ٹھیک ہے پھر ساری زندگی اس کو سدھارنے میں لگا دو شاید آخری چند سالوں میں انسان بن جائے۔


وقار نے بیٹی کو پیار کرتے ہوئے کہا کہ ہماری فرسودہ روایات کی بھینٹ ہم بچوں کو چڑھایا جاتا ہے۔ بےشک میری بہن تھی مگر آفاق صاحب بہت چھوٹے تھے اور میری بہن کے جوڑ کا کوئی نہ تھا رشتہ خاندان سے باہر نہیں کرتے تھے۔ پھر بے جوڑ شادیاں کر دی جاتی تھی۔اسی طرح میری شادی کی گئی اگرچہ میری بیوی بہت اچھی تھی تو نباہ ہو گیا مگر میرے دل میں بغاوت پلتی رہی کہ میری بیوی مجھ سے بڑی ہے میں ناشکرا تھا بڑی چھوٹی سے فرق نہیں پڑتا بس زہنی ہم آہنگی ہونی چاہیے۔


ارم نے کہا کہ پاپا میں بھی تو یہی کہتی ہوں مجھے ایان شروع سے ہی پسند تھے۔ مجھے میچور عمر کے مرد پسند تھے۔ ایان گورے چٹے اونچے لمبے خوبرو مرد تھے میں ان کو دیکھ دیکھ کر خوش ہوتی تھی۔ انہوں نے جوانی میں کھبی کسی عورت کی طرف نہیں دیکھا ہمیشہ مجھے اپنی منگ سمجھا اور میرا انتظار کیا۔ میں نے تعلیم مکمل کی۔ موبائل رکھا مگر وہ بس خاموش تماشائی بنے رہے۔ اب جبکہ وہ مجھے اپنا سمجھ کر پابندیاں لگاتے ہیں تو یہ بھی ان کی محبت کا اظہار ہے۔ وہ کس پر لاہیں۔ ابھی ان کے دل میں پرانے غصے بھرے ہوئے ہیں جب بھڑاس نکل جائے گی ان کا بچہ آ جائے گا تو مجھے اللہ تعالیٰ سے اچھی امید ہے وہ جلد میری طرف پلٹیں گے انشاءاللہ جلد ہی۔ بس آپ صبر کریں ٹینشن نہ لیں۔ آپ اکیلے ہی نانو کی فوتگی پر جاتے رہیں ان سے میرے حوالے سے کوئی بات نہ کریں ورنہ وہ بار بار مجبور کرنے سے اور ضد میں آ جاہیں گے بس اب میں بچہ ہونے کے بعد ہی وہاں جاوں گی۔


وقار نے اسے پیار کرتے ہوئے فخر سے کہا کہ مجھے تم پر تمھاری ماں کی تربیت پر ناز ہے۔ تم جیسے خیالات کی مالک سرکش مرد کو بھی سدھار لیتی ہیں۔ اور اپنا گھر بچائے رکھتی ہیں۔ تم نے اپنی باتوں سے مجھے مطمئن کر دیا ہے۔ اب میں داماد کی عزت کروں گا نارمل رہوں گا ایسے رہوں گا جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ شکر اللہ تعالیٰ کا کہ میری بیٹی اپنے باپ کے گھر میں ہے میں اس کی کمپنی کو غنیمت سمجھوں گا بعد میں شاید وہ اسے لمبے عرصے کے لیے میکے نہ آنے دے۔


وقار آفاق نگر گیا تو اس کی بہن نے ارم کا حال پوچھا۔ وقار نے دیکھا ایان جاتے جاتے رک گیا ہے اور بہانے سے کھڑا ہو گیا ہے۔


وقار نے بڑھا چڑھا کر بتاتے ہوئے کہا کہ وہ تو بہت کمزور ہو گئی ہے کچھ ٹھیک سے کھاتی پیتی بھی نہیں ہے اور پریشان رہتی ہے اکیلی جو ہے۔ کوئی عورت اس کے پاس نہیں ہے باپ بھائی کیا کرسکتے ہیں۔


ایان نے ماں کو بلایا اور تانیہ کو وقار کے ساتھ بھیجنے پر اصرار کیا۔


ماں نے احتجاج کیا تو ایان بولا ماں۔؛ ان کا اصل گھر اب وہی ہے۔ دعا جو پاس سے گزر رہی تھی اس نے کہا ضرور ضرور۔ میری ماں کو اب عزت سے اپنے گھر رہنا چاہیے۔


وقار نے پرجوش طریقے سے خوش ہوتے ہوئے کہا کہ میں اس بات کی تاہید کرتا ہوں۔


تانیہ کو سب منانے لگے پھر وقار نے بھی اسے اپنے رویے کی معافی مانگی تو وہ جانے پر راضی ہو گئی۔


جاری ہے۔


پلیز اسے لاہک، شہیر اور کمنٹ کرنا نہ بھولیں شکریہ۔


ناول نگار عابدہ زی شیریں۔


Reader Comments

Be the first to leave a comment on this episode!


Log in to leave a comment.

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Unlock the Full Library

PKR 300

For 30 Days of Unlimited Access

  • Read all premium and exclusive content
  • Enjoy a seamless, uninterrupted reading experience
  • Directly support the author and her work
Go Premium Now

Experience the Best Urdu Novels Online

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Captivating Novels and Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Reading Urdu Novels on Tablet and Phone

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen’s verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Elegant Desk with Pens and Books