Pyar Nay Dard Ko Chun Liya
Episodes
ارم ٹھیک ہو رہی تھی۔ بچہ دیکھنے کے لیے ایان بار بار جاتا تھا۔ ایان کی توجہ اور محبت دیکھ کر وقار کا دل مطمئن ہو رہا تھا۔ وہ اب اس سے محبت سے پیش آتا تھا۔ حتکہ اس نے اسے اپنے ساتھ بزنس آفر کی پیشکش بھی کر دی تھی اور اس نے مثبت جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس بارے میں سوچے گا۔
ارم کو ایان اپنے گھر لے آیا تھا اور وہ اس کے بہتر روپے پر بہت خوش تھی۔
مسز افاق اب تانیہ سے بھی نارمل انداز میں بات چیت کر رہی تھی۔ کیونکہ دعا اس کا بہت خیال رکھتی تھی۔
وقار نے تانیہ سے کہا تھا کہ دعا کو اپنے ساتھ رکھ لو میں اس کی اچھی جگہ شادی بھی کرا دوں گا اور بیٹی کی طرح رخصت کروں گا۔
دعا سے تانیہ نے اس بارے میں زکر کیا تو وہ روندھی ہوئی آواز میں ماں سے دکھ بھرے لہجے میں مخاطب ہوتے ہوئے بولی؛ ماما جانی میں اپنے باپ دادا کی حویلی آفاق نگر میں بچپن تو نہ گزار سکی مگر جوانی ضرور گزارنا چاہوں گی اور آپ سے ملنے تو آتی جاتی ہوں۔
تانیہ نے جواب دیا۔ہاں میری بچی میں خود بھی چاہتی ہوں کہ تو باپ دادا کی حویلی میں بھائی کی سرپرستی میں رہے نہ کہ سوتیلے باپ کی۔
ارم اور دعا کا وقت بہت اچھا کٹتا تھا دونوں بہترین دوست بھی تھیں۔ ننھا کاکا دونوں گھرانوں کی آنکھ کا تارا تھا۔ ماموں اور نانا اس سے ملنے کو بےچین رہتے۔ تانیہ اسے نانی کی طرح پیار کرتی۔ وہ اب اکثر میکے ایان کے ساتھ آنے لگی تھی۔ مسز آفاق کا منہ بن جاتا وہ اکثر ٹوکتی کہ پہلے سسرال جاتا نہیں تھا اب بیوی سے زیادہ وہ جانے کو بے چین رہتا ہے۔ وہ ارم پر بھی طنز کر جاتی اس نے پلٹ کر کھبی جواب نہ دیا۔ وہ دعا کو اسے جلانے کے لیے زیادہ اہمیت دیتی مگر وہ ماتھے پر بل نہ ڈالتی۔
ایان بیوی کی طرفداری میں ماں کو غصہ دکھا جاتا تو وہ ارم پر نکالتی۔ ارم خاموشی سے آنسوؤں کو بہاتی مگر کسی سے شکوہ نہ کرتی۔
ارم اس بات پر ہی اپنے رب تعالیٰ کا شکر ادا کرتی کہ ایان اس کے ساتھ بہت اچھا ہو گیا تھا جبکہ اس کی ماں روایتی ساس بن چکی تھی مگر دعا کو اہمیت دہتی اس سے شفقت والا برتاؤ کرتی۔
مسز آفاق نے بیٹے سے زبردستی دعا کے جاہیداد کے کاغذات واپس کروا کر دعا کے حوالے کیے۔
ایان ماں سے تلخ کلام بھی ہوا حالانکہ دعا نے بھی کہا کہ اسے جاہیداد نہیں چاہیے مگر دادا بہت خوش ہوا اور اس نے بہو کو شاباش دی اور اس سے خوش ہو گیا۔ کیونکہ پوتی اس کی بہت خدمت کرتی تھی۔
ایان بےبس ہو کر خاموش ہو گیا تھا اور اس نے ہوٹل کا کام رکوا دیا تھا کیونکہ وہ اس کے حصے والی جاہیداد پر بنا تھا۔
دعا نے احتجاج بھی کیا مگر اب وہ اس کی شادی کروانے کے لئے رشتے دیکھنے لگا اور وارننگ دی کہ اگر دعا نے اس کی مرضی سے شادی نہ کی تو وہ اسے ہمیشہ کے لیے حویلی آفاق نگر سے نکال دے گا اور کسی سے کوئی تعلق نہیں رکھنے دے گا۔
وہ اپنے ہی گاوں میں اپنے ہم پلہ زمینداروں میں رشتہ دیکھنے لگا۔
وقار نے شہر میں اس کے لیے پڑھے لکھے لوگوں کے رشتے دیکھنے شروع کر دیے کیونکہ ایان جو رشتے دیکھ رہا تھا وہ اپنے ہم پلہ بڑے زمیندار گھرانوں میں رشتے دیکھ رہا تھا جو وہاں کے لڑکے کم پڑھے لکھے تھے جبکہ وقار جو دیکھ رہا تھا وہ لڑکے پڑھے لکھے اور اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے۔
ایان نے گھر میں داخل ہو کر اعلان کیا کہ آج دعا کو دیکھنے بڑے زمیندار گھرانے سے اپنے ہی گاوں کے لوگ آ رہے ہیں۔ گھر میں اس نے ارم کو ان کے لئے بہترین کھانے پکانے اور ان کی خاطر مدارت میں کوئی کسر باقی نہ رہنے کا سختی سے حکم دے دیا۔
مسز آفاق بھی بھائی کے رشتوں کی طرفداری کرتی تھی وہ جانتی تھی کہ دعا اعلیٰ تعلیم یافتہ لڑکی ہے جبکہ ایان جو رشتہ بتا رہا ہے وہ بمشکل بارہ کلاسیں پاس ہے۔
ماں نے دعا کو فون کر کے کہا کہ وقار کہہ رہے ہیں کہ تم فوراً ادھر آ جاو میں نے تمھارے لیے پڑھا لکھا اپنی ہی سوسائٹی میں اچھا رشتہ دیکھ لیا ہے۔ تم بھائی کی پرواہ نہ کرو اسے ہم دیکھ لیں گے ورنہ وہ اس انپڑھ سے تمھارا رشتہ پکا کر کے تمھاری زندگی برباد کر دے گا۔
جاری ہے
پلیز اسے لاہک، شہیر اور کمنٹ کرنا نہ بھولیں شکریہ۔
ناول نگار عابدہ زی شیریں

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.