Pyar Nay Dard Ko Chun Liya
Episodes
تانیہ جب اپنے گھر وقت گزار کر اتفاق نگر جاتی تو اداس رہتی۔ َاس کی سوکن اس سے اچھا رویہ رکھتی۔
تانیہ سوچتی اگر اس کی سوکن کو زرا سی بھی بھنک پڑ جائے کہ وہ اس کی سوکن ہے اور اس میں سے ایک بیٹی بھی ہے تو وہ اس کا حشرنشر کر دیتی۔ اس نے سنا کہ ایک بار خاندان میں کسی نے اسے اور اولاد نہ ہونے کے سبب دوسری شادی کا مشورہ دیا تو اس نے وہ قیامت ڈھائی کے ان لوگوں سے ہمیشہ کا ناطہ توڑ دیا۔
ساس سسر اس کے آگے بےبس تھے کہ وہ ان کے اکلوتے بیٹے _کی بیوی تھی۔پھر ان کی بیٹی کی شادی بھی اس کے بھائی سے ہو چکی تھی۔ اس لئے وہ بےبس تھے۔ویسے بھی وہ شریف اور رحم دل تھے جبکہ ان کی بہو کے گھر والے ان سے مختلف تھے۔ دونوں بھائی تھے مگر عادات میں فرق تھا۔ بہو کا بھائی اس کا ایک ہی بیٹا تھا اس کی بیوی بیمار رہتی تھی۔ وہ اس سے چار سال بڑی تھی۔ اس کا بھی ایک بیٹا اور ایک بیٹی تھے جو جو تانیہ کی سوکن کی ہونے والی بہو تھی۔
تانیہ کی بیٹی دعا کو غربت کی وجہ سے احساس کمتری کا شکار رہتی۔ اس کا ماں کا اپنے سسرال میں نوکرانی بن کر رہنا کھٹکتا تھا۔ وہ اپنے باپ پر اس کی دولت پر فخر اور رشک کرتی تھی۔ اس نے ماں سے کئی بار اتفاق نگر جانے اسے دیکھنے کی ضد کی۔ اپنے دادا دادی سے اپنے بھائی سے ملنے کو جانا انہیں دیکھنا چاہتی تھی مگر ماں اجازت نہ دیتی تھی۔
تانیہ بیٹی کو سمجھاتی اگر انہیں پتا چل گیا کہ ہم کون ہیں تو میری سوکن جو ہمارے سر پر چھت کا آسرا ہے۔ تو جو تعلیم حاصل کر رہی ہے گھر کا جو خرچہ چل رہا ہے ان سب سے محروم کر دیں گے اور دشمنی الگ۔
ہم ان سب باتوں کے متعمل نہیں ہو سکتے۔ اپنی تقدیر پر شاکر رہو۔ اسی کو اپنی قسمت سمجھو۔ ورنہ کیا اتنے بڑے گھر کا آدمی مجھ سے شادی کرتا۔ میری جوانی اور خوبصورتی میری اس کی طرف راغب ہونے کا باعث بنی۔ اگر ہم غریب نہ ہوتے تو کیا کوئی امیر اپنی بیٹی کو عمر رسیدہ شخص سے بیاہتا۔ میں نہیں چاہتی کہ تو وہاں جاے اور کسی عمر رسیدہ کی نظر تجھ پر پڑے اور پھر ماں کی طرح کی قسمت پاے۔ تجھے میں کسی جوان سے بیاہوں گی تو بہت خوبصورت ہے۔
تانیہ کو اتفاق نگر میں کافی سال گزر چکے تھے اب تو سب سے اس کا دل لگ چکا تھا۔ سوکن کے سسر آتے اسے غصے سے دیکھتے۔ وہ ان سے خوفزدہ رہتی۔ موقع ملتے ہی وہ اسے وارننگ دیتے رہتے۔
سوکن کا بھائی اس نے جب اسے پہلی بار دیکھا تھا تب سے وہ اسے گہری نظروں سے دیکھتا تھا۔ وہ اس کی نظروں سے الجھن محسوس کرتی تھی پھر چند سال بعد موقع ملتے ہی وہ اسے شادی کی آفر کرتا اسے الگ رکھنے کا وعدہ کرتا مگر ساتھ ابھی شادی کو خفیہ رکھنے کا بولتا۔ وہ نہ مانتی اب تو اس کی بیوی کو ڈاکٹر نے جواب دے دیا تھا۔
اس کا اصرار بڑھتا جا رہا تھا ایک دن موقع پا کر جب سب گھر والے خاندان کی کسی تقریب میں شرکت کے لئے گئے تھے اور وہ گھر جانے کی تیاری کر رہی تھی۔ جوں ہی وہ گھر سے نکلی اسے اغواء کر لیا گیا اور پھر وہ تانیہ وقار بن گئ۔ وقار صاحب نے اسے کہا کہ تم اب میری منکوحہ ہو۔ جب تک میری بیوی زندہ ہے۔ میں اس شادی کو خفیہ رکھوں گا پھر کسی مناسب موقع پر اسے اوپن کر دوں گا۔ اس نے اسے خرچے کے لئے موٹی رقم دی جو تانیہ نے روتے ہوئے غصے سے پھینک دی۔
وقار صاحب نے اسے پیار سے مسکرا کر دیکھتے ہوئے کہا کہ یہ تمھارا حق ہے۔
تانیہ نے غصے سے کہا کہ اگر حق ہے تو پھر پورا حق دیں لے چلیں مجھے اپنے گھر اور سب کے سامنے اعلان کریں گے میں آپ کی بیوی ہوں۔ وہ بےتحاشا روتے ہوئے بولی اس عمر میں آپ نے مجھے زلیل کر کے رکھ دیا۔ اتفاق صاحب کا نام ہٹا کر مجھے تانیہ وقار بنا دیا۔ اس نے روتے ہوئے گلہ کیا کہ اتفاق صاحب نے کم از کم میرے والدین سے عزت سے رشتہ مانگ کر مجھے ان کی دعاؤں میں اپنایا تھا۔ مگر آپ نے تو چوروں والا کام کیا ہے۔ میں سب کو کیا منہ دیکھاوں گی جب میرے اپنوں کو پتا چلے گا میرے والدین کتنے دکھی ہوں گے۔ اس عمر میں میں نے شادی کر لی۔
وقار صاحب نے کہا کہ میری بھی کچھ مجبوریاں ہیں۔ میری بیوی کو ڈاکٹر نے جواب دے دیا ہے۔ میں اسے اس اسٹیج پر دکھ نہیں دینا چاہتا۔ پھر تم مجھے بہت پہلے پہلی نظر میں پسند آ گئی تھی۔ میں تب سے تمہیں شادی کے لیے رام کر رہا ہوں اور تم مجھ سے گریزاں رہی۔ اگر تم پہلے ہی مان جاتی تو میری بہن کو تمھاری عادت نہ رہتی اور تمھیں اس گھر میں اس طرح نہ رہنا پڑتا۔ میں تمہیں شہر میں گھر لے دیتا اور وہاں آتا جاتا رہتا۔ اب تم اس گھر کی ضرورت بن چکی ہو میری بہن کو تمھاری عادت ہو چکی ہے۔ تم اب کچھ وقت اسی طرح ادھر ہی رہو گی اور میں تمھارے والدین کو خرچہ دیتا رہوں گا پھر جلد ہی تمہیں اس گھر سے نجات دلا دوں گا۔
تانیہ نے موقع ملتے ہی فون پر والدین کو سب کچھ بتا دیا اور دعا کو ابھی نہ بتانے کا کہا کہ جب تک اس کی شادی نہیں ہو جاتی اسے ڈسٹرب نہیں کر سکتی اس کے زہن پر برا اثر پڑے گا اور وہ ادھر حق جتانے بھی آ سکتی ہے۔
اس نے وقار کو بھی بیٹی کا نہ بتایا کیونکہ اسے ڈر تھا کہ مجھ بوڑھی عورت کو بھی ان امیرزادوں نے زبردستی اپنی بیوی بنا لیا جبکہ میری بیٹی تو حسین اور جوان ہے اگر اس پر کسی عمررسیدہ کی نظر پڑ گئی تو اس کی زندگی بھی امیر آدمی کی بیوی ہونے کے باوجود ایک رکھیل جیسی زندگی گزارے گی جو غریب ہونے کے سبب اپنے حق کے لئے آواز نہیں اٹھا سکتی۔ جبکہ اس کی بیٹی نادان ہے جانتی نہیں کہ یہ امیر لوگ ہم غریبوں کو ان کا جاہز حق نہیں دے سکتے۔ پھر میرے والدین بوڑھے لاچار بیٹی کی کمائی کے محتاج ہیں۔ اور ہم بےبس عورتیں ان کا مقابلہ نہیں کر سکتی ہیں۔
اس نے وقار صاحب کو مجبوراً قبول کر لیا اس کے علاوہ اس کے پاس کوئی چارہ نہ تھا۔وہ اب سوکن کے باپ سے ڈرنے لگی کہ اگر اسے علم ہو گیا تو وہ کیا کرے گا وہ پہلے ہی اسے ہر وقت دھمکیاں دیتا رہتا تھا کہ اس گھر کو اپنا سسرال سمجھنے کی غلطی نہ کرنا۔ ادھر تمھاری حیثیت صرف ایک ملازمہ کی سی ہے۔
اسے اپنی جوان خوبصورت بیٹی کی فکر لگی رہتی اس کے مستقبل کے لئے پریشان رہتی۔ اسے بیٹی کا مستقبل تاریک نظر آتا۔ بیٹی غربت کی زندگی گزارنے پر آمادہ نہ تھی وہ کسی غریب سے شادی کا سوچ بھی نہ سکتی تھی۔ وہ ایسے خیالات کا بار بار اظہار کر کے وارننگ دے چکی تھی۔ مگر اس کے چھوٹے سے گھر اور اس محلے میں کون جوان امیر زادہ اسے بیاہنے آئے گا۔ اگر کوئی امیر آیا بھی تو وہ جوان نہ ہو گا۔ یہ بات وہ اچھی طرح جانتی تھی مگر بیٹی امیر باپ کی بیٹی ہونے کے زعم میں تھی۔ وہ نہیں جانتی تھی کہ وہ ان کے عتاب سے تب تک بچی ہے جب تک ان کو سچائی کا علم نہیں۔ جوں ہی سچائی کھلی وہ ان پر زندگی کا گھیرا تنگ کر دیں گے اور جو ابھی سکون سے گزر رہی ہے اس سے بھی ہاتھ دھونے پڑیں گے۔
تانیہ سوکن کو چاے دینے گئی تو دھلے کپڑوں کے ڈھیر کو تہہ کرنے کا اس نے اشارہ کیا۔ پھر اس نے اپنی ساس سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ وہ وقار کی شادی کرواے گی اور اس کے لیے اس نے چند بڑے گھروں میں رشتہ دیکھنا شروع کر دیا ہے۔ بھابی نے بھی اجازت دے دی ہے بلکہ وہ تو کہتی ہے کہ جلدی کریں تاکہ میں اس کو دیکھ سکوں اور اس گھر کے اہم امور پر اسے سمجھا بجھا سکوں۔ بڑے دل کی مالک ہے میری بھابی۔
ساس نے روتے ہوئے کہا کہ مجھے بھی کوئی اعتراض نہیں تم لڑکیاں دیکھو۔
تانیہ کی ساس بولی ویسے تو نام لیا ہی ہے تو اس کے خاندان بھر سے رشتے آنا شروع ہوگئے ہیں۔ ابھی کل ہی واجد صاحب نے اپنی بیٹی کے لیے فون کیا مگر میں نے معزرت کر لی بےشک ان کی بیٹی جوان ہے خوبصورت ہے مگر بیوہ ہے اور اولاد بھی نہیں۔ کیا پتا شادی کے بعد بھی اولاد نہ ہو سکے پچھلے شوہر سے اس کی اولاد نہ تھی۔ میرا بھائی پڑھا لکھا ہے اور وہ چند کلاسیں پڑھی ہوئی توبہ کریں۔ میں تو شہر سے کوئی کنواری جوان لڑکی کا رشتہ تلاش کروں گی بےشک غریب ہو اچھا ہے دب کر رہے گی۔
تانیہ یہ باتیں سن کر اندر سے لرز گئ۔
جاری ہے۔
پلیز اسے لاہک، شہیر اور کمنٹ کرنا نہ بھولیں۔ شکریہ۔
ناول نگار عابدہ زی شیریں

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.