Loading...
Logo
Back to Novel
Pyar Nay Dard Ko Chun Liya
Episodes
Pyar Nay Dard Ko Chun Liya

پیار نے درد کو چن لیا 7

From Pyar Nay Dard Ko Chun Liya - Episode 7

دعا پر اس کی سوتیلی ماں جان چھڑکنے لگی اس کے جانے کے نام سے اداس ہو جاتی۔ اس کی بھابی بھی اس کی بیسٹ فرینڈ تھی۔ بھائی بھی اس پر جان چھڑکنے لگا۔ دادا دادی کی بھی وہ جان بن چکی تھی جب سے انہیں اس کی حقیقت معلوم ہوئی تھی۔


اس کی سوتیلی ماں اس سچائی سے بےخبر تھی۔ سب نے اس سے چھپایا ہوا تھا۔


وہ روز جانے کا کہتی اسے نانا نانی کی بھی فکر ستا رہی تھی پھر شادی کا پہلا آرڈر ملا تھا اس کی تیاری کرنی تھی۔ مگر سوتیلی ماں جانے نہ دیتی۔


اس کا ضمیر ملامت کرتا کہ اسے سب سچائی اپنی بڑی ماما کو بتا دینی چاہیے۔


اس نے آج مصمم ارادہ کر لیا۔ دعا صبح اٹھی۔ اور اپنی بڑی ماما کو کمرے میں سلام کرنے گئی۔ وہ قرآن پاک کی تلاوت میں مصروف تھیں۔ اس نے انہیں دیکھ کر سلام کیا انہوں نے مسکرا کر گردن ہلا دی۔


دعا اپنے کمرے میں آ کر سوچوں میں گم ہو گئی۔ اس گھر میں اس کو الگ سجا سجایا کمرہ ملا تھا۔ ملازمہ اس کی خدمت پر مقرر تھی۔ سب اس کو عزت دیتے اس کا خیال رکھتے۔ اس کو اس گھر کے معاملات میں فری ہینڈ دیا گیا۔ سب بہت اچھے تھے۔ محبت کرنے والے رشتوں کو مان دینے والے۔ صرف بڑی ماما غصے والی تھی سب ان سے ڈرتے تھے۔ دعا نے کتنی بار بھائی سے سچائی بتانے کا زکر کیا مگر اس نے سختی سے روک دیا اور کہا کہ پھر تم اپنے باپ کے گھر آنے پر ترسو گی وغیرہ وغیرہ۔


اس نے دوست نما بھابی کو اپنی ماں کی تمام سٹوری سنا دی تھی وہ بہت خوش تھی کہ اس کے پاپا کی لاہف پارٹنر اتنی اچھی نیچر کی ہے۔ اس نے بھائی کو بھی بتایا تھا مگر اس نے خاموشی کے سوا کوئی رسپانس نہ دیا تھا۔


اس کی سوتیلی ماں روز وقار بھائی کے لیے رشتے تلاش کر رہی تھی اس سے بھی مشورہ کرتی تو دعا اس میں سو نقص نکال دیتی۔ وہ اسی وقت ریجیکٹ کر دیتی۔ دعا نے سوچا آخر وہ کب تک اس طرح ماں کو بچاتی رہے گی۔


اس نے سوچا اس کی ماں نے اپنی جوانی ادھر سب کی خدمت کرتے ایک ملازمہ کی حیثیت سے اپنے سسرال میں گزار دی مگر سچائی ظاہر کرنے کی ہمت نہ کر سکیں۔ اب بھی وہ وہی کر رہی ہیں اب میں ماں کی سچائی ساری دنیا کو بتاوں گی پھر جو ہو گا دیکھا جائے گا۔ ویسے بھی اسے شادی کا ایک بڑا آرڈر مل گیا تھا اور ایڈوانس بھی ملا تھا اب وہ مزید وقت ضائع نہیں کر سکتی تھی۔ پھر اب اسے ماں کا خرچہ اٹھانے کا مسئلہ نہ رہا تھا۔ شادی پر بھائی اور بڑی ماما نے اسے بہن کے طور پر کافی نیگ دیے تھے اور اب کافی رقم اس کے پاس جمع تھی۔ گاوں کے غریب اور بےروزگار لڑکے بھی اس کے ساتھ کام کرنے اور ساتھ چلنے پر راضی تھے جنہوں نے اس شادی کو کامیاب بنایا تھا کیونکہ دعا نے بھائی سے ان سب کو معاوضہ بھی دلوایا تھا اور مناسب معاوضہ ملنے پر وہ اور ان کے گھر والے خوش تھے۔ ویسے بھی گاوں والے دعا کے اخلاق سے خوش تھے جو غریب بڑوں کو بھی عزت دیتی تھی ان کا خوش اخلاقی سے حال احوال پوچھتی تھی۔ سب سے محبت سے پیش اتی مگر کام میں کوتاہی یا سستی برداشت نہ کرتی اور بہت سخت مزاج ہو جاتی۔ سب اس سے ڈرتے بھی تھے۔ پورے گاوں میں اس کی اچھائیوں کی دھوم مچی تھی اور رعب بھی قائم تھا۔ اس نے بھائی کی شادی پر سب امیر غریب کو یکساں اہمیت دی تھی۔ کھانے کے لنچ باکس سب کو ایک جیسے ملے تھے۔ ہر بندے کو ملا تھا کسی کو گلہ نہ ہوا تھا۔ سب دعائیں دے رہے تھے۔


ڈھول والوں کو دولہے کے ساتھ کھڑا کر دیا گیا تھا اور جس نے ان کو بیلیں کروانی تھی وہ سر پر رکھتے اور ڈھول والے پکڑ لیتے۔ دعا پاس کھڑی تھی پیسے نیچے نہ گرانے دیتی۔ اس نے ڈھول والے کو بلانے سے پہلے ہی اعلان کر دیا تھا کہ کوئی پیسے نیچے پھینکنے گا اسے خود ہی چن کر ڈھول والے کو دینے پڑیں گے اور خلاف ورزی کرنے والے کو شادی ہال سے نکال دیا جائے گا۔ لوگوں کو باور کرانے اور ڈرانے کے لیے اس نے چند لوگوں کو جو معزز نظر آتے تھے مگر غریب تھے ان کو اجرت پر پیسے نیچے گرانے کا ڈرامہ شروع میں کروایا اور ان سے پیسے اٹھواے۔ اور پھر اجرت پر خلاف ورزی کا ڈرامہ کروا کر ان کو شادی ہال سے ڈانٹ کر نکال دیا۔ جس سے ہال میں موجود لوگ کنٹرول ہو گئے تھے۔


دعا ناشتے کے بعد سب کی موجودگی میں سچائی ظاہر کرنا چاہتی تھی۔


دعا نے اپنے جانے کا سامان پیک کر کے چپکے سے ملازم سے اپنی گاڑی میں رکھوا دیا اور اس کا تیل پانی چیک کروا کر ریڈی ہو گئی۔


اب اس نے بڑی ماما کے آگے بم پھوڑنا تھا۔ ناشتے کے بعد سب چاے پی رہے تھے کہ دعا نے بڑی ماما کو ماں کی سٹوری سنانا شروع کی کہ وہ کون تھی اور اس کی شادی کیسے ایک امیر آدمی سے ہوئی وہ کون تھا جب یہ بتایا تو اس کی سوتیلی ماں کو شاک لگا اور اس نے غصے سے چاے کا کپ زمین پر پٹخ دیا اور زور زور سے رونے اور چیخنے چلانے لگی بیٹا آگے بڑھ کر اسے سنبھالنے لگا۔ دعا نے یہ نہیں بتایا کہ سچائی سب جانتے تھے۔ اس نے وقار کا ماں سے نکاح کا قصہ بھی سنا ڈالا اور خود کمرے سے گاڑی کی چابی اور بیگ اٹھا کر تیزی سے گاڑی چلا کر روڈ پر آ گئ۔ اسے دکھ ہو رہا تھا کہ اب وہ اپنے باپ کی حویلی اتفاق نگر کھبی نہ جا سکے گی۔ سب رشتے ختم ہو چکے تھے۔ آنسوؤں کا سیلاب اس کی آنکھوں سے رواں تھا۔ جیسے تیسے کر کے اس نے گاڑی چلا کر اپنے گھر تک پہنچی۔


جاری ہے۔


پلیز اسے لاہک، شہیر اور کمنٹ کرنا نہ بھولیں شکریہ۔


ناول نگار عابدہ زی شیریں۔


Reader Comments

Be the first to leave a comment on this episode!


Log in to leave a comment.

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Unlock the Full Library

PKR 300

For 30 Days of Unlimited Access

  • Read all premium and exclusive content
  • Enjoy a seamless, uninterrupted reading experience
  • Directly support the author and her work
Go Premium Now

Experience the Best Urdu Novels Online

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Captivating Novels and Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Reading Urdu Novels on Tablet and Phone

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen’s verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Elegant Desk with Pens and Books