Pyar Nay Dard Ko Chun Liya
Episodes
دعا پر اس کی سوتیلی ماں جان چھڑکنے لگی اس کے جانے کے نام سے اداس ہو جاتی۔ اس کی بھابی بھی اس کی بیسٹ فرینڈ تھی۔ بھائی بھی اس پر جان چھڑکنے لگا۔ دادا دادی کی بھی وہ جان بن چکی تھی جب سے انہیں اس کی حقیقت معلوم ہوئی تھی۔
اس کی سوتیلی ماں اس سچائی سے بےخبر تھی۔ سب نے اس سے چھپایا ہوا تھا۔
وہ روز جانے کا کہتی اسے نانا نانی کی بھی فکر ستا رہی تھی پھر شادی کا پہلا آرڈر ملا تھا اس کی تیاری کرنی تھی۔ مگر سوتیلی ماں جانے نہ دیتی۔
اس کا ضمیر ملامت کرتا کہ اسے سب سچائی اپنی بڑی ماما کو بتا دینی چاہیے۔
اس نے آج مصمم ارادہ کر لیا۔ دعا صبح اٹھی۔ اور اپنی بڑی ماما کو کمرے میں سلام کرنے گئی۔ وہ قرآن پاک کی تلاوت میں مصروف تھیں۔ اس نے انہیں دیکھ کر سلام کیا انہوں نے مسکرا کر گردن ہلا دی۔
دعا اپنے کمرے میں آ کر سوچوں میں گم ہو گئی۔ اس گھر میں اس کو الگ سجا سجایا کمرہ ملا تھا۔ ملازمہ اس کی خدمت پر مقرر تھی۔ سب اس کو عزت دیتے اس کا خیال رکھتے۔ اس کو اس گھر کے معاملات میں فری ہینڈ دیا گیا۔ سب بہت اچھے تھے۔ محبت کرنے والے رشتوں کو مان دینے والے۔ صرف بڑی ماما غصے والی تھی سب ان سے ڈرتے تھے۔ دعا نے کتنی بار بھائی سے سچائی بتانے کا زکر کیا مگر اس نے سختی سے روک دیا اور کہا کہ پھر تم اپنے باپ کے گھر آنے پر ترسو گی وغیرہ وغیرہ۔
اس نے دوست نما بھابی کو اپنی ماں کی تمام سٹوری سنا دی تھی وہ بہت خوش تھی کہ اس کے پاپا کی لاہف پارٹنر اتنی اچھی نیچر کی ہے۔ اس نے بھائی کو بھی بتایا تھا مگر اس نے خاموشی کے سوا کوئی رسپانس نہ دیا تھا۔
اس کی سوتیلی ماں روز وقار بھائی کے لیے رشتے تلاش کر رہی تھی اس سے بھی مشورہ کرتی تو دعا اس میں سو نقص نکال دیتی۔ وہ اسی وقت ریجیکٹ کر دیتی۔ دعا نے سوچا آخر وہ کب تک اس طرح ماں کو بچاتی رہے گی۔
اس نے سوچا اس کی ماں نے اپنی جوانی ادھر سب کی خدمت کرتے ایک ملازمہ کی حیثیت سے اپنے سسرال میں گزار دی مگر سچائی ظاہر کرنے کی ہمت نہ کر سکیں۔ اب بھی وہ وہی کر رہی ہیں اب میں ماں کی سچائی ساری دنیا کو بتاوں گی پھر جو ہو گا دیکھا جائے گا۔ ویسے بھی اسے شادی کا ایک بڑا آرڈر مل گیا تھا اور ایڈوانس بھی ملا تھا اب وہ مزید وقت ضائع نہیں کر سکتی تھی۔ پھر اب اسے ماں کا خرچہ اٹھانے کا مسئلہ نہ رہا تھا۔ شادی پر بھائی اور بڑی ماما نے اسے بہن کے طور پر کافی نیگ دیے تھے اور اب کافی رقم اس کے پاس جمع تھی۔ گاوں کے غریب اور بےروزگار لڑکے بھی اس کے ساتھ کام کرنے اور ساتھ چلنے پر راضی تھے جنہوں نے اس شادی کو کامیاب بنایا تھا کیونکہ دعا نے بھائی سے ان سب کو معاوضہ بھی دلوایا تھا اور مناسب معاوضہ ملنے پر وہ اور ان کے گھر والے خوش تھے۔ ویسے بھی گاوں والے دعا کے اخلاق سے خوش تھے جو غریب بڑوں کو بھی عزت دیتی تھی ان کا خوش اخلاقی سے حال احوال پوچھتی تھی۔ سب سے محبت سے پیش اتی مگر کام میں کوتاہی یا سستی برداشت نہ کرتی اور بہت سخت مزاج ہو جاتی۔ سب اس سے ڈرتے بھی تھے۔ پورے گاوں میں اس کی اچھائیوں کی دھوم مچی تھی اور رعب بھی قائم تھا۔ اس نے بھائی کی شادی پر سب امیر غریب کو یکساں اہمیت دی تھی۔ کھانے کے لنچ باکس سب کو ایک جیسے ملے تھے۔ ہر بندے کو ملا تھا کسی کو گلہ نہ ہوا تھا۔ سب دعائیں دے رہے تھے۔
ڈھول والوں کو دولہے کے ساتھ کھڑا کر دیا گیا تھا اور جس نے ان کو بیلیں کروانی تھی وہ سر پر رکھتے اور ڈھول والے پکڑ لیتے۔ دعا پاس کھڑی تھی پیسے نیچے نہ گرانے دیتی۔ اس نے ڈھول والے کو بلانے سے پہلے ہی اعلان کر دیا تھا کہ کوئی پیسے نیچے پھینکنے گا اسے خود ہی چن کر ڈھول والے کو دینے پڑیں گے اور خلاف ورزی کرنے والے کو شادی ہال سے نکال دیا جائے گا۔ لوگوں کو باور کرانے اور ڈرانے کے لیے اس نے چند لوگوں کو جو معزز نظر آتے تھے مگر غریب تھے ان کو اجرت پر پیسے نیچے گرانے کا ڈرامہ شروع میں کروایا اور ان سے پیسے اٹھواے۔ اور پھر اجرت پر خلاف ورزی کا ڈرامہ کروا کر ان کو شادی ہال سے ڈانٹ کر نکال دیا۔ جس سے ہال میں موجود لوگ کنٹرول ہو گئے تھے۔
دعا ناشتے کے بعد سب کی موجودگی میں سچائی ظاہر کرنا چاہتی تھی۔
دعا نے اپنے جانے کا سامان پیک کر کے چپکے سے ملازم سے اپنی گاڑی میں رکھوا دیا اور اس کا تیل پانی چیک کروا کر ریڈی ہو گئی۔
اب اس نے بڑی ماما کے آگے بم پھوڑنا تھا۔ ناشتے کے بعد سب چاے پی رہے تھے کہ دعا نے بڑی ماما کو ماں کی سٹوری سنانا شروع کی کہ وہ کون تھی اور اس کی شادی کیسے ایک امیر آدمی سے ہوئی وہ کون تھا جب یہ بتایا تو اس کی سوتیلی ماں کو شاک لگا اور اس نے غصے سے چاے کا کپ زمین پر پٹخ دیا اور زور زور سے رونے اور چیخنے چلانے لگی بیٹا آگے بڑھ کر اسے سنبھالنے لگا۔ دعا نے یہ نہیں بتایا کہ سچائی سب جانتے تھے۔ اس نے وقار کا ماں سے نکاح کا قصہ بھی سنا ڈالا اور خود کمرے سے گاڑی کی چابی اور بیگ اٹھا کر تیزی سے گاڑی چلا کر روڈ پر آ گئ۔ اسے دکھ ہو رہا تھا کہ اب وہ اپنے باپ کی حویلی اتفاق نگر کھبی نہ جا سکے گی۔ سب رشتے ختم ہو چکے تھے۔ آنسوؤں کا سیلاب اس کی آنکھوں سے رواں تھا۔ جیسے تیسے کر کے اس نے گاڑی چلا کر اپنے گھر تک پہنچی۔
جاری ہے۔
پلیز اسے لاہک، شہیر اور کمنٹ کرنا نہ بھولیں شکریہ۔
ناول نگار عابدہ زی شیریں۔

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.