Loading...
Logo
Back to Novel
Insaniyat Kay Naatay
Episodes
Insaniyat Kay Naatay

انسانیت کے ناطے 1

From Insaniyat Kay Naatay - Episode 1

شاہ زیب دونوں ہاتھوں کو مروڑتے ہوئے پریشانی سے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے بولا، موم کیا اتنی لڑکیوں کو ناپسند کرنے کے بعد آپکو اپنے اکلوتے بیٹے کے لئے ایک بیوہ ہی پسند آئی۔ وہ بھی ایک سال کے بچے کی ماں۔ وہ والد سے طنزیہ انداز میں بولا، اس لئے کہ وہ آپ کے بچھڑے جوانی کے پیارے دوست کی بیٹی ہے۔ آپ کواسوقت اپنا پیارا دوست نظر آ رہا ہے بیٹا نہیں۔

شاہ زیب عرف شانی کے والد نے صفائی دیتے ہوئے کہا کہ ایسی بات نہیں ہے۔ مجھے پہلے تم اور تمھارا مستقبل عزیز ہے۔ مجھے یقین ہے کہ وہ تمھارے لیے بہت اچھی بیوی ثابت ہو گی۔ ماں نے بھی ہاں میں ہاں ملاہی۔وہ وثوق سے بو لی کہ تمھارے ڈیڈ درست کہہ رہے ہیں مجھے بھی سب لڑکیوں میں یہی بھائی ہے۔ ویسے بھی وہ کم عمر ہے۔ خوبصورت ہے۔ سلم اینڈ سمارٹ ہے۔ باپ نے دخل دیتے ہوئے کہا کہ رہا بچے کا سوال تو وہ اتنا کیوٹ سا ہے کہ ہمارے گھر میں رونق ہو جائے گی۔اسے پالنے میں ہمیں کیا دقت پیش آئے گی، دولت کی ریل پیل ہے نوکروں کی فوج ہے۔ باپ نے اسے قائل کرتے ہوئے کہا۔ ویسے بھی یتیم کو پالنا باعث ثواب ہے۔ مگر وہ مسلسل منہ پھلائے رہا اور بولا کہ یہ جو آپ مجھے اتنے دلائل دے رہے ہیں صرف دوستی نبھانے کے لیے۔ ورنہ کتنے یتیموں کی آج تک آپ نے مدد کر کے ثواب کمایا ہے۔ باپ نے شرمندگی سے سر جھکا کر ایک آہ بھری اور کہا کہ واقعی تم سچ کہتے ہو۔ بڑی پوسٹ کے نشے میں کھبی غریبوں کا خیال ہی نہ آیا۔ اب ریٹائرڈ ہوں انشاءاللہ اب اپنے دین کی طرف رجوع کروں گا۔ ماں نے جھٹ پرس سے فوٹو نکال کر اس کے سامنے کی تو شانی ایک لمحے کے لیے دنگ رہ گیا۔ وہ تو کوئی حور پری جیسی لگ رہی تھی اور اتنی ینگ، اسے دیکھتے ہی پسند آ گئی مگر اناء آڑے آ گئی، نرم پڑ تے ہوئے بولا مجھے پہلے ایک نظر دیکھا دیں، ہو سکتا ہے یہ فوٹو پرانی ہو۔ ماں نے غصے سے کہا کہ یہ میں اس کی اسی دن خود کھینچ کر لائی ہوں۔ شانی نے پھر عزر پیش کیا کہ ہو سکتا ہے کہ میں اسے پسند آوں یا نہ آوں۔ ماں نے خوش ہو تے ہوئے بتایا کہ ان کی بیٹی کے لئے بہت سے رشتے آئے۔ مگر اس نے کسی کو پسند نہ کیا مگر ادھر وہ خوشی سے راضی ہے۔ کہ اسے ہم لوگ بھی اچھے لگے ہیں۔وہ بہت سمجھدار لڑکی ہے وہ کہتی ہے کہ مجھے آنٹی، آنکل بھروسے والے بھروسے والے لگتے ہیں جو

میرے بچے کو پورا ساہبان دیں گے۔

شانی نے دل میں سوچا کہ زیادہ نخرے کیے تو یہ پری ہاتھ سے نکل نہ جائے، بولا ٹھیک ہے آپ لوگ مجھے دیکھا دیں میں اس کے منہ سے بھی سننا چاہتا ہوں کہ وہ اس رشتے پر راضی ہے مجھے اس سے اکیلے میں چند منٹ بات کرنے کا موقع دیں تب۔ دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور آنکھوں سے کچھ اشارہ کیا، اور شانی کے والد نے کہا کہ ٹھیک ہے، میں اپنے دوست کو راضی کر لوں گا ویسے بھی وہ کھلے زہن کا مالک ہے۔



Reader Comments

Be the first to leave a comment on this episode!


Log in to leave a comment.

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Unlock the Full Library

PKR 300

For 30 Days of Unlimited Access

  • Read all premium and exclusive content
  • Enjoy a seamless, uninterrupted reading experience
  • Directly support the author and her work
Go Premium Now

Experience the Best Urdu Novels Online

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Captivating Novels and Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Reading Urdu Novels on Tablet and Phone

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen’s verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Elegant Desk with Pens and Books