Insaniyat Kay Naatay
Episodes
شاہ زیب دونوں ہاتھوں کو مروڑتے ہوئے پریشانی سے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے بولا، موم کیا اتنی لڑکیوں کو ناپسند کرنے کے بعد آپکو اپنے اکلوتے بیٹے کے لئے ایک بیوہ ہی پسند آئی۔ وہ بھی ایک سال کے بچے کی ماں۔ وہ والد سے طنزیہ انداز میں بولا، اس لئے کہ وہ آپ کے بچھڑے جوانی کے پیارے دوست کی بیٹی ہے۔ آپ کواسوقت اپنا پیارا دوست نظر آ رہا ہے بیٹا نہیں۔
شاہ زیب عرف شانی کے والد نے صفائی دیتے ہوئے کہا کہ ایسی بات نہیں ہے۔ مجھے پہلے تم اور تمھارا مستقبل عزیز ہے۔ مجھے یقین ہے کہ وہ تمھارے لیے بہت اچھی بیوی ثابت ہو گی۔ ماں نے بھی ہاں میں ہاں ملاہی۔وہ وثوق سے بو لی کہ تمھارے ڈیڈ درست کہہ رہے ہیں مجھے بھی سب لڑکیوں میں یہی بھائی ہے۔ ویسے بھی وہ کم عمر ہے۔ خوبصورت ہے۔ سلم اینڈ سمارٹ ہے۔ باپ نے دخل دیتے ہوئے کہا کہ رہا بچے کا سوال تو وہ اتنا کیوٹ سا ہے کہ ہمارے گھر میں رونق ہو جائے گی۔اسے پالنے میں ہمیں کیا دقت پیش آئے گی، دولت کی ریل پیل ہے نوکروں کی فوج ہے۔ باپ نے اسے قائل کرتے ہوئے کہا۔ ویسے بھی یتیم کو پالنا باعث ثواب ہے۔ مگر وہ مسلسل منہ پھلائے رہا اور بولا کہ یہ جو آپ مجھے اتنے دلائل دے رہے ہیں صرف دوستی نبھانے کے لیے۔ ورنہ کتنے یتیموں کی آج تک آپ نے مدد کر کے ثواب کمایا ہے۔ باپ نے شرمندگی سے سر جھکا کر ایک آہ بھری اور کہا کہ واقعی تم سچ کہتے ہو۔ بڑی پوسٹ کے نشے میں کھبی غریبوں کا خیال ہی نہ آیا۔ اب ریٹائرڈ ہوں انشاءاللہ اب اپنے دین کی طرف رجوع کروں گا۔ ماں نے جھٹ پرس سے فوٹو نکال کر اس کے سامنے کی تو شانی ایک لمحے کے لیے دنگ رہ گیا۔ وہ تو کوئی حور پری جیسی لگ رہی تھی اور اتنی ینگ، اسے دیکھتے ہی پسند آ گئی مگر اناء آڑے آ گئی، نرم پڑ تے ہوئے بولا مجھے پہلے ایک نظر دیکھا دیں، ہو سکتا ہے یہ فوٹو پرانی ہو۔ ماں نے غصے سے کہا کہ یہ میں اس کی اسی دن خود کھینچ کر لائی ہوں۔ شانی نے پھر عزر پیش کیا کہ ہو سکتا ہے کہ میں اسے پسند آوں یا نہ آوں۔ ماں نے خوش ہو تے ہوئے بتایا کہ ان کی بیٹی کے لئے بہت سے رشتے آئے۔ مگر اس نے کسی کو پسند نہ کیا مگر ادھر وہ خوشی سے راضی ہے۔ کہ اسے ہم لوگ بھی اچھے لگے ہیں۔وہ بہت سمجھدار لڑکی ہے وہ کہتی ہے کہ مجھے آنٹی، آنکل بھروسے والے بھروسے والے لگتے ہیں جو
میرے بچے کو پورا ساہبان دیں گے۔
شانی نے دل میں سوچا کہ زیادہ نخرے کیے تو یہ پری ہاتھ سے نکل نہ جائے، بولا ٹھیک ہے آپ لوگ مجھے دیکھا دیں میں اس کے منہ سے بھی سننا چاہتا ہوں کہ وہ اس رشتے پر راضی ہے مجھے اس سے اکیلے میں چند منٹ بات کرنے کا موقع دیں تب۔ دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور آنکھوں سے کچھ اشارہ کیا، اور شانی کے والد نے کہا کہ ٹھیک ہے، میں اپنے دوست کو راضی کر لوں گا ویسے بھی وہ کھلے زہن کا مالک ہے۔

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.