Insaniyat Kay Naatay
Episodes
طلاق کے بعد اس کے باپ نے اسے مارا پیٹا کہ تو نے دھیان کیوں نہ دیا کہ اس نے سن لیا نقلی ڈاکٹر نے بڑی مشکل سے بچایا۔ اس لڑکی نے روتے ہوئے غصے سے کہا کہ تم لگتا ہی نہیں کہ میرے باپ ہو۔ اس کا باپ جو اس وقت شدید غصے کی حالت میں تھا اونچی آواز میں غصے سے دھاڑتے ہوئے بولا ہاں نہیں ہوں میں تمھارا باپ، یتیم خانے سے لے کر آیا تھا کہ پال کر اس سے پیسے کماوں گا مگر چند ٹکوں کے علاوہ تم نے کوئی بڑا فائدہ نہیں دیا اب دیکھ میں کیسے تیرے دام لگا کر ایک ہی بار فاہدہ اٹھاتا ہوں۔ پھر اس آدمی سے مخاطب ہو کر بولا تم اس کے لئے اچھا سا گاہک تلاش کر کے لاو۔ آ دھا کمیشن تمھارا۔ وہ آدمی اسے پکڑ کر اندر لے گیا اور دروازہ اندر سے بند کر لیا۔
شاہ زیب نے ٹشو سے پسینہ صاف کیا، بھابھی نے پوچھا اس کا نام کیا تھا دعا نے شانی کی طرف دیکھا اور کہا کہ بتاتی ہوں۔ سمراب نے گلاس میں پانی ڈال کر دعا کو پلایا اور کہا کہ ماما آپ بول بول کر تھک گئی ہوں گی۔ دادی منہ بنا کر بولی۔ پتا نہیں اس میں راز کون سا ہے۔ بھابھی کو کچھ کچھ اندازہ ہونے لگا وہ بولی زرا جلدی سے سنا دو ہم نے جلدی جانا ہے۔ زارا جھٹ بولی! ماما آپ تو کہ رہی تھی کہ ہم لیٹ واپس آئیں گے۔ ماں نے گھورا تو وہ پہلو بدل کر رہ گئی۔
دعا نے پانی پیا اس کا حلق خشک ہو گیا تھا، رمنا دل میں سوچنے لگی۔ مجھے بیٹی ہو کر خیال نہیں آیا حالانکہ بیٹیاں ماں کے زیادہ قریب ہوتی ہیں۔
دعا نے پھر بولنا شروع کر دیا۔ لڑکی کو موقع مل گیا اس نے جلدی سے بیگ میں ضروری چیزیں جلدی سے ڈالیں اور تیزی سے باہر نکل آئی۔ پیچھے دیکھا تو وہ نقلی ڈاکٹر اس کو آوازیں دینے لگا۔ لڑکی نے ڈر کر بھاگنا شروع کر دیا تو وہ گاڑی میں بیٹھا چلا رہا تھا اس نے آواز دے کر کہا رکو بیٹی میرا اعتبارِ کرو۔ میں لالچی ہوں مگر اتنا بےغیرت نہیں کہ بیٹی کا سودا کروں۔ میں بھی بیٹی والا ہوں۔ بڑی مشکل سے اسے الو بنا کر آیا ہوں کہ تمہیں لے کر آتا ہوں جلدی سے گاڑی میں بیٹھ جاو وہ پیچھے آ نہ جائے۔ اس نے فرنٹ کا دروازہ کھولا تو وہ جلدی سے بیٹھ کر اسے دھمکی دینے لگی کہ اگر تم نے میرے ساتھ چالاکی کی تو میں چلتی گاڑی سے چھلانگ لگا دوں گی۔ اس آدمی نے بتایا کہ جب اس نے بولا کہ تم اس کی بیٹی نہیں ہو۔ تو میں نے اسی وقت فیصلہ کر لیا تھا کہ تمھیں اس کے چنگل سے چھڑا لوں گا جب تم اندر گیء تو میں اسے جان کر کمرے میں لے گیا اور دروازہ بند کر دیا تاکہ تم جلدی سے بیگ بنا سکو۔ پھر میں نے اس کے ساتھ ڈن کر لیا۔ جب ہلکے سے دروازے کی آواز آئی تو میں اس کے ساتھ باہر آیا تو اس نے جا کر پسٹل نکال لی اور بولا لگتا ہے بھاگ گئی ہے، میں نے جیب سے گاڑی کی چابی نکال کر اسے تسلی دیتے ہوئے کہا کہ فکر نہ کرو زیادہ دور نہیں گئی ہو گی میں لے کر آیا۔ وہ پاوں سے ننگا تھا وہ تیزی سے بھاگا سامنے پڑے ہوئے میز سے ٹکرایا میز پر پڑے جگ سے پانی گرا وہ اس پر سے پھسلا زور سے چیخ ماری اور میں موقع لگا کر باہر نکل آیا۔ دعا نے بتایا کہ گرنے سے اس کی ٹانگ ٹوٹ گئی تھی۔ محلے والے اسے گورنمنٹ ہاسپٹل چھوڑ آئے۔ گھر کراے کا تھا اور دو تین ماہ کا کرایہ بھی ڈیو تھا۔ مالک مکان نے اس کا سامان باہر پھینک دیا۔ جن محلے والوں کا قرض دینا تھا ان لوگوں نے سامان لوٹ لیا۔ ایک محلے دار نے اسے سارا ماجرا کہہ سنایا۔ ہاسپٹل کے اندر ہی ٹوٹی ہوئی ٹانگ کے ساتھ بھیک مانگتا ہے۔ زارا تجسس سے بولی۔ پھوپھو اس لڑکی کا کیا بنا۔ دادی نے ناگوار انداز میں کہا کہ رات کے کھانے کا انتظام بھی کرنا ہے جلدی سے قصہ ختم کرو۔ شانی بولا اماں باہر سے آرڈر کر دیں گے۔ دعا نے کہا کہ میں نے انتظام کر دیا ہے ملازم تیار کر رہے ہیں۔ بھابھی نے کہا کہ اب آگے بھی سناو۔ دعا نے لمبی سانس بھری، شانی کو دیکھا لگتا تھا وہ بھی منتظر ہے سٹوری آگے سننے کے لیے۔
دعا نے بھی روتے ہوئے پوچھا نہ جانے میں کون ہوں تو اس آدمی نے کہا کہ تم ایک سال کی تھی جب تم والدین کے ساتھ باہک پر جا رہی تھی یہ آدمی میرا پرانا واقف تھا تمھارے والدین کا ایکسیڈنٹ ہوا اور وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے۔ تم معمولی زخمی تھی۔ لوگوں نے اٹھا کر یتیم خانے لے چلے تو میں اس وقت اس کے ساتھ ہی تھا اس نے لوگوں سے کہا کہ میں بے اولاد ہوں۔ میں اسے بیٹی بنا کر پالوں گا لوگوں سے جلدی سے چھین کر فرار ہو گیا۔ لوگ دیکھتے ہی رہ گئے۔ تب سے یہ تمھیں پال رہا ہے لوگوں کو اپنی سگی بیٹی بتاتا ہے یہ راز صرف میں ہی جانتا ہوں۔
دادی بولی کیا یہی راز تھا۔

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.