Logo
Insaniyat Kay Naatay
21 Episodes
Insaniyat Kay Naatay EP 16
Episode 16

انسانیت کے ناطے16

Insaniyat Kay Naatay


سولہواں حصہ - 16th Part

 

"طلاق کے بعد اس کے باپ نے اسے مارا پیٹا کہ تو نے دھیان کیوں نہ دیا کہ اس نے سن لیا نقلی ڈاکٹر نے بڑی مشکل سے بچایا۔ اس لڑکی نے روتے ہوئے غصے سے کہا کہ تم لگتا ہی نہیں کہ میرے باپ ہو۔ اس کا باپ جو اس وقت شدید غصے کی حالت میں تھا اونچی آواز میں غصے سے دھاڑتے ہوئے بولا ہاں نہیں ہوں میں تمھارا باپ، یتیم خانے سے لے کر آیا تھا کہ پال کر اس سے پیسے کماؤں گا مگر چند ٹکوں کے علاوہ تم نے کوئی بڑا فائدہ نہیں دیا اب دیکھ میں کیسے تیرے دام لگا کر ایک ہی بار فائیدہ اٹھاتا ہوں۔ پھر اس آدمی سے مخاطب ہو کر بولا تم اس کے لئے اچھا سا گاہک تلاش کر کے لاؤ۔ آ دھا کمیشن تمھارا۔ وہ آدمی اسے پکڑ کر اندر لے گیا اور دروازہ اندر سے بند کر لیا۔"

شاہ زیب نے ٹشو سے پسینہ صاف کیا' بھابھی نے پوچھا 

"اس کا نام کیا تھا" 

دعا نے شانی کی طرف دیکھا اور کہا  

"بتاتی ہوں۔" 

سمراب نے گلاس میں پانی ڈال کر دعا کو پلایا اور کہا 

"ماما آپ بول بول کر تھک گئی ہوں گی۔" 

دادی منہ بنا کر بولی۔ 

"پتا نہیں اس میں راز کون سا ہے۔" 

بھابھی کو کچھ کچھ اندازہ ہونے لگا وہ بولی 

"زرا جلدی سے سنا دو ہم نے جلدی جانا ہے۔" 

زارا جھٹ بولی 

"ماما آپ تو کہ رہی تھی کہ ہم لیٹ واپس آئیں گے۔" 

ماں نے گھورا تو وہ پہلو بدل کر رہ گئی۔ دعا نے پانی پیا اس کا حلق خشک ہو گیا تھا۔ رمنا دل میں سوچنے لگی۔ مجھے بیٹی ہو کر خیال نہیں آیا حالانکہ بیٹیاں ماں کے زیادہ قریب ہوتی ہیں۔

دعا نے پھر بولنا شروع کر دیا۔ 

"لڑکی کو موقع مل گیا اس نے جلدی سے بیگ میں ضروری چیزیں جلدی سے ڈالیں اور تیزی سے باہر نکل آئی۔ پیچھے دیکھا تو وہ نقلی ڈاکٹر اس کو آوازیں دینے لگا۔ لڑکی نے ڈر کر بھاگنا شروع کر دیا تو وہ گاڑی میں بیٹھا چلا رہا تھا اس نے آواز دے کر کہا رکو بیٹی میرا اعتبارِ کرو۔ میں لالچی ہوں مگر اتنا بےغیرت نہیں کہ بیٹی کا سودا کروں۔ میں بھی بیٹی والا ہوں۔ بڑی مشکل سے اسے الو بنا کر آیا ہوں کہ تمہیں لے کر آتا ہوں جلدی سے گاڑی میں بیٹھ جاؤ وہ پیچھے آ نہ جائے۔ اس نے فرنٹ کا دروازہ کھولا تو وہ جلدی سے بیٹھ کر اسے دھمکی دینے لگی کہ اگر تم نے میرے ساتھ چالاکی کی تو میں چلتی گاڑی سے چھلانگ لگا دوں گی۔ اس آدمی نے بتایا کہ جب اس نے بولا کہ تم اس کی بیٹی نہیں ہو۔ تو میں نے اسی وقت فیصلہ کر لیا تھا کہ تمھیں اس کے چنگل سے چھڑا لوں گا جب تم اندر گئی تو میں اسے جان کر کمرے میں لے گیا اور دروازہ بند کر دیا تاکہ تم جلدی سے بیگ بنا سکو۔ پھر میں نے اس کے ساتھ ڈن کر لیا۔ جب ہلکے سے دروازے کی آواز آئی تو میں اس کے ساتھ باہر آیا تو اس نے جا کر پسٹل نکال لی اور بولا لگتا ہے بھاگ گئی ہے، میں نے جیب سے گاڑی کی چابی نکال کر اسے تسلی دیتے ہوئے کہا کہ فکر نہ کرو زیادہ دور نہیں گئی ہو گی میں لے کر آیا۔ وہ پاوں سے ننگا تھا وہ تیزی سے بھاگا سامنے پڑے ہوئے میز سے ٹکرایا میز پر پڑے جگ سے پانی گرا وہ اس پر سے پھسلا زور سے چیخ ماری اور میں موقع لگا کر باہر نکل آیا۔" 

دعا نے بتایا کہ گرنے سے اس کی ٹانگ ٹوٹ گئی تھی۔ 

"محلے والے اسے گورنمنٹ ہاسپٹل چھوڑ آئے۔ گھر کرائے کا تھا اور دو تین ماہ کا کرایہ بھی ڈیو تھا۔ مالک مکان نے اس کا سامان باہر پھینک دیا۔ جن محلے والوں کا قرض دینا تھا ان لوگوں نے سامان لوٹ لیا۔ ایک محلے دار نے اسے سارا ماجرا کہہ سنایا۔ ہاسپٹل کے اندر ہی ٹوٹی ہوئی ٹانگ کے ساتھ بھیک مانگتا ہے۔" 

زارا تجسس سے بولی۔ 

'پھوپھو اس لڑکی کا کیا بنا۔" 

دادی نے ناگوار انداز میں کہا

"رات کے کھانے کا انتظام بھی کرنا ہے جلدی سے قصہ ختم کرو۔" 

شانی بولا 

"اماں باہر سے آرڈر کر دیں گے۔" 

دعا نے کہا 

"میں نے انتظام کر دیا ہے ملازم تیار کر رہے ہیں۔" 

بھابھی نے کہا 

"اب آگے بھی سناؤ۔"

دعا نے لمبی سانس بھری، شانی کو دیکھا، لگتا تھا وہ بھی منتظر ہے سٹوری آگے سننے کے لیے۔

"لڑکی نے روتے ہوئے پوچھا نہ جانے میں کون ہوں تو اس آدمی نے کہا کہ تم ایک سال کی تھی جب تم والدین کے ساتھ بائک پر جا رہی تھی یہ آدمی میرا پرانا واقف تھا تمھارے والدین کا ایکسیڈنٹ ہوا اور وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے۔ تم معمولی زخمی تھی۔ لوگوں نے اٹھا کر یتیم خانے لے چلے تو میں اس وقت اس کے ساتھ ہی تھا اس نے لوگوں سے کہا کہ میں بے اولاد ہوں۔ میں اسے بیٹی بنا کر پالوں گا لوگوں سے جلدی سے چھین کر فرار ہو گیا۔ لوگ دیکھتے ہی رہ گئے۔ تب سے یہ تمھیں پال رہا ہے لوگوں کو اپنی سگی بیٹی بتاتا ہے یہ راز صرف میں ہی جانتا ہوں۔"

دادی بولی

"کیا یہی راز تھا۔"


ستارھواں حصہ 17th Part


Continue Reading
Episode 17
انسانیت کے ناطے17

Reader Comments

No comments yet. Be the first to share your thoughts!

Log in to leave a comment.

Related Novels

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Premium Membership

Unlock the Full Library

One subscription. Every story. Unlimited reading.

PKR 300
30 Days of Unlimited Access
Go Premium Now

Secure payment  ·  Instant access

Full Novel Library
Access every premium & exclusive novel — no episode locked
Unlimited Reading
Read as much as you want, whenever you want, at your pace
Support the Author
Your subscription directly supports Abida Z Shireen's work
New Episodes First
Be the first to read every new episode as soon as it drops
A F S R N
Join thousands of readers already enjoying premium access
Loved by readers
Our Literary World

Experience the Best Urdu Novels Online

Dive into decades of storytelling by Pakistan's most beloved author, now at your fingertips.

50+
Published Novels
30+
Years of Writing
1M+
Readers Worldwide
100%
Authentic Stories
01

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Read Her Story
Abida Z Shireen
Author
02

Captivating Novels & Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Browse All Novels
Reading Urdu Novels on Tablet and Phone
Novels
03

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen's verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Explore Poetry
Elegant Desk with Pens and Books
Poetry