Logo
Insaniyat Kay Naatay
21 Episodes
Insaniyat Kay Naatay EP 18
Episode 18

انسانیت کے ناطے18

Insaniyat Kay Naatay


اٹھارھواں حصہ - 18th Part

 

کافی دیر بعد سمراب آیا۔ دعا نے تڑپ کر اسے پوچھا 

"تم ٹھیک تو ہو۔" 

سب باہر نکل آئے۔ اڑی رنگت، سوجی آنکھیں، بکھرے بال پریشان حال۔ دعا نے پوچھا 

"میرا میسج ملا تھا"

"جی میں بہت دور نکل گیا تھا۔" 

رمنا قریب آکر اس کا بازو پکڑ کر بولی 

"شکر ہے بھائی آپ خیریت سے آ گئے ہیں"

 وہ بولا 

"کئی بار ایکسیڈنٹ ہوتے ہوتے بچا۔" 

زارا نے اسے دکھی نظروں سے دیکھا اس نے زارا کو دیکھا اور اپنے کمرے میں چلا گیا۔ سب نے تھوڑا بہت کھانا کھایا۔ سمراب کو دعا اور رمنا نے اپنے ہاتھ سے کھلایا۔ زارا بھی پاس بیٹھی رہی۔

سمراب شانی سے بات نہ کرتا۔ دادا دادی پہلے سے زیادہ واری صدقے جاتے۔ پہلے پھر کھبی ہنس لیتا تھا اب بالکل سنجیدہ ہو گیا تھا۔ وہ اسی طرح دادا دادی کی خدمت کرتا وہ دعائیں دیتے نہ تھکے۔ دعا کے بھی شکر گزار رہتے۔ شانی اب دعا سے معافی مانگتا اس کا مشکور رہتا۔ شانی کو باپ کی صحت کی بھی فکر رہتی۔ بہانے سے پوچھتا 

"ماما سب کو دوا دے دی۔" 

وہ اندر سے خوش ہوتی۔ شانی بیٹے کی دوری کا گلہ کرتا تو دعا تسلی دیتی۔

رمنا کے مسئلے کو سب بھولے بیٹھے تھے۔ شانی نے دعا سے کہا 

"رمنا کو ڈاکٹر کے پاس لے کر جاؤ اگر کوئی ایسا مسئلہ ہے تو اس کی جان چھڑاؤ۔" 

دعا اندر سے لرز گئی مگر کچھ نہ بولی۔ اگر حرام کا بھی ہوتا تو بھی وہ ایسا نہ کرتی۔ مگر ڈاکٹر نے کہا 

"اب دیر ہو چکی ہے۔ اب کچھ نہیں ہو سکتا۔" 

اب ان لوگوں سے ملکر شادی کی ڈیٹ جلد از جلد فکس کرنی تھی۔ رمنا رو رو کر معافی مانگتی۔ ماں پیار سے گلے لگا لیتی۔

دعا نے سمراب کو سمجھایا 

"پلیز اپنے باپ کو معاف کر دو ورنہ میں گلٹی فیل کروں گی کہ میں نے کیوں بتایا۔ تمھارا باپ دل کا مریض ہے۔ کیا ماں کے ساتھ باپ کو بھی کھونا چاہتے ہو۔ تمھاری ماں اچھے کردار کی تھی۔ اس نے اپنی عزت بچائے رکھی۔ باپ کے مجبور کرنے پر وہ ایسا کرتی تھی۔ شانی کے دوست سے بیلنس لیتی تھی۔ اب شانی مرد تھا نا خود سو گناہ کر کے بھی بیوی پاکیزہ دھونڈتے ہیں۔ اب وہ اس کے ساتھ زیادتی کر کے پچھتا ریے ہیں۔ اپنی جگہ وہ بھی حق بجانب ہیں۔ ان کے ساتھ دھوکہ ہوا تھا تو کوئی بھی ہوتا تو ایسا ہی ری ایکٹ کرتا۔ نارمل ہو جاؤ پلیز۔ پہلے ہی ہم رمنا کے مسئلے سے پریشان ہیں۔" 

سمراب نے ماں سے معافی مانگی اور باپ سے جا کر سوری بولا تو شانی روتے ہوئے بولا 

"معافی تو میں نے تم سے مانگنی ہے" 

اور اس کے آگے ہاتھ جوڑ دیے۔ سمراب نے بڑھ کر ہاتھ چوم لیے۔ شانی نےاسے فرط جزبات سے گلے لگا لیا۔ دعا نے سکون کا سانس لیا۔

دعا نے اس لڑکے علی کا نمبر لیکر اس کی ماں سے بات کی۔ 

"آپ لو گوں سے فون پر بات کی کہ بچوں کے بارے میں بات کرنی ہے۔ آپ لوگ آئیں گے یا ہم لوگ آ جائیں۔" 

انہوں نے کہا  

"آپ بیٹے کے ساتھ آ جائیں۔" 

اس سے پہلے دعا نے سب کے مشورے سے محلے میں مٹھائی تقسیم کر دی کہ ہم نے رمنا کا نکاح کر دیا ہے۔ سب لوگ مبارک باد دینے لگے۔ لوگوں کو یہ بتایا کہ پرانے ملنے والے تھے باہر رہتے ہیں۔ ہم نے نکاح کر کے خاموشی سے رخصت کر دیا کیونکہ اس کے پاپا بیمار تھے تو وہ فرض سے سبکدوش ہونا چاہتے تھے۔ رشتہ داروں کے بھی مبارک باد کے فون آنے لگے۔ کچھ گھر بھی مبارک باد دینے آئے۔ کچھ نے فوٹوز دیکھنے کی خواہش ظاہر کی تو کہا وہ زرا مزہبی ٹائپ لوگ ہیں تصویریں وغیرہ پسند نہیں کرتے۔ کچھ افسوس کرنے لگے بولے

"اسی لئے اس نے حلیہ تبدیل کر لیا ہے۔" جو رمنا کے پہلے فیشن کو جانتے تھے اب رمنا شلوار قمیض میں ملبوس سر پر بڑا دوپٹہ اوڑھے بہت مہزب بن کر کھڑی تھی۔ کچھ اس تبدیلی پر اسے شاباش دے کر تعریف کرنے لگے۔ گھر والوں نے شکر ادا کیا کہ دعا کی عقلمندی سے عزت بچ گئی کسی کو شبہ نہ ہوا۔ 

اب ان لوگوں سے ملنے وہ اور سمراب جانے لگے تو دادی نے مٹھائی وغیرہ لے جانے کا کہا تو سمراب نے کہا  

"فی الحال ہم کچھ بھی نہیں لے کر جائیں گے۔ انہوں نے صرف دو بندوں کو بلایا ہے مجھے ان کے تیور کچھ ٹھیک نہیں لگ رہے۔"

ان لوگوں نے کچھ خاص لفٹ نہیں کرائی۔ ڈرائینگ روم میں بٹھا کر صرف جوس پلایا۔ صرف ماں باپ آئے۔ علی بھی سامنے نہیں آیا۔ حالانکہ علی کے دو بھائی شادی شدہ تھے اور ادھر ہی رہتے تھے۔ علی کی ماں نے فخر سے بتایا کہ ان کے گھر پردے کی پابندی عائد ہے۔ ان کی بہویں پردہ کرتی ہیں۔ پھر وہ اپنے اصلی مدعے پر آ گئے۔ علی کی ماں بولی

"کل اپ لوگ ہمارے ساتھ کورٹ چلیں تاکہ طلاق کی کارروائی مکمل کر لیں۔" 

دعا کا حلق خشک ہو گیا۔ وہ پریشانی سے بولی 

"مگر ہم تو شادی کی بات کرنے آئے تھے۔" 

وہ کھٹور لہجے میں بولی۔ 

"آپ بھی طلاق لے کر اس کی اسی جیسے لوگوں میں شادی کر دیں۔ ہمارے گھر میں وہ کھبی فٹ نہیں ہو سکتی۔" 

دعا جلدی سے بولی 

"ہو جائے گی میں اسے سکھا دوں گی۔" 

"پہلے سکھانا تھا اب ہم اس کو سدھارنے میں لگ جائیں۔"


انیسواں حصہ - 19th Part


Continue Reading
Episode 19
انسانیت کے ناطے19

Reader Comments

No comments yet. Be the first to share your thoughts!

Log in to leave a comment.

Related Novels

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Premium Membership

Unlock the Full Library

One subscription. Every story. Unlimited reading.

PKR 300
30 Days of Unlimited Access
Go Premium Now

Secure payment  ·  Instant access

Full Novel Library
Access every premium & exclusive novel — no episode locked
Unlimited Reading
Read as much as you want, whenever you want, at your pace
Support the Author
Your subscription directly supports Abida Z Shireen's work
New Episodes First
Be the first to read every new episode as soon as it drops
A F S R N
Join thousands of readers already enjoying premium access
Loved by readers
Our Literary World

Experience the Best Urdu Novels Online

Dive into decades of storytelling by Pakistan's most beloved author, now at your fingertips.

50+
Published Novels
30+
Years of Writing
1M+
Readers Worldwide
100%
Authentic Stories
01

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Read Her Story
Abida Z Shireen
Author
02

Captivating Novels & Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Browse All Novels
Reading Urdu Novels on Tablet and Phone
Novels
03

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen's verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Explore Poetry
Elegant Desk with Pens and Books
Poetry