Insaniyat Kay Naatay
Episodes
کافی دیر بعد سمراب آیا۔ دعا نے تڑپ کر اسے پوچھا تم ٹھیک تو ہو۔ سب باہر نکل آئے۔ اڑی رنگت سوجی آنکھیں بکھرے بال پریشان حال۔ دعا نے پوچھا میرا میسج ملا تھا جی میں بہت دور نکل گیاتھا۔ رمنا قریب آکر اس کا بازو پکڑ کر بولی شکر ہے بھائی آپ خیریت سے آ گے ہیں وہ بولا کیء بار ایکسیڈنٹ ہوتے ہوتے بچا۔ زارا نے اسے دکھی نظروں سے دیکھا اس نے زارا کو دیکھا اور اپنے کمرے میں چلا گیا۔ سب نے تھوڑا بہت کھانا کھایا۔ سمراب کو دعا اور رمنا نے اپنے ہاتھ سے کھلایا۔ زارا بھی پاس بیٹھی رہی۔
سمراب شانی سے بات نہ کرتا۔ دادا دادی پہلے سے زیادہ واری صدقے جاتے۔ پہلے پھر کھبی ہنس لیتا تھا اب بالکل سنجیدہ ہو گیا تھا وہ اسی طرح دادا دادی کی خدمت کرتا وہ دعائیں دیتے نہ تھکے۔ دعا کے بھی شکر گزار رہتے۔ شانی اب دعا سے معافی مانگتا اس کا مشکور ریتا۔ شانی کو باپ کی صہت کی بھی فکر رہتی۔ بہانے سے پوچھتا ماما سب کو دوا دے دی۔ وہ اندر سے خوش ہوتی۔ شانی بیٹے کی دوری کا گلہ کرتا تو دعا تسلی دیتی۔
رمنا کے مسئلے کو سب بھولے بیٹھے تھے۔ شانی نے دعا سے کہا رمنا کو ڈاکٹر کے پاس لے کر جاو اگر کوئی ایسا مسئلہ ہے تو اس کی جان چھڑاو۔ دعا اندر سے لرز گی مگر کچھ نہ بولی۔ اگر حرام کا بھی ہوتا تو وہ ایسا نہ کرتی۔ مگر ڈاکٹر نے کہا اب دیر ہو چکی ہے۔ اب کچھ نہیں ہو سکتا۔ اب ان لوگوں سے ملکر شادی کی ڈیٹ جلد از جلد فکس کرنی تھی۔ رمنا رو رو کر معافی مانگتی۔ ماں پیار سے گلے لگا لیتی۔
دعا نے سمراب کو سمجھایا کہ پلیز اپنے باپ کو معاف کر دو ورنہ میں گلٹی فیل کروں گی کہ میں نے کیوں بتایا۔ تمھارا باپ دل کا مریض ہے۔ کیا ماں کے ساتھ باپ کو بھی کھونا چاہتے ہو۔ تمھاری ماں اچھے کردار کی تھی۔ اس نے اپنی عزت بچائے رکھی۔ باپ کے مجبور کرنے پر وہ ایسا کرتی تھی۔ شانی کے دوست سے بیلنس لیتی تھی۔ اب شانی مرد تھا نا خود سو گناہ کر کے بھی بیوی پاکیزہ دھونڈتے ہیں۔ اب وہ اس کے ساتھ زیادتی کر کے پچھتا ریے ہیں۔ اپنی جگہ وہ بھی حق بجانب ہیں۔ ان کے ساتھ دھوکہ ہوا تھا تو کوئی بھی ہوتا تو ایسا ہی ری ایکٹ کرتا۔ نارمل ہو جاو پلیز۔ پہلے ہی ہم رمنا کے مسئلے سے پریشان ہیں۔ سمراب نے ماں سے معافی مانگی اور باپ سے جا کر سو ری بولا تو شانی روتے ہوئے بولا معافی تو میں نے تم سے مانگنی ہے اور اس کے آگے ہاتھ جوڑ دیے سمراب نے بڑھ کر ہاتھ چوم لیے۔ شانی نےاسے فرط جزبات سے گلے لگا لیا۔ دعا نے سکون کا سانس لیا۔
دعا نے اس لڑکے علی کا نمبر لیکر اس کی ماں سے بات کی۔ آپ لو گوں سے فون پر بات کی کہ بچوں کے بارے میں بات کرنی ہے۔ آپ لوگ آہیں گے یا ہم لوگ آ جائیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ بیٹے کے ساتھ آ جائیں۔ اس سے پہلے دعا نے سب کے مشورے سے محلے میں مٹھائی تقسیم کر دی کہ ہم نے رمنا کا نکاح کر دیا ہے۔ سب لوگ مبارک باد دینے لگے۔ لوگوں کو یہ بتایا کہ پرانے ملنے والے تھے باہر رہتے ہیں۔ ہم نے نکاح کر کے خاموشی سے رخصت کر دیا کیونکہ اس کے پاپا بیمار تھے تو وہ فرض سے سبکدوش ہونا چاہتے تھے۔ رشتہ داروں کے بھی مبارک باد کے فون آنے لگے۔ کچھ گھر بھی مبارک باد دینے آئے۔ کچھ نے فوٹوز دیکھنے کی خواہش ظاہر کی تو کہا وہ زرا مزہبی ٹائپ لوگ ہیں تصویریں وغیرہ پسند نہیں کرتے۔ کچھ افسوس کرنے لگے بولے اسی لئے اس نے حلیہ تبدیل کر لیا ہے۔ جو رمنا کے پہلے فیشن کو جانتے تھے اب رمنا شلوار قمیض میں ملبوس سر پر بڑا دوپٹہ اوڑھے بہت مہزب بن کر کھڑی تھی۔ کچھ اس تبدیلی پر اسے شاباش دے کر تعریف کرنے لگے۔ گھر والوں نے شکر ادا کیا کہ دعا کی عقلمندی سے عزت بچ گئی کسی کو شبہ نہ ہوا۔ اب ان لوگوں سے ملنے وہ اور سمراب جانے لگے تو دادی نے مٹھائی وغیرہ لے جانے کا کہا تو سمراب نے کہا کہ فلحال ہم کچھ بھی نہیں لے کر جائیں گے۔ انہوں نے صرف دو بندوں کو بلایا ہے مجھے ان کے تیور کچھ ٹھیک نہیں لگ رہے۔
ان لوگوں نے کچھ خاص لفٹ نہیں کرائی۔ ڈرائینگ روم میں بٹھا کر صرف جوس پایا۔ صرف ماں باپ آے علی بھی سامنے نہیں آیا۔ حالانکہ علی کے دو بھائی شادی شدہ تھے اور ادھر ہی رہتے تھے۔ علی کی ماں نے فخر سے بتایا کہ ان کے گھر پردے کی پابندی عائد ہے۔ ان کی بہویں پردہ کرتی ہیں۔ پھر وہ اپنے اصلی مدعے پر آ گے۔ علی کی ماں بولی کل اپ لوگ ہمارے ساتھ کورٹ چلیں تاکہ طلاق کی کارروائی مکمل کر لیں۔ دعا کا حلق خشک ہو گیا۔ وہ پریشانی سے بولی مگر ہم تو شادی کی بات کرنے آئے تھے۔ وہ کھٹور لہجے میں بولی۔ آپ بھی طلاق لے کر اس کی اسی جیسے لوگوں میں شادی کر دیں۔ ہمارے گھر میں وہ کھبی فٹ نہیں ہو سکتی۔ دعا جلدی سے بولی ہو جائے گی میں اسے سکھا دوں گی۔ پہلے سکھانا تھا اب ہم اس کو سدھارنے میں لگ جاہیں۔

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.