Insaniyat Kay Naatay
Episodes
دعا کی اس حرکت سے سب حیران تھے۔ سمراب ماں کو پکڑ کر اپنے کمرے میں لے گیا اور دعا سے بولا ماما ان لوگوں نے مجھے پالا پوسا اعلیٰ تعلیم دلاہی۔ میری اچھی نوکری لگی ہے۔ مجھے آفس کی طرف سے گھر بھی مل رہا ہے۔ آفس کی طرف سے گاڑی ملی ہے۔ مگر میں اس گھر سے اس لیے نہیں جاتا کہ ان کے مجھ پر بہت احسانات ہیں اور ان سب کو میری ضرورت ہے۔
دعا غصے سے بولی میں نے تو شادی ہی تمھارے لیے کی تھی ورنہ میں پڑھی لکھی تھی جاب کر کے تمھیں پال سکتی تھی۔ مگر میں جوان تھی اور میرے والدین دنیا کے ڈر سے میری شادی لازمی کر دینا چاہتے تھے۔ آج میں نے اگر شادی نہ کی ہوتی تو ہم ماں بیٹا سکھی زندگی گزار رہے ہوتے۔ تمہیں وہ لوگ کہتے تو بیٹا ہیں مگر کام سارے نوکروں والے لیتے ہیں۔ مجھ سے تو تمھاری یہ بے عزتی برداشت نہیں ہوتی۔
دعا نے کہا کہ شانی کی گاڑی تم دھوتے ہو بقول اس کے کہ نوکر اچھی نہیں دھوتے۔ شانی اور دادا کے جوتے تم پالش کرتے ہو۔ ان کے کمرے میں پانی کا جگ تم رکھتے ہو۔ ڈاکٹروں کے پاس تم لے کر جاتے ہو، حتکہ دوا بھی ٹائم پر تم کھلاتے ہو۔ گھر کا سودا سلف تم لاتے ہو۔ صبح آفس جانے سے پہلے اور آفس سے آنے کے بعد تمہیں آوازیں ہی پڑتی ہیں۔ ویسے شاہ زیب صاحب تم سے سیدھے منہ بات نہیں کرتے مگر جب کام کروانا ہو تو پھر بات کر لیتے ہیں وہ بھی مالک اور ملازم والے انداز میں حکم دیتے ہیں۔ باہر سے آ جاتے ہیں مگر راستے میں رک کر پٹرول نہیں ڈلواتے۔ نوکروں کے ہوتے ہوئے تمہیں بھیجتے ہیں۔ میں تمہیں ان کا نوکر نہیں بنا کر لائی تھی۔ ساس سس بھی اس وقت کہتے تھے ہم اسے پوتے کی طرح پالیں گے۔ ان کی ٹانگیں بھی رات کو دباتے ہو۔ میں یہ سب اب نہیں دیکھ سکتی۔ میں اب تمہیں تمھارا حق دلا کر رہوں گی۔ سمراب نے اس کی گود میں سر رکھ لیا۔ اور روتے ہوئے بھرائی اور دکھ بھری آواز میں بولا ماما جب سے مجھے معلوم ہوا تھا کہ میں سوتیلا ہوں تب سے میں نے اپنی اوقات پہچان لی تھی۔ دعا بھی اس کے سر میں انگلیاں پھیرتے ہوئے آنسو صاف کر رہی تھی سمراب کہنے لگا آپ کی زندگی میں پہلے ہی دکھ تھے پاپا آپ کو میری وجہ سے تنگ رہتے تھے۔ آپ نے اپنی زندگی عذاب میں ڈالی رکھی مگر مجھے اپنے سے دور نہ کیا۔ حالانکہ وہ چاہتے تھے کہ میں بورڈنگ میں چلا جاوں۔ ماما آپ مجھے بھیج دیتی نا۔ دعا نے کہا کہ میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتی تھی۔ میں نے شادی ہی ادھر اس لیے کی تھی کہ ان لوگوں نے بہت محبت سے تمہیں قبول کیا تھا پھر میں نے سوچا کوئی تم سے ملنے نہیں جاے گا سواے میرے۔ میرا اندازہ تھا کہ جس طرح سسر اور ساس تم سے پیار کرتے ہیں ان کی انسیت ساتھ رہنے سے بڑھے گی۔

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.