Loading...
Logo
Back to Novel
Insaniyat Kay Naatay
Episodes
Insaniyat Kay Naatay

انسانیت کے ناطے10

From Insaniyat Kay Naatay - Episode 10

دعا کی اس حرکت سے سب حیران تھے۔ سمراب ماں کو پکڑ کر اپنے کمرے میں لے گیا اور دعا سے بولا ماما ان لوگوں نے مجھے پالا پوسا اعلیٰ تعلیم دلاہی۔ میری اچھی نوکری لگی ہے۔ مجھے آفس کی طرف سے گھر بھی مل رہا ہے۔ آفس کی طرف سے گاڑی ملی ہے۔ مگر میں اس گھر سے اس لیے نہیں جاتا کہ ان کے مجھ پر بہت احسانات ہیں اور ان سب کو میری ضرورت ہے۔

دعا غصے سے بولی میں نے تو شادی ہی تمھارے لیے کی تھی ورنہ میں پڑھی لکھی تھی جاب کر کے تمھیں پال سکتی تھی۔ مگر میں جوان تھی اور میرے والدین دنیا کے ڈر سے میری شادی لازمی کر دینا چاہتے تھے۔ آج میں نے اگر شادی نہ کی ہوتی تو ہم ماں بیٹا سکھی زندگی گزار رہے ہوتے۔ تمہیں وہ لوگ کہتے تو بیٹا ہیں مگر کام سارے نوکروں والے لیتے ہیں۔ مجھ سے تو تمھاری یہ بے عزتی برداشت نہیں ہوتی۔

دعا نے کہا کہ شانی کی گاڑی تم دھوتے ہو بقول اس کے کہ نوکر اچھی نہیں دھوتے۔ شانی اور دادا کے جوتے تم پالش کرتے ہو۔ ان کے کمرے میں پانی کا جگ تم رکھتے ہو۔ ڈاکٹروں کے پاس تم لے کر جاتے ہو، حتکہ دوا بھی ٹائم پر تم کھلاتے ہو۔ گھر کا سودا سلف تم لاتے ہو۔ صبح آفس جانے سے پہلے اور آفس سے آنے کے بعد تمہیں آوازیں ہی پڑتی ہیں۔ ویسے شاہ زیب صاحب تم سے سیدھے منہ بات نہیں کرتے مگر جب کام کروانا ہو تو پھر بات کر لیتے ہیں وہ بھی مالک اور ملازم والے انداز میں حکم دیتے ہیں۔ باہر سے آ جاتے ہیں مگر راستے میں رک کر پٹرول نہیں ڈلواتے۔ نوکروں کے ہوتے ہوئے تمہیں بھیجتے ہیں۔ میں تمہیں ان کا نوکر نہیں بنا کر لائی تھی۔ ساس سس بھی اس وقت کہتے تھے ہم اسے پوتے کی طرح پالیں گے۔ ان کی ٹانگیں بھی رات کو دباتے ہو۔ میں یہ سب اب نہیں دیکھ سکتی۔ میں اب تمہیں تمھارا حق دلا کر رہوں گی۔ سمراب نے اس کی گود میں سر رکھ لیا۔ اور روتے ہوئے بھرائی اور دکھ بھری آواز میں بولا ماما جب سے مجھے معلوم ہوا تھا کہ میں سوتیلا ہوں تب سے میں نے اپنی اوقات پہچان لی تھی۔ دعا بھی اس کے سر میں انگلیاں پھیرتے ہوئے آنسو صاف کر رہی تھی سمراب کہنے لگا آپ کی زندگی میں پہلے ہی دکھ تھے پاپا آپ کو میری وجہ سے تنگ رہتے تھے۔ آپ نے اپنی زندگی عذاب میں ڈالی رکھی مگر مجھے اپنے سے دور نہ کیا۔ حالانکہ وہ چاہتے تھے کہ میں بورڈنگ میں چلا جاوں۔ ماما آپ مجھے بھیج دیتی نا۔ دعا نے کہا کہ میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتی تھی۔ میں نے شادی ہی ادھر اس لیے کی تھی کہ ان لوگوں نے بہت محبت سے تمہیں قبول کیا تھا پھر میں نے سوچا کوئی تم سے ملنے نہیں جاے گا سواے میرے۔ میرا اندازہ تھا کہ جس طرح سسر اور ساس تم سے پیار کرتے ہیں ان کی انسیت ساتھ رہنے سے بڑھے گی۔


Reader Comments

Be the first to leave a comment on this episode!


Log in to leave a comment.

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Unlock the Full Library

PKR 300

For 30 Days of Unlimited Access

  • Read all premium and exclusive content
  • Enjoy a seamless, uninterrupted reading experience
  • Directly support the author and her work
Go Premium Now

Experience the Best Urdu Novels Online

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Captivating Novels and Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Reading Urdu Novels on Tablet and Phone

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen’s verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Elegant Desk with Pens and Books