Logo
Insaniyat Kay Naatay
21 Episodes
Insaniyat Kay Naatay EP 4
Episode 4

انسانیت کے ناطے4

Insaniyat Kay Naatay


چوتھا حصہ - 4th Part

 

دعا کا بیٹا شاہ زیب کے والدین کی آنکھ کا تارا بن گیا۔ شانی کے والد ریٹائرڈ ہو چکے تھے۔ اب دونوں میاں بیوی گھر رہنا پسند کرتے۔ اب وہ پارٹی میں بوریت اور تھکن محسوس کرتے۔ وہاں کے کھانے بھی انہیں پسند نہ آتے۔ کیونکہ جب سے دعا آئی تھی اس کے اور اس کے بچے کے ساتھ خوب رونق ہو گئی تھی۔ گھر کے بنے زود ہضم کھانے نصیب ہوتے۔ زندگی پرسکون ہو گئی تھی۔ دعا کی ماں نے دعا کو بچپن سے ہی امور خانہ میں طاق کر دیا تھا۔ پھر اسلامی طرز زندگی بھی اپنایا ہوا تھا۔ باہر جاتی تو حجاب لیتی۔ گھر میں بڑا دوپٹہ اوڑھے رکھتی۔ دوپٹہ سر سے سرکنے نہ دیتی۔ سادہ لباس میں وہ بہت پروقار لگتی۔

شاہ زیب اسے دیکھ کر سوچتا کہ دعا کی صورت میں اسے کس عمل کی جزا ملی ہے۔ مگر بچے کو دیکھ کر اکتاہٹ محسوس کرتا۔ اس کے والدین کا وہ اتنا چہیتا بن گیا تھا کہ وہ اس کے خلاف ایک لفظ نہ سنتے۔ اسے یہ بچہ اپنی خوشیوں کی راہ میں کانٹا لگتا۔ دعا کو اس کو ناز اٹھاتے دیکھ کر وہ چڑنے لگا۔ سب نے محسوس کیا تو دعا نے جھجکتے ہوئے ساس سے کہا 

یہ ویسے بھی سارا دن آپ کے پاس رہتا ہے تو کیوں نا رات کو بھی آپ کے پاس سلا دیا کروں۔ 

ساس نے کہا 

ہم تو خود بھی چاہتے تھے مگر سوچ رہے تھے کہ تم ماں ہو مائینڈ نہ کرو۔ 

وہ جلدی سے بولی

آپ تو مجھ سے بھی زیادہ اس کا خیال رکھتے ہیں وہ بیٹے کے موڈ کو بھی سمجھتے تھے۔ 

شاہ زیب نے سکھ کا سانس لیا کہ اسے اب سمراب کا ناگوار وجود برداشت نہیں کرنا پڑے گا۔ شاہ زیب کو ڈر تھا کہ اس کی ماں دعا کو اپنی طرح نہ بنا دیں کیونکہ وہ ان کی بہت فرمانبردار بہو تھی۔ مگر وہاں تو الٹا ہی حساب ہو گیا تھا۔ آہستہ آہستہ اس نے عقلمندی سے سب کو اپنی ڈگر پر چلانا شروع کر دیا تھا۔ وہ اپنے جیسے لباس سلوا کر ساس کو گفٹ کرتی رہتی۔ سسر اور شوہر کی شلوار قمیض سلوا کر جمعہ کی نماز کے لئے تیار کر دیتی۔ انہیں بھی اب اس لباس میں سہولت محسوس ہونے لگی۔ وہ ساس سے بہانے سے پوچھتی 

ماما آپ نے نماز پڑھ لی کیا؟ لگتا ہے میری تو قضا ہونے لگی ہے۔ 

سسر بھی اب نماز کا پابند ہونے لگا بیٹے کو بھی زور دینے لگا مگر کھبی مانتا کھبی نہ۔

ساس نے جب پہلی بار شلوار قمیض پہنی تو دعا کےسسر نے بے اختیار تعریف کی 

وہ بہت گریس فل لگ رہی ہے۔ 

وہ بہت خوش ہوئی۔ پہلے وہ کھبی تعریف نہ کرتے وہ مہنگے لباس پہن کر پوچھتی میں کیسی لگ رہی ہوں۔ تو وہ دھیان دیے بغیر کہتے ارے تم ہر ڈریس میں خوبصورت لگتی ہو۔ آج وہ اسے پیار سے بھی دیکھ رہے تھے اور تعریف بھی کر رہے تھے۔ ساس کو بھی وہ لباس آرام دہ لگے۔ اب تو بیٹا بھی تعریف کرتا تھا۔ اپنے پرانے ڈریس اسے پہن کر شرم محسوس ہوتی۔ وہ آئینہ کے سامنے کھڑی ہوئی۔ ڈیپ گلہ سلیولیس بازو چھوٹی سی شرٹ، اور چست ٹراوزر۔ اسے اپنا آپ ننگا ننگا محسوس ہوا۔ اسے بہت شرم آئی۔ اس نے سوچا کیا وہ ساری زندگی اس طرح دنیا کے سامنے آتی رہی ہے توبہ توبہ۔ اس نے اسی وقت تمام کپڑوں کو پھینک دیا۔ اس نے دعا کا سوچا کہ تھوڑی دیر کے لیے اس کے سر سے دوپٹہ سرکا تو اس کی ماں نے ڈانٹا تھا اب شادی کے بعد بھی اس نے سر سے کھبی دوپٹہ نہیں اتارا۔ ساس نے کہا بھی مگر وہ جواب دیتی مجھے عادت نہیں ہے۔

شاہ زیب کے والدین اپنی پچھلی زندگی پر پچھتاتے۔ انہوں نے اپنے بچے کو کھبی پاس نہیں سلایا۔ حالانکہ سمراب کو پاس سلا کر انہیں بڑا سکون ملتا۔ اس کے ساتھ کھیل کر، اسے اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلا کر۔ وہ اپنی توتلی زبان میں ان کا خوب دل بہلاتا۔ وہ اسے قریبی پارک بھی لے کر جاتے۔ دعا کے سسر اسے خود اسکول لے کر جاتے۔ والدیت میں شاہ زیب کا جب نام لکھوایا تو وہ بہت تپا مگر باپ کے آگے اس کی نہ چل سکی۔ وہ کہتے دعا اور سمراب نے ہماری زندگی بدل دی۔ ہم ایک مصنوعی زندگی گزار رہے تھے۔ سوائے تھکن کے کچھ حاصل نہیں ہوتا تھا۔


پانچواں حصہ - 5th Part


Continue Reading
Episode 5
انسانیت کے ناطے5

Reader Comments

No comments yet. Be the first to share your thoughts!

Log in to leave a comment.

Related Novels

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Premium Membership

Unlock the Full Library

One subscription. Every story. Unlimited reading.

PKR 300
30 Days of Unlimited Access
Go Premium Now

Secure payment  ·  Instant access

Full Novel Library
Access every premium & exclusive novel — no episode locked
Unlimited Reading
Read as much as you want, whenever you want, at your pace
Support the Author
Your subscription directly supports Abida Z Shireen's work
New Episodes First
Be the first to read every new episode as soon as it drops
A F S R N
Join thousands of readers already enjoying premium access
Loved by readers
Our Literary World

Experience the Best Urdu Novels Online

Dive into decades of storytelling by Pakistan's most beloved author, now at your fingertips.

50+
Published Novels
30+
Years of Writing
1M+
Readers Worldwide
100%
Authentic Stories
01

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Read Her Story
Abida Z Shireen
Author
02

Captivating Novels & Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Browse All Novels
Reading Urdu Novels on Tablet and Phone
Novels
03

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen's verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Explore Poetry
Elegant Desk with Pens and Books
Poetry