Insaniyat Kay Naatay
Episodes
دعا کا بیٹا شاہ زیب کے والدین کی آنکھ کا تارا بن گیا۔ شانی کے والد ریٹائرڈ ہو چکے تھے۔ اب دونوں میاں بیوی گھر رہنا پسند کرتے۔ اب وہ پارٹی میں بوریت اور تھکن محسوس کرتے۔ وہاں کے کھانے بھی انہیں پسند نہ آتے۔ کیونکہ جب سے دعا آئی تھی اس کے اور اس کے بچے کے ساتھ خوب رونق ہو گئی تھی۔ گھر کے بنے زود ہضم کھانے نصیب ہوتے۔ زندگی پرسکون ہو گئی تھی۔ دعا کی ماں نے دعا کو بچپن سے ہی امور خانہ میں طاق کر دیا تھا۔ پھر اسلامی طرز زندگی بھی اپنایا ہوا تھا۔ باہر جاتی تو حجاب لیتی۔ گھر میں بڑا دوپٹہ اوڑھے رکھتی۔ دوپٹہ سر سے سرکنے نہ دیتی۔ سادہ لباس میں وہ بہت پروقار لگتی۔
شاہ زیب اسے دیکھ کر سوچتا کہ دعا کی صورت میں اسے کس عمل کی جزا ملی ہے۔ مگر بچے کو دیکھ کر اکتاہٹ محسوس کرتا۔ اس کے والدین کا وہ اتنا چہیتا بن گیا تھا کہ وہ اس کے خلاف ایک لفظ نہ سنتے۔ اسے یہ بچہ اپنی خوشیوں کی راہ میں کانٹا لگتا۔ دعا کو اس کو ناز اٹھاتے دیکھ کر وہ چڑنے لگا۔ سب نے محسوس کیا تو دعا نے جھجکتے ہوئے ساس سے کہا کہ یہ ویسے بھی سارا دن آپ کے پاس رہتا ہے تو کیوں نا رات کو بھی آپ کے پاس سلا دیا کروں۔ ساس نے کہا کہ ہم تو خود بھی چاہتے تھے مگر سوچ رہے تھے کہ تم ماں ہو ماہینڈ نہ کرو۔ وہ جلدی سے بولی۔ آپ تو مجھ سے بھی زیادہ اس کا خیال رکھتے ہیں وہ بیٹے کے موڈ کو بھی سمجھتے تھے۔ شاہ زیب نے سکھ کا سانس لیا کہ اسے اب سمراب کا ناگوار وجود برداشت نہیں کرنا پڑے گا۔
شاہ زیب کو ڈر تھا کہ اس کی ماں دعا کو اپنی طرح نہ بنا دیں کیونکہ وہ ان کی بہت فرمانبردار بہو تھی۔ مگر وہاں تو الٹا ہی حساب ہو گیا تھا۔ آہستہ آہستہ اس نے عقلمندی سے سب کو اپنی ڈگر پر چلانا شروع کر دیا تھا۔ وہ اپنے جیسے لباس سلوا کر ساس کو گفٹ کرتی رہتی۔ سسر اور شوہر کی شلوار قمیض سلوا کر جمعہ کی نماز کے لئے تیار کر دیتی۔ انہیں بھی اب اس لباس میں سہولت محسوس ہونے لگی۔ وہ ساس سے بہانے سے پوچھتی ماما آپ نے نماز پڑھ لی کیا؟ لگتا ہے میری تو قضا ہونے لگی ہے۔ سسر بھی اب نماز کا پابند ہونے لگا بیٹے کو بھی زور دینے لگا مگر کھبی مانتا کھبی نہ۔
ساس نے جب پہلی بار شلوار قمیض پہنی تو دعا کےسسر نے بے اختیار تعریف کی کہ وہ بہت گرہس فل لگ رہی ہے۔ وہ بہت خوش ہوئی۔ پہلے وہ کھبی تعریف نہ کرتے وہ مہنگے لباس پہن کر پوچھتی میں کیسی لگ رہی ہوں۔ تو وہ دھیان دیے بغیر کہتے ارے تم ہر ڈریس میں خوبصورت لگتی ہو۔ آج وہ اسے پیار سے بھی دیکھ رہے تھے اور تعریف بھی کر رہے تھے۔ ساس کو بھی وہ لباس آرام دہ لگے۔ اب تو بیٹا بھی تعریف کرتا تھا۔ اپنے پرانے ڈریس اسے پہن کر شرم محسوس ہوی۔ وہ آہینہ کے سامنے کھڑی ہو ی۔ ڈیپ گلہ سلیولیس بازو چھوٹی سی شرٹ، اور چست ٹراوزر۔ اسے اپنا آپ ننگا ننگا محسوس ہوا۔ اسے بہت شرم آئی۔ اس نے سوچا کیا وہ ساری زندگی اس طرح دنیا کے سامنے آتی رہی ہے توبہ توبہ۔ اس نے اسی وقت تمام کپڑوں کو پھینک دیا۔ اس نے دعا کا سوچا کہ تھوڑی دیر کے لیے اس کے سر سے دوپٹہ سرکا تو اس کی ماں نے ڈانٹا تھا اب شادی کے بعد بھی اس نے سر سے کھبی دوپٹہ نہیں اتارا۔ ساس نے کہا بھی مگر وہ جواب دیتی مجھے عادت نہیں ہے۔
شاہ زیب کے والدین اپنی پچھلی زندگی پر پچھتاتے۔ انہوں نے اپنے بچے کو کھبی پاس نہیں سلایا۔ حالانکہ سمراب کو پاس سلا کر انہیں بڑا سکون ملتا۔ اس کے ساتھ کھیل کر، اسے اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلا کر۔ وہ اپنی توتلی زبان میں ان کا خوب دل بہلاتا۔ وہ اسے قریبی پارک بھی لے کر جاتے۔ دعا کے سسر اسے خود اسکول لے کر جاتے۔ والدیت میں شاہ زیب کا جب نام لکھوایا تو وہ بہت تپا مگر باپ کے آگے اس کی نہ چل سکی۔ وہ کہتے دعا اور سمراب نے ہماری زندگی بدل دی۔ ہم ایک مصنوعی زندگی گزار رہے تھے۔ سواے تھکن کے کچھ حاصل نہیں ہوتا تھا۔

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.