Insaniyat Kay Naatay
21 Episodesبارھواں حصہ - 12th Part
سب ہاسپٹل میں پریشان کھڑے ہوئے تھے۔ رمنا بہت رو رہی تھی۔ دعا بھی خاموشی سے آنسو بہا رہی تھی۔ ماں بھی آنسو صاف کر رہی تھی باپ کھونڈی پکڑے سر جھکائے اداس بیٹھا تھا۔ سمراب بھاگ دوڑ کر رہا تھا۔ آخر ڈاکٹر ایمرجینسی روم سے باہر آیا اور کہا
"خطرے کی اب کوئی بات نہیں ہے۔ وقت پر پہنچ جانے سے خطرہ ٹل گیا ہے۔ انہوں نے کوئی سٹریس لیا ہے۔ ان کو سٹریس سے دور رکھا جائے۔"
رمنا نے یہ سن کر شرم سے سر جھکا دیا۔ مہمان یہ سنتے ہی معزرت کرتے ہوئے چل پڑے کہ اس مسئلے کے لیے دوبارہ آئیں گے۔ شانی کو گھر آئے چند دن ہو چکے تھے۔ سمراب اس کی خاموشی سے خدمت کرتا رہا۔ اسے واش روم لے کر جاتا دوا وقت پر کھلاتا۔ دعا نے بھی بہت خدمت کی۔ رمنا کمرے میں آتی باپ منہ دوسری طرف کر لیتا۔ آخر دعا نے اسے کمرے میں آنے سے منع کر دیا کہ انہیں ٹینشن نہ ہو۔ دعا اپنے کمرے میں بھی نہیں جا سکتی تھی مجبوراً اسے دادا، دادی کے کمرے میں سونا پڑتا۔ دادی، دادا اب اس سے بات نہ کرتے۔ دادی ہر وقت طعنے دیتی کہ تو نے گھر کی عزت کو نیلام کیا ہے۔ وہ روتی رہتی اور پچھتاتی۔ اس پر جان نچھاور کرنے والے پاپا اب اس کی طرف دیکھتے بھی نہ تھے۔ صرف ماں ہی اس کی دلجوئی کرتی۔ وہ کئی بار ماں سے سوری بول چکی تھی۔ اب وہ ماں کے ساتھ ساتھ رہتی۔ وہ اب کچن میں ماں سے کافی چیزیں سیکھ چکی تھی۔ پاپا کے لئے دلیہ اور سوپ وہ خود بناتی۔ اسے اب گھر کے کاموں میں دلچسپی پیدا ہو گئی تھی کیونکہ موبائل اور لیب ٹاپ پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ رمنا نے سوچا کہ موبائل کے بغیر دنیا زیادہ اچھی ہے۔ اپنوں کے ساتھ وقت گزارنا، ان کی خدمت کرنا، کتنا لطف دیتا ہے۔ وہ سب اسے مصنوعی چیزیں لگنے لگیں۔ اسے اب جدید فیشن اور میک اپ کا بھی شوق نہ رہا۔ وہ دیکھتی اس کی ماما میک اپ کے بغیر بھی کتنی خوبصورت اور پاکیزہ لگتی تھی۔ اس نے ماما کے ساتھ نماز کی بھی پابندی شروع کر دی تھی۔ اسے اب ماما کی کمپنی میں سکون ملتا تھا۔ دعا نے اس سے صاف الفاظ میں پوچھا تھا
"سچ بتانا کہ بچہ نکاح سے پہلے کا ہے یا بعد کا۔"
رمنا نے روتے ہوئے بتایا کہ اس نے ہمیشہ اپنی عزت کی حفاظت کی۔ پھر احمر بری طرح پیچھے پڑا رہتا میں لفٹ نہ کراتی۔ پھر اس نے مجھے بلیک میل کیا کہ میں آج اپنے آپ کو ختم کر لوں گا اگر تم آج مجھے ملنے نہ آئی۔ اس کی دھمکی سے میں ڈر گئی تھی پھر فرینڈز نے بھی کہا کہ چلی جاؤ کسی کی زندگی بچا لو۔ میں اس کے دوست کے فلیٹ پہنچی تو اس نے کہا
"وہ اس سے نکاح کرنا چاہتا ہے۔ پہلے میں انکار کرتی رہی مگر وہ بار بار مرنے کی دھمکی دیتا۔ مولوی وغیرہ کا انتظام کر رکھا تھا۔ میرے ذہن میں آیا کہ اگر یہ نکاح جھوٹ ہوا تو، میں اب پھنس چکی تھی موقع لگا کر باہر نکل آئی۔ اور سوچا اب پھنس تو چکی ہوں کورٹ میرج کر لیتی ہوں۔ یہ مجھ پر مرتا ہے۔ جب نکاح ہو گیا تو پاپا کو بتا دوں گی۔ وہ منع نہیں کریں گے۔"
تیرھواں حصہ - 13th Part

Reader Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts!
Log in to leave a comment.