Loading...
Logo
Back to Novel
Insaniyat Kay Naatay
Episodes
Insaniyat Kay Naatay

انسانیت کے ناطے3

From Insaniyat Kay Naatay - Episode 3

شادی کے بعد دعا نے جلد ہی پورے گھر کا انتظام احسن طریقے سے سنبھال لیا۔ اب شاہ زیب کو پیزے، برگر اور شوارمے وغیرہ پر گزارہ نہیں کرناپڑتا۔ ورنہ ہمیشہ کھانا باہر سے آڈر کرنا پڑتا۔وہ کھبی کسی دوست کے گھر گھر

کا کھانا کھاتا اسے بہت لطف دیتا۔

وہ ماں سے فرمائش کرتا تو وہ کہتی مجھے کہاں آتا ہے کھانا بنانا۔ ماں اپنی شاپنگ، پارٹیز اور سوشل لاہف میں بزی رہتی۔ باپ اپنے بزنس ٹور میں مصروف رہتا۔ بیوی کو فل آزادی دی ہوئی تھی۔

شاہ زیب یکسر مختلف مزاج کا تھا اس کے چند گنے چنے دوست بھی امیر ہونے کے باوجود سلجھے ہوئے تھے۔

وہ بچپن سے ہی والدین کی توجہ اور کمپنی کو ترستا رہا۔ ماں نے کھبی اسے اپنے ہاتھ سے کھانا نہیں کھلایا، کھبی ہوم ورک نہیں کرایا۔ وہ کہتی عورتیں بےوقوف ہوتی ہیں جو شوہر اور بچوں کے کاموں میں غرق ہو کر اپنی لاہف جینا بھول جاتی ہیں۔ زندگی ایک بار ملتی ہے بار بار نہیں ملتی۔ وہ مثال دیتی کہ متوسط طبقے کی عورتیں کچن میں ہی بوڑھی ہو جاتی ہیں۔ جب باہر سے ہر طرح کے کھانے مل جاتے ہیں تو پھر گھر میں اپنے آپ کو ضائع کرنے کی کیا ضرورت ہے۔

شاہ زیب کو والدین کے خیالات کھبی پسند نہیں آئے۔ باپ بیوی پر فدا تھا اس کو جدید فیش کے لباس پہنتے دیکھ کر کھبی نہ ٹوکتا۔ جبکہ شاہ زیب کو ماں کے چست لباس سے شرم آتی۔ وہ کہتے کہ یہ ہمارے گھر میں تنگ نظر اور وقیانوسی خیالات کا پیدا ہو گیا ہے بیوی اس سے بہت تنگ ہو گی۔

ماں اسے احساس دلانے کی کوشش کرتی کہ تم لکی ہو۔ کہ تمہیں دنیا کی ہر آسائش حاصل ہے۔ پاکستان کے بیشتر لوگوں کو تو یہ سب کچھ خواب میں بھی میسر نہیں ہے۔

والدین سمجھتے کہ مہنگے کھلونے، برانڈڈ کپڑے،مہنگےسکولوں اور بھاری فیس ٹیوٹر کی ادا کر کے وہ اپنا فرض ادا کر رہے ہیں

ماں اسے احساس دلاتی کہ تم محل جیسے گھر میں رہتے ہو۔ قیمتی سامان سے مزین الگ کمرہ ہے۔ ملازم خدمت کے لیے ہر وقت حاضر۔ اپنے کمرے میں قیمتی کھلونوں سے کھیلو، کوئی ڈسٹرب کرنے والا نہیں۔ وہ سوچتا کہ وہ کھلونوں سے کتنی دیر تک کھیل کر خوش ہوتا پھر بور ہونے لگتا۔ اتنے بڑے گھر میں وہ اکیلا پریشان پھرا کرتا۔ وہ والدین کا انتظار کرتا تو وہ لیٹ ناہٹ فنکشن اٹینڈ کر کے آتے۔ ملازمہ پاس قالین پر سو رہی ہوتی۔ اس کے کمرے میں ایک بار جھانک کر کہتی گڈ نائٹ بےبی۔ وہ پاس بلاتا تو تھکن کا بہانہ کرتی۔وہ ڈرنے کا بتاتا تو ملازمہ کو ڈانٹ کر اس کا خیال رکھنے کا حکم دیتی۔ ملازمہ ڈر کر فوراً آٹھ جاتی پھر اس سے پوچھتی کچھ چاہیے۔ وہ کہتا نہیں۔ مجھے ڈر لگ رہا ہے وہ تسلی دیتی۔ وہ اسے پاس سونے کا کہتا وہ نہ آتی۔ ڈرتی تھی اسے بیڈ پر سونے کی اجازت نہیں تھی۔ تھوڑی دیر بعد وہ خراٹے بھر رہی ہوتی۔ وہ ڈرتا ڈرتا اکثر روتا روتا سو جاتا۔ وہ باپ سے اگر شکایت کرتا تو وہ الٹا اسے ہی پیار سے سمجھا کر کہتے۔ بیٹا بریو بنو۔ مجھے بزدل بیٹا نہیں چاہیے۔ خبردار جو اب ڈرنے کا نام لیا۔اس کا بچپن ایسی ہی بےتوجی اور محرومی میں گزرا۔


Reader Comments

Be the first to leave a comment on this episode!


Log in to leave a comment.

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Unlock the Full Library

PKR 300

For 30 Days of Unlimited Access

  • Read all premium and exclusive content
  • Enjoy a seamless, uninterrupted reading experience
  • Directly support the author and her work
Go Premium Now

Experience the Best Urdu Novels Online

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Captivating Novels and Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Reading Urdu Novels on Tablet and Phone

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen’s verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Elegant Desk with Pens and Books