Insaniyat Kay Naatay
Episodes
شادی کے بعد دعا نے جلد ہی پورے گھر کا انتظام احسن طریقے سے سنبھال لیا۔ اب شاہ زیب کو پیزے، برگر اور شوارمے وغیرہ پر گزارہ نہیں کرناپڑتا۔ ورنہ ہمیشہ کھانا باہر سے آڈر کرنا پڑتا۔وہ کھبی کسی دوست کے گھر گھر
کا کھانا کھاتا اسے بہت لطف دیتا۔
وہ ماں سے فرمائش کرتا تو وہ کہتی مجھے کہاں آتا ہے کھانا بنانا۔ ماں اپنی شاپنگ، پارٹیز اور سوشل لاہف میں بزی رہتی۔ باپ اپنے بزنس ٹور میں مصروف رہتا۔ بیوی کو فل آزادی دی ہوئی تھی۔
شاہ زیب یکسر مختلف مزاج کا تھا اس کے چند گنے چنے دوست بھی امیر ہونے کے باوجود سلجھے ہوئے تھے۔
وہ بچپن سے ہی والدین کی توجہ اور کمپنی کو ترستا رہا۔ ماں نے کھبی اسے اپنے ہاتھ سے کھانا نہیں کھلایا، کھبی ہوم ورک نہیں کرایا۔ وہ کہتی عورتیں بےوقوف ہوتی ہیں جو شوہر اور بچوں کے کاموں میں غرق ہو کر اپنی لاہف جینا بھول جاتی ہیں۔ زندگی ایک بار ملتی ہے بار بار نہیں ملتی۔ وہ مثال دیتی کہ متوسط طبقے کی عورتیں کچن میں ہی بوڑھی ہو جاتی ہیں۔ جب باہر سے ہر طرح کے کھانے مل جاتے ہیں تو پھر گھر میں اپنے آپ کو ضائع کرنے کی کیا ضرورت ہے۔
شاہ زیب کو والدین کے خیالات کھبی پسند نہیں آئے۔ باپ بیوی پر فدا تھا اس کو جدید فیش کے لباس پہنتے دیکھ کر کھبی نہ ٹوکتا۔ جبکہ شاہ زیب کو ماں کے چست لباس سے شرم آتی۔ وہ کہتے کہ یہ ہمارے گھر میں تنگ نظر اور وقیانوسی خیالات کا پیدا ہو گیا ہے بیوی اس سے بہت تنگ ہو گی۔
ماں اسے احساس دلانے کی کوشش کرتی کہ تم لکی ہو۔ کہ تمہیں دنیا کی ہر آسائش حاصل ہے۔ پاکستان کے بیشتر لوگوں کو تو یہ سب کچھ خواب میں بھی میسر نہیں ہے۔
والدین سمجھتے کہ مہنگے کھلونے، برانڈڈ کپڑے،مہنگےسکولوں اور بھاری فیس ٹیوٹر کی ادا کر کے وہ اپنا فرض ادا کر رہے ہیں
ماں اسے احساس دلاتی کہ تم محل جیسے گھر میں رہتے ہو۔ قیمتی سامان سے مزین الگ کمرہ ہے۔ ملازم خدمت کے لیے ہر وقت حاضر۔ اپنے کمرے میں قیمتی کھلونوں سے کھیلو، کوئی ڈسٹرب کرنے والا نہیں۔ وہ سوچتا کہ وہ کھلونوں سے کتنی دیر تک کھیل کر خوش ہوتا پھر بور ہونے لگتا۔ اتنے بڑے گھر میں وہ اکیلا پریشان پھرا کرتا۔ وہ والدین کا انتظار کرتا تو وہ لیٹ ناہٹ فنکشن اٹینڈ کر کے آتے۔ ملازمہ پاس قالین پر سو رہی ہوتی۔ اس کے کمرے میں ایک بار جھانک کر کہتی گڈ نائٹ بےبی۔ وہ پاس بلاتا تو تھکن کا بہانہ کرتی۔وہ ڈرنے کا بتاتا تو ملازمہ کو ڈانٹ کر اس کا خیال رکھنے کا حکم دیتی۔ ملازمہ ڈر کر فوراً آٹھ جاتی پھر اس سے پوچھتی کچھ چاہیے۔ وہ کہتا نہیں۔ مجھے ڈر لگ رہا ہے وہ تسلی دیتی۔ وہ اسے پاس سونے کا کہتا وہ نہ آتی۔ ڈرتی تھی اسے بیڈ پر سونے کی اجازت نہیں تھی۔ تھوڑی دیر بعد وہ خراٹے بھر رہی ہوتی۔ وہ ڈرتا ڈرتا اکثر روتا روتا سو جاتا۔ وہ باپ سے اگر شکایت کرتا تو وہ الٹا اسے ہی پیار سے سمجھا کر کہتے۔ بیٹا بریو بنو۔ مجھے بزدل بیٹا نہیں چاہیے۔ خبردار جو اب ڈرنے کا نام لیا۔اس کا بچپن ایسی ہی بےتوجی اور محرومی میں گزرا۔

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.