Insaniyat Kay Naatay
21 Episodesبیسواں حصہ - 20th Part
کمرے میں علی کا بڑا بھائی، جو پہلے بھی ماں کے ساتھ ان کے گھر جا چکا تھا، اندر آ کر بہت ادب سے دعا کو سلام کیا حال احوال پوچھا
"کس کے ساتھ آئی ہیں۔"
دعا جو کافی اداس ہو رہی تھی۔ دل بیٹی کی بربادی پر غم سے پھٹا جا رہا تھا' دل میں اپنی بیٹی کی اچھی قسمت کی دعائیں کر رہی تھی۔ اس کی غیرت اب گوارا نہیں کر رہی تھی کہ مزید اب وہ رکے۔ سمراب بھی بار بار مس کالیں کر رہا تھا۔ علی کا بھائی تیزی سے باہر نکلا، دعا بھی پیچھے آ گئی۔ دعا جلدی سے بیٹھ گئی۔ علی کا بھائی بہت اصرار کرنے لگا، سمراب کو اندر بلانے کے لیے۔ سمراب کا موڈ سخت خراب تھا اس نے علی کے بھائی سے ہاتھ بھی گاڑی میں بیٹھے سرسری سا ملایا اور گاڑی باہر نکال لی۔ گھر کے باہر گاڑی کھڑی کر کے بولا،
"ماما آپ دو منٹ بیٹھیں میں ابھی آیا"
اور تیز رفتاری سے اندر ڈرائنگ روم میں داخل ہوا۔ علی کی ماں اور باپ ادھر ہی بیٹھے ہوئے تھے۔ علی کا باپ بیوی کو سمجھا رہا تھا
"یہ لوگ بہت اچھے ہیں۔ مجھے تو دوسرے لوگ پسند نہیں آئے۔ اس لڑکی سے رمنا زیادہ اچھی ہے۔ بیٹا کتنا اداس ہے۔ وہ رمنا کو پسند کرتا ہے۔ اب اس کے لئے تڑپ رہا ہے۔ جب سے اس نے سنا ہے کہ وہ اس کے بچے کی ماں بننے والی ہے۔ وہ بار بار یقین دلا رہا ہے کہ بچہ اسی کا ہے۔ وہ اسے طلاق بھی نہیں دینا چاہتا۔ کب تک تم اسے اپنی قسم دے کر اس کی شادی کرا کر اسے خوش رکھ سکو گی۔"
سمراب جو سب سن چکا تھا کھٹکھٹا کر اندر گیا اور علی کی امی کو مخاطب کر کے بولا۔
"کل میں اسٹام پیپر لے کر آؤں گا اور بچے کی ملکیت اور سرپرستی اپنے نام لکھواؤں گا۔ بچہ ہوتے ہی بہن کو طلاق دلواؤں گا۔ میں خود اپنی بہن کو اور بچے کو نازوں سے پالوں گا اور میری بہن نازوں سے پلی ہے۔ وہ جیسے پہلے رہتی رہی ہے ویسے ہی رہے گی۔ کسی کے لیے وہ اپنے آپ کو نہیں بدلے گی۔ آپ لوگوں نے میری ماں کی بےعزتی کی۔ اگر بہن کا سسرال نہ ہوتا تو میں آگ لگا دیتا۔"
"پیچھے دعا اور علی کا بھائی بھی کھڑے ہوئے تھے۔ علی کا باپ بولا
"بہن جی میں آپ سے معذرت چاہتا ہوں۔ سمراب بھی بولا ٹھیک ہے۔"
علی کی ماں کا منہ بن گیا۔ علی کا بھائی دعا سے معذرت کرنے اور چائے پی کر جانے پر زور دینے لگا مگر وہ دونوں رکے نہیں۔
رمنا رو رو کر دہانی دے رہی تھی کہ وہ طلاق نہیں لے گی۔ اس نے معافی مانگتے ہوئے بتایا کہ اس نے پی ٹی سی ایل سے چھپ کر علی سے صرف اس لیے بات کی تھی کہ وہ بےشک دوسری شادی کر لے میں کبھی رکاوٹ نہیں بنوں گی۔ میں اپنے بچے کے ساتھ زندگی بسر کر لوں گی۔ تو اس نے کہا کہ پہلے مانتا ہے کہ وہ سیریس نہیں تھا مگر اب مجھے تم سے سچا پیار ہو گیا ہے۔ اس نے روتے ہوئے بہت معافیاں بھی مانگی تھیں۔ ماں نے اسے بلیک میل کیا اموشنل کیا تب میں مانا ہوں۔ وہ کھبی کھبی ملنے کی خواہش رکھتا ہے۔ بچے کو بھی ملنا اور چاہتا ہے۔ وہ منت کر رہا تھا کہ ہمارا بچہ حرام کا نہیں ہے تو پلیز اسے ضائع مت کروانا، اولاد ایک نعمت ہے۔ وہ بہت بدل گیا ہے اس میں میچورٹی آ گئی ہے۔ وہ گھر والوں سے بھی معافی مانگنا چاہتا ہے۔ مجھ سے بھی بہت معافی مانگ رہا تھا۔ برے اور لالچی لوگوں کی صحبت میں رہ کر برا بن گیا تھا۔ دل کا برا نہیں تھا اپنے دوستوں سے مجھے بچا کر رکھتا تھا۔ اس نے کہا کہ تم شریف لڑکی تھی، جس نے نکاح کو ضروی سمجھا۔ وہ پچھتا رہا تھا کہ اس کی وجہ سے میری زندگی برباد ہو گئی۔
دادی غصے سے بولی
"اب بھی آباد ہو سکتی ہے اپنی ماں کو منا لے۔"
"کہتا ہے بہت منایا ہے۔ اس کی ماں کو اناء آڑے آ گئی ہے کہ سب ماں کی مرضی پر چلتے ہیں میں نے کیسے اتنا بڑا قدم اٹھایا۔ وہ کہتا ہے کہ وہ میرے ساتھ زندگی بسر کرنا چاہتا ہے جب کبھی حالات موافق آئے وہ مجھے لے جائے گا۔ پلیز آپ لوگ مجھے معاف کر دیں۔"
وہ روتے ہوئے پاپا کے قریب گئی اور ہاتھ جوڑ کر کہنے لگی
"پاپا آپ کہتے ہیں تو میں اس سے طلاق لے لیتی ہوں بچہ ضائع کر دیتی ہوں۔ چاہے میری جان چلی جائے۔ ویسے بھی میری جان کس کام کی۔ جس کی وجہ سے میرے پاپا مجھ سے دور ہو گئے۔ میں آیندہ سے کوئی غلط کام نہیں کر وں گی۔ دیکھیں میں نے ماما جیسے ڈریس پہننے شروع کر دیے ہیں کوکنگ بھی سیکھ رہی ہوں۔"
سمراب اس کے پاس آیا اور پاپا سے بولا
"پاپا میں اپنے لیے کچھ نہیں مانگتا مگر ہماری گڑیا کو وہ پرانا وقت واپس دے دیں۔ اس پر سے پابندی ہٹا دیں۔ علی اس کا شوہر ہے۔ یہ جب مرضی اس سے بات کرے۔ اسے معاف کر دیں۔ اس وقت یہ نادان تھی اب سمجھدار ہو گئی ہے۔"
شاہ زیب نے آگے بڑھ کر رمنا کو گلے لگا کر پیار کرتے ہوئے کہا
"میری بیٹی سب تمھارا قصور نہیں ہے۔ زیادہ تر میرا تھا مگر میں مرد تھا نا اسی لئے اپنی ہار تسلیم نہیں کرتا تھا۔ میری اس مردانگی کی وجہ سے گھر کا ماحول کشیدہ ہے۔ اور میرے بچے اور سب دکھی ہیں۔ اب تم پر کوئی پابندی نہیں ہے تم اپنے کمرے میں رہو۔ اس کا موبائل اور لیب ٹاپ اسے دے دو۔ گھومو پھرو سہیلیوں کے ساتھ۔ جیسا مرضی ڈریس پہنو۔ مجھے یقین ہے کہ تم اپنا اچھا برا خود سمجھ سکتی ہو۔"
رمنا 'تھینک یو پاپا' کہہ کر باپ سے لپٹ گی وہ اسے چومنے لگا۔ سب رو رہے تھے سب کے چہروں پر مسکراہٹ آ گئی۔ رمنا دوڑ کر بھائی سے بھی لپٹ گی اور تھینک یو کہا۔
کچھ دن بعد علی کی ماں نے شادی کارڈ بھجوا دیا اور سب کو انوائیٹ کیا اور پی ٹی سی ایل پر فون کیا۔ دعا نے اٹھا کر سپیکر آن کر دیا۔ علی کی ماں نے جلدی سے شادی کا بتایا ساتھ یہ بتایا کہ اس نے لڑکی والوں کو نکاح کا بتا دیا ہے کہ ہم نے بسانا نہیں وہ اچھے لوگ ہیں انہوں نے کوئی اعتراض نہیں کیا کہتے ہیں جوانی میں ایسی غلطیاں ہو جاتی ہیں۔
سمراب نے غصے سے پاس جاکر زور سے فون کے قریب جا کر کہا
"محترمہ آپ نے ادھر فون کرنے کی زحمت کی۔ آپ کو بتا دیں کہ جو لوگ ہمیں پسند نہ ہوں ہم وہاں نہیں جاتے آپ ان میں سے ٹاپ آف دا لسٹ ہیں۔ اور جلدی سے فون بند کر دیا۔"
اور اعلان کیا کہ شام کو سب سینما میں مووی دیکھنے جائیں گے اور ڈنر باہر کریں گے۔ تم چاہو تو نانی وغیرہ کو بھی بلا سکتی ہو۔
اکیسواں حصہ - 21st Part

Reader Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts!
Log in to leave a comment.