Loading...
Logo
Back to Novel
Insaniyat Kay Naatay
Episodes
Insaniyat Kay Naatay

انسانیت کے ناطے15

From Insaniyat Kay Naatay - Episode 15

سب چاے پی چکے، ملازم برتن اٹھا چکا تو زارا جو رمنا کے قریب بیٹھی پیار سے اس کا ہاتھ سہلا رہی تھی اور رمنا وقفے وقفے سے اسے دھیمی مسکراہٹ سے دیکھتی جواب میں زارا اس کو گرم جوشی سے ساتھ لگا لیتی۔ رمنا نے زارا کو کھبی دوست نہ مانا تھا کیونکہ وہ اس جیسی نہ تھی اور اب وہ اس کو سب دوستوں میں نایاب نظر آ رہی تھی جو سمراب کو پسند کرتی تھی اور سب کو اس کا اندازہ تھا سمراب کو بھی اندازہ تھا مگر وہ انجان بنا رہتا تھا اب بھی زارا سمراب کو کن انکھیوں سے دیکھ کر خوش ہو رہی تھی۔ رمنا اب اندر سے خوش ہو رہے ہی تھی۔ جس طرح آج اس نے اسے سہارا دیا تھا رمنا قاہل ہو گی تھی۔ آج وہ بھی اسے جوابی لفٹ دے رہی تھی جو زارا کے لیے بھی غنیمت تھا۔ اخر زارا نے پوچھا، پھوپھو پھر کیا ہوا۔ تو دعا خیالوں کی دنیا سے نکل آئی۔

وہ لڑکا اسے بلکل لفٹ نہ کراتا تھا کیونکہ وہ اس کے دوستوں کی بھی گرل فرینڈ رہ چکی تھی باپ بھی بیٹی کو مسلسل اکسا رہا تھا لڑکا امیر اور رحمدل بھی تھا۔ اہک بار وہ لڑکی فون سن کر رو رہی تھی سب ڈرامہ تھا تووہ پاس آ کر رونے کی وجہ پوچھنے لگا تو لڑکی نے بتایا کہ اس کے باپ کو ہارٹ اٹیک ہوا ہے تو اس لڑکے نے اس کی بہت مدد کی ڈاکٹر گھر موجود تھا اور مسلسل اصرار کر رہا تھا کہ ان کے پاس وقت کم ہے ان کو کوئی سٹریس نہ ملے۔ لڑکی کا باپ ہاتھ جوڑ کر اسکی بیٹی کو اپنانے کی التجا کرنے لگا کہ میرے بعد اس کا کوئی نہیں۔ تم بےشک اسے نوکرانی بنا کر رکھ لینا اور شادی والدین کی پسند سے کر لینا۔ بےشک والدین کو نہ بتانا اسے الگ رکھی رکھنا۔ بس اس سے نکاح کر لو۔ ڈاکٹر بھی ڈرامے میں ساتھ ملا ہوا تھا جو اصل ڈاکٹر بھی نہ تھا۔ اس کو خداترسی دلانے لگا کہ ایک مرتے ہوئے شخص کی آخری خواہش پوری کر لو تاکہ وہ سکون سے مر سکے۔ وہ لڑکا مجبور ہو گیا۔ ڈاکٹر نے کہا کہ اس کا جاننے والا مولوی بھی ہے اور گواہ کے لیے بھی چند یار دوست مل جائیں گے۔ سب کچھ پہلے ہی پلان تھا۔ لڑکا بھی بھولا اور رحم دل تھا پھر لڑکی بھی رو رو کر مسلسل گ التجائیں کر رہی تھی کہ مجھے کچھ نہیں چاہیے۔ بس میرے باپ کا مرنا آسان کر دو۔۔آخر نکاح ہو گیا اور لڑکے کو گھر جانے نہ دیا گیا اس نے بتایا کہ وہ گھر میں اکیلا ریتا ہے اس کے گھر والے باہر ملک گے ہوئے ہیں۔ وہ اس کو پلان کے مطابق شمالی علاقہ جات لے گئ۔ کافی دن اس کے پیسے پر عیش کرتی رہی۔ وہ بھی ینگ تھا اس کو بھی اس خوبصورت لڑکی کا ساتھ اچھا لگ رہا تھا۔ دو ماہ بعد اس لڑکے پر حقیقت آشکار ہو گئی۔ جب وہ نقلی ڈاکٹر ان سے پیسوں کے لین دین پر لڑ رہا تھا۔ اتفاق سے اس نے ان کی باتیں سن لیں۔ ان لوگوں پر چیخا چلایا لڑکی رو رو کر معافی مانگتی رہی مگر اس نے معاف نہ کیا اور طلاق دے کر پھر کبھی ان سے رابطہ نہ کیا۔

شانی نے سمراب سے پانی مانگا اس نے جلدی سے پانی دیا۔ رمنا بھی پریشان ہو کر کھڑی ہو گئی۔ دعا نے شانی سے پوچھا آپ ٹھیک ہیں۔ اس نے آہستہ آواز میں اشارے سے کہا میں ٹھیک ہوں تم آگے سناو۔ دادی نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اتنی لمبی سٹوری سنانے کا مقصد کیا ہے۔ مگر شانی نے ماں کو تنبیہ کی اور دعا کو بولنے کا اشارہ کیا۔

دعا بولی۔ اس لرکی کا برا حال تھا۔



Reader Comments

Be the first to leave a comment on this episode!


Log in to leave a comment.

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Unlock the Full Library

PKR 300

For 30 Days of Unlimited Access

  • Read all premium and exclusive content
  • Enjoy a seamless, uninterrupted reading experience
  • Directly support the author and her work
Go Premium Now

Experience the Best Urdu Novels Online

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Captivating Novels and Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Reading Urdu Novels on Tablet and Phone

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen’s verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Elegant Desk with Pens and Books