Insaniyat Kay Naatay
Episodes
سب چاے پی چکے، ملازم برتن اٹھا چکا تو زارا جو رمنا کے قریب بیٹھی پیار سے اس کا ہاتھ سہلا رہی تھی اور رمنا وقفے وقفے سے اسے دھیمی مسکراہٹ سے دیکھتی جواب میں زارا اس کو گرم جوشی سے ساتھ لگا لیتی۔ رمنا نے زارا کو کھبی دوست نہ مانا تھا کیونکہ وہ اس جیسی نہ تھی اور اب وہ اس کو سب دوستوں میں نایاب نظر آ رہی تھی جو سمراب کو پسند کرتی تھی اور سب کو اس کا اندازہ تھا سمراب کو بھی اندازہ تھا مگر وہ انجان بنا رہتا تھا اب بھی زارا سمراب کو کن انکھیوں سے دیکھ کر خوش ہو رہی تھی۔ رمنا اب اندر سے خوش ہو رہے ہی تھی۔ جس طرح آج اس نے اسے سہارا دیا تھا رمنا قاہل ہو گی تھی۔ آج وہ بھی اسے جوابی لفٹ دے رہی تھی جو زارا کے لیے بھی غنیمت تھا۔ اخر زارا نے پوچھا، پھوپھو پھر کیا ہوا۔ تو دعا خیالوں کی دنیا سے نکل آئی۔
وہ لڑکا اسے بلکل لفٹ نہ کراتا تھا کیونکہ وہ اس کے دوستوں کی بھی گرل فرینڈ رہ چکی تھی باپ بھی بیٹی کو مسلسل اکسا رہا تھا لڑکا امیر اور رحمدل بھی تھا۔ اہک بار وہ لڑکی فون سن کر رو رہی تھی سب ڈرامہ تھا تووہ پاس آ کر رونے کی وجہ پوچھنے لگا تو لڑکی نے بتایا کہ اس کے باپ کو ہارٹ اٹیک ہوا ہے تو اس لڑکے نے اس کی بہت مدد کی ڈاکٹر گھر موجود تھا اور مسلسل اصرار کر رہا تھا کہ ان کے پاس وقت کم ہے ان کو کوئی سٹریس نہ ملے۔ لڑکی کا باپ ہاتھ جوڑ کر اسکی بیٹی کو اپنانے کی التجا کرنے لگا کہ میرے بعد اس کا کوئی نہیں۔ تم بےشک اسے نوکرانی بنا کر رکھ لینا اور شادی والدین کی پسند سے کر لینا۔ بےشک والدین کو نہ بتانا اسے الگ رکھی رکھنا۔ بس اس سے نکاح کر لو۔ ڈاکٹر بھی ڈرامے میں ساتھ ملا ہوا تھا جو اصل ڈاکٹر بھی نہ تھا۔ اس کو خداترسی دلانے لگا کہ ایک مرتے ہوئے شخص کی آخری خواہش پوری کر لو تاکہ وہ سکون سے مر سکے۔ وہ لڑکا مجبور ہو گیا۔ ڈاکٹر نے کہا کہ اس کا جاننے والا مولوی بھی ہے اور گواہ کے لیے بھی چند یار دوست مل جائیں گے۔ سب کچھ پہلے ہی پلان تھا۔ لڑکا بھی بھولا اور رحم دل تھا پھر لڑکی بھی رو رو کر مسلسل گ التجائیں کر رہی تھی کہ مجھے کچھ نہیں چاہیے۔ بس میرے باپ کا مرنا آسان کر دو۔۔آخر نکاح ہو گیا اور لڑکے کو گھر جانے نہ دیا گیا اس نے بتایا کہ وہ گھر میں اکیلا ریتا ہے اس کے گھر والے باہر ملک گے ہوئے ہیں۔ وہ اس کو پلان کے مطابق شمالی علاقہ جات لے گئ۔ کافی دن اس کے پیسے پر عیش کرتی رہی۔ وہ بھی ینگ تھا اس کو بھی اس خوبصورت لڑکی کا ساتھ اچھا لگ رہا تھا۔ دو ماہ بعد اس لڑکے پر حقیقت آشکار ہو گئی۔ جب وہ نقلی ڈاکٹر ان سے پیسوں کے لین دین پر لڑ رہا تھا۔ اتفاق سے اس نے ان کی باتیں سن لیں۔ ان لوگوں پر چیخا چلایا لڑکی رو رو کر معافی مانگتی رہی مگر اس نے معاف نہ کیا اور طلاق دے کر پھر کبھی ان سے رابطہ نہ کیا۔
شانی نے سمراب سے پانی مانگا اس نے جلدی سے پانی دیا۔ رمنا بھی پریشان ہو کر کھڑی ہو گئی۔ دعا نے شانی سے پوچھا آپ ٹھیک ہیں۔ اس نے آہستہ آواز میں اشارے سے کہا میں ٹھیک ہوں تم آگے سناو۔ دادی نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اتنی لمبی سٹوری سنانے کا مقصد کیا ہے۔ مگر شانی نے ماں کو تنبیہ کی اور دعا کو بولنے کا اشارہ کیا۔
دعا بولی۔ اس لرکی کا برا حال تھا۔

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.