Insaniyat Kay Naatay
Episodes
شاہ زیب اسے دیکھتے ہی دل ہار بیٹھا تھا۔ دعا بڑا سا دوپٹہ سر پر کیے سر جھکائے شاہ زیب کے سامنے بیٹھی تھی۔ کچھ لمحے خاموشی کی نظر ہو گئے۔ دعا اس کے بولنے کی منتظر تھی۔ جبکہ شاہ زیب اس پری رو کے سامنے کچھ بولنے سے ہچکچا رہا تھا وہ تصویر سے بھی زیادہ خوبصورت تھی وہ اپنی قسمت پر رشک کرنے لگا۔ اسے کھونے سیے ڈرنے لگا۔
آخر دعا نے ہی پہل کی اور بڑے پراعتماد لہجے میں اسے مخاطب کرتے ہوئے پوچھا، شاہ زیب صاحب آخر آپ نے کیا بات کرنی تھی اکیلے میں مجھ سے۔؟ تو وہ جونک سا گیا اور ہمت جمع کر کے بولا، آپ اس رشتے سے راضی خوشی ہیں کوئی زبردستی تو نہیں۔ دعا نے اسے خشمگیں نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہا کہ میرے والدین زبردستی کے قاہل نہیں۔ انہوں نے میری مرضی جانتے ہوئے ہی ہاں کی ہے۔ کیا آپ کو اعتراض ہے۔ وہ جھٹ بو لا نہیں نہیں، پھر اپنی زبان کے پھسلنے پر خود ہی شرمندہ سا ہو گیا اور بولا میرے والدین نے آپ کی بہت تعریفیں کی تھیں وہ مطمئن ہیں۔ دعا نے جھٹ کہا اور آپ مطمئن نہیں لگ رہے۔ وہ اس کی زہانت پر تھوڑا ٹھٹکا کہ اس نے کیسے اس کے دل کی بات جان لی۔ پھر دعا نے خود ہی اس کی مشکل آسان کرتے ہوئے کہا کہ میں مانتی ہوں کہ میں ایک بچے کی ماں ہوں اور آپ سنگل۔ مگر میں آپ سے کوئی لمبی چوڑی امیدیں یا وعدے نہیں کروانا چاہتی۔ آپ مجھے میرے بچے کے ساتھ قبول کر لیں گے تو مجھے امید ہے کہ آپ کے والدین میرے بچے پر دست شفقت رکھیں گے۔ آپ آزاد ہیں آپ کو میں کھبی مجبور نہیں کروں گی اسے پیار کرنے پر۔ بس وہ میری نظروں کے سامنے پلے یہی کافی ہے۔ میں اسی میں آپ کی مشکور رہوں گی۔
شاہ زیب نے اسے بغور دیکھتے ہوئے ایک لمبا سانس بھرا اور بولا ٹھیک ہے بس مجھے آپ سے تسلی کرنی تھی کہ آپ پر زبردستی تو نہیں کی جا رہی۔ وہ شکریہ کہہ کر مزید بات کیے تیزی سے آٹھ کر چلی گئی۔ اور جاتے جاتے اَس کا دل بھی لے گئی۔ اسے پہلی بار کوئی لڑکی اتنی پسند آئی تھی ورنہ وہ لڑکیوں سے بےزار رہتا تھا وہ اس سے بہت متاثر ہوا تھا اسے وہ ہہت سلجھی ہوئی لگی۔ دوپٹہ اپنے جسم پر اچھی طرح لپیٹ کر سامنے آئی تھی۔ بلکل اس کے آہیڈیل جیسی تھی۔ گفتگو کا انداز بھی شریفانہ اور پروقار تھا۔ااسے آجکل کی ماڈرن لڑکیاں ناپسند تھیں۔ اس کےماں باپ ماڈرن طرز ز ندگی آپناے ہوئے تھے ماں تو دوپٹہ لیتی ہی نہ تھی وہ ٹوکتا تو ماں باپ اسے ڈانٹ دیتے۔ پھر ماں نے اپنے جیسی کتنی ماڈرن لڑکیاں دیکھاہیں اسے ایک بھی پسند نہ آئیں۔ اب وہ حیران اور خوش تھا۔ بلکہ دعا کی ماں بھی مشرقی لباس میں اور بڑی سی چادر لپیٹے ہوے تھی۔ وہ حیران تھا کہ ماں آج مغربی لباس کے اوپر دوپٹہ اوڑھ کر آہی تھی ماں نے نہ صرف دعا کو پسند کر لیا تھا بلکہ خوش بھی تھی۔

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.