Insaniyat Kay Naatay
21 Episodesدوسرا حصہ - 2nd Part
شاہ زیب اسے دیکھتے ہی دل ہار بیٹھا تھا۔ دعا بڑا سا دوپٹہ سر پر کیے سر جھکائے شاہ زیب کے سامنے بیٹھی تھی۔ کچھ لمحے خاموشی کی نظر ہو گئے۔ دعا اس کے بولنے کی منتظر تھی۔ جبکہ شاہ زیب اس پری رو کے سامنے کچھ بولنے سے ہچکچا رہا تھا وہ تصویر سے بھی زیادہ خوبصورت تھی وہ اپنی قسمت پر رشک کرنے لگا۔ اسے کھونے سے ڈرنے لگا۔
آخر دعا نے ہی پہل کی اور بڑے پراعتماد لہجے میں اسے مخاطب کرتے ہوئے پوچھا،
شاہ زیب صاحب آخر آپ نے کیا بات کرنی تھی اکیلے میں مجھ سے؟
تو وہ جونک سا گیا اور ہمت جمع کر کے بولا،
آپ اس رشتے سے راضی خوشی ہیں کوئی زبردستی تو نہیں۔
دعا نے اسے خشمگیں نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہا
میرے والدین زبردستی کے قائل نہیں۔ انہوں نے میری مرضی جانتے ہوئے ہی ہاں کی ہے۔ کیا آپ کو اعتراض ہے۔
وہ جھٹ بو لا نہیں نہیں،
پھر اپنی زبان کے پھسلنے پر خود ہی شرمندہ سا ہو گیا اور بولا
میرے والدین نے آپ کی بہت تعریفیں کی تھیں وہ مطمئین ہیں۔
دعا نے جھٹ کہا
اور آپ مطمئن نہیں لگ رہے۔
وہ اس کی زہانت پر تھوڑا ٹھٹکا کہ اس نے کیسے اس کے دل کی بات جان لی۔ پھر دعا نے خود ہی اس کی مشکل آسان کرتے ہوئے کہا
میں مانتی ہوں کہ میں ایک بچے کی ماں ہوں اور آپ سنگل۔ مگر میں آپ سے کوئی لمبی چوڑی امیدیں یا وعدے نہیں کروانا چاہتی۔ آپ مجھے میرے بچے کے ساتھ قبول کر لیں گے تو مجھے امید ہے کہ آپ کے والدین میرے بچے پر دست شفقت رکھیں گے۔ آپ آزاد ہیں آپ کو میں کھبی مجبور نہیں کروں گی اسے پیار کرنے پر۔ بس وہ میری نظروں کے سامنے پلے یہی کافی ہے۔ میں اسی میں آپ کی مشکور رہوں گی۔
شاہ زیب نے اسے بغور دیکھتے ہوئے ایک لمبا سانس بھرا اور بولا
ٹھیک ہے بس مجھے آپ سے تسلی کرنی تھی کہ آپ پر زبردستی تو نہیں کی جا رہی۔
وہ شکریہ کہہ کر مزید بات کیے تیزی سے آٹھ کر چلی گئی۔ اور جاتے جاتے اَس کا دل بھی لے گئی۔ اسے پہلی بار کوئی لڑکی اتنی پسند آئی تھی ورنہ وہ لڑکیوں سے بےزار رہتا تھا وہ اس سے بہت متاثر ہوا تھا اسے وہ ہہت سلجھی ہوئی لگی۔ دوپٹہ اپنے جسم پر اچھی طرح لپیٹ کر سامنے آئی تھی۔ بلکل اس کے آئیڈیل جیسی تھی۔ گفتگو کا انداز بھی شریفانہ اور پروقار تھا۔ اسے آجکل کی ماڈرن لڑکیاں ناپسند تھیں۔ اس کےماں باپ ماڈرن طرز زندگی آپنائے ہوئے تھے۔ ماں تو دوپٹہ لیتی ہی نہ تھی وہ ٹوکتا تو ماں باپ اسے ڈانٹ دیتے۔ پھر ماں نے اپنے جیسی کتنی ماڈرن لڑکیاں دیکھائیں۔ اسے ایک بھی پسند نہ آئی۔ اب وہ حیران اور خوش تھا۔ بلکہ دعا کی ماں بھی مشرقی لباس میں اور بڑی سی چادر لپیٹے ہوے تھی۔ وہ حیران تھا کہ ماں آج مغربی لباس کے اوپر دوپٹہ اوڑھ کر آئی تھی۔ ماں نے نہ صرف دعا کو پسند کر لیا تھا بلکہ خوش بھی تھی۔
تیسرا حصہ - 3rd Part

Reader Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts!
Log in to leave a comment.