Loading...
Logo
Back to Novel
Insaniyat Kay Naatay
Episodes
Insaniyat Kay Naatay

انسانیت کے ناطے 2

From Insaniyat Kay Naatay - Episode 2

شاہ زیب اسے دیکھتے ہی دل ہار بیٹھا تھا۔ دعا بڑا سا دوپٹہ سر پر کیے سر جھکائے شاہ زیب کے سامنے بیٹھی تھی۔ کچھ لمحے خاموشی کی نظر ہو گئے۔ دعا اس کے بولنے کی منتظر تھی۔ جبکہ شاہ زیب اس پری رو کے سامنے کچھ بولنے سے ہچکچا رہا تھا وہ تصویر سے بھی زیادہ خوبصورت تھی وہ اپنی قسمت پر رشک کرنے لگا۔ اسے کھونے سیے ڈرنے لگا۔

آخر دعا نے ہی پہل کی اور بڑے پراعتماد لہجے میں اسے مخاطب کرتے ہوئے پوچھا، شاہ زیب صاحب آخر آپ نے کیا بات کرنی تھی اکیلے میں مجھ سے۔؟ تو وہ جونک سا گیا اور ہمت جمع کر کے بولا، آپ اس رشتے سے راضی خوشی ہیں کوئی زبردستی تو نہیں۔ دعا نے اسے خشمگیں نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہا کہ میرے والدین زبردستی کے قاہل نہیں۔ انہوں نے میری مرضی جانتے ہوئے ہی ہاں کی ہے۔ کیا آپ کو اعتراض ہے۔ وہ جھٹ بو لا نہیں نہیں، پھر اپنی زبان کے پھسلنے پر خود ہی شرمندہ سا ہو گیا اور بولا میرے والدین نے آپ کی بہت تعریفیں کی تھیں وہ مطمئن ہیں۔ دعا نے جھٹ کہا اور آپ مطمئن نہیں لگ رہے۔ وہ اس کی زہانت پر تھوڑا ٹھٹکا کہ اس نے کیسے اس کے دل کی بات جان لی۔ پھر دعا نے خود ہی اس کی مشکل آسان کرتے ہوئے کہا کہ میں مانتی ہوں کہ میں ایک بچے کی ماں ہوں اور آپ سنگل۔ مگر میں آپ سے کوئی لمبی چوڑی امیدیں یا وعدے نہیں کروانا چاہتی۔ آپ مجھے میرے بچے کے ساتھ قبول کر لیں گے تو مجھے امید ہے کہ آپ کے والدین میرے بچے پر دست شفقت رکھیں گے۔ آپ آزاد ہیں آپ کو میں کھبی مجبور نہیں کروں گی اسے پیار کرنے پر۔ بس وہ میری نظروں کے سامنے پلے یہی کافی ہے۔ میں اسی میں آپ کی مشکور رہوں گی۔

شاہ زیب نے اسے بغور دیکھتے ہوئے ایک لمبا سانس بھرا اور بولا ٹھیک ہے بس مجھے آپ سے تسلی کرنی تھی کہ آپ پر زبردستی تو نہیں کی جا رہی۔ وہ شکریہ کہہ کر مزید بات کیے تیزی سے آٹھ کر چلی گئی۔ اور جاتے جاتے اَس کا دل بھی لے گئی۔ اسے پہلی بار کوئی لڑکی اتنی پسند آئی تھی ورنہ وہ لڑکیوں سے بےزار رہتا تھا وہ اس سے بہت متاثر ہوا تھا اسے وہ ہہت سلجھی ہوئی لگی۔ دوپٹہ اپنے جسم پر اچھی طرح لپیٹ کر سامنے آئی تھی۔ بلکل اس کے آہیڈیل جیسی تھی۔ گفتگو کا انداز بھی شریفانہ اور پروقار تھا۔ااسے آجکل کی ماڈرن لڑکیاں ناپسند تھیں۔ اس کےماں باپ ماڈرن طرز ز ندگی آپناے ہوئے تھے ماں تو دوپٹہ لیتی ہی نہ تھی وہ ٹوکتا تو ماں باپ اسے ڈانٹ دیتے۔ پھر ماں نے اپنے جیسی کتنی ماڈرن لڑکیاں دیکھاہیں اسے ایک بھی پسند نہ آئیں۔ اب وہ حیران اور خوش تھا۔ بلکہ دعا کی ماں بھی مشرقی لباس میں اور بڑی سی چادر لپیٹے ہوے تھی۔ وہ حیران تھا کہ ماں آج مغربی لباس کے اوپر دوپٹہ اوڑھ کر آہی تھی ماں نے نہ صرف دعا کو پسند کر لیا تھا بلکہ خوش بھی تھی۔



Reader Comments

Be the first to leave a comment on this episode!


Log in to leave a comment.

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Unlock the Full Library

PKR 300

For 30 Days of Unlimited Access

  • Read all premium and exclusive content
  • Enjoy a seamless, uninterrupted reading experience
  • Directly support the author and her work
Go Premium Now

Experience the Best Urdu Novels Online

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Captivating Novels and Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Reading Urdu Novels on Tablet and Phone

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen’s verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Elegant Desk with Pens and Books