Insaniyat Kay Naatay
Episodes
دعا معزرت کرتے ہوئے اٹھی اور کچن میں کھانے کا انتظام دیکھنے گئی۔ تھوڑی دیر بعد واپس آئی تو سب خاموش بیٹھے ہوئے تھے بھابھی نے آتے ہی کہا اب آگے بھی بتا دو۔ اس کا کیا ہوا۔ وہ آدمی جسے وہ انکل پکارنے لگی تھی اس کی بہت مدد کی۔ ایک غریب لاوارث بڑھیا کے پاس چھوڑ دیا جس کی وہ اکثر مدد کرنے جاتا تھا۔ وہ لڑکی والدین کو اکثر رو دیتی۔ اس کو اب یہ سکون تھا کہ وہ حرام کی نہیں ہے۔ پھر اسے پتہ چلا کہ وہ حاملہ ہے۔ چند ماہ بعد وہ بوڑھی عورت بھی مر گئ۔ محلے والے اگرچہ غریب تھے مگر اچھے تھے بوڑھی کا کفن دفن انہوں نے کر دیا۔ اس کا بھی خیال رکھتے۔ اس نے انہیں بتایا کہ اس کا شوہر دوسرے ملک چلا گیا ہے تب سے اس کی کوئی خبر نہیں ہے وہ افسوس کرتے۔ اس کے پاس جمع پونجی کم تھی۔ وہ انکل کھبی کبھار آ کر کچھ سودا اور رقم دے جاتا۔ وہ حاملہ تھی کوئی کام کر نہیں سکتی تھی۔ دوا بھی ختم تھی وہ اب برقعہ پہننے لگی تھی۔ ہاسپٹل کے بایر وہ اس باپ کو دیکھتی ٹوٹی ٹانگ کے ساتھ بھیک مانگ رہا ہوتا۔ اسے دکھ بھی ہوتا۔ وہ کچھ کھانے پینے کی اشیاء لے کر اس کے آگے رکھ دیتی وہ بہت دعائیں دیتا۔ اسے اپنے گھر اور سامان کی خبر انکل نے دے دی تھی۔ وہ نقاب میں ہوتی اور وہ پہچان نہ سکتا تھا۔ آج وہ میڈیکل سٹور سے دوا لے رہی تھی تو اس کو وہاں پر اپنی پرانی محلے دار لڑکی نظر آئی۔ اس نے اسے پہچان لیا اور اسے گھر لے گئی اس کی حالت خراب تھی۔ بےشک پہلے وہ لوگ انہیں پسند نہ کرتے تھے مگر اس کی دکھ بھری داستان سن کر ان کی بیٹی جو اس کی تقریباً ہم عمر تھی اس کی دوست بن گئی اس کے گھر والے بھی رحم دل تھے۔ اس انکل کی بھی ڈیتھ ہو چکی تھی۔ اب لڑکی رو رو کر اپنی رحم دل دوست کو التجا کرتی۔ اگر مجھے کچھ ہو گیا تو تم لوگ اچھے ہو۔ مزہبی ہو میرے بچے کو آپ پالنا اچھا انسان بنانا۔ ہو سکے تو بڑا ہو کر اسے اس کے باپ سے ملوا دینا۔ اس نے نکاح نام اور اس کی اور اس کے باپ کی اس کے حوالے کیں۔ طلاق وہ صرف منہ سے بول کر گیا تھا۔ اس کی حالت خراب تھی گھر والے اس کو ہاسپٹل لے کر آئے، وہاں وہ ایک خوبصورت سے بیٹے کو جنم دے کر مر گئی۔ اس کے والدیت میں اس کے اصل باپ کا نام لکھوا دیا۔ اور اس کی سہیلی ماں بن کر اسے پالنے لگی۔ اس نے شادی نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔انہون نے دوسرے علاقے میں گھر بنا لیا۔ وہاں وہ اسے اپنا بچہ اور خود کو بیوہ بتاتی۔ اس بچے پر جان چھڑکتی۔ بہت سے رشتے آتے مگر وہ نہ مانتی۔ والدین اس کی شادی کر دینا چاہتے تھے۔ جو بچے کا سنتا اسے رکھنے پر تیار نہ ہوتا ماں نے کہا کہ میں پال لوں گی مگر وہ اس کی جدائی برداشت نہیں کر سکتی تھی۔ کچھ ایسے بھی تھے جو کہتے بچے کا خرچہ ہم اٹھا لیں گے مگر ساتھ نہیں رکھ سکتے مگر وہ نہ مانی۔ آخر ایک دن اس کے والد کے پرانے دوست مل گئے وہ بیٹے کے لئے رشتہ ڈھونڈ رہے تھے۔ اس لڑکی نے انہیں بھی بیوہ ہی بتانے کا کہا۔ انہیں وہ لڑکی اور من موہنا سا بچہ بہت بھایا۔ وہ جتنی دیر رہے اس بچے سے کھیلتے رہے۔ انہوں نے اسے بچے سمیت قبول کر لیا۔ جب تصویر دیکھاہی تو لڑکی نے پہچان لیا کہ یہ وہی لڑکا ہے جو اس بچے کا باپ ہے اور وہ اسے کنوارا بتا رہے ہیں۔ لڑکے نے ان کو کچھ نہیں بتایا تھا۔ اس نے جھٹ ہاں کر دی۔ کہ بچہ باپ کے ساے میں اپنے ددھیال میں پلے گا اس نے بچے کو جوان ہو نے تک اس کی بہتری کے لئے یہ راز چھپاے رکھا تاکہ وہ ماں کے غم میں ادس نہ ہو اور باپ سے بدگماں نہ ہو۔ شانی زور سے شدت جزبات سے چلاتے ہوئے بولا! دعا تم نے یہ راز کیوں چھپائے رکھا کہ سمراب میرا بیٹا ہے۔ دعا چلا کر بولی ہاں وہ لڑکی میں ہی تھی جس نے اس کو پالا۔ سمراب اس گھر کا بیٹا ہے۔ سب حیرت اور خوشی سے چلانے لگے داری اٹھ کر اسے چومنے لگی۔ دادا بھی قریب آ گیا اور گلے لگا لیا۔ ماموں اور نانی تو پہلے سے جانتے تھے۔ وہ خاموش تماشائی بنے ہوئے تھے۔ رمنا دوڑ کر آئی اور میرے بھیا کہہ کر اس سے لپٹ گی اس نے بھی اس ساتھ لگا کر سر پر پیار کیا۔ زارا بھی خوشی سے باتھ مروڑتے ہوئے اسے مبارکباد دینے لگی۔ سمراب سب کو ہٹا کر دعا کو گلے لگا کر دھاڑیں مار کر روتے ہوئے بولا ماں آپ نے میری لیے اتنی قربانی دی۔ مجھ میں اور رمنا میں کھبی فرق نہیں رکھا بلکہ اس سے زیادہ ہی پیار کیا ہے۔ نانی پاس آئی اس نے بھی آگے بڑھ کر اسے پیار کیا۔ پھر اس کی دادی کے پاس گلے لگ کر مبارک باد دی دادی جزبات سے روتے ہوئے بولی آج دنیا کی سب سے بڑی خوشی ہمیں ملی ہے۔ دادا بھی رو رہا تھا پوتے کو قریب جا کر زور سے گلے لگا لیا۔ دعا کا بھائی بھی قریب آیا اور مبارک باد دی، بھابھی نے میاں کو دیکھ کر بڑے زور وشور سے اس کی کمر تھپکاتے ہوئے مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اب تو تم جاہیدار کے بھی اصل وارث ہو۔ میاں نے اسے گھور کر دیکھا تو وہ طنزیہ مسکراتی ہوئی پیچھے ہٹ گئی۔ باپ نے باہیں پھیلا کر کہا میرا اپنا بیٹا میرے سامنے تھا مگر میں اس سے محروم رہا۔ سمراب اگنور کرتے ہوئے تیزی سے باہر نکل گیا۔ سب حیران رہ گئے۔ دعا کے بھائی نے سمجھایا کہ وہ ابھی شاک میں ہے۔ آپ اسے وقت دیں۔ آپ نے جو اس کی ماں کے ساتھ کیا۔ اپنا تو وہ شاید بھول جاے۔ اسے آپ کے قریب ہونے میں وقت لگے گا اللہ تعالیٰ سے امید رکھیں جلد اپ کے قریب آ جائے گا۔ دادی نے شانی کو ڈانٹتے ہوئے کہا کہ تم نے ہمیں کیوں نہیں بتایا۔ شانی بےبس اور شرمندہ سر جھکائے آنسو بہا ریا تھا۔ دادا نے کہا کہ شکر کرو وہ اسی گھر میں ہماری گود میں پلا ہے۔ دعا باہر سے آئی اور پریشانی سے بولی! سمراب گاڑی لے کر کہیں چلا گیا ہے۔ بھائی نے دعا کو تسلی دی کہ ابھی اسے تنہائی کی ضرورت ہے۔ دعا نے بھی روتے ہوئے کہا کہ شاہ زیب میں شرمندہ ہوں کہ میں نے آپ کے راز سے پردہ اٹھایا مگر میں مجبور ہو گئی تھی۔ شانی نے کہا کہ تم نے تو مجھے دنیا کی بڑی خوشی دی ہے۔ اچھا ہے پہلے نہیں بتایا ورنہ میں اسے رمنا کی طرح بنا دیتا۔ وہ تمھارے زیر سایہ پلا ہے تو کندن بنا ہے۔ہیرا ہے میرا بیٹا۔ رمنا کو سن کر شرمندگی محسوس ہوئی اس نے دل میں محصم ارادہ کر لیا کہ وہ اب ماں کی ہر بات مانے گی۔ سب پریشان ہو کر بیٹھ گئے۔ اس کو بار بار کالیں کرتے مگر وہ پک نہ کرتا۔ کافی دیر گزر گئی۔ آخر دعا نے اسے میسج کیا کہ سب پر یشان ہیں کسی نے کھانا بھی نہیں کھایا۔ دادا، دادی اور شانی نے کھانے کے بعد دوائی کھانی ہے۔ تمھارے ماموں لوگوں نے گھر جانا ہے۔ زارا اور دعا رو رہی ہیں۔ تم ماں کو بھی پریشان کر رہے ہو۔ چاہتے ہو مجھے فکر سے کچھ ہو جائے۔ اگر میرا زرا سا بھی خیال ہے تو فوراً چلے آؤ۔
دعا کو یقین تھا کہ اب وہ ضرور آئے گا مگر کافی دیر گزر گئی وہ نہ آیا۔ سب پریشان ہو گئے اور دعا حیران۔

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.