Logo
Insaniyat Kay Naatay
21 Episodes
Insaniyat Kay Naatay EP 17
Episode 17

انسانیت کے ناطے17

Insaniyat Kay Naatay


ستارھواں حصہ 17th Part

 

دعا معزرت کرتے ہوئے اٹھی اور کچن میں کھانے کا انتظام دیکھنے گئی۔ تھوڑی دیر بعد واپس آئی تو سب خاموش بیٹھے ہوئے تھے۔ بھابھی نے آتے ہی کہا 

"اب آگے بھی بتا دو، اس کا کیا ہوا۔"

دعا نے دوبارہ شروع کیا

"وہ آدمی جسے وہ انکل پکارنے لگی تھی اس کی بہت مدد کی۔ ایک غریب لاوارث بڑھیا کے پاس چھوڑ دیا جس کی وہ اکثر مدد کرنے جاتا تھا۔ وہ لڑکی اپنے والدین کا سن کر خوش ہوئی۔ اس کو اب یہ سکون تھا کہ وہ حرام کی نہیں ہے۔ پھر اسے پتہ چلا کہ وہ حاملہ ہے۔ چند ماہ بعد وہ بوڑھی عورت بھی مر گئی۔ محلے والے اگرچہ غریب تھے، مگر اچھے تھے بوڑھی کا کفن دفن انہوں نے کر دیا۔ اس کا بھی خیال رکھتے۔ اس نے انہیں بتایا کہ اس کا شوہر دوسرے ملک چلا گیا ہے تب سے اس کی کوئی خبر نہیں ہے وہ افسوس کرتے۔ اس کے پاس جمع پونجی کم تھی۔ وہ انکل کھبی کبھار آ کر کچھ سودا اور رقم دے جاتا۔ وہ حاملہ تھی کوئی کام کر نہیں سکتی تھی۔ دوا بھی ختم تھی وہ اب برقعہ پہننے لگی تھی۔ ہاسپٹل کے باہر وہ اس باپ کو دیکھتی ٹوٹی ٹانگ کے ساتھ بھیک مانگ رہا ہوتا۔ اسے دکھ بھی ہوتا۔ وہ کچھ کھانے پینے کی اشیاء لے کر اس کے آگے رکھ دیتی وہ بہت دعائیں دیتا۔ اسے اپنے گھر اور سامان کی خبر انکل نے دے دی تھی۔ وہ نقاب میں ہوتی اور وہ پہچان نہ سکتا تھا۔ آج وہ میڈیکل سٹور سے دوا لے رہی تھی تو اس کو وہاں پر اپنی پرانی محلے دار لڑکی نظر آئی۔ اس نے اسے پہچان لیا اور اسے گھر لے گئی اس کی حالت خراب تھی۔ بےشک پہلے وہ لوگ انہیں پسند نہ کرتے تھے مگر اس کی دکھ بھری داستان سن کر ان کی بیٹی جو اس کی تقریباً ہم عمر تھی اس کی دوست بن گئی اس کے گھر والے بھی رحم دل تھے۔ اس انکل کی بھی ڈیتھ ہو چکی تھی۔ اب لڑکی رو رو کر اپنی رحم دل دوست کو التجا کرتی۔ اگر مجھے کچھ ہو گیا تو تم لوگ اچھے ہو۔ مذہبی ہو میرے بچے کو آپ پالنا اچھا انسان بنانا۔ ہو سکے تو بڑا ہو کر اسے اس کے باپ سے ملوا دینا۔ اس نے نکاح نامہ اور اس کے باپ کی چیزیں اس کے حوالے کیں۔ طلاق وہ صرف منہ سے بول کر گیا تھا۔ اس کی حالت خراب تھی گھر والے اس کو ہاسپٹل لے کر آئے، وہاں وہ ایک خوبصورت سے بیٹے کو جنم دے کر مر گئی۔ اس کے والدیت میں اس کے اصل باپ کا نام لکھوا دیا۔ اور اس کی سہیلی ماں بن کر اسے پالنے لگی۔ اس نے شادی نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔انہون نے دوسرے علاقے میں گھر بنا لیا۔ وہاں وہ اسے اپنا بچہ اور خود کو بیوہ بتاتی۔ اس بچے پر جان چھڑکتی۔ بہت سے رشتے آتے مگر وہ نہ مانتی۔ والدین اس کی شادی کر دینا چاہتے تھے۔ جو بچے کا سنتا اسے رکھنے پر تیار نہ ہوتا ماں نے کہا کہ میں پال لوں گی مگر وہ اس کی جدائی برداشت نہیں کر سکتی تھی۔ کچھ ایسے بھی تھے جو کہتے بچے کا خرچہ ہم اٹھا لیں گے مگر ساتھ نہیں رکھ سکتے مگر وہ نہ مانی۔ آخر ایک دن اس کے والد کے پرانے دوست مل گئے وہ بیٹے کے لئے رشتہ ڈھونڈ رہے تھے۔ اس لڑکی نے انہیں بھی بیوہ ہی بتانے کا کہا۔ انہیں وہ لڑکی اور من موہنا سا بچہ بہت بھایا۔ وہ جتنی دیر رہے اس بچے سے کھیلتے رہے۔ انہوں نے اسے بچے سمیت قبول کر لیا۔ جب تصویر دیکھائی تو لڑکی نے پہچان لیا کہ یہ وہی لڑکا ہے جو اس بچے کا باپ ہے اور وہ اسے کنوارا بتا رہے ہیں۔ لڑکے نے ان کو کچھ نہیں بتایا تھا۔ اس نے جھٹ ہاں کر دی۔ کہ بچہ باپ کے سائے میں اپنے ددھیال میں پلے گا اس نے بچے کو جوان ہونے تک اس کی بہتری کے لئے یہ راز چھپائے رکھا تاکہ وہ ماں کے غم میں اداس نہ ہو اور باپ سے بدگماں نہ ہو۔" 

شانی زور سے شدت جزبات سے چلاتے ہوئے بولا

"دعا تم نے یہ راز کیوں چھپائے رکھا کہ سمراب میرا بیٹا ہے۔" 

دعا چلا کر بولی 

"ہاں وہ لڑکی میں ہی تھی جس نے اس کو پالا۔ سمراب اس گھر کا بیٹا ہے۔" 

سب حیرت اور خوشی سے چلانے لگے دادی اٹھ کر اسے چومنے لگی۔ دادا بھی قریب آ گیا اور گلے لگا لیا۔ ماموں اور نانی تو پہلے سے جانتے تھے۔ وہ خاموش تماشائی بنے ہوئے تھے۔ رمنا دوڑ کر آئی اور میرے بھیا کہہ کر اس سے لپٹ گی اس نے بھی اس ساتھ لگا کر سر پر پیار کیا۔ زارا بھی خوشی سے باتھ مروڑتے ہوئے اسے مبارکباد دینے لگی۔ سمراب سب کو ہٹا کر دعا کو گلے لگا کر دھاڑیں مار کر روتے ہوئے بولا 

"ماں آپ نے میری لیے اتنی قربانی دی۔ مجھ میں اور رمنا میں کھبی فرق نہیں رکھا بلکہ اس سے زیادہ ہی پیار کیا ہے۔" 

نانی پاس آئی اس نے بھی آگے بڑھ کر اسے پیار کیا۔ پھر اس کی دادی کے پاس گلے لگ کر مبارک باد دی دادی جزبات سے روتے ہوئے بولی 

"آج دنیا کی سب سے بڑی خوشی ہمیں ملی ہے۔" 

دادا بھی رو رہا تھا پوتے کو قریب جا کر زور سے گلے لگا لیا۔ دعا کا بھائی بھی قریب آیا اور مبارک باد دی، بھابھی نے میاں کو دیکھ کر بڑے زور وشور سے اس کی کمر تھپکاتے ہوئے مبارکباد دیتے ہوئے کہا 

"اب تو تم جائیدار کے بھی اصل وارث ہو۔" 

میاں نے اسے گھور کر دیکھا تو وہ طنزیہ مسکراتی ہوئی پیچھے ہٹ گئی۔ باپ نے باہیں پھیلا کر کہا 

"میرا اپنا بیٹا میرے سامنے تھا مگر میں اس سے محروم رہا۔" 

سمراب اگنور کرتے ہوئے تیزی سے باہر نکل گیا۔ سب حیران رہ گئے۔ دعا کے بھائی نے سمجھایا 

"وہ ابھی شاک میں ہے۔ آپ اسے وقت دیں۔ آپ نے جو اس کی ماں کے ساتھ کیا۔ اپنا تو وہ شاید بھول جائے۔ اسے آپ کے قریب ہونے میں وقت لگے گا اللہ تعالیٰ سے امید رکھیں جلد اپ کے قریب آ جائے گا۔" 

دادی نے شانی کو ڈانٹتے ہوئے کہا 

"تم نے ہمیں کیوں نہیں بتایا۔" 

شانی بےبس اور شرمندہ سر جھکائے آنسو بہا ریا تھا۔ دادا نے کہا 

"شکر کرو وہ اسی گھر میں ہماری گود میں پلا ہے۔" 

دعا باہر سے آئی اور پریشانی سے بولی 

"سمراب گاڑی لے کر کہیں چلا گیا ہے۔" 

بھائی نے دعا کو تسلی دی

"ابھی اسے تنہائی کی ضرورت ہے۔" 

دعا نے بھی روتے ہوئے کہا 

"شاہ زیب میں شرمندہ ہوں کہ میں نے آپ کے راز سے پردہ اٹھایا مگر میں مجبور ہو گئی تھی۔" 

شانی نے کہا 

'تم نے تو مجھے دنیا کی بڑی خوشی دی ہے۔ اچھا ہے پہلے نہیں بتایا ورنہ میں اسے رمنا کی طرح بنا دیتا۔ وہ تمھارے زیر سایہ پلا ہے تو کندن بنا ہے۔ ہیرا ہے میرا بیٹا۔" 

رمنا کو سن کر شرمندگی محسوس ہوئی اس نے دل میں معصم ارادہ کر لیا کہ وہ اب ماں کی ہر بات مانے گی۔ 

سب پریشان ہو کر بیٹھ گئے۔ اس کو بار بار کالیں کرتے مگر وہ پک نہ کرتا۔ کافی دیر گزر گئی۔ آخر دعا نے اسے میسج کیا 

"سب پر یشان ہیں کسی نے کھانا بھی نہیں کھایا۔ دادا، دادی اور شانی نے کھانے کے بعد دوائی کھانی ہے۔ تمھارے ماموں لوگوں نے گھر جانا ہے۔ زارا اور دعا رو رہی ہیں۔ تم ماں کو بھی پریشان کر رہے ہو۔ چاہتے ہو مجھے فکر سے کچھ ہو جائے۔ اگر میرا زرا سا بھی خیال ہے تو فوراً چلے آؤ۔"

دعا کو یقین تھا کہ اب وہ ضرور آئے گا مگر کافی دیر گزر گئی وہ نہ آیا۔ سب پریشان ہو گئے اور دعا حیران۔


اٹھارھواں حصہ - 18th Part


Continue Reading
Episode 18
انسانیت کے ناطے18

Reader Comments

No comments yet. Be the first to share your thoughts!

Log in to leave a comment.

Related Novels

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Premium Membership

Unlock the Full Library

One subscription. Every story. Unlimited reading.

PKR 300
30 Days of Unlimited Access
Go Premium Now

Secure payment  ·  Instant access

Full Novel Library
Access every premium & exclusive novel — no episode locked
Unlimited Reading
Read as much as you want, whenever you want, at your pace
Support the Author
Your subscription directly supports Abida Z Shireen's work
New Episodes First
Be the first to read every new episode as soon as it drops
A F S R N
Join thousands of readers already enjoying premium access
Loved by readers
Our Literary World

Experience the Best Urdu Novels Online

Dive into decades of storytelling by Pakistan's most beloved author, now at your fingertips.

50+
Published Novels
30+
Years of Writing
1M+
Readers Worldwide
100%
Authentic Stories
01

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Read Her Story
Abida Z Shireen
Author
02

Captivating Novels & Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Browse All Novels
Reading Urdu Novels on Tablet and Phone
Novels
03

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen's verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Explore Poetry
Elegant Desk with Pens and Books
Poetry