Insaniyat Kay Naatay
Episodes
دعا ماں کے پاس پہنچی تو بھابھی میکے گیء تھی۔ زارا اس کی بھتیجی جوس لے آئی۔ وہ بہت خوش ہوتی، پھپھو اس کی آہیڈیل تھی۔ دعا بھی اس سے پیار کرتی۔ دادی نے اسے چائے بنانے بھیج دیا۔ دعا نے آہستہ سے پوچھا اماں کیا بات ہے۔ اماں نے خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ تمھارے اس راز کا تمھاری بھابھی کو علم ہے کیا۔ وہ بولی جس ملازمہ سے معلومات لیتی تھی اَس کو تو کافی ڈرایا دھمکایا تھا بوڑھی ہونے کی وجہ سے اسے نکالا نہیں تھا اس نے تو کافی وعدے کیے تھے کہ وہ اب کھبی ایسا کام نہیں کرے گی مگر اب تو وہ مر چکی ہے دونوں پریشان ہو گئیں۔ اتنے میں زارا چاے لیکر آ گئی۔ وہ چائے پی کر ماں سے بولی۔ اماں زارا بہت سلجھی ہو ہی ہے ماں کے برعکس ہے۔ شکر ہے بھابھی ان کو آپ کے حوالے کر کے بھائی کے ساتھ یورپ چلی گئی تھی اور آپ نے ان کی اچھی تربیت کی۔ دونوں بہن بھائی سلجھے ہوئے ہیں۔ دعا نے سرد آہ بھر کر کہا پر میری بیٹی تو سلجھی ہوئی نہیں ہے۔ ماں نے جھٹ کہا تو فکر نہ کر میرے گھر آئے گی تو میں سدھار لوں گی۔ دعا نے حیرت سے پوچھا کیا مطلب؟۔ ماں نے کہا کہ بچے بڑے ہو رہے ہیں اس لئے آپس میں وٹہ سٹہ کر لیں گے میں نے اسی لیے آج تجھے بلایا ہے تا کہ تو گھر والوں سے بات کر لے پھر ہم باقاعدہ آ کر رشتہ پکا کر کے منگنی کی رسم ادا کر لیں گے۔ وہ بولی میرے بچوں کے لئے اس سے بہتر رشتہ نہیں ہے۔ مگر بھابھی؟ ماں نے فوراً کہا کہ وہ دولت کی پجارن ہے۔ تمھارے سسرال والے بہت امیر ہیں۔ ہم سے زیادہ۔ اسی لیے تو وہ تجھ سے جلتی ہے میں نے بیٹے سے اس کے سامنے بات کی تھی وہ بہت خوش ہوا۔ وہ بھی کچھ نہ بولی تھی کوئی سازش سوچ رہی ہو گی۔ دعا نے کہا ٹھیک ہے میں ان سے پوچھ کر آپ کو فون کر دوں گی۔ دعا خوش ہو کر سوچنے لگی اسے بیٹی کے مستقبل کی بہت فکر لاحق رہتی تھی اس کا بھتیجا بھی اعلی تعلیم یافتہ اور سلجھا ہوا ہے۔ میری ماں کے زیر سایہ رہے گی واہ۔ اور زارا تو سب کہتے ہیں کہ دعا کا پرتو ہے۔ وہ خوشی سے ماں کے گلے لگی ماں نے بھی پیار کیا،مبارکباد دی اور دعائیں دیں۔ دعا نے باہر کھڑی سب سنکر خوش ہوتی زارا کو دہکھا، اسے اندازہ ہو گیا کہ اس نے سب سن لیا ہے۔ وہ کیء بار سمراب کے لیے اس کی پسندیدگی کو محسوس کر چکی تھی وہ شرمای سی کھڑی تھی، دعا نےجوش میں جھٹ سے اپنی انگلی سے رنگ اتار کر اس کے ہاتھ میں پہنا دی، وہ انجان بنتے ہوئے بولی پھوپھو یہ کیا اتنے میں اس کے بھائی بھابی بھی آگےء۔ انہوں نے دیکھ لیا اسے انگوٹھی پہناتے ہوئے۔ دونوں اس سے ملے۔ زارا کے گال کو پیار سے کھنچتے ہوئے بولی ئہ گفٹ ہے۔ بھائی نے رکنے اور کھانا کھا کر جانے کا کہا تو اس نے مصروفیات کا بہانہ بنایا تو بھائی نے چڑ کر غصے سے کہا کہ کیوں اپنی جان ہلقان کرتی رہتی ہو۔ اس گھر میں کوئی بچہ نہیں ہے۔ کچھ ہمارے لیے بھی وقت نکالا کرو، ہر وقت ہوا کے گھوڑے پر سوار رہتی ہو۔ بھابھی نے مکھن لگایا بلکہ میں تو کہتی ہوں کہ آج ادھر ہی رہ جاو۔ جانتی تھی کہ وہ رکنے والی نہیں۔ اس نے جا کر دروازہ لاک کر دیا۔ اس کا میاں اس کی اس حرکت سے خوش ہو گیا وہ ایسے ہی اس کے سامنے مکھن لگاتی تھی۔ دعا کے سامنے کچھ دن پہلے کا سین گھوم گیا تھا جب وہ ادھر کسی کام سے آیء تھی سوچا ماں سے ملتی چلے وہ ایسے ہی کھڑے کھڑے آتی تھی ملازمہ نے دروازہ کھولا۔ گھر میں سواے بھابھی کے کوئی نہ تھا وہ فون کر رہی تھی اسے فون کے دوران ہی ہاتھ ہلا دیا اور بیٹھنے کا اشارہ کر کے فون پر لگی رہی۔ ملازمہ نے آ کر پانی دیا اور اسے چائے کا اشارہ کر کے فون پر مسلسل لگی رہی جیسے کوئی بہت ضروری کال کر رہی ہو۔ دعا نے ملازمہ کو چاہے کا منع کر دیا۔ بھابھی بھی جانتی تھی وہ وقت بے وقت چاے نہیں پیتی، اس وقت کھانے کا وقت تھا اسے بھوک بھی لگی ہوئی تھی سوچا تھا آج وقت نکال کر گھر والوں کو بتا کر آیء تھی کہ وہ کھانا ماں کے گھر کھاے گی۔ جب وہ بیٹھے بیٹھے اکتانے لگی موڈ آف ہونے لگا تو وہ اٹھ کھڑی ہوئی تو بھابھی نے زور سے کہا اچھا اماں ابھی آبھی دعا آیء ہے۔ میں آپ سے بعد میں بات کرتی ہوں۔ دعا تو کافی دیر سے یٹھی تھی بھابھی اسے دیکھنے لگی اس نے سنجیدگی سے پوچھا سب کدھر ہیں تو بولی۔ اماں، ابا کو یہ ڈاکٹر کے پاس روٹین چیک اپ کے لیے گئے ہیں زارا سو رہی ہے۔ کب تک واپس آئیں گے وہ تو دیر سے آئیں گے ابھی ابھی گئے ہیں۔ حالانکہ وہ آتے ہی ملازمہ سے پوچھ چکی تھی اس نے بتایا تھا کہ وہ کافی دیر سے گئے ہیں پھر بھابھی بولی تم بیٹھو میں نہا کر آتی ہوں۔ دعا کوغصہ آیا وہ جانے کے لئے اٹھ کھڑی ہو گئی اور آنکھوں میں نمی لیے گاڑی گھر سے زرا فاصلے پر تھی تو اسے ان لوگوں کی گاڑی گلی میں مڑتی نظر آئی اس کا دل غم سے پھٹ رہا تھا وہ ایسی باتوں کی شکایت نہیں لگاتی تھی۔ اب بھابھی فدا ہو رہی تھی۔ بار بار کھانے پر اصرار کر رہی تھی۔ مگر اسے دل نہ چاہ رہا تھا وہ چند روز پہلے کا واقعہ یاد آگیا تھا۔ زارا کو اس پر ترس آ گیا اس نے لاک کھول دیا اور کہا کہ پھپھو کی بیٹی لاڈو آنے والی ہے وہ انہیں گھر نہ پا کر شور مچاتی ہے۔ بھابھی نے ہنستے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا مچا لے جتنا شور اگلے گھر جا کر سیدھی ہو جائے گی دعا نے بھابھی کو چونک کر دیکھا اور خدا-حافظ بول کر تیزی سے باہر نکل آئی۔
شانی رمنا کو کسی بات سے نہ روکنے ٹوکنے دیتا نہ ہی ڈانٹنے دیتا۔ سب عاجز تھے وہ بھی اس آزادی کا فائدہ اٹھاتی۔ جدید لباس پہنتی۔ ہر فیش اپناتی۔ اس کے پارلر کے چکر ہی نہ ختم ہوتے۔ ماں کی نہ عزت کرتی نہ کوئی اہمیت دیتی۔ بھاہی کو بھی نہ چھوڑتی۔ اسے ہر وقت احساس دلاتی کہ یہ میرا گھر ہے اور ساری جاہیداد کی میں وارث ہوں۔ یہ باتیں اسے باپ دعا کو جلانے کے لیے سکھاتا۔ سمراب کسی بات کا جواب نہ دیتا۔ وہ اسے کہتی تم میرے بھائی نہیں ہو۔ دعا سمراب کے چہرے پر کرب کو محسوس کر کے دکھی ہو جاتی۔ وہ اگر رمنا کو معمولی سا بھی سمجھاتی تو وہ اتنا ایشو بناتی روتی دھوتی چھری آٹھ کر اپنے آپ کو مارنے کی دھمکی دیتی۔ سب نے ڈر کر اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا۔ اب وہ پورے گھر کی بے لگام شہزادی بن گی تھی۔ دعا شانی کو اگر بےجا آزادی پر سمجھاتی۔ تو وہ اسے طعنے دیتا کہ تم نے مجھے بیٹا نہیں دیا اس لیے میں اسے بیٹا بنانا چاہتا ہوں۔ وہ اگر اس کا موبائل چیک کرنے یا اس پر نظر رکھنے کی کوشش کر تی تو رمنا باپ کو شکایت لگاتی کہ ماما اس کی پینڈو عورتوں کی طرح پراہی ویسی خراب کرتی ہیں تو وہ دغا کو کہتا یہ میرا بیٹا ہے مجھے اس پر پورا بھروسہ ہے ایک دن ماں نے رمنا کو کچھ کرتے دیکھا وہ بہت پریشان ہوی۔

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.