Logo
Insaniyat Kay Naatay
21 Episodes
Insaniyat Kay Naatay EP 21
Episode 21

انسانیت کے ناطے21

Insaniyat Kay Naatay


اکیسواں حصہ - 21st Part

 

سمراب زبردستی دادا، دادی، شانی، دعا اور نانی سمیت ان کی پوری فیملی کو زبردستی لے کر گیا۔ اب گھر میں سمراب کی چلتی تھی۔ اب وہ گھر کے نظام کا نگراں بن گیا تھا۔ شاہ زیب بھی جاب سے ریٹائر ہو چکا تھا اور اب وہ ہر وقت دعا کا دیوانہ رہتا۔ اس کو کہتا 

"میں دنیا کا خوش نصیب انسان ہوں۔ جس کو تم جیسی شریک حیات ملی۔ میں اب دنیا کی ہر خوشی تمھارے قدموں میں نچھاور کر دینا چاہتا ہوں۔ کاش میں نے تمھاری قدر پہلے کی ہوتی۔ کاش میں پہلی بیوی کو بھی سمجھ سکتا۔ اس کی زندگی یوں تکلیف میں نہ گزرتی۔ پیدائشی برا کوئی بھی نہیں ہوتا۔ توبہ کا دروازہ ہر وقت کھلا رہتا ہے۔ انسان دوسرے کے گناہوں کو پہاڑ جتنا سمجھ کر خود ہی جج بن کر اس سے نفرت میں خود گنہگار ہو جاتا ہے۔ کوئی اپنے گریبان میں نہیں جھانکتا۔ نہ ہی کسی کو سدھرنے کا موقع دیتا ہے نہ ہی معاف کرتا ہے۔ حالانکہ اسلام ہمیں عفو درگزر اور صلہ رحمی کا درس دیتا ہے۔ کسی کو معاف کرنے سے اپنے گناہ جھڑتے ہیں۔" 

دعا اس کی باتوں سے مسرور ہو جاتی۔ اور اللہ تعالیٰ کا بہت شکر بجا لاتی اور سمراب اور رمنا کے ا چھے مستقبل کی ہر وقت دعائیں کرتی۔

رمنا کی دادی زور دینے لگی 

'سمراب کا رشتہ زارا کے ساتھ طے کرو۔ اپنے میکے والوں کو مناؤ کہ وہ رمنا کا رشتہ کر لیں۔ بچہ ہو جانے پر ہم خود بچے کو پال لیں گے اور اس کی طلاق کروا کر اس کی شادی اس سے کر دیں گے۔ ابھی اس کے آگے ساری زندگی پڑی ہے۔ رمنا کو زبردستی منا لیں گے وہ تو بچی ہے نا سمجھ ہے۔"

دعا نے اکیلے جا کر بات کی۔ ماں تو اس بات پر راضی اور خوش تھی۔ مگر بھابھی نہ مانی، بولی

"آنکھوں دیکھی مکھی کوئی نہیں نگلتا۔ ہم میں اتنا ظرف نہیں ہے۔ زارا کے رشتے بھی آ رہے ہیں۔" 

بھابھی نے اپنے شوہر کو بھی اپنی باتوں کے جال میں پھنسا دیا۔ وہ اسے سمجھاتی اپنی بہن کی محبت میں اپنے بیٹے کا مستقبل نہ خراب کر دینا۔ یہ چند روز کی بات تو نہیں ہے کہ ہم بیٹے کو مجبور کر کے مرؤت میں لے آئیں۔ یہ ساری زندگی کا معاملہ ہے۔ مجھے تو اماں جی پر افسوس ہو رہا ہے جو انصاف سے کام نہیں لے رہیں۔ اپنے پوتے کو نواسی کے گناہ دھونے کے لیے قربان کرنا چاہتی ہیں۔ جو اتنی نڈر ہو کر نکاح کر سکتی ہے وہ بعد میں بھی اس سے رابطہ رکھ سکتی ہے۔ پھر بچے کا بھی مسئلہ ہے۔ میرا کنوارا لال سادی زندگی زہنی ازیت میں مبتلا رہے گا۔ شانی کا دیکھا نہیں کیا حال تھا۔ حالانکہ دعا سب کی کتنی خدمت گزار تھی۔ اس کی بیٹی تو الٹ ہے۔ نہ بابا مجھے تو سوچ کر ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ دوسری بات آپ کا بیٹا بھی نہیں مان رہا۔ ہم زبردستی کر کے اپنے بیٹے کے دل کو کیوں چوٹ پہنچائیں۔ شوہر کو اچھی طرح بیٹے کے حوالے سے بھی اموشنل کر کے خوب بھر دیا۔ حالانکہ اس نے بیٹے کو ڈرا کر سختی سے منع کیا تھا کہ تم نے ہاں نہیں کرنی، اس کو سبز باغ بھی دیکھائے کہ میں اس سے بھی خوبصورت اور کنواری دلہن تمھارے لیے لے کر آؤں گی۔ پھر رو رو کر بھی تماشا کیا کہ آپ کی ماں آپ کو نواسی کے واسطے دے کر منا لیں گی۔ میں اپنے اکلوتے بیٹے کو برباد ہوتے دیکھ کر روز جیوں گی روز مروں گی۔ ہم نے اپنی زارا کی کتنی اچھی تربیت کی ہے۔ گھریلو بنایا ہے۔ حالانکہ اس کی تربیت دعا کی ماں نے کی تھی۔ یہ تو سدا شوہر کے ساتھ دبئی رہی۔ بچے دادی پالتی رہی۔ اس نے دعا وغیرہ کے خلاف خوب بھر دیا۔

دعا اور رمنا کی نانی نے جب بیٹے سے بات کی تو وہ اپنے فیصلے پر اٹل رہا کہ ابھی تو مرؤت میں ہم کر دیں گے مگر بعد میں بہت مسئلے پیدا ہوں گے۔ اس لے یہ فیصلہ درست نہیں ہے۔

دعا بہت ہرٹ ہوئی۔ ماں بھی دکھی تھی۔ بیٹا بیوی کی زبان بول رہا تھا۔ ماں بیٹے کے انکار سے شرمندہ تھی۔ دعا کو بولی 

"ان سے کہنا وہ لوگ ابھی سوچ رہے ہیں سوچ کر جواب دیں گے۔ ہو سکتا ہے اس دوران کوئی بات بن جائے۔"

دعا نے ایسا ہی بتایا مگر ساس نے کہا کہ اب ضرورت نہیں رہی۔ تمھارے جانے کے بعد رمنا کی ساَس اپنے بڑے بیٹے کے ساتھ آنی تھی۔ بہت شرمندہ تھی بہت معافیاں مانگ رہی تھی۔ کہ جدھر رشتہ کیا تھا نہ ہی وہ اچھے اور نہ ہی پردےدار تھے۔ انہوں نے رشتے کروانے والی سے ہماری ڈیمانڈ سنی تو اسے لالچ دے کر ساتھ ملا لیا۔ اور اچھا ہونے کا ڈرامہ کیا۔ وہ تو اچانک ہم نے مارکیٹ میں دیکھ لیا تو وہ ماں بیٹی انگریز بنی، بے ہودہ لباس میں بغیر دوپٹے کھڑی تھیں۔ ہم نے جا لیا وہ گنگ رہ گئیں۔ ادھر ہی ان سے ناطہ توڑ دیا وہ تو صفائی میں بھی کچھ نہ بول سکیں۔ اب وہ اسی ڈیٹ پر شادی کرنا چاہتے ہیں کہ حال کی بکنگ ہو چکی تھی۔ اب صرف تمھاری ہاں کا انتظار ہے۔ ان کے بہت بار فون آ چکے ہیں۔ ہم سب راضی ہیں بیٹی کی خوشی کے لئے تم بھی ہاں کر دو تاکہ حال کی بکنگ ہو سکے۔

دعا نے بیٹی کو دیکھا تو وہ خیالوں میں کھوی مسکرا رہی تھی۔ دعا نے علی کی ماں کو فون کیا تو اس نے بہت معذرت کی۔ اس کو بیٹی کی طرح رکھنے کے وعدے کئے۔ پھر ہاں کرنے پر اس کا بہت شکریہ ادا کیا۔ دعا کی دعائیں رنگ لے آئیں۔ اس نے روتے ہوئے اپنے رب کا بہت شکر ادا کیا۔ پھر بھابھی کو کھلے دل سے معاف کرتے ہوئے زارا کا رشتہ مانگا جو اس نے شکر کرتے ہوئے پچھلی باتوں پر معذرت کرتے ہوئے قبول کر لیا۔ کیونکہ اسے ابھی تک زار کے لیے سمراب سے بڑھ کر رشتہ نہ آیا تھا زارا سے رشتہ ہونے پر سمراب نے خوشی اور جوش میں ماں کو اٹھا کر گھمانا شروع کر دیا۔ پھر ماں کا شکریہ ادا کیا۔ بولا 

"اگر آپ میرا کسی اور جگہ بھی کرتیں میں انکار نہ کرتا۔ نہ اس کے حقوق پورے کرنے میں کوئی کمی چھوڑتا مگر ادھر میرے دل کا معاملہ تھا" 

ماں نے فخر سے اس کے سر کو چوم لیا سب خوش ہو رہے تھے شانی خوشی سے لبریز دل سے ماں بیٹے کو دیکھ رہا تھا۔


 ختم شد



🎉

ناول اختتام پذیر ہوا

You've reached the end of this journey. We hope you loved every episode!

Reader Comments

No comments yet. Be the first to share your thoughts!

Log in to leave a comment.

Related Novels

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Premium Membership

Unlock the Full Library

One subscription. Every story. Unlimited reading.

PKR 300
30 Days of Unlimited Access
Go Premium Now

Secure payment  ·  Instant access

Full Novel Library
Access every premium & exclusive novel — no episode locked
Unlimited Reading
Read as much as you want, whenever you want, at your pace
Support the Author
Your subscription directly supports Abida Z Shireen's work
New Episodes First
Be the first to read every new episode as soon as it drops
A F S R N
Join thousands of readers already enjoying premium access
Loved by readers
Our Literary World

Experience the Best Urdu Novels Online

Dive into decades of storytelling by Pakistan's most beloved author, now at your fingertips.

50+
Published Novels
30+
Years of Writing
1M+
Readers Worldwide
100%
Authentic Stories
01

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Read Her Story
Abida Z Shireen
Author
02

Captivating Novels & Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Browse All Novels
Reading Urdu Novels on Tablet and Phone
Novels
03

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen's verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Explore Poetry
Elegant Desk with Pens and Books
Poetry