Insaniyat Kay Naatay
Episodes
سمراب زبردستی دادا، دادی، شانی، دعا اور نانی سمیت ان کی پوری فیملی کو زبردستی لے کر گیا۔ اب گھر میں سمراب کی چلتی تھی۔ اب وہ گھر کے نظام کا نگراں بن گیا تھا۔ شاہ زیب بھی جاب سے ریٹائر ہو چکا تھا اور اب وہ ہر وقت دعا کا دیوانہ رہتا۔ اس کو کہتا میں دنیا کا خوش نصیب انسان ہوں۔ جس کو تم جیسی شریک حیات ملی۔ میں اب دنیا کی ہر خوشی تمھارے قدموں میں نچھاور کر دینا چاہتا ہوں۔ کاش میں نے تمھاری قدر پہلے کی ہوتی۔ کاش میں پہلی بیوی کو بھی سمجھ سکتا۔ اس کی زندگی یوں تکلیف میں نہ گزرتی۔ پیدائشی برا کوئی بھی نہیں ہوتا۔ توبہ کا دروازہ ہر وقت کھلا رہتا ہے۔ انسان دوسرے کے گناہوں کو پہاڑ جتنا سمجھ کر خود ہی جج بن کر اس سے نفرت میں خود گنہگار ہو جاتا ہے۔ کوئی اپنے گریبان میں نہیں جھانکتا۔ نہ ہی کسی کو سدھرنے کا موقع دیتا ہے نہ ہی معاف کرتا ہے۔ حالانکہ اسلام ہمیں عفو درگزر اور صلہ رحمی کا درس دیتا ہے۔ کسی کو معاف کرنے سے اپنے گناہ جھڑتے ہیں۔ دعا اس کی باتوں سے مسرور ہو جاتی۔ اور اللہ تعالیٰ کا بہت شکر بجا لاتی۔ اور سمراب اور رمنا کے ا چھے مستقبل کی ہر وقت دعائیں کرتی۔
رمنا کی دادی زور دینے لگی کہ سمراب کا رشتہ زارا کے ساتھ طے کرو۔ اپنے میکے والوں کو مناو کہ وہ رمنا کا رشتہ کر لیں۔ بچہ ہو جانے پر ہم خود بچے کو پال لیں گے اور اس کی طلاق کرو کر اس کی شادی اس سے کر دیں گے۔ ابھی اس کے آگے ساری زندگی پڑی ہے۔ رمنا کو زبردستی منا لیں گے وہ تو بچی ہے ناسمجھ ہے۔
دعا نے اکیلے جا کر بات کی۔ ماں تو اس بات پر راضی اور خوش تھی۔ مگر بھابھی نہ مانی، بولی آنکھوں دیکھی مکھی کوئی نہیں نگلتا۔ ہم میں اتنا ضرف نہیں ہے۔ زارا کے رشتے بھی آ رہے ہیں۔ بھابھی نے اپنے شوہر کو بھی اپنی باتوں کے جال میں پھنسا دیا۔ وہ اسے سمجھاتی اپنی بہن کی محبت میں اپنے بیٹے کا مستقبل نہ خراب کر دینا۔ یہ چند روز کی بات تو نہیں ہے کہ ہم بیٹے کو مجبور کر کے مروت میں لے آئیں۔ یہ ساری زندگی کا معاملہ ہے۔ مجھے تو اماں جی پر افسوس ہو رہا ہے جو انصاف سے کام نہیں لے رہیں۔ اپنے پوتے کو نواسی کے گناہ دھونے کے لیے قربان کرنا چاہتی ہیں۔ جو اتنی نڈر ہو کر نکاح کر سکتی ہے وہ بعد میں بھی اس سے رابطہ رکھ سکتی ہے۔ پھر بچے کا بھی مسئلہ ہے۔ میرا کنوارا لال سادی زندگی زہنی ازیت میں مبتلا رہے گا۔ شانی کا دیکھا نہیں کیا حال تھا۔ حالانکہ دعا سب کی کتنی خدمت گزار تھی۔ اس کی بیٹی تو الٹ ہے۔ نہ بابا مجھے تو سوچ کر ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ دوسری بات آپ کا بیٹا بھی نہیں مان رہا۔ ہم زبردستی کر کے اپنے بیٹے کے دل کو کیوں چوٹ پہنچائیں۔ شوہر کو اچھی طرح بیٹے کے حوالے سے بھی اموشنل کر کے خوب بھر دیا۔ حالانکہ اس نے بیٹے کو ڈرا کر سختی سے منع کیا تھا کہ تم نے ہاں نہیں کرنی، اس کو سبز باغ بھی دیکھاے کہ میں اس سے بھی خوبصورت اور کنواری دلہن تمھارے لیے لے کر آوں گی۔ پھر رو رو کر بھی تماشا کیا کہ آپ کی ماں آپ کو نواسی کے واسطے دے کر منا لیں گی۔ میں اپنے اکلوتے بیٹے کو برباد ہوتے دیکھ کر روز جیوں گی روز مروں گی۔ ہم نے اپنی زارا کی کتنی اچھی تربیت کی ہے۔ گھریلو بنایا ہے۔ حالانکہ اس کی تربیت دعا کی ماں نے کی تھی۔ یہ تو سدا شوہر کے ساتھ دبئی رہی۔ بچے دادی پالتی رہی۔ اس نے دعا وغیرہ کے خلاف خوب بھر دیا۔
دعا اور رمنا کی نانی نے جب بیٹے سے بات کی تو وہ اپنے فیصلے پر اٹل رہا۔ کہ ابھی تو مروت میں ہم کر دیں گے مگر بعد میں بہت مسئلے پیدا ہوں گے۔ اس لے یہ فیصلہ درست نہیں ہے۔
دعا بہت ہرٹ ہوئی۔ ماں بھی دکھی تھی۔ بیٹا بیوی کی زبان بول رہا تھا۔ ماں بیٹے کے انکار سے شرمندہ تھی۔ دعا کو بولی کہ ان سے کہنا وہ لوگ ابھی سوچ رہے ہیں سوچ کر جواب دیں گے۔ ہو سکتا ہے اس دوران کوئی بات بن جائے۔ دعا نے ایسا ہی بتایا مگر ساس نے کہا کہ اب ضرورت نہیں رہی۔ تمھارے جانے کے بعد رمنا کی ساَس اپنے بڑے بیٹے کے ساتھ آنی تھی۔ بہت شرمندہ تھی بہت معافیاں مانگ رہی تھی۔ کہ جدھر رشتہ کیا تھا نہ ہی وہ اچھے اور نہ ہی پردےدار تھے۔ انہوں نے رشتے کروانے والی سے ہماری ڈیمانڈ سنی تو اسے لالچ دے کر ساتھ ملا لیا۔ اور ا چھا ہونے کا ڈرامہ کیا۔ وہ تو اچانک ہم نے مارکیٹ میں دیکھ لیا تو وہ ماں بیٹی انگریز بنی بے ہودہ لباس میں بغیر دوپٹے کھڑی تھیں۔ ہم نے جا لیا وہ گنگ رہ گئیں۔ ادھر ہی ان سے ناطہ توڑ دیا وہ تو صفائی میں بھی کچھ نہ بول سکیں۔ اب وہ اسی ڈیٹ پر شادی کرنا چاہتے ہیں کہ حال کی بکنگ ہو چکی تھی۔ اب صرف تمھاری ہاں کا انتظار ہے۔ ان کے بہت بار فون آ چکے ہیں۔ ہم سب راضی ہیں بیٹی کی خوشی کے لئے تم بھی ہاں کر دو تاکہ حال کی بکنگ ہو سکے۔
دعا نے بیٹی کو دیکھا تو وہ خیالوں میں کھوی مسکرا رہی تھی۔ دعا نے علی کی ماں کو فون کیا تو اس نے بہت معذرت کی۔ اس کو بیٹی کی طرح رکھنے کے وعدے کئے۔ پھر ہاں کرنے پر اس کا بہت شکریہ ادا کیا۔ دعا کی دعائیں رنگ لے آئیں۔ اس نے روتے ہوئے اپنے رب کا بہت شکر ادا کیا۔ پھر بھابھی کو کھلے دل سے معاف کرتے ہوئے زارا کا رشتہ مانگا جو اس نے شکر کرتے ہوئے پچھلی باتوں پر معذرت کرتے ہوئے قبول کر لیا۔ کیونکہ اسے ابھی تک زار کے لیے سمراب سے بڑھ کر رشتہ نہ آیا تھا زارا سے رشتہ ہونے پر سمراب نے خوشی اور جوش میں ماں کو اٹھا کر گھمانا شروع کر دیا۔ پھر ماں کا شکریہ ادا کیا۔ بولا اگر آپ میرا کسی اور جگہ بھی کرتیں میں انکار نہ کرتا۔ نہ اس کے حقوق پورے کرنے میں کوئی کمی چھوڑتا مگر ادھر میرے دل کا معاملہ تھا ماں نے فخر سے اس کے سر کو چوم لیا سب خوش ہو رہے تھے شانی خوشی سے لبریز دل سے ماں بیٹے کو دیکھ رہا تھا۔ ختم شد
ناول اختتام پذیر ہوا
You've reached the end of this journey. We hope you enjoyed it!

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.