Logo
Insaniyat Kay Naatay
21 Episodes
Insaniyat Kay Naatay EP 11
Episode 11

انسانیت کے ناطے11

Insaniyat Kay Naatay


گیارھواں - 11th Part

 

شاہ زیب دبے قدموں چلتا ہوا سمراب کے کمرے کے دروازے میں کھڑا ہو کر دعا کو غصے اور سنجیدگی سے دیکھتے ہوئے بولا

"دعا میرے کمرے میں آ کر بات سنو۔"

دعا خاموشی سے اس کے کمرے میں آ گئی۔ شانی اس کو ڈانٹتے ہوئے بولا 

"تم یہ کیا میرے پیرنٹس کے ساتھ بدتمیزی کر کے آئی ہو۔" 

وہ خاموش رہی۔ وہ پھر بولا

"میرے پیرنٹس نے کتنی تمھارے ساتھ نیکیاں کی ہیں۔ میں ان کا اکلوتا کنوارہ بیٹا تم بیوہ اور ایک بچے کی ماں" 

ابھی وہ اتنا ہی بولا تھا کہ دعا چیختے ہوئے بولنے لگی۔ ان دونوں کی تیز آوازوں سے سب کمرے کے باہر جمع ہو گئے تھے۔ ان کی آوازیں سب کو صاف سنائی دے رہی تھیں۔ 

دعا چیخ کر غصے سے اونچی آواز میں بولی

"سنو مسٹر شاہ ریب کنوارے تم نہیں کنواری میں تھی۔ تم تو شادی شدہ اور ایک بچے کے باپ تھے۔" 

وہ چونکا پھر غصے سے دھاڑا 

"کیا بکواس کر ریی ہو۔" 

وہ جواب میں غصے سے بولی 

"تو پھر میری پوری بکواس سنو۔" 

شانی کا رنگ فق ہو رہا تھا سب ان کے کمرے میں آ چکے تھے۔ سمراب نے پکڑ کر سہارا دیا اور اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور کاندھے سے پکڑ کر کھڑا ہو گیا۔ دعا نے سب کو دیکھا اور خاموش ہو گئی۔ ساس بولی

"یہ کیا تم میرے بیٹے پر الزام لگا رہی ہو۔

وہ بولی، 

"میں نے ساری زندگی ان کے راز کا پردہ رکھا ہے اب میں اور کچھ نہیں بتا سکتی۔"

ابھی وہ اتنی بات کر ہی رہے تھے کہ ملازم نے مہمانوں کے آنے کی اطلاع دی۔ رمنا ابھی تک رات والے لباس میں تھی۔ وہ لوگ سیدھے گھر کے لان میں آگئے۔

انہوں نے ایک ینگ لڑکے کو ڈانٹ کر پوچھا

"کدھر ہے وہ لڑکی جس سے دونوں نے کورٹ میرج کی ہے۔" 

یہ سن کر سب کے منہ کھلے رہ گئے۔ اس نے ڈرتے ہوئے رمنا کی طرف اشارہ کیا۔ رمنا جو حیرت میں ڈوبی پریشان حال ڈری ہوئی کھڑی تھی۔ اس لڑکے کی ماں نے اس کے قریب جا کر کہا

"یہ بے شرم لڑکی اس کا حلیہ تو دیکھو۔ گھٹنوں سے تھوڑا نیچے ٹراوزر سلیو لیس چھوٹی سی شرٹ۔" 

وہ اسے دیکھ کر بولی، 

"توبہ توبہ یہ انگریزوں والا بے ہودہ فیشن دیکھ کر ہی لڑکے پھنستے ہیں ناں۔ اوپر سے یہ بتاتا ہے کہ یہ پریگنینٹ بھی ہے۔" 

دادی غصے سے بولی 

"کیا ثبوت ہے؟" 

رمنا شرم سے سر جھکائے کھڑی تھی۔ اسے آج اپنے حلیے پر شرمندگی محسوس ہو رہی تھی۔ اس عورت نے دادی اور دعا کی طرف دیکھ کر کہا۔ 

"تم لوگ تو مشرقی لباس میں ملبوس بڑی چادریں سر پر اوڑھے کھڑی ہو کیا اس کو ایسی تلقین نہیں کر سکتی تھیں۔"

دعا نے وقت کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے نرمی سے انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا 

"پلیز آپ لوگ تشریف رکھیں اور آرام سے بات کریں" 

اور ملازم کو پانی لانے کے لیے آواز دینے لگی۔ ساتھ ساتھ دعا کے ہاتھ بھی کانپ رہے تھے، لگتا تھا کہ ابھی بے ہوش ہو جائے گی، وہ لوگ بیٹھ گئے۔ دعا کرسی پر گر سی گئی۔ سمراب تیزی سے اس کے قریب آیا اور اس کا ہاتھ سہلانے لگا۔ اس نے آنکھیں موند کر کرسی سے ٹیک لگا کر سر ٹکا دیا۔ اس عورت کو دعا پر ترس آیا اور بولی

"آپ مجھے کافی معقول عورت لگتی ہو۔ پر لگتا ہے کہ تمھاری اس گھر میں کوئی اہمیت نہیں ہے۔ ورنہ تم اپنی بیٹی کو اپنے جیسا ضرور بناتی۔ میں ٹھیک سمجھ رہی ہوں ناں تم ماں ہی ہو ناں اس کی؟" 

اتنے میں دعا نے بمشکل آنکھ کھولی تو دیکھا شانی دل پر ہاتھ رکھے گرنے ہی والا تھا کہ سمراب نے پھرتی سے پکڑ لیا۔ 

رمنا نے روتے ہوئے چیخ ماری۔ سب پریشان ہو گئے۔ اسے سمراب نے جلدی سے گاڑی میں ڈالا۔ دعا بھی جلدی سے گاڑی میں بیٹھ گئی۔ رمنا نے روتے ہوئے کہا 

"اس نے بھی جانا ہے"

اس عورت نے کہا 

"ہم بھی ہاسپٹل چلتے ہیں۔" 

رمنا کے دادا، دادی اور رمنا بھی جانے لگی۔

"اس حلیے میں جاؤ گی۔" اس عورت نے کہا 

"ماں کے کپڑے پہن لو۔" 

دادی نے اس عورت کو غصے سے گھورا۔ مگر دادا نے اشارے سے منع کر دیا۔ دعا جلدی سے ماں کے کھلے سے کپڑے پہن کر باہر آنی۔ اور جلدی سے دادی کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گئی۔


بارھواں حصہ - 12th Part


Continue Reading
Episode 12
انسانیت کے ناطے12

Reader Comments

No comments yet. Be the first to share your thoughts!

Log in to leave a comment.

Related Novels

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Premium Membership

Unlock the Full Library

One subscription. Every story. Unlimited reading.

PKR 300
30 Days of Unlimited Access
Go Premium Now

Secure payment  ·  Instant access

Full Novel Library
Access every premium & exclusive novel — no episode locked
Unlimited Reading
Read as much as you want, whenever you want, at your pace
Support the Author
Your subscription directly supports Abida Z Shireen's work
New Episodes First
Be the first to read every new episode as soon as it drops
A F S R N
Join thousands of readers already enjoying premium access
Loved by readers
Our Literary World

Experience the Best Urdu Novels Online

Dive into decades of storytelling by Pakistan's most beloved author, now at your fingertips.

50+
Published Novels
30+
Years of Writing
1M+
Readers Worldwide
100%
Authentic Stories
01

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Read Her Story
Abida Z Shireen
Author
02

Captivating Novels & Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Browse All Novels
Reading Urdu Novels on Tablet and Phone
Novels
03

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen's verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Explore Poetry
Elegant Desk with Pens and Books
Poetry