Insaniyat Kay Naatay
Episodes
شاہ زیب دبے قدموں چلتا ہوا سمراب کے کمرے کے دروازے میں کھڑا ہو کر دعا کو غصے اور سنجیدگی سے دیکھتے ہوئے بولا دعا میرے کمرے میں آ کر بات سنو۔ دعا خاموشی سے اس کے کمرے میں آ گیء۔ شانی اس کو ڈانٹتے ہوئے بولا کہ تم یہ کیا میرے پیرنٹس کے ساتھ بدتمیزی کر کے آئی ہو۔ وہ خاموش رہی۔ وہ پھر بولا۔ میرے پیرنٹس نے کتنی تمھارے ساتھ نیکیاں کی ہیں۔ میں ان کا اکلوتا کنوارہ بیٹا تم بیوہ اور ایک بچے کی ماں، ابھی وہ اتنا ہی بولا تھا کہ دعا چیختے ہوئے بولی۔ ان دونوں کی تیز آوازوں سے سب کمرے کے باہر کھڑے تھے۔ ان کی آوازیں سب کو صاف سنائی دے رہی تھیں۔ دعا چیخ کر غصے سے اونچی آواز میں بولی۔ سنو مسٹر شاہ ریب کنوارے تم نہیں کنواری میں تھی۔ تم تو شادی شدہ اور ایک بچے کے باپ تھے۔ وہ چونکا پھر غصے سے دھاڈا کیا بکواس کر ریی ہو۔ وہ جواب میں غصے سے بولی تو پھر میری پوری بکواس سنو۔ شانی کا رنگ فق ہو رہا تھا سب ان کے کمرے میں آ چکے تھے۔ سمراب نے پکڑ کر سہارا دیا اور اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور کاندھے سے پکڑ کر کھڑا ہو گیا۔ دعا نے سب کو دیکھا اور خاموش ہو گئی۔ ساس بولی یہ کیا تم میرے بیٹے پر الزام لگا رہی ہو۔ وہ بولی، میں نے ساری زندگی ان کے راز کا پردہ رکھا ہے اب میں اور کچھ نہیں بتا سکتی۔ ابھی وہ اتنی بات کر ہی رہے تھے کہ ملازم نے مہمانوں کے آنے کی اطلاع دی۔
رمنا ابھی تک رات والے لباس میں تھی۔ وہ لوگ سیدھے گھر کے لان میں آگےء۔
انہوں نے ایک ینگ لڑکے کو ڈانٹ کر پوچھا کدھر ہے وہ لڑکی جس سے دونوں نے کورٹ میرج کی ہے۔ یہ سن کر سب کے منہ کھلے رہ گئے۔ اس نے ڈرتے ہوئے رمنا کی طرف اشارہ کیا۔ رمنا جو حیرت میں ڈوبی پریشان حال ڈری ہوئی کھڑی تھی۔ اس لڑکے کی ماں نے اس کے قریب جا کر کہا یہ بے شرم لڑکی اس کا حلیہ تو دیکھو۔ گھٹنوں سے تھوڑا نیچے ٹراوزر سلیو لیس چھوٹی سی شرٹ۔ وہ اسے دیکھ کر بولی، توبہ توبہ یہ انگریزوں والا بے ہودہ فیشن دیکھ کر ہی لڑکے پھنستے ہیں ناں۔ اوپر سے یہ بتاتا ہے کہ یہ پریگنینٹ بھی ہے۔ دادی غصے سے بولی کیا ثبوت ہے؟ رمنا شرم سے سر جھکائے کھڑی تھی۔ اسے آج اپنے حلیے پر شرمندگی محسوس ہو رہی تھی۔ اس عورت نے دادی اور دعا کی طرف دیکھ کر کہا۔ تم لوگ تو مشرقی لباس میں ملبوس بڑی چادریں سر پر اوڑھے کھڑی ہو کیا اس کو ایسی تلقین نہیں کر سکتی تھیں۔
دعا نے وقت کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے نرمی سے انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پلیز آپ لوگ تشریف رکھیں اور آرام سے بات کریں۔ اور ملازم کو پانی لانے کے لیے آواز دینے لگی۔ ساتھ ساتھ دعا کے ہاتھ بھی کا نپ رہے تھے۔ لگتا تھا کہ ابھی بے ہوش ہو جائے گی وہ لوگ بیٹھ گئے۔ دعا کرسی پر گر سی گئی۔ سمراب تیزی سے اس کے قریب آیا اور اس کا ہاتھ سہلانے لگا۔ اس نے آنکھیں موند کر کرسی سے ٹیک لگا کر سر ٹکا دیا۔ اس عورت کو دعا پر ترس آیا۔ اور بولی آپ مجھے کافی معقول عورت لگتی ہو۔ پر لگتا ہے کہ تمھاری اس گھر میں کوئی اہمیت نہیں ہے۔ ورنہ تم اپنی بیٹی کو اپنے جیسا ضرور بناتی۔ میں ٹھیک سمجھ رہی ہوں ناں تم ماں ہی ہو ناں اس کی۔؟ اتنے میں دعا نے بمشکل آنکھ کھولی تو دیکھا شانی دل پر ہاتھ رکھے گرنے ہی والا تھا کہ سمراب نے پھرتی سے پکڑ لیا۔ رمنا نے روتے ہوئے چیخ ماری۔
سب پریشان ہو گئے۔ اسے سمراب نے جلدی سے گاڑی میں ڈالا۔ دعا بھی جلدی سے گاڑی میں بیٹھ گئی۔ رمنا نے روتے ہوئے کہا کہ اس نے بھی جانا ہے اس عورت نے کہا کہ ہم بھی ہاسپٹل چلتے ہیں۔ رمنا کے دادا، دادی اور رمنا بھی جانے لگی کہ اس حلیے میں جاو گی۔ اس عورت نے کہا ماں کے کپڑے پہن لو۔ دادی نے اس عورت کو غصے سے گھورا۔ مگر دادا نے اشارے سے منع کر دیا۔ دعا جلدی سے ماں کے کھلے سے کپڑے پہن کر باہر آنی۔ اور جلدی سے دادی کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گئی۔

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.