Insaniyat Kay Naatay
21 Episodesپانچواں حصہ - 5th Part
شانی اکتا کر اپنے والدین سے پوچھتا
اس کا بچہ کیوں نہیں ہو رہا۔ باپ نے طنزیہ کہا
"وہ تو پہلے ہی ماں ہے تم اپنا چیک اپ کراؤ۔"
یہ سن کر وہ غصے سے چلا گیا۔ اب وہ دعا کو طعنے دیتا
"میں کنوارہ تھا اور تم شادی شدہ۔ میرے باپ نے دوستی نبھانی تھی"
وہ جواب میں خاموش رہتی گھر کا ماحول خراب نہیں کرنا چاہتی تھی۔ پانچ سال گزر گئے۔ آخر اسے خدا نے ایک بیٹی سے نوازا۔ پہلے تو شانی نے بیٹا نہ ہونے پر واویلا مچایا پھر باپ نے سرزش کی کہ شکر کرو کہ اللہ تعالیٰ نے صاحب اولاد کیا ہے ویسے بھی ان میں فرق کرنا گناہ ہے تو وہ خاموشی سے بیٹی کو دیکھنے چلا گیا۔ بیٹی پر نظر پڑتے ہی بےاختیار اسے اٹھا کر چومنے لگا۔ بہت پیاری گڑیا سی، بلکل دعا کی کاپی۔ سب بہت خوش تھے۔ باپ نے کہا کہ ہماری فیملی مکمل ہو گئی۔
دعا کی بیٹی رمنا اب باپ کی آنکھ کا تارا تھی۔ وہ اسے اپنے پاس سلاتا تو اسے سکون ملتا۔ اپنے ہاتھ سے کھانا کھاتا۔ اب اس نے سمراب کو گھورنا چھوڑ دیا تھا۔ کھبی اسے سمراب پر ترس بھی آتا تو اپنی اناء میں اسے لفٹ نہ کراتا۔ دعا نے شکر کیا کہ اب اس کے طعنے کم ہو گئے تھے پر ختم نہیں ہوئے تھے۔
شانی اپنے کنوارے ہونے کا طعنہ دیتا رہتا۔ حالانکہ وہ جانتا تھا اس کے بیوہ ہونے میں اس کا کوئی قصور نہیں۔ پھر بیٹا نہ ہونے میں بھی وہ بےقصور تھی۔
سمراب بڑا ہو رہا تھا اور کافی سمجھدار بچہ تھا۔ پہلے وہ سب سے اکثر سوال کرتا رہتا کہ پاپا اس سے بات کیوں نہیں کرتے۔ اب کچھ عرصے سے اس نے پوچھنا چھوڑ دیا تھا۔ اب وہ سنجیدہ رہنے لگا تھا پڑھائی میں بہت اچھا تھا۔ دعا خود اسے پڑھاتی تھی۔
دعا نے آخر ایک دن اعتماد دلا کر اس نے سمجھایا
"اپنی ماں سے کھبی کچھ نہ چھپانا ڈرو نہیں سچ بتاؤ تمہیں کیا پریشانی ہے"
بارہ سال کا بچہ ماں سے سوال کرنے لگا
"میرا باپ کون ہے؟"
دعا کا رنگ فق ہو گیا اس نے حیرت سے اس سے پوچھا تو اس نے بتایا
"نانو کے گھر گیا تھا مامی نے بتایا تھا اور کسی کو بتانے سے منع کیا تھا۔"
دعا کو اپنی بھابھی پر بہت غصہ آیا وہ اس کی نیچر بھی جانتی تھی کہ وہ فتنہ پرور ہے۔ دعا نے گلے لگاتے ہوئے روتے ہوئے کہا کہ بیٹا
"یہ سچ ہے کہ شانی تمھارے پاپا نہیں ہیں۔"
"تو پھر کون ہیں" وہ آنکھوں میں آنسو بھر کر سوالیہ انداز میں بےبسی سے دیکھتے ہوئے بولا
دعا نے ایک لمبی سانس بھری اور کہا
"میں بیوہ ہوں۔ وہ اب اس دنیا میں نہیں ہیں"
"وہ کون تھے مجھے ان کی فوٹو دیکھائیں۔"
دعا نے بتایا کہ ہیٹر کے پاس وہ سب کچھ رکھے دیکھ رہی تھی پاس کپڑے سوکھنے رکھے ہوئے تھے وہ کسی کام سےگئی توملازمہ نے شور مچایا کہ آپ کے کمرے میں آگ لگ گئی ہے۔ بس سب کچھ ختم ہو گیا موبائل بھی جل گیا۔
"ان کا نام کیا تھا"
وہ بولی
"اتفاق سے ان کا بھی شاہ زیب نام تھا۔"
اتنے میں رمنا کی زور زور سے چیخنے کی آواز آئی تو دونوں تیزی سے باہر بھاگے۔
چھٹا حصہ - 6th Part

Reader Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts!
Log in to leave a comment.