Loading...
Logo
Back to Novel
Insaniyat Kay Naatay
Episodes
Insaniyat Kay Naatay

انسانیت کے ناطے5

From Insaniyat Kay Naatay - Episode 5

شانی اکتا کر اپنے والدین سے پوچھتا کہ اس کا بچہ کیوں نہیں ہو رہا۔ باپ نے طنزیہ کہا وہ تو پہلے ہی ماں ہے تم اپنا چیک اپ کراو۔ یہ سن کر وہ غصے سے چلا گیا۔ اب وہ دعا کو طعنے دیتا کہ میں کنوارہ تھا اور تم شادی شدہ۔ میرے باپ نے دوستی نبھانی تھی وہ جواب میں خاموش رہتی گھر کا ماحول خراب نہیں کرنا چاہتی تھی۔ پانچ سال گزر گئے۔ آخر اسے خدا نے ایک بیٹی سے نوازا۔ پہلے تو شانی نے بیٹا نہ ہونے پر واویلا مچایا پھر باپ نے سرزش کی کہ شکر کرو کہ اللہ تعالیٰ نے صاحب اولاد کیا ہے ویسے بھی ان میں فرق کرنا گناہ ہے۔ تو وہ خاموشی سے بیٹی کو دیکھنے چلا گیا۔ بیٹی پر نظر پڑتے ہی بےاختیار اسے اٹھا کر چومنے لگا۔ بہت پیاری گڑیا سی۔ بلکل دعا کی کاپی۔ سب بہت خوش تھے۔ باپ نے کہا کہ ہماری فیملی مکمل ہو گئی۔

دعا کی یٹی رمنا اب باپ کی آنکھ کا تارا تھی۔ وہ اسے اپنے پاس سلاتا تو اسے سکون ملتا۔ اپنے ہاتھ سے کھانا کھاتا۔ اب اس نے سمراب کو گھورنا چھوڑ دیا تھا۔ کھبی اسے سمراب پر ترس بھی آتا تو اپنی اناء میں اسے لفٹ نہ کراتا۔ دعا نے شکر کیا کہ اب اس کے طعنے کم ہو گئے تھے پر ختم نہیں ہوئے تھے۔

شانی اپنے کنوارے ہونے کا طعنہ دیتا رہتا۔ حالانکہ وہ جانتا تھا اس کے بیوہ ہو نے میں اس کا کوئی قصور نہیں۔ پھر بیٹا نہ ہونے میں بھی وہ بےقصور تھی۔

سمراب بڑا ہو رہا تھا اور کافی سمجھدار بچہ تھا۔ پہلے وہ سب سے اکثر سوال کرتا رہتا کہ پاپا اس سے بات کیوں نہیں کرتے، اب کچھ عرصے سے اس نے پوچھنا چھوڑ دیا تھا۔ اب وہ سنجیدہ رہنے لگا تھا پڑھائی میں بہت اچھا تھا۔ دعا خود اسے پڑھاتی تھی۔

دعا نے آخر ایک دن اعتماد دلا کر اس نے سمجھایا کہ اپنی ماں سے کھبی کچھ نہ چھپانا ڈرو نہیں سچ بتاو تمہیں کیا پریشانی ہے بارہ سال کا بچہ ماں سے سوال کرنے لگا کہ میرا باپ کون ہے؟ ۔ دعا کا رنگ فق ہو گیا اس نے حیرت سے اس سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ نانو کے گھر گیا تھا مامی نے بتایا تھا اور کسی کو بتانے سے منع کیا تھا۔ دعا کو اپنی بھابھی پر بہت غصہ آیا وہ اس کی نیچر بھی جانتی تھی ک وہ فتنہ پرور ہے۔ دعا نے گلے لگاتے ہوئے روتے ہوئے کہا کہ بیٹا۔ یہ سچ ہے کہ شانی تمھارے پاپا نہیں ہیں۔ تو پھر کون ہیں وہ آنکھوں میں آنسو بھر کر سوالیہ انداز میں بےبسی سے دیکھتے ہوئے بولا؟ دعا نے ایک لمبی سانس بھری اور کہا میں بیوہ ہو ں۔ وہ اب اس دنیا میں نہیں ہیں وہ کون تھے مجھے ان کی فوٹو دیکھاہیں۔ دعا نے بتایا کہ ہیٹر کے پاس وہ سب کچھ رکھے دیکھ رہی تھی پاس کپڑے سوکھنے رکھے ہوئے تھے وہ کسی کام سےگیءتوملازمہ نے شور مچایا کہ آپ کے کمرے میں آگ لگ گئی ہے بس سب کچھ ختم ہو گیا موبائل بھی جل گیا اور ان کا نام کیا تھا وہ بولی اتفاق سے ان کا بھی شاہ زیب نام تھا۔ اتنے میں رمنا کی زور زور سے چیخنے کی آواز آئی تو دونوں تیزی سے باہر بھاگے۔



Reader Comments

Be the first to leave a comment on this episode!


Log in to leave a comment.

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Unlock the Full Library

PKR 300

For 30 Days of Unlimited Access

  • Read all premium and exclusive content
  • Enjoy a seamless, uninterrupted reading experience
  • Directly support the author and her work
Go Premium Now

Experience the Best Urdu Novels Online

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Captivating Novels and Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Reading Urdu Novels on Tablet and Phone

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen’s verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Elegant Desk with Pens and Books