Insaniyat Kay Naatay
Episodes
ماں کو سٹوری سناتے ہوئے رمنا رو رہی تھی دعا نے بھی روتے ہوئے کہا کہ میری بیٹی کوئی کسی کے لیے نہیں مرتا، نادان لڑکیاں یہ بات نہیں سمجھ پاتی ہیں ناں۔ میرے خیال میں تم اسے لفٹ نہیں کراتی تھی اس نے جھوٹا نکاح کا ڈرامہ کر کے تمہاری عزت برباد کرنی تھی جب تم باہر نکل آئی تو اس نے سوچا اب کورٹ میرج کرنی ہی پڑے گی۔
رمنا روتے ہوئے بتانے لگی آپ نے بالکل ٹھیک اندازہ لگایا۔ میں جب باہر تھی پھر اس نے مرنے کی دھمکی دی۔ اس کے دوست بھی سمجھانے لگے مان جاو ورنہ یہ ایسا کر گزرے گا۔ پھر اس کے دوست نے اس کے کان میں کچھ کہا تو وہ مسکرا کر مان گیا۔ دعا نے کہا تم بھاگ بھی سکتی تھی ناں۔
رمنا نے جواب دیا کہ ماما میری ایک فرینڈ کے بوائے فرینڈ نے اس کو دھمکی دے کر سچ مچ کی خودکشی کر لی تھی مشکل سے بچا تھا۔ دعا نے کہا کہ کوئی لاکھوں میں ایک ہوتا ہے۔ ورنہ زیادہ تر لڑکیاں اپنی عزت گنوا دیتی ہیں۔ تم نے شکر ہے نکاح کر لیا تھا میں ہر وقت تمھارے لیےدعائیں کرتی رہتی تھی۔ پھر کیا ہوا دعا نے پوچھا!
پھر وہ اس کے دوستوں کی گواہی سے کورٹ میرج ہو گئ۔ میں نے گھر واپس آنے کی بہت کوشش کی مگر اس نے انے نہ دیا۔ بہت سے فوٹوز کھینچے۔ پھر اکثر وہ مجھے فلیٹ پر بلانے لگا کہ اب تم میری بیوی ہو۔ میں گھر والوں سے بات کرنے کا کہتی تو وہ کہتا کہ وہ ابھی اس ملک میں نہیں ہیں جب وہ آہیں گے میں اسی دن بات کروں گا۔ میں گھر میں سب سے چھوٹا اور لاڈلا ہوں۔ وہ میری بات ضرور مانیں گے۔۔
دعا نے جھجکتے ہوئے پوچھا جب وہ فلیٹ لے کر جاتا تو اس کے دوست بھی موجود ہوتے تھے کیا انہوں نے تو کبھی خدانخواستہ تمھارے ساتھ؛ اس نے بات ادھوری چھوڑ دی۔ رمنا نے تڑپ کر کہا نہیں ماما ان کی اپنی گرل فرینڈز تھیں کیا ان کے بھی نکاح ہو چکے تھے ماما اس بات کا مجھے علم نہیں۔ اس کے دوست ٹھیک نہیں تھے۔ فلیٹ بھی اسی کا تھا وہ صرف کھانے والے تھے۔ میں ان سے ڈرتی تھی۔ مگر شکر ہے وہ مجھے کچھ نہ کہتے تھے۔ خوب ہلہ گلہ کرتے تھے۔ میں نے ان لڑکیوں سے پوچھا کیا تم لوگوں کے نکاح ہو چکے ہیں تو انہوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور کچھ اشارہ کیا اور کہنے لگیں ہاں ہو چکے ہیں۔ پھر سب کا قہقہہ بلند ہوا۔ مجھے ان پر شک گزرا۔ میں نے ڈر کر وہاں جانا ہی چھوڑ دیا۔ وہ بہت ناراض ہوتا تو میں نے کہا اب جب تم بارات لے کر آو گے تب ہی آوں گی۔ اب مجھے لگتا ہے کہ میں پریگننٹ ہوں۔ میں نے نیٹ پر علامات پڑھی تھیں۔ رمنا ماں سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگنے لگی اور بڑبڑاتے ہوئے بولی، میں بہت بری ہوں۔ میں نے پاپا کو ہرٹ کیا ان کا مان توڑا، سب گھر والوں کو دنیا کی نظروں میں زلیل کروا دیا۔ حالانکہ میں اس ماں کی بیٹی تھی جو اسلام کے اصولوں کے مطابق چلتی تھی۔ کاش میں آپ جیسی بن سکتی۔ میرے پاپا کیا کھبی مجھ سے راضی ہوں گے۔! دعا نے کہا کہ وہ بہت ضدی ہیں جلدی تو مشکل ہے ہاں وقت گزرنے کے ساتھ تم نے پرانی روش نہ اپناہی تو امید ہے جلد راضی ہو جائیں گے۔ ناامیدی گناہ ہے اللہ تعالیٰ بہت غفور رحیم ہے اگر سچے دل سے توبہ کرو تو وہ ضرور معاف کر دے گا۔ اتنے میں ملازمہ نے مہمانوں کے آنے کی اطلاع دی۔

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.