Logo
Insaniyat Kay Naatay
21 Episodes
Insaniyat Kay Naatay EP 13
Episode 13

انسانیت کے ناطے13

Insaniyat Kay Naatay


تیرھواں حصہ - 13th Part


ماں کو سٹوری سناتے ہوئے رمنا رو رہی تھی دعا نے بھی روتے ہوئے کہا 

"میری بیٹی کوئی کسی کے لیے نہیں مرتا، نادان لڑکیاں یہ بات نہیں سمجھ پاتی ہیں ناں۔ میرے خیال میں تم اسے لفٹ نہیں کراتی تھی اس نے جھوٹا نکاح کا ڈرامہ کر کے تمہاری عزت برباد کرنی تھی جب تم باہر نکل آئی تو اس نے سوچا اب کورٹ میرج کرنی ہی پڑے گی۔"

رمنا روتے ہوئے بتانے لگی

"آپ نے بالکل ٹھیک اندازہ لگایا۔ میں جب باہر تھی پھر اس نے مرنے کی دھمکی دی۔ اس کے دوست بھی سمجھانے لگے مان جاؤ ورنہ یہ ایسا کر گزرے گا۔ پھر اس کے دوست نے اس کے کان میں کچھ کہا تو وہ مسکرا کر مان گیا۔" 

دعا نے کہا 

"تم بھاگ بھی سکتی تھی ناں۔"

رمنا نے جواب دیا 

"ماما میری ایک فرینڈ کے بوائے فرینڈ نے اس کو دھمکی دے کر سچ مچ کی خودکشی کر لی تھی۔ مشکل سے بچا تھا۔"

دعا نے کہا 

"کوئی لاکھوں میں ایک ہوتا ہے۔ ورنہ زیادہ تر لڑکیاں اپنی عزت گنوا دیتی ہیں۔ تم نے شکر ہے نکاح کر لیا تھا میں ہر وقت تمھارے لیےدعائیں کرتی رہتی تھی۔ پھر کیا ہوا" 

دعا نے پوچھا

"پھر وہ اس کے دوستوں کی گواہی سے کورٹ میرج ہو گئی۔ میں نے گھر واپس آنے کی بہت کوشش کی مگر اس نے آنے نہ دیا۔ بہت سے فوٹوز کھینچے۔ پھر اکثر وہ مجھے فلیٹ پر بلانے لگا کہ اب تم میری بیوی ہو۔ میں گھر والوں سے بات کرنے کا کہتی تو وہ کہتا کہ وہ ابھی اس ملک میں نہیں ہیں جب وہ آئیں گے میں اسی دن بات کروں گا۔ میں گھر میں سب سے چھوٹا اور لاڈلا ہوں۔ وہ میری بات ضرور مانیں گے۔"

دعا نے جھجکتے ہوئے پوچھا 

"جب وہ فلیٹ لے کر جاتا تو اس کے دوست بھی موجود ہوتے تھے کیا انہوں نے تو کبھی خدانخواستہ تمھارے ساتھ" 

اس نے بات ادھوری چھوڑ دی۔ رمنا نے تڑپ کر کہا 

"نہیں ماما ان کی اپنی گرل فرینڈز تھیں" 

"کیا ان کے بھی نکاح ہو چکے تھے" 

"ماما اس بات کا مجھے علم نہیں۔ اس کے دوست ٹھیک نہیں تھے۔ فلیٹ بھی اسی کا تھا وہ صرف کھانے والے تھے۔ میں ان سے ڈرتی تھی۔ مگر شکر ہے وہ مجھے کچھ نہ کہتے تھے۔ خوب ہلہ گلہ کرتے تھے۔ میں نے ان لڑکیوں سے پوچھا کیا تم لوگوں کے نکاح ہو چکے ہیں تو انہوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور کچھ اشارہ کیا اور کہنے لگیں ہاں ہو چکے ہیں۔ پھر سب کا قہقہہ بلند ہوا۔ مجھے ان پر شک گزرا۔ میں نے ڈر کر وہاں جانا ہی چھوڑ دیا۔ وہ بہت ناراض ہوتا تو میں نے کہا اب جب تم بارات لے کر آؤ گے تب ہی آؤں گی۔ اب مجھے لگتا ہے کہ میں پریگننٹ ہوں۔ میں نے نیٹ پر علامات پڑھی تھیں۔" 

رمنا ماں سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگنے لگی اور بڑبڑاتے ہوئے بولی، 

"میں بہت بری ہوں۔ میں نے پاپا کو ہرٹ کیا ان کا مان توڑا، سب گھر والوں کو دنیا کی نظروں میں ذلیل کروا دیا۔ حالانکہ میں اس ماں کی بیٹی تھی جو اسلام کے اصولوں کے مطابق چلتی تھی۔ کاش میں آپ جیسی بن سکتی۔ میرے پاپا کیا کھبی مجھ سے راضی ہوں گے۔" 

دعا نے کہا 

"وہ بہت ضدی ہیں جلدی تو مشکل ہے ہاں وقت گزرنے کے ساتھ تم نے پرانی روش نہ اپنائی تو امید ہے جلد راضی ہو جائیں گے۔ ناامیدی گناہ ہے اللہ تعالیٰ بہت غفورو رحیم ہے اگر سچے دل سے توبہ کرو تو وہ ضرور معاف کر دے گا۔" 

اتنے میں ملازمہ نے مہمانوں کے آنے کی اطلاع دی۔


چوھدواں حصہ - 14th Part


Continue Reading
Episode 14
انسانیت کے ناطے14

Reader Comments

No comments yet. Be the first to share your thoughts!

Log in to leave a comment.

Related Novels

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Premium Membership

Unlock the Full Library

One subscription. Every story. Unlimited reading.

PKR 300
30 Days of Unlimited Access
Go Premium Now

Secure payment  ·  Instant access

Full Novel Library
Access every premium & exclusive novel — no episode locked
Unlimited Reading
Read as much as you want, whenever you want, at your pace
Support the Author
Your subscription directly supports Abida Z Shireen's work
New Episodes First
Be the first to read every new episode as soon as it drops
A F S R N
Join thousands of readers already enjoying premium access
Loved by readers
Our Literary World

Experience the Best Urdu Novels Online

Dive into decades of storytelling by Pakistan's most beloved author, now at your fingertips.

50+
Published Novels
30+
Years of Writing
1M+
Readers Worldwide
100%
Authentic Stories
01

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Read Her Story
Abida Z Shireen
Author
02

Captivating Novels & Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Browse All Novels
Reading Urdu Novels on Tablet and Phone
Novels
03

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen's verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Explore Poetry
Elegant Desk with Pens and Books
Poetry