Loading...
Logo
Back to Novel
Insaniyat Kay Naatay
Episodes
Insaniyat Kay Naatay

انسانیت کے ناطے13

From Insaniyat Kay Naatay - Episode 13

ماں کو سٹوری سناتے ہوئے رمنا رو رہی تھی دعا نے بھی روتے ہوئے کہا کہ میری بیٹی کوئی کسی کے لیے نہیں مرتا، نادان لڑکیاں یہ بات نہیں سمجھ پاتی ہیں ناں۔ میرے خیال میں تم اسے لفٹ نہیں کراتی تھی اس نے جھوٹا نکاح کا ڈرامہ کر کے تمہاری عزت برباد کرنی تھی جب تم باہر نکل آئی تو اس نے سوچا اب کورٹ میرج کرنی ہی پڑے گی۔

رمنا روتے ہوئے بتانے لگی آپ نے بالکل ٹھیک اندازہ لگایا۔ میں جب باہر تھی پھر اس نے مرنے کی دھمکی دی۔ اس کے دوست بھی سمجھانے لگے مان جاو ورنہ یہ ایسا کر گزرے گا۔ پھر اس کے دوست نے اس کے کان میں کچھ کہا تو وہ مسکرا کر مان گیا۔ دعا نے کہا تم بھاگ بھی سکتی تھی ناں۔

رمنا نے جواب دیا کہ ماما میری ایک فرینڈ کے بوائے فرینڈ نے اس کو دھمکی دے کر سچ مچ کی خودکشی کر لی تھی مشکل سے بچا تھا۔ دعا نے کہا کہ کوئی لاکھوں میں ایک ہوتا ہے۔ ورنہ زیادہ تر لڑکیاں اپنی عزت گنوا دیتی ہیں۔ تم نے شکر ہے نکاح کر لیا تھا میں ہر وقت تمھارے لیےدعائیں کرتی رہتی تھی۔ پھر کیا ہوا دعا نے پوچھا!

پھر وہ اس کے دوستوں کی گواہی سے کورٹ میرج ہو گئ۔ میں نے گھر واپس آنے کی بہت کوشش کی مگر اس نے انے نہ دیا۔ بہت سے فوٹوز کھینچے۔ پھر اکثر وہ مجھے فلیٹ پر بلانے لگا کہ اب تم میری بیوی ہو۔ میں گھر والوں سے بات کرنے کا کہتی تو وہ کہتا کہ وہ ابھی اس ملک میں نہیں ہیں جب وہ آہیں گے میں اسی دن بات کروں گا۔ میں گھر میں سب سے چھوٹا اور لاڈلا ہوں۔ وہ میری بات ضرور مانیں گے۔۔

دعا نے جھجکتے ہوئے پوچھا جب وہ فلیٹ لے کر جاتا تو اس کے دوست بھی موجود ہوتے تھے کیا انہوں نے تو کبھی خدانخواستہ تمھارے ساتھ؛ اس نے بات ادھوری چھوڑ دی۔ رمنا نے تڑپ کر کہا نہیں ماما ان کی اپنی گرل فرینڈز تھیں کیا ان کے بھی نکاح ہو چکے تھے ماما اس بات کا مجھے علم نہیں۔ اس کے دوست ٹھیک نہیں تھے۔ فلیٹ بھی اسی کا تھا وہ صرف کھانے والے تھے۔ میں ان سے ڈرتی تھی۔ مگر شکر ہے وہ مجھے کچھ نہ کہتے تھے۔ خوب ہلہ گلہ کرتے تھے۔ میں نے ان لڑکیوں سے پوچھا کیا تم لوگوں کے نکاح ہو چکے ہیں تو انہوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور کچھ اشارہ کیا اور کہنے لگیں ہاں ہو چکے ہیں۔ پھر سب کا قہقہہ بلند ہوا۔ مجھے ان پر شک گزرا۔ میں نے ڈر کر وہاں جانا ہی چھوڑ دیا۔ وہ بہت ناراض ہوتا تو میں نے کہا اب جب تم بارات لے کر آو گے تب ہی آوں گی۔ اب مجھے لگتا ہے کہ میں پریگننٹ ہوں۔ میں نے نیٹ پر علامات پڑھی تھیں۔ رمنا ماں سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگنے لگی اور بڑبڑاتے ہوئے بولی، میں بہت بری ہوں۔ میں نے پاپا کو ہرٹ کیا ان کا مان توڑا، سب گھر والوں کو دنیا کی نظروں میں زلیل کروا دیا۔ حالانکہ میں اس ماں کی بیٹی تھی جو اسلام کے اصولوں کے مطابق چلتی تھی۔ کاش میں آپ جیسی بن سکتی۔ میرے پاپا کیا کھبی مجھ سے راضی ہوں گے۔! دعا نے کہا کہ وہ بہت ضدی ہیں جلدی تو مشکل ہے ہاں وقت گزرنے کے ساتھ تم نے پرانی روش نہ اپناہی تو امید ہے جلد راضی ہو جائیں گے۔ ناامیدی گناہ ہے اللہ تعالیٰ بہت غفور رحیم ہے اگر سچے دل سے توبہ کرو تو وہ ضرور معاف کر دے گا۔ اتنے میں ملازمہ نے مہمانوں کے آنے کی اطلاع دی۔



Reader Comments

Be the first to leave a comment on this episode!


Log in to leave a comment.

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Unlock the Full Library

PKR 300

For 30 Days of Unlimited Access

  • Read all premium and exclusive content
  • Enjoy a seamless, uninterrupted reading experience
  • Directly support the author and her work
Go Premium Now

Experience the Best Urdu Novels Online

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Captivating Novels and Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Reading Urdu Novels on Tablet and Phone

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen’s verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Elegant Desk with Pens and Books