Insaniyat Kay Naatay
Episodes
ندعا کے میکے والے آے تھے دعا کی ساَس نے سب کچھ بتا دیا وہ لوگ ناراض ہو رہے تھے کہ کیوں نہ بتایا۔ وہ لوگ بولے ہم لوگ پریشان ہو گئے تھے کہ دعا فون بھی نہیں کر رہی۔ اگر کرو تو مصروفیت کا بہانہ کرکے فون بند کر دیتی ہے۔ دعا کی ماں نے دعا کی بھابھی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بہو نے کہا کہ لگتا ہے کوئی مسئلہ ہے رمنا کا فون بھی بند مل رہا تھا تو بہو بولی جا کر پتا کرتے ہیں۔
رمنا نے بےبسی سے ماں کو دیکھا، ماں نے اسے گلے لگاتے ہوئے پیار سے کہا! جو ہونا تھا وہ تو ہو چکا اگر ماں کی طرح بزدل بنی رہی تو دنیا آنکھوں سے آنسو خشک نہیں ہونے دے گی۔ اب بہادری سے سب کا سامنا کرو۔ اس سب میں تمھارا قصور کم ہم والدین کا زیادہ ہے۔ تمھارے پاپا کی ضد اور میری انسانیت کے ناطے ہمدردی نے مجھے اپنی بیٹی کی توجہ سے بھی محروم رکھا۔ میں نے سچی ہونے کے باوجود ڈر ڈر کر زندگی گزاری۔ مجھے معاف کر دینا میری شہزادی انسانیت کے ناطے تمھاری بھی حق تلفی ہوتی رہی ہے۔ آج سب موجود ہیں اچھا ہے کہ میں آج اس راز سے پردہ اٹھا دوں۔ اس نے رمنا کا ہاتھ پکڑا اور باہر چل پڑی۔ رمنا حیران ہوتی اس کے ساتھ چل پڑی۔
دعا اور رمنا کو دیکھ کر بھابھی کے ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ پھیل گئی۔ نانی دع کو ملنے کے بعد رمنا کو کوسنے لگی۔ بھابھی نے مسکہ لگایا کہ ہماری زارا بھی تو ہے ناں۔ ہم تو اس کو اتنی آزادی نہیں دیتے۔ شانی جو دعا کے بھائی کے پاس بیٹھا ہوا تھا سن کر شرم سے سر جھکا دیا۔ رمنا اٹھ کر جانے لگی تو دعا اونچی آواز میں غصے سے بولی! رمنا بیٹھ جاو۔ سمراب سب کے لیے جوس لے کر آیا تو دعا نے سمراب کو غصے سے کہا کہ تم یہ جوس کیوں لائے ہو۔ تم اس گھر کے ملازم نہیں بیٹے ہو۔ بھابھی نے پھر ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا بےشک سوتیلے ہی سہی ہے تو بیٹے ناں۔ دعا نے سمراب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میرے بیٹے مجھے معاف کر دینا۔ جو بات آج میں بتانے جا رہی ہوں۔ وہ بات تمھارے لیے سب سے خوشی کا باعث بھی ہو گی اور غم کا بھی۔ پھر دعا نے شانی کی طرف دیکھا وہ کافی دنوں سے سوچ سوچ کر پاگل ہو رہا تھا کہ جس راز کی اس نے کسی کو اتنے سال گزر گئے کانوں کان خبر نہ تھی وہ دعا کیسے جانتی ہے وہ شرم سے اٹھنے لگا مگر ہمت نہ ہوئی۔ بھابھی نے اکتاتے ہوئے کہا کہ اب بتا بھی دو۔ سسر نے کہا کہ بتاو بیٹا آخر کیا بات ہے۔ دعا نے اپنے اندر ہمت جمع کی۔ شوہر کی طرف دیکھتے ہوئے بولی! شاہ زیب مجھے معاف کر دینا میں بتانے پر مجبور ہوں۔پھر اسنے بتانا شروع کیا کہ ہمارے پڑوس میں باپ بیٹی رہتے تھے ماں بچپن میں ہی فوت ہو چکی تھی۔ باپ بہت لالچی اور دھوکےباز انسان تھا اس نے بیٹی کی بھی یہی تربیت کی تھی کہ دوسروں کو کیسے لوٹا جائے۔ بیٹی چونکہ بن ماں کی تھی۔ باپ نے اسے آزادی بھی خوب دے رکھی تھی۔ اسے پڑھنے کا بہت شوق تھا باپ اسے کہتا یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے فیس کہاں سے لاؤں۔ تو بیٹی نے تسلی دیتے ہوئے کہا کہ وہ خوبصورت ہے اور کالج میں امیر لڑکیوں اور لڑکوں سے دوستی کر کے اپنے خرچے پورے کر لوں گی۔ باپ نے خوشی کا اظہار کیا۔ اس طرح وہ اپنے خرچے پورے کرنے لگی۔ باپ کو بتاتی تو وہ خوش ہوتا اور حوصلہ افزائی کرتا۔ پھر باپ نے اسے مشورہ دیا کہ کسی امیر لڑکے سے نکاح کی کوشش کرو اس کی اولاد پیدا کرو۔ وہ تمھیں بساے یا نہ بساے بچے کا خرچہ اس سے لیتے رہیں گے اور ساتھ ہمارا بھی گزارا ہوتا رہے گا۔ پورے محلے کا اس نے قرض دینا تھا اب تو سب اس سے نفرت کرنے لگے تھے۔ بیٹی کو خوب فیشن کرواتا۔ ایک دن بیٹی کو ایک کالج میں امیرزادہ پسند آ گیا۔ اتنے میں ملازم چاے لے آیا۔ سب سٹوری میں مگن تھے بھابھی نے پوچھا! اس میں راز کون سا ہے تو دعا نے جواب دیا چاے پی لیں پھر بتاتی ہوں۔

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.