Logo
Insaniyat Kay Naatay
21 Episodes
Insaniyat Kay Naatay EP 14
Episode 14

انسانیت کے ناطے14

Insaniyat Kay Naatay


چوھدواں حصہ - 14th Part

 

دعا کے میکے والے آئے تھے دعا کی ساَس نے سب کچھ بتا دیا وہ لوگ ناراض ہو رہے تھے کہ کیوں نہ بتایا۔ وہ لوگ بولے

"ہم لوگ پریشان ہو گئے تھے کہ دعا فون بھی نہیں کر رہی۔ اگر کرو تو مصروفیت کا بہانہ کرکے فون بند کر دیتی ہے۔" 

دعا کی ماں نے دعا کی بھابھی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا 

"بہو نے کہا 

"لگتا ہے کوئی مسئلہ ہے رمنا کا فون بھی بند مل رہا تھا تو بہو بولی جا کر پتا کرتے ہیں۔"

رمنا نے بےبسی سے ماں کو دیکھا، ماں نے اسے گلے لگاتے ہوئے پیار سے کہا

"جو ہونا تھا وہ تو ہو چکا اگر ماں کی طرح بزدل بنی رہی تو دنیا آنکھوں سے آنسو خشک نہیں ہونے دے گی۔ اب بہادری سے سب کا سامنا کرو۔ اس سب میں تمھارا قصور کم، ہم والدین کا زیادہ ہے۔ تمھارے پاپا کی ضد اور میری انسانیت کے ناطے ہمدردی نے مجھے اپنی بیٹی کی توجہ سے بھی محروم رکھا۔ میں نے سچی ہونے کے باوجود ڈر ڈر کر زندگی گزاری۔ مجھے معاف کر دینا میری شہزادی انسانیت کے ناطے تمھاری بھی حق تلفی ہوتی رہی ہے۔ آج سب موجود ہیں اچھا ہے کہ میں آج اس راز سے پردہ اٹھا دوں۔" 

اس نے رمنا کا ہاتھ پکڑا اور باہر چل پڑی۔ رمنا حیران ہوتی اس کے ساتھ چل پڑی۔ دعا اور رمنا کو دیکھ کر بھابھی کے ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ پھیل گئی۔ نانی دعا کو ملنے کے بعد رمنا کو کوسنے لگی۔ بھابھی نے مسکہ لگایا 

"ہماری زارا بھی تو ہے ناں۔ ہم تو اس کو اتنی آزادی نہیں دیتے۔" 

شانی جو دعا کے بھائی کے پاس بیٹھا ہوا تھا سن کر شرم سے سر جھکا دیا۔ رمنا اٹھ کر جانے لگی تو دعا اونچی آواز میں غصے سے بولی

"رمنا بیٹھ جاؤ۔" 

سمراب سب کے لیے جوس لے کر آیا تو دعا نے سمراب کو غصے سے کہا 

"تم یہ جوس کیوں لائے ہو۔ تم اس گھر کے ملازم نہیں بیٹے ہو۔" 

اس کی بھابھی نے پھر ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا 

"بےشک سوتیلے ہی سہی ہو تو بیٹے ناں۔" 

دعا نے سمراب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا 

"میرے بیٹے مجھے معاف کر دینا۔ جو بات آج میں بتانے جا رہی ہوں۔ وہ بات تمھارے لیے سب سے خوشی کا باعث بھی ہو گی اور غم کا بھی۔" 

پھر دعا نے شانی کی طرف دیکھا وہ کافی دنوں سے سوچ سوچ کر پاگل ہو رہا تھا کہ جس راز کی اس نے کسی کو اتنے سال گزر گئے کانوں کان خبر نہ تھی وہ دعا کیسے جانتی ہے وہ شرم سے اٹھنے لگا مگر ہمت نہ ہوئی۔ بھابھی نے اکتاتے ہوئے کہا

"اب بتا بھی دو۔" 

سسر نے کہا 

"بتاؤ بیٹا آخر کیا بات ہے۔" 

دعا نے اپنے اندر ہمت جمع کی۔ شوہر کی طرف دیکھتے ہوئے بولی 

"شاہ زیب مجھے معاف کر دینا میں بتانے پر مجبور ہوں۔" 

پھر اسنے بتانا شروع کیا 

"ہمارے پڑوس میں باپ بیٹی رہتے تھے ماں بچپن میں ہی فوت ہو چکی تھی۔ باپ بہت لالچی اور دھوکےباز انسان تھا اس نے بیٹی کی بھی یہی تربیت کی تھی کہ دوسروں کو کیسے لوٹا جائے۔ بیٹی چونکہ بن ماں کی تھی۔ باپ نے اسے آزادی بھی خوب دے رکھی تھی۔ اسے پڑھنے کا بہت شوق تھا باپ اسے کہتا یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے فیس کہاں سے لاؤں۔ تو بیٹی نے تسلی دیتے ہوئے کہا کہ وہ خوبصورت ہے اور کالج میں امیر لڑکیوں اور لڑکوں سے دوستی کر کے اپنے خرچے پورے کر لوں گی۔ باپ نے خوشی کا اظہار کیا۔ اس طرح وہ اپنے خرچے پورے کرنے لگی۔ باپ کو بتاتی تو وہ خوش ہوتا اور حوصلہ افزائی کرتا۔ پھر باپ نے اسے مشورہ دیا کہ کسی امیر لڑکے سے نکاح کی کوشش کرو۔ اس کی اولاد پیدا کرو۔ وہ تمھیں بسائے یا نہ بسائے بچے کا خرچہ اس سے لیتے رہیں گے اور ساتھ ہمارا بھی گزارا ہوتا رہے گا۔ پورے محلے کا اس نے قرض دینا تھا اب تو سب اس سے نفرت کرنے لگے تھے۔ بیٹی کو خوب فیشن کرواتا۔ ایک دن بیٹی کو ایک کالج میں امیرزادہ پسند آ گیا۔" 

اتنے میں ملازم چائے لے آیا۔ سب سٹوری میں مگن تھے بھابھی نے پوچھا 

"اس میں راز کون سا ہے" 

تو دعا نے جواب دیا 

"چائے پی لیں پھر بتاتی ہوں۔"


پندھرواں حصہ 15th Part


Continue Reading
Episode 15
انسانیت کے ناطے15

Reader Comments

No comments yet. Be the first to share your thoughts!

Log in to leave a comment.

Related Novels

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Premium Membership

Unlock the Full Library

One subscription. Every story. Unlimited reading.

PKR 300
30 Days of Unlimited Access
Go Premium Now

Secure payment  ·  Instant access

Full Novel Library
Access every premium & exclusive novel — no episode locked
Unlimited Reading
Read as much as you want, whenever you want, at your pace
Support the Author
Your subscription directly supports Abida Z Shireen's work
New Episodes First
Be the first to read every new episode as soon as it drops
A F S R N
Join thousands of readers already enjoying premium access
Loved by readers
Our Literary World

Experience the Best Urdu Novels Online

Dive into decades of storytelling by Pakistan's most beloved author, now at your fingertips.

50+
Published Novels
30+
Years of Writing
1M+
Readers Worldwide
100%
Authentic Stories
01

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Read Her Story
Abida Z Shireen
Author
02

Captivating Novels & Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Browse All Novels
Reading Urdu Novels on Tablet and Phone
Novels
03

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen's verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Explore Poetry
Elegant Desk with Pens and Books
Poetry