Insaniyat Kay Naatay
Episodes
دعا نے دیکھا رمنا لان کے بنچ پر بیٹھی سرگوشی میں کسی سے فون پر باتیں کر رہی تھی ماں کو دیکھ کر چونک گیء۔ماں نے پوچھا کس سے بات کر رہی تھی اس بے کہا فرینڈ سے۔ ماں نے رعب سے کہا مجھے دیکھاو مگر اس نے بھاگ کر کمرے کا رخ کیا اور کمرہ بند کر لیا۔ شانی نے دیکھا اور پوچھا کیا ہوا۔؟ دعا نے روہانسے ہوئے پریشانی سے بتایا کہ مجھے لگتا ہے کہ یہ کسی لڑکے سے چھپ چھپ کر باتیں کر رہی تھی وہ چونکا سب شور سن کر جمع ہو چکے تھے وہ دروازہ نہیں کھول ریی تھی اونچا اونچا روے جا رہی تھی۔ شانی نے کہا میری بیٹی کو بدنام کر رہی ہو مجھے اس پر پورا بھروسہ ہے۔ یہ سنتے ہی رمنا نے جھٹ سے دروازہ کھول کر موبائل دعا کو پکڑاتے ہوئے کہا یہ لیں چیک کر لیں۔ مجھے نہیں آتا میں تو اپنے موبائل پر صرف کال سنتی ہوں۔ شانی نے کہا آخر مسئلہ کیا ہے۔ دعا نے جواب دیا کہ یہ ہر وقت اونچی آواز میں بات کرتی ہے دوستوں سے بھی کال پر بات کرتی ہے تو آوازیں دور تک آ رہی ہوتی ہیں مگر یہ سرگوشی میں بول رہی تھی۔ پھر اس نے آواز سنا کر تسلی بھی نہیں کرائی۔ رمنا نے روتے ہوئے موبائل باپ کے ہاتھ میں دیتے ہوئے کہا پاپا آپ میرا لیپ ٹاپ موبائل سب چیک کر سکتے ہیں اگر مما کو نہیں آتا تو آپ چیک کر لیں۔ باپ نے اسے گلے لگاتے ہوئے کہا کہ مجھے تم پر بھروسہ ہے تم میرا مان ہو۔ پھر بیوی کی طرف غضبناک ہو کر چیخنا تم میری بیٹی کو بدنام کرتی ہو آہندہ اگر تم نے میری بیٹی کو بدنام کرنے یا اس کے کسی کام میں دخل دینے کی کوشش کی تو مجھ سے برا کوئی نہ ہو گا۔ سمراب روتی ہوئی ماں کو کندھوں سے پکڑ کر اندر لے گیا۔ اور تسلیاں دیتا رہا۔
والدین شانی کو بہو کو ڈانٹنے پر اسے سرزش کر رہے تھے پہلے وہ اس کی فیور لیتے تو وہ اکتا جاتا تھا آج وہ خاموشی اور دھیان سے ان کی باتیں سن رہا تھا۔ باپ نے کہا کہ تم یہ کیوں بھول جاتے ہو کہ رمنا دعا کی بھی بیٹی ہے۔ اس نے ایسا کچھ محسوس کیا ہو گا تو اس نے اسے سرزش کی ہو گی تم نے یہ سوچا کہ وہ جوان ہو رہی ہے جس طرح تم نے اسے آزادی دی ہے کپڑے ایسے چھوٹے چھوٹے پہنتی ہے شرٹ اتنی چھوٹی ہوتی ہے کہ بازو اوپر کرتی ہے تو آدھا پیٹ ننگا ہو جاتا ہے شارٹس میں آدھی ٹانگیں ننگیں ہوتی ہیں۔ کون خاندانی اور شریف خاندان اسے اپنی بہو بناے گا۔ میں بیوی کو ماڈرن بنا کر رکھتے ہوئے اب شرمندگی محسوس کرتا ہوں۔ یہ خود بھی اپنی پرانی تصویریں دیکھ کر توبہ توبہ کرتی ہے۔ ماں تسبیح پڑھتے سر پر دوپٹہ اوڑھے گردن ہلا کر ہاں میں ہاں ملا رہی تھی پھر ساس بولی میں تو بہو کی شکر گزار ہوں۔ مگر افسوس کہ اس کی اپنی بیٹی کیا بنی ہوئی ہے آج اگر تم ماں کو کوئی اختیار دیتے کوئی اہمیت اور عزت دیتے تو تمھاری بیٹی کو اپنانے میں لوگ فخر محسوس کرتے۔ شادی تو اس کی کرنی ہی ہے۔ اتنی بدتمیز اور بدزبانی ہے۔ گھرداری کا کوئی شعور ہی نہیں۔ تم خود شادی کے لئے ایسی لڑکی سے انکار کرتے تھے۔ اپنی ماں کو بھی ٹوکتے تھے۔ اگر بالفرض کوئی رمنا کو اس انداز میں قبول بھی کر لیتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ کھلے زہن کا ہے۔ بلکہ اسے کا شعور نہیں وہ مغرب کی تقلید میں دوزخ کے راستے پر چل رہا ہے۔ اسلام ہمیں اس روش کی اجازت نہیں دیتا۔ قیامت کے دن ہم اپنے اللہ تعالیٰ کو کیا جواب دیں گے کہ ہم پیارے نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم کی تقلید کی بجائے اس نام نہاد سٹیٹس کو اپنا کر فخر محسوس کرتے ہیں تو کیا ہم جنت میں داخل ہوں گے۔ نہیں جن کافروں کی تقلید میں ان کی روش پر چلتے ہیں ان کے ساتھ دوزخ میں ڈالے جائیں گے۔ ابھی بھی وقت ہے بیوی کی قدر کرو۔ اس کو دکھ نہ دو۔ وہ خاموشی سے آٹھ کر چلا گیا اور خاموشی سے ان باتوں پر غور کرنے لگا۔ اسے دعا پر ترس آنے لگا بیٹی اس کے کمرے میں آیء تو باپ نے اس کے حلیے پر غور کیا تو شرمندگی کے ساتھ غصہ بھی آیا۔ وہ اپنی سوچوں میں اتنا گم تھا کہ اسے سمجھ ہی نہ آئی کہ وہ کیا بول کر گئی ہے۔
دادی نے سمراب سے کہا! رمنا اتنی رات ہو گئی ہے کدھر گئ ہے جو ابھی تک واپس نہیں آئی۔اور تمھاری ماں کدھر ہے تو سمراب نے سر جھکا کر آہستہ سے کہا کہ وہ میرے کمرے میں روتے روتے سو گئی ہیں۔

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.