Loading...
Logo
Back to Novel
Insaniyat Kay Naatay
Episodes
Insaniyat Kay Naatay

انسانیت کے ناطے8

From Insaniyat Kay Naatay - Episode 8

دعا نے دیکھا رمنا لان کے بنچ پر بیٹھی سرگوشی میں کسی سے فون پر باتیں کر رہی تھی ماں کو دیکھ کر چونک گیء۔ماں نے پوچھا کس سے بات کر رہی تھی اس بے کہا فرینڈ سے۔ ماں نے رعب سے کہا مجھے دیکھاو مگر اس نے بھاگ کر کمرے کا رخ کیا اور کمرہ بند کر لیا۔ شانی نے دیکھا اور پوچھا کیا ہوا۔؟ دعا نے روہانسے ہوئے پریشانی سے بتایا کہ مجھے لگتا ہے کہ یہ کسی لڑکے سے چھپ چھپ کر باتیں کر رہی تھی وہ چونکا سب شور سن کر جمع ہو چکے تھے وہ دروازہ نہیں کھول ریی تھی اونچا اونچا روے جا رہی تھی۔ شانی نے کہا میری بیٹی کو بدنام کر رہی ہو مجھے اس پر پورا بھروسہ ہے۔ یہ سنتے ہی رمنا نے جھٹ سے دروازہ کھول کر موبائل دعا کو پکڑاتے ہوئے کہا یہ لیں چیک کر لیں۔ مجھے نہیں آتا میں تو اپنے موبائل پر صرف کال سنتی ہوں۔ شانی نے کہا آخر مسئلہ کیا ہے۔ دعا نے جواب دیا کہ یہ ہر وقت اونچی آواز میں بات کرتی ہے دوستوں سے بھی کال پر بات کرتی ہے تو آوازیں دور تک آ رہی ہوتی ہیں مگر یہ سرگوشی میں بول رہی تھی۔ پھر اس نے آواز سنا کر تسلی بھی نہیں کرائی۔ رمنا نے روتے ہوئے موبائل باپ کے ہاتھ میں دیتے ہوئے کہا پاپا آپ میرا لیپ ٹاپ موبائل سب چیک کر سکتے ہیں اگر مما کو نہیں آتا تو آپ چیک کر لیں۔ باپ نے اسے گلے لگاتے ہوئے کہا کہ مجھے تم پر بھروسہ ہے تم میرا مان ہو۔ پھر بیوی کی طرف غضبناک ہو کر چیخنا تم میری بیٹی کو بدنام کرتی ہو آہندہ اگر تم نے میری بیٹی کو بدنام کرنے یا اس کے کسی کام میں دخل دینے کی کوشش کی تو مجھ سے برا کوئی نہ ہو گا۔ سمراب روتی ہوئی ماں کو کندھوں سے پکڑ کر اندر لے گیا۔ اور تسلیاں دیتا رہا۔

والدین شانی کو بہو کو ڈانٹنے پر اسے سرزش کر رہے تھے پہلے وہ اس کی فیور لیتے تو وہ اکتا جاتا تھا آج وہ خاموشی اور دھیان سے ان کی باتیں سن رہا تھا۔ باپ نے کہا کہ تم یہ کیوں بھول جاتے ہو کہ رمنا دعا کی بھی بیٹی ہے۔ اس نے ایسا کچھ محسوس کیا ہو گا تو اس نے اسے سرزش کی ہو گی تم نے یہ سوچا کہ وہ جوان ہو رہی ہے جس طرح تم نے اسے آزادی دی ہے کپڑے ایسے چھوٹے چھوٹے پہنتی ہے شرٹ اتنی چھوٹی ہوتی ہے کہ بازو اوپر کرتی ہے تو آدھا پیٹ ننگا ہو جاتا ہے شارٹس میں آدھی ٹانگیں ننگیں ہوتی ہیں۔ کون خاندانی اور شریف خاندان اسے اپنی بہو بناے گا۔ میں بیوی کو ماڈرن بنا کر رکھتے ہوئے اب شرمندگی محسوس کرتا ہوں۔ یہ خود بھی اپنی پرانی تصویریں دیکھ کر توبہ توبہ کرتی ہے۔ ماں تسبیح پڑھتے سر پر دوپٹہ اوڑھے گردن ہلا کر ہاں میں ہاں ملا رہی تھی پھر ساس بولی میں تو بہو کی شکر گزار ہوں۔ مگر افسوس کہ اس کی اپنی بیٹی کیا بنی ہوئی ہے آج اگر تم ماں کو کوئی اختیار دیتے کوئی اہمیت اور عزت دیتے تو تمھاری بیٹی کو اپنانے میں لوگ فخر محسوس کرتے۔ شادی تو اس کی کرنی ہی ہے۔ اتنی بدتمیز اور بدزبانی ہے۔ گھرداری کا کوئی شعور ہی نہیں۔ تم خود شادی کے لئے ایسی لڑکی سے انکار کرتے تھے۔ اپنی ماں کو بھی ٹوکتے تھے۔ اگر بالفرض کوئی رمنا کو اس انداز میں قبول بھی کر لیتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ کھلے زہن کا ہے۔ بلکہ اسے کا شعور نہیں وہ مغرب کی تقلید میں دوزخ کے راستے پر چل رہا ہے۔ اسلام ہمیں اس روش کی اجازت نہیں دیتا۔ قیامت کے دن ہم اپنے اللہ تعالیٰ کو کیا جواب دیں گے کہ ہم پیارے نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم کی تقلید کی بجائے اس نام نہاد سٹیٹس کو اپنا کر فخر محسوس کرتے ہیں تو کیا ہم جنت میں داخل ہوں گے۔ نہیں جن کافروں کی تقلید میں ان کی روش پر چلتے ہیں ان کے ساتھ دوزخ میں ڈالے جائیں گے۔ ابھی بھی وقت ہے بیوی کی قدر کرو۔ اس کو دکھ نہ دو۔ وہ خاموشی سے آٹھ کر چلا گیا اور خاموشی سے ان باتوں پر غور کرنے لگا۔ اسے دعا پر ترس آنے لگا بیٹی اس کے کمرے میں آیء تو باپ نے اس کے حلیے پر غور کیا تو شرمندگی کے ساتھ غصہ بھی آیا۔ وہ اپنی سوچوں میں اتنا گم تھا کہ اسے سمجھ ہی نہ آئی کہ وہ کیا بول کر گئی ہے۔

دادی نے سمراب سے کہا! رمنا اتنی رات ہو گئی ہے کدھر گئ ہے جو ابھی تک واپس نہیں آئی۔اور تمھاری ماں کدھر ہے تو سمراب نے سر جھکا کر آہستہ سے کہا کہ وہ میرے کمرے میں روتے روتے سو گئی ہیں۔



Reader Comments

Be the first to leave a comment on this episode!


Log in to leave a comment.

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Unlock the Full Library

PKR 300

For 30 Days of Unlimited Access

  • Read all premium and exclusive content
  • Enjoy a seamless, uninterrupted reading experience
  • Directly support the author and her work
Go Premium Now

Experience the Best Urdu Novels Online

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Captivating Novels and Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Reading Urdu Novels on Tablet and Phone

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen’s verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Elegant Desk with Pens and Books