Logo
Insaniyat Kay Naatay
21 Episodes
Insaniyat Kay Naatay EP 9
Episode 9

انسانیت کے ناطے9

Insaniyat Kay Naatay


نواں حصہ - 9th Part

 

شاہ زیب نے اندر آتی رمنا سے پوچھا 

"کہاں گئی تھی اور اتنی دیر کیوں لگائی۔" 

دعا بھی سوجی آنکھوں سے سامنے کھڑی تھی۔ سمراب بھی ماں کے ساتھ کھڑا تھا دادی تسبیح ہاتھ میں لیے آ گئی۔ رمنا نے باپ کو اونچی آواز میں بتایا 

"پاپا میں آپ کو بتا کر گئی تھی، گھر میں مجھے تھوڑی ٹینشن ملتی ہے۔" 

شانی نے ملازم کو رمنا کے روم کی چابی لانے کو کہا جو سامنے لاؤنج میں سب رومز کی چابیوں کے ساتھ ٹنگی ہوتی تھی۔ ملازم نے لا کردیں۔ شانی نے ملازمہ کے ساتھ اس کے کمرے کی الماری سے سب کپڑے نکلوا کر انہیں پھینکنے کا کہا، رمنا حیرت کے ساتھ چیخنے لگی۔ سب بھی حیران ہو رہے تھے۔ شانی نے غصے سے کہا 

"آج سے تم یہ کپڑے نہیں پہنو گی" 

دعا کو دیکھ کر کہا 

"بلکہ اپنی ماں جیسے پہنو گی۔ اور دادو کے روم میں سوؤ گی۔" 

رمنا چیخ کر بولی 

"پاپا آر یو میڈ۔" 

دعا قریب گئی اور ایک تھپڑ رسید کر کے چیخ کر بولی

"بہت تم نے اپنی من مانی کر لی۔" 

دعا نے اس کے ہاتھ سے موبائل چھین لیا۔ وہ روتی ہوئی اپنے روم کی طرف گئی تو روم لاک تھا۔ شانی نے کہا 

"اب یہ روم تب کھلے گا جب تم اپنی ماں کی ہر بات مانو گی اس جیسی بنو گی۔" 

دعا کے ساتھ سب حیرت سے دیکھنے لگے۔ رمنا رونا بھول کر سب کو حیرت سے دیکھنے لگی۔ وہ پھر روتے ہوئے لاؤنج کے صوفے پر بیٹھ گئی اور زوردار انداز میں رونے لگی۔ دادی نے بیٹے کو ڈانٹ کر کہا 

"یہ سب تمھیں پہلے کرنا چاہیے تھا۔" 

وہ بولا 

"ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا یہ ہمارے گھر میں ہے۔ کل اس نے اگلے گھر جانا ہے یہ پڑھائی سے اب فارغ ہے۔ اسے آپ اور دعا گھرداری سکھائیں۔ پھر میں اس کا اچھا رشتہ دیکھ کر اس کی شادی کرتا ہوں۔" 

شادی کے نام پر رمنا رونا بھول کر باپ کے بدلتے ہوئے روئیے کو دیکھنے لگی۔ اسے مارا تو کیا کھبی کسی نے ڈانٹا بھی نہ تھا۔ اس کی چیخیں ہی دب گئی تھیں وہ آہستہ آہستہ ہچکیوں سے رو رہی تھی۔ سمراب نے اسے پانی کا گلاس پکڑایا اس کا حلق بھی خشک ہو رہا تھا۔ شانی کا دل اپنی لاڈلی کو دیکھ کر کٹ رہا تھا اسے سمراب پر پیار آ گیا جو رمنا سے ہمدردی کر رہا تھا۔ وہ سمراب سے ضد میں دعا سے ضد باندھ بیٹھا تھا اسے اس کی دعا کے ساتھ پیار میں شراکت برداشت نہ ہوتی تھی۔ اب وہ اس کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھے پانی کا گلاس لیے کھڑا تھا۔ رمنا کو کوئی لفٹ نہیں کرا رہا تھا اس کا دل والدین کے بدلتے ہوئے روئیے سے پھٹا جا رہا تھا اس وقت اسے سمراب کی ہمدردی بھی غنیمت لگ رہی تھی۔ اس نے جھٹ گلاس پکڑ کر غٹا غٹ پانی پی لیا۔ دادی بھی اسے دور بیٹھی تسبیح پڑھتے ہوئے دیکھی جا رہی تھی۔ دعا اپنے کمرے میں لیٹی آنسو بہا رہی تھی اپنی لاڈلی پر ہاتھ اٹھا کر سخت غمزدہ تھی۔ دادی رمنا کو ہر وقت ٹوکتی رہتی تھی وہ دادی کو ناپسند کرتی تھی۔ اب پاپا نے حکم صادر کر دیا تھا کہ وہ دادی کے کمرے میں سوئے۔ شانی نے آکر رعب سے کہا 

"اماں میں نے آپ کے کمرے میں صوفہ کم بیڈ لگوا دیا ہے اسے کمرے میں لے جائیں۔" 

داری نے آکر کندھے سے اٹھایا تو رمنا کو بھی انکار کی جرات نہ ہوئی۔ کمرے میں آکر وہ غم سے نڈھال گر سی گئی۔ دادا پاس صوفہ کم بیڈ پر لیٹ گئے رمنا اٹھنے لگی تو دادی کے پاس ہی سو جایا کرنا میں ویسے بھی رات کو کھانستا ہوں تو تم ڈسٹرب ہو جاؤ گی۔ دادی اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے، بڑبڑاتے ہوئے بولی 

"ماں باپ اکھٹے ہی اسے سدھارنے بیٹھ گئے ہیں۔" 

رمنا دل میں دادی کی فیور پر حیران ہوئی وہ تو سمجھتی تھی کہ دادی اس سے نفرت کرتی ہے اس لئے ہر وقت ٹوکتی ہے۔ سدھارنے والی بات پر حیران ہوئی۔ کیا وہ بگڑی ہوئی ہے۔ دادا نے دادی کو کہا، 

"اسے کھانا کھلا کرسلانا۔"

دادی بولی 

'آپ کھا لیں آپ نے دوا کھانی ہے" 

وہ جواب میں بولے 

'تم نے بھی تو کھانی ہے۔" 

وہ سرد آہ بھر کر بولی 

"بچے بھوکے ہوں تو میں کیسے کھاؤں۔" 

وہ بولے 

"ملازموں کو بول دو، وہ سب کو کھانا کمرے میں سرو کر دیں۔" 

دادی نے کہا 

'آپ کو پتہ تو ہے اپنی بہو کا وہ رات دس بجے کے بعد ایک منٹ بھی نہیں رکنے دیتی کہ انہوں نے بھی صبح جلدی اٹھنا ہے۔ ان کی بھی نیند اور صحت کا خیال رکھنا چاہیے۔ باقی کام وہ خود کرتی ہے میں ٹوکتی ہوں تو کہتی ہے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس نے ہمیں کام کروانے والا پیدا کیا ہے کام کرنے وال نہیں۔ ورنہ وہ بھی تو ہمارے جیسے انسان ہی ہیں نا۔ وہ بھی کوئی اپنی مرضی سے تو نہیں ایسیے کرتے اپنے پیٹ کے لیے مجبوری کرتے ہیں ورنہ کس کا دل نہیں چاہتا آرام کرنے اچھا کھانے اچھا پہننے کا۔ وہ بچاکھچا کھانا لے کر بھی خوش ہو جاتے ہیں۔ پرانے کپڑے پہن کر بھی خوش ہو جاتے ہیں جانتے ہیں کہ وہ نہیں ایسے مہنگے کپڑے خرید سکتے۔ اسی لئے وہ اکثر اوقات ان کے کپڑے وغیرہ لاتی رہتی ہے۔ ان کو زیادہ دیں گے اپنے بچوں کا صدقہ نکلے گا اور بلائیں ٹلیں گی اور قیامت کے دن ہر انسان اپنے صدقے کے سائے تلے ہوگا۔" 

رمنا اپنی ماں کے خیالات سن کر حیران اور متاثر ہونے لگی۔ اس نے تو کھبی ان باتوں کی طرف دھیان ہی نہیں دیا تھا۔ دادی مسلسل اس کے سر پر وقفے وقفے سے ہاتھ پھیرتی رہی اور اسے سکون ملنے لگا۔ دادا مشکل سے اٹھے اور رمنا کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرا۔ پھر کانپتے ہاتھوں سے جگ میں سے پانی ڈالا اور پیا۔ 

"مجھے کہتے" دادی بولی

رمنا حیران ہوئی کتنی مشکل سے اٹھ کر دادا نے پانی لیا تھا۔ اس رات سمراب نے زبردستی سب کو کھانا کھلایا۔

صبح وہ بےچین ہو کر اپنی لاڈلی کو دیکھنے آیا تو وہ اس کی آواز سن کر آنکھیں موندے سوتی بن گئی۔ شانی نے کہا 

"آپ بابا کل کیا جائیداد کی بات کر رہے تھے" 

تو دادا بولے 

"میں اپنی ساری جاہیداد پوتی کے نام کرنا چاہتا ہوں۔ پوتا تو ہے نہیں۔" 

رمنا دل میں حیران ہوئی کہ سمراب کا زکر ہی نہیں۔ کل اس نے سمراب کا رویہ نوٹ کیا کہ وہ اس گھر کے ہر فرد کے لئے نعمت تھا۔ دادا، دادی کل باتیں کر رہے تھے کہ وہ ان کا روٹین چیک اپ وقت پر کرواتا ہے۔ دوائیاں لا کر بھی دیتا ہے اور دوا کی یاد سے پوچھتا ہے کہ لی یا نہیں۔ رات کو روز ان کی ٹانگیں دباتا ہے۔ اب جائیداد میں اس کا ذکر ہی نہیں۔ اس نے تو کبھی دھیان ہی نہ دیا تھا اس کی طرف۔ مگر دادا، دادی اس کی تعریفیں کرتے ہوئے نہ تھکتے تھے اسے دوسروں کو پوتا بتا کر تعارف کرواتے تھے۔ اسے دل میں دکھ محسوس ہوا۔ دادی بولی 

"سمراب کا کیا کرنا ہے" 

دادا بولے 

"وہ ہمارے سگا پوتا نہیں ہے اس لیے لے پالک کو شرعی طور پر حصہ نہیں دے سکتے۔" 

اتنے میں دعا اندر داخل ہونی۔ اپنی لاڈلی کو دیکھ کر دل تڑپ گیا۔ مگر رمنا نے ماں کو دیکھ کر ناراضگی سے دیکھ کر منہ پھیر کر لیٹ گئی۔ دعا نے ساس سسر کو دیکھ کر کہا 

"کیا جائیداد کی بات کر رہے تھے۔" 

سسر نے جواب دیا 

"ہم رمنا کے نام پراپرٹی کرنا چاہتے ہیں" 

دعا نے گلے والے انداز میں کہا 

"اور سمراب آپ کا پوتا نہیں ہے کیا"

سسر نے کہا 

"تم جانتی تو ہو، وہ سگا پوتا نہیں ہے۔" 

دعا نے زور دیتے ہوئے کہا 

"آپ سمراب کو دو اور پوتی کو ایک دیں گے یہ میرا فیصلہ ہے۔" 

سب حیران اسے دیکھنے لگے۔ سمراب نے بھی سب سن لیا تھا اور وہ بھی حیران تھا۔ کسی کو بھی دعا سے اس بات کی توقع نہیں تھی


دسواں حصہ - Part 10


Continue Reading
Episode 10
انسانیت کے ناطے10

Reader Comments

No comments yet. Be the first to share your thoughts!

Log in to leave a comment.

Related Novels

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Premium Membership

Unlock the Full Library

One subscription. Every story. Unlimited reading.

PKR 300
30 Days of Unlimited Access
Go Premium Now

Secure payment  ·  Instant access

Full Novel Library
Access every premium & exclusive novel — no episode locked
Unlimited Reading
Read as much as you want, whenever you want, at your pace
Support the Author
Your subscription directly supports Abida Z Shireen's work
New Episodes First
Be the first to read every new episode as soon as it drops
A F S R N
Join thousands of readers already enjoying premium access
Loved by readers
Our Literary World

Experience the Best Urdu Novels Online

Dive into decades of storytelling by Pakistan's most beloved author, now at your fingertips.

50+
Published Novels
30+
Years of Writing
1M+
Readers Worldwide
100%
Authentic Stories
01

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Read Her Story
Abida Z Shireen
Author
02

Captivating Novels & Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Browse All Novels
Reading Urdu Novels on Tablet and Phone
Novels
03

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen's verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Explore Poetry
Elegant Desk with Pens and Books
Poetry