Insaniyat Kay Naatay
Episodes
شاہ زیب نے اندر آتی رمنا سے پوچھا کہاں گئی تھی اور اتنی دیر کیوں لگائی۔ دعا بھی سوجی آنکھوں سے سامنے کھڑی تھی۔ سمراب بھی ماں کے ساتھ کھڑا تھا، دادی تسبیح ہاتھ میں لیے آ گئی۔ رمنا نے باپ کو اونچی آواز میں بتایا کہ پاپا میں آپ کو بتا کر گئ تھی گھر میں مجھے تھوڑی ٹینشن ملتی ہے۔ شانی نے ملازم کو رمنا کے روم کی چابی لانے کو کہا جو سامنے الاونج میں سب رومز کی ٹنگی ہوتی تھیں۔ ملازم نے لا دیں۔ شانی نے ملازمہ کے ساتھ اس کے کمرے کی الماری سے سب کپڑے نکلوا کر انہیں پھینکنے کا کہا، رمنا حیرت کے ساتھ چیخنے لگی۔ سب بھی حیران ہو رہے تھے۔ شانی نے غصے سے کہا آج سے تم یہ کپڑے نہیں پہنو گی دعا کو دیکھ کر کہا بلکہ اپنی ماں جیسے پہنو گی۔ اور دادو کے روم میں سوو گی۔ رمنا چیخ کر بولی پاپا آر یو میڈ۔ دعا قریب گیء اور ایک تھپڑ رسید کر کے چیخ کر بولی؛ بہت تم نے اپنی من مانی کر لی۔ دعا نے اس کے ہاتھ سے موبائل چھین لیا۔ وہ روتی ہوئی اپنے روم کی طرف گیء تو روم لاک تھا۔ شانی نے کہا اب یہ روم تب کھلے گا جب تم اپنی ماں کی ہر بات مانو گی اس جیسی بنو گی۔ دعا کے ساتھ سب حیرت سے دیکھنے لگے۔ رمنا رونا بھول کر سب کو حیرت سے دیکھنے لگے۔ وہ پھر روتے ہوئے الاونج کے صوفے پر بیٹھ گئی اور زوردار انداز میں رونے لگی۔ دادی نے بیٹے کو ڈانٹ کر کہا یہ سب تمھیں پہلے کرنا چاہیے تھا۔ وہ بولا ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا یہ ہمارے گھر میں ہے کل اس نے اگلے گھر جانا ہے یہ پڑھاہی سے اب فارغ ہے۔ اسے آپ اور دعا گھرداری سکھاہیں۔ پھر میں اس کا اچھا رشتہ دیکھ کر اس کی شادی کرتا ہوں۔ شادی کے نام پر رمنا رونا بھول کر باپ کے بدلتے ہوئے روہیے کو دیکھنے لگی۔ اسے مارا تو کیا کھبی کسی نے ڈانٹا بھی نہ تھا۔ اس کی چیخیں ہی دب گئی تھیں وہ آہستہ آہستہ ہچکیوں سے رو رہی تھی۔ سمراب نے اسے پانی کا گلاس پکڑایا اس کا حلق بھی خشک ہو رہا تھا شانی کا دل اپنی لاڈلی کو دیکھ کر کٹ رہا تھا اسے سمراب پر پیار آ گیا جو رمنا سے ہمدردی کر رہا تھا وہ سمراب سے ضد میں دعا سے ضد باندھ بیٹھا تھا اسے اس کی دعا کے ساتھ پیار میں شراکت برداشت نہ ہوتی تھی۔ اب وہ اس کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھے پانی کا گلاس لیے کھڑا تھا۔ رمنا کو کوئی لفٹ نہیں کرا رہا تھا اس کا دل والدین کے بدلتے ہوئے روہے سے پھٹا جا رہا تھا اس وقت اسے سمراب کی ہمدردی بھی غنیمت لگ رہی تھی اس نے جھٹ گلاس پکڑ کر غٹا غٹ پانی پی لیا۔ دادی بھی اسے دور بیٹھی تسبیح پڑھتے ہوئے دیکھی جا رہی تھی۔ دعا اپنے کمرے میں لیٹی آنسو بہا رہی تھی اپنی لاڈلی پر ہاتھ اٹھا کر سخت غمزدہ تھی۔ دادی رمنا کو ہر وقت ٹوکری رہتی تھی وہ دادی کو ناپسند کرتی تھی۔ اب پاپا نے حکم صادر کر دیا تھا کہ وہ دادی کے کمرے میں سوےء۔ شانی نے آکر رعب سے کہا کہ اماں میں نے آپ کے کمرے میں صوفہ کم بیڈ لگوا دیا ہے اسے کمرے میں لے جاہیں۔ داری نے آکر کندھے سے اٹھایا تو رمنا کو بھی انکار کی جرات نہ ہونی۔ کمرے میں آکر وہ غم سے نڈھال گر سی گئی دادا پاس صوفہ کم بیڈ پر لیٹ گئے رمنا اٹھنے لگی تو دادی کے پاس ہی سو جایا کرنا میں ویسے بھی رات کو کھانستا ہوں تو تم ڈسٹرب ہو جاو گی۔ دادی اس کے سر پر ہاتھ پھیر تے ہوئے بڑبڑاتے ہوئے بولی ماں باپ اکھٹے ہی اسے سدھارنے بیٹھ گئے ہیں۔ رمنا دل میں دادی کی فیور پر حیران ہوہی وہ تو سمجھتی تھی کہ دادی اس سے نفرت کرتی ہے اس لئے ہر وقت ٹوکتی ہے۔ سدھارنے والی بات پر حیران ہوہی کیا وہ بگڑی ہوئی ہے۔ دادا نے دادی کو کہا، اسے کھانا کھلا کرسلانا۔ دادی بولی آپ کھا لیں آپ نے دوا کھانی ہے وہ جواب میں بولے تم نے بھی تو کھانی ہے۔ وہ سرد آہ بھر کر بولی بچے بھوکے ہوں تو میں کیسے کھاوں۔ وہ بولے ملازموں کو بول دو وہ سب کو کھانا کمرے میں سرو کر دیں۔ دادی نے کہا آپ کو پتہ تو ہے اپنی بہو کا وہ رات دس بجے کے بعد ایک منٹ بھی نہیں رکنے دیتی کہ انہوں نے بھی صبح جلدی اٹھنا ہے۔ ان کی بھی نیند اور صحت کا خیال رکھنا چاہیے۔ باقی کام وہ خود کرتی ہے میں ٹوکتی ہوں تو کہتی ہے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس نے ہمیں کام کروانے والا پیدا کیا ہے کام کرنے وال نہیں۔ ورنہ وہ بھی تو ہمارے جیسے انسان ہی ہیں نا۔ وہ بھی کوئی اپنی مرضی سے تو نہیں ایسیے کرتے اپنے پیٹ کے لیے مجبوری کرتے ہیں ورنہ کس کا دل نہیں چاہتا آرام کرنے اچھا کھانے اچھا پہننے کا۔ وہ بچاکھچا کھانا لے کر بھی خوش ہو جاتے ہیں۔ پرانے کپڑے پہن کر بھی خوش ہو جاتے ہیں جانتے ہیں کہ وہ نہیں ایسے مہنگے کپڑے خرید سکتے۔ اسی لئے وہ اکثر اوقات ان کے کپڑے وغیرہ لاتی رہتی ہے۔ ان کو زیادہ دیں گے اپنے بچوں کا صدقہ نکلے گا اور بلاہیں ٹلیں گی۔ اور قیامت کے دن ہر انسان اپنے صدقے کے سائے تلے ہوگا۔ رمنا اپنی ماں کے خیالات سن کر حیران اور متاثر ہونے لگی۔ اس نے تو کھبی ان باتوں کی طرف دھیان ہی نہیں دیا تھا۔ دادی مسلسل اس کے سر پر وقفے وقفے سے ہاتھ پھیرتی رہی اور اسے سکون ملنے لگا۔ دادا مشکل سے اٹھے اور رمنا کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرا۔ پھر کانپتے ہاتھوں سے جگ میں سے پانی ڈالا اور پیا۔ مجھے کہتے دادی بولی۔ رمنا حیران ہوئی کتنی مشکل سے آٹھ کر دادا نے پانی لیا تھا۔ اس رات سمراب نے زبردستی سب کو کھانا کھلایا۔
صبح وہ بےچین ہو کر اپنی لاڈلی کو دیکھنے آیا تو وہ اس کی آواز سن کر آنکھیں موندے سوتی بن گئی۔ شانی نے کہا کہ آپ بابا کل کیا جاییداد کی بات کر رہے تھے تو دادا بولے میں اپنی ساری جاہیداد پوتی کے نام کرنا چاہتا ہوں۔ پوتا تو ہے نہیں۔ رمنا دل میں حیران ہوئی کہ سمراب کا زکر ہی نہیں۔ کل اس نے سمراب کا رویہ نوٹ کیا کہ وہ اس گھر کے ہر فرد کے لئے نعمت تھا۔ دادا، دادی کل باتیں کر رہے تھے کہ وہ ان کا روٹین چیکااپ وقت پر کرواتاہے۔ دوائیاں لا کر بھی دیتا ہے اور دوا کی یاد سے پوچھتا ہے کہ لی یا نہیں۔ رات کو روز ان کی ٹانگیں دباتا ہے۔ اب جاہیداد میں اس کا زکر ہی نہیں۔ اس نے تو کبھی دھیان ہی نہ دیا تھا اس کی طرف۔ مگر دادا، دادی اس کی تعریفیں کرتے ہوئے نہ تھکتے تھے اسے دوسروں کو پوتا بتا کر تعارف کرواتے تھے۔ اسے دل میں دکھ محسوس ہوا۔ دادی بولی سمراب کا کیا کرنا ہے دادا بولے وہ ہمارے سگا پوتا نہیں ہے اس لیے لے پالک کو شرعی طور پر حصہ نہیں دے سکتے۔ اتنے میں دعا اندر داخل ہونی۔ اپنی لاڈلی کو دیکھ کر دل تڑپ گیا۔ مگر رمنا نے ماں کو دیکھ کر ناراضگی سے دیکھ کر منہ پھیر کر لیٹ گئی۔ دعا نے ساس سسر کو دیکھ کر کہا کہ کیا جاہیداد کی بات کر رہے تھے۔ سسر نے جواب دیا کہ ہم رمنا کے نام پراپرٹی کرنا چاہتے ہیں۔ دعا نے گلے والے انداز میں کہا اور سمراب آپ کا پوتا نہیں ہے کیا سسر نے کہا تم جانتی تو ہو وہ سگا پوتا نہیں ہے۔ دعا نے زور دیتے ہوئے کہا کہ آپ سمراب کو دو اور پوتی کو ایک دیں گے یہ میرا فیصلہ ہے۔ سب حیران اسے دیکھنے لگے۔ سمراب نے بھی سب سن لیا تھا اور وہ بھی حیران تھا۔ کسی کو بھی دعا سے اس بات کی توقع نہیں تھی

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.