Muhabbat Dil Ka Zehr Ya Suroor
Episodes
شبنم کو روتے جاتا دیکھ کر ڈاکٹر صاحب کی بیوی کے ضمیر نے بہت ملامت کی۔ اس نے شوہر سے رو رو کر معافی مانگی۔ اور کہا کہ آپ خفیہ نکاح کر لیں اور اسے الگ رکھیں۔ مجھے خوشی ہو گی۔
ڈاکٹر صاحب بیوی پر حیران ہونے لگے جو ان سے بہت پیار کرتی تھی اور اپنے باپ کے پیسے پر ساری زندگی پل سکتی تھی مگر اس سے شوہر کی جدائی برداشت نہ ہو پا رہی تھی وہ واپس جانا چاہتی تھی مگر ماں اسے جانے نہ دیتی اور غیرت دلاتی۔ اس کی ماں پہلے بھی اس رشتے پر راضی نہ تھی وہ اپنی دوست کے بیٹے کو دینا چاہتی تھی جو اس کی دولت کے لالچ میں بہت مکھن لگاتی اور اس کی بیٹی سے پیار جتاتی رہتی۔
ڈاکٹر صاحب کی بیوی نے جب شبنم کو دیکھا جب اس کے گھر آئی تو اس وقت اسے احساس ہوا کہ وہ دور رہ کر ہمیشہ کے لیے اپنے محبوب شوہر کو کھو دے گی۔ جب وہ خود واپس آئی تو سسر جو شبنم سے بیٹے کی شادی نہ کروانا چاہتا تھا صرف بیوی کی ضد کے آگے مجبور تھا اس نے بہو کے آنے پر شکر کیا اور بیٹے کو اس کی طرف ماہل کرنے کے لیے اسے بہت سمجھایا۔
ڈاکٹر صاحب کی بیوی ویسے بھی احساس جرم میں مبتلا تھی۔ جب وہ حاملہ ہوئی تو ڈاکٹر صاحب نے بھی بیوی کو معاف کر دیا اور اس کی دیکھ بھال میں لگ گئے پہلے وہ ماں اور بیوی کے جھگڑے سے پریشان تھے اب ان میں دوستی ہو چکی تھی۔ ماں پوتے کو پا کر نہال تھی۔ بیوی شبنم کو زبردستی گھر بلاتی رہتی۔ وہ آتی تو ڈاکٹر صاحب کی بیوی اسے سر آنکھوں پر بٹھاتی۔ کیونکہ اس نے اس کے شوہر سے شادی کرنے سے انکار کر دیا تھا اور وہ اب اپنی دنیا میں خوش تھی اسے پڑوسی اچھے ملے تھے ان کے ساتھ اس کا دل لگ گیا تھا۔
ڈاکٹر صاحب اپنے بچوں اور بیوی کی الفت میں مطمئن ہو گئے تھے مگر وہ شبنم سے بھی غافل نہ ہوے تھے اکثر اس کی خیر خبر لینے اس کے گھر چلے جاتے بیوی کم جاتی کہ وہ اپنے بچوں کی پرورش میں مصروف تھی۔
شبنم 30 سے اوپر کی ہو چکی تھی۔ ڈاکٹر صاحب اس کی طرف سے کھبی پریشان ہو جاتے۔ انہوں نے شبنم کو پہلے ماں سے خفیہ نکاح کے لئے بہت سمجھایا جبکہ ان کی بیوی بھی راضی تھی مگر شبنم نے انہیں سمجھایا کہ وہ آپ سے بہت پیار کرتی ہے وہ مجبوری میں ایسا کہہ رہی ہے ورنہ کوئی بیوی کھبی ایسا نہیں چاہتی۔ اور میں آنٹی کو دھوکہ نہیں دے سکتی۔ آخر وہ بھی خاموش ہو گئے اور اب تو ان کی ماں بھی شبنم کو لفٹ دینے لگی تھی اس کو بھی شاید احساس جرم ہو گیا تھا سسر تو پہلے ہی اس سے اخلاق سے پیش آتے تھے۔
شبنم کا بھی ان کے علاوہ کون تھا وہ بھی ان کے بلانے پر ہی جاتی خود سے نہ جاتی۔ اس نے اپنے گھر کا اوپر والا پورشن کراے پر دیا چونکہ راستہ گھر کے گیراج سے تھا اور اوپر ایک عارضی کچن بنا تھا کئی کراے دار آئے اور گیے۔ اب گھر خالی تھا اور فواد کے واقعے اس کے چودہ سال کے بیٹے کو ڈاکٹر صاحب کے کہنے پر گھر دیا اور شبنم اب 34 سال کی ہو چکی تھی جب ڈاکٹر صاحب نے اسے فواد سے شادی کا مشورہ دیا اور سچائی چھپانے کا کہا اور کہا جب والدین مل گئے تو دیکھا جائے گا ابھی اسے اور اس کے بیٹے کو سہارا چاہیے اور تمھیں بھی پھر خالہ جی نے بھی زور دیا تو وہ مان گئی۔
ڈاکٹر صاحب کی بیوی نے سکھ کا سانس لیا جب اسے پتا چلا کہ فواد اس سے بہت خوش ہے اور اس کی بہت عزت کرتا ہے۔ اور اب ڈاکٹر صاحب نے بھی بلاجواز ادھر جانا اور فون کرنا چھوڑ دیا تھا۔
شبنم اب اپنے گھر میں زمہ داریوں میں پڑ گئی تھی اس کی اولاد بھی نہ ہو سکی تھی۔ اب اس کا سوتیلا بیٹا اور شوہر ہی اس کی کل کاہنات تھے۔ وہ اپنے رب کا شکر ادا کرتی جس نے اس کی دعائیں سن لی تھی اب وہ بھی ایک پاکیزہ گھریلو زندگی گزار رہی تھی۔ بیٹا تنگ کرتا کھبی اس کے رویے سے دکھی ہو جاتی مگر اپنے رب کی رحمت سے مایوس نہ ہوتی۔ اب اسکا ان دونوں کے سوا تھا ہی کون۔ وہ پرانا محلہ چھوڑ کر سوسائٹی میں آ گئے تھے۔ بیٹا جوان ہو چکا تھا پڑھ لکھ کر اب نوکری کر رہا تھا اس نے لڑکی پسند کر لی تھی۔ ماں سے بدستور اس کا رویہ برا ہی تھا اور اب اس نے صاف کہہ دیا تھا کہ شادی کے بعد وہ الگ رہے گا۔
شبنم کو اپنے والدین کا گھر نظر آ گیا تھا اس نے رونے کے لیے اپنا ہاتھ خود گاڑی میں دے دیا تھا اور جی بھر کر روئی تھی۔ فواد نے جی جان سے اس کی دیکھ بھال کی تھی۔ وہ گاڑی ڈرائیور کر لیتی تھی۔ اب اس کا ہاتھ مکمل طور پر ٹھیک ہو چکا تھا اور وہ اڑ کر اس جگہ پہنچ جانا چاہتی تھی جہاں اس کا گھر تھا۔ وہ گاڑی ڈرائیور کر کے وہاں پہنچی اس دوران فواد کا فون آ گیا تو وہ اکثر مارکیٹ اکیلی جایا کرتی تھی اس نے بتایا کہ وہ مارکیٹ میں ہے۔ وہ وہاں پہنچی کچھ باشو کا پرانا خوف بھی عود کر آیا وہ اس وقت بھی اکیلی تھی گلی میں اکا دکا لوگ چل پھر رہے تھے عین اس گھر کے آگے اس نے گاڑی روکی جو اس کا گھر تھا دل غم سے بھر گیا۔
اس نے حوصلہ کر کے اپنے آپ کو سمجھایا اور خود پر قابو پا کر اس گھر کی بیل دی۔ تھوڑی دیر بعد ایک جوان لڑکی اندر سے نکلی اس نے حیرت سے اسے دیکھا تو شبنم گلا خشک ہوتے ہوئے تھوک نگلتے ہوئے بولی ادھر جمیل صاحب رہتے تھے اس نے اپنے والد کا نام لیا۔ وہ بولی وہ تو یہاں سے چلے گئے ہیں گھر بیچ کر۔
لڑکی کو پیچھے سے آواز آئی کون ہے بیٹا۔
لڑکی کے پیچھے ماں بھی ا گئی۔
شبنم نے سلام کیا تو وہ بڑے اخلاق سے بولی آپ اندر آ جاہیں۔ شبنم ڈرتے ڈرتے دھڑکتے دل کے ساتھ اندر چلی گئی۔ انہوں نے اسے سامنے کمرے میں بٹھا دیا۔ وہ عورت درزن تھی۔ شبنم نے کہا کہ کیا ان کا فون نمبر ہے وہ کدھر گئے ہیں شبنم نے جھوٹ بولا وہ میری ماں کی سہیلی تھیں میں بچپن میں ادھر آیا کرتی تھی اس گھر سے مجھے بہت لگاؤ ہے۔ میں شادی کر کے باہر ملک چلی گئی تھی اور اب ادھر سے گزری تو ان لوگوں کی یاد آ گئ اور ملنے چلی آئی وہ حسرت سے پورے کمرے میں نظریں گھما کر دیکھ رہی تھی پھر اس نے پوچھا ان کا کوئی فون نمبر ہے تو پلیز دے دیں۔
عورت بولی میرے شوہر کے پاس ہے ابھی بس آنے والے ہیں۔ شبنم نے ان سے بات چیت شروع کر دی اور کہا کہ اس نے بھی سوٹ سلوانا ہے وہ عورت خوش ہو گئ اور بولی ویسے میں سوٹ بیچتی بھی ہوں اگر آپ لینا چاہیں پھر بیٹی کو زور سے آواز دی وہ اند آئی تو اسے بولی باجی کو کپڑے دیکھاو۔ شبنم نے ان کی غربت دیکھتے ہوئے ان سے چند سوٹ خرید لے اور سلائی بھی ایڈوانس دے دی اور اپنا ناپ کروا دیا اور ان کو سلائی کے علاوہ بھی فالتو رقم دے دی۔ وہ تو اس کے آگے بچھ گئے۔ انہوں نے اسے اس کی خواہش پر پورا گھر دیکھایا وہ آنکھوں میں آنسو لیے اس گھر کو دیکھنے لگی۔ اب وہ بے چینی سے اس کے شوہر کا انتظار کر رہی تھی تاکہ ان سے نمبر لے سکے۔
پیسے ملتے ہی ان لوگوں نے اس کی آو بھگت شروع کر دی۔ شبنم نے اس لڑکی کا نمبر بھی لے لیا۔ جوں ہی اس کا شوہر آیا اس نے ان سے نمبر لیا اور پوچھا کوئی اور نمبر بھی ہے کیا۔؟ انہوں نے کہا کہ ان کے بیٹے کا ہے اس نے وہ بھی لیا پھر وہ رکی نہیں اور گاڑی اسٹارٹ کر کے مکڈونلز چلی آئی اور ایک کونے میں بیٹھ کر نمبر ملانے لگی۔
جاری ہے۔
پلیز اسے لاہک، شہیر اور کمنٹ کرنا نہ بھولیں شکریہ۔
ناول نگار۔ عابدہ زی شیریں

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.