Muhabbat Dil Ka Zehr Ya Suroor
Episodes
شبنم ملکہ بی کو دیکھ کر ڈر گئی مگر اس نے مسکراتے ہوئے تھپکی دی کہ اگر تم نے اس کے ساتھ تعاون کیا اور اسے خوش کیا تو تمہیں الگ کمرہ مل جائے گا اس میں ٹی وی بھی دل بہلانے کے لیے ہو گا اور تمھاری پڑھائی بھی جاری رہے گی بولو منظور۔
شبنم نے دل میں سوچا کہ اب وہ کسی صورت بچ تو نہیں سکتی بہتر ہے کہ ان کی مجبوری بات مان لینے میں ان کا اعتماد حاصل کر لے گی اور کھبی نہ کھبی اس گندگی سے نکلنے میں ضرور کامیاب ہو جائے گی چاہے بڑھاپا آ جاے مگر وہ اس زندگی میں رہنا قبول نہیں کرے گی اور موقع کی تلاش جاری رکھے گی۔ اس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
ملکہ بی نے خوشی اور جزبات میں اسے شاباش دیتے ہوئے گلے سے لگا لیا۔ اور کہا کہ اب تم دیکھنا میں تمہیں کتنا سکھ دیتی ہوں۔ اور اسے پیار کرتے ہوئے باہر نکل گئی۔
شبنم مسلسل خاموشی سے آنسو بہاتی رہی وہ شخص اس کی تعریف میں اور حسن میں ڈوبا رہا اس نے کہا کہ اس نے ملکہ بی کو بہت بڑی رقم ادا کی ہے اور اب تمہیں بھی کچھ دینا چاہتا ہوں مجھے پتا ہے تمہیں تو ایک روپیہ بھی نہیں ملے گا اس نے ایک موٹی گڈی اس کے حوالے کرتے ہوئے رازداری سے کہا کہ اسے رکھ لو شاید یہ تمھارے فرار میں مدد کرے۔
شبنم روتے ہوئے بولی تم بھی تو میری مدد کر سکتے تھے۔
وہ بولا میں جانتا ہوں تم شرافت کی زندگی گزارنا چاہتی ہو مگر میں ان لوگوں کا مقابلہ نہیں کر سکتا نہ ہی میں ان چکروں میں پڑنا چاہتا ہوں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ جو بھی کسٹمر آئے اس سے کچھ رقم مانگ لیا کرنا اور اسے جمع کرتی رہو۔ ہر کوئی پیسے کے پیچھے کام کرتا ہے اس رقم سے تم فاہدہ اٹھا کر ادھر سے نکلنے کی سبیل بنا سکتی ہو۔ میں نے تمہیں دیکھا سمجھ گیا کہ تم مجبور کی گئی ہو۔ میں باہر گیا اور ملکہ کو مزید رقم دی کہ اسے صرف میرے لیے ہی بک رکھنا اس نے وعدہ کر لیا۔ اب کم از کم تم دوسروں سے تو بچ سکتی ہو۔ ویسے بھی اگر میں تمہیں چھوڑ دیتا تب بھی تم بچ نہ پاتی اس نے کسی اور کے حوالے کر دینا تھا۔ تم فلحال ان کے چنگل سے نہیں نکل سکتی۔ میں اگلی بار آوں گا تو تمہیں موبائل لا کر دوں گا تم اسے چھپا کر رکھ لینا۔ ابھی ان کا اعتماد بحال کرنے کی کوشش کرو۔ مجھ میں دنیا سے لڑنے کا اور اپنے بیوی، بچوں سے مقابلہ کرنے کا حوصلہ نہیں ہے کہ میں تم سے نکاح کر کے الگ رکھ سکوں۔ میں نے امیر بیوہ سے شادی کی ہے اور اب میں دو بچوں کا باپ ہوں۔بیوی میری بڑی عمر کی اور کم شکل ہے تو میں ادھر دل بہلانے آ جاتا ہوں۔ میں بہت اچھا بزنس مین ہوں۔ بیوی کے پیسے کو خوب بڑھایا ہے۔ اب تم پر فدا ہو گیا ہوں۔ تم اب رونا دھونا چھوڑو اور ملکہ بی پر ایسے تاثر دو جیسے تم بہت خوش ہو تاکہ وہ تم پر اعتماد کر کے تمھیں مراعات دے سکے۔ اگر تم کہیں چلی بھی گیء تو مجھے خوشی ہو گی مگر پلیز مجھ سے رابطہ نہ رکھنا کھبی ملی بھی تو انجان بن جانا میں اپنی بیوی بچوں کو نہیں کھو سکتا نہ ان سے دور رہ سکتا ہوں۔
شبنم نے کہا کہ پھر تو آپ کو ایسے کام نہیں کرنے چاہئیں جن سے گھر َاجڑنے کا ڈر ہو ویسے بھی یہ گناہ کا رستہ ہے۔ اس آدمی نے کہا کہ تم ٹھیک کہتی ہو جب تک تم ادھر ہو میں آوں گا اس کے بعد کھبی ادھر کا رخ نہیں کروں گا۔ اس نے اسے رقم دی تو شبنم نے چھپا لی۔
ملکہ بی اندر آئی تو اس نے اسے شاباش دی تو وہ جواب میں دکھ بھری مسکراہٹ سے دکھی دل سے مسکرا دی۔ ملکہ بی نے اسے الگ کمرہ دے دیا اور وعدے کے مطابق اس میں ضرورت کی ہر چیز رکھوا دی۔
شبنم نے کمرے کو دیکھا تو دل سے آہ نکلی۔ اس کمرے کے لیے اسے بھاری قیمت چکانی پڑی تھی اسے ان شریف گھریلو لڑکیوں پر رشک آیا جو کتنی عزت سے اپنے شوہر کے گھر میں رہتی ہیں اور سارا گھر ان کا اپنا ہوتا ہے اور پھر بھی ان کو عزت کے ٹھکانے اور عزت دار زندگی کی قدر نہیں ہوتی پھر بھی ان کو اس زندگی سے گلے اور عزت دینے والے شوہر سے گلے رہتے ہیں۔ کاش کوئی ان طوائفوں کی زندگی کو دیکھے جو کچھ مجبوری طوائف بن کر گناہ کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوتی ہیں اور ان جیسی زندگی گزارنے کے لیے ترستی ہیں۔
شبنم نے سوچا ہو سکتا ہے کہ ملکہ بی نے کمرے میں کیمرہ لگایا ہو اس لیے اسے احتیاط کرنی پڑے گی اب وہ رقم تکیے میں کیسے محفوظ کرے۔ صرف باتھ روم ایسی جگہ تھی جہاں کیمرا نہیں تھا اب وہ تکیے کو باتھ روم کیسے لے کر جاے اس نے جوس پیتے ہوئے تکیے پر بہانے سے جوس گرا دیا اور جلدی سے تکیہ لے کر رقم اس میں چھپا دی اور جوس دھو دیا اس نے کمرے کی کا لاک بھی کھلا رہنے دیا تاکہ ملکہ بی کو بھروسہ ہو جائے۔
وہ گیلا تکیہ کمرے سے لا رہی تھی کہ ایکدم سے ملکہ بی کمرے میں داخل ہوئی تو شبنم نے اپنے اوپر قابو پاتے ہوئے اسے نارمل طریقے سے کہا کہ تکیے پر جوس گر گیا تھا ملکہ بی نے تکیہ ہاتھ میں لے کر اسے بغور دیکھنے لگی۔ شبنم پریشان ہو گئ۔
جاری ہے۔
ازقلم عابدہ زی شیریں۔
پلیز اسے لاہک، شہیر اور کمنٹ کرنا نہ بھولیں۔
شکریہ

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.