Logo
Muhabbat Dil Ka Zehr Ya Suroor
30 Episodes
Muhabbat Dil Ka Zehr Ya Suroor EP 22
Episode 22

محبت دل کا زہر یا سرور 22

Muhabbat Dil Ka Zehr Ya Suroor


بائسواں حصہ - 22nd Part

 

شبنم کو ماں یاد آ رہی تھی پھر اسے فکر تھی کہ وہ کب ڈاکٹر صاحب کی دعوت کر کے فارغ ہوتی ہے۔ چند بار اس نے ڈاکٹر صاحب کی بیوی سے فون کر کے کہا تو اس نے کہا کہ ابھی تو فلاں جگہ جانا ہے وغیرہ وغیرہ۔ اس کی باری نہ آ رہی تھی۔ اس نے ڈاکٹر صاحب کی ماں کو فون کیا تو پہلے انہوں نے حسب معمول بہو کی بہت سی برائیاں کیں پھر اس کے روٹھ کر جانے کا بتایا تو وہ پریشان ہو گئی۔ اسی وقت ان کے گھر جانے کا ارادہ کیا۔ سامنے سے خالہ جی آ رہی تھی انہوں نے پوچھا کہاں جا رہی ہو تو اس نے بتایا کہ ڈاکٹر صاحب کے گھر جا رہی ہوں ان کی امی نے بلایا ہے ملنے کے لیے۔

شبنم ان کے پاس بیٹھی چاے پی رہی تھی تو وہ وجہ بتا رہی تھیں کہ میکے جا کر ہماری شکایتیں لگاتی ہے کہ ساس، سسر مجھے پسند نہیں کرتے۔ وہ چاہتے ہیں کہ میں ان کی نوکرانی بن کر رہوں وغیرہ وغیرہ۔

ڈاکٹر صاحب اچانک آئے کافی رنجیدہ لگ رہے تھے اس پر نظر پڑتے ہی چہرہ کھل گیا۔ اس کا حال احوال پوچھا اور کمرے میں چلے گئے۔ شبنم پھر رکی نہیں اور واپس آ گئی۔

وہ کافی اداس تھی۔ اس نے ان کی صلح کی رب سے رو رو کر دعائیں شروع کر دیں ان کا گھر بسا دیکھنا چاہتی تھی آخر وہ اس کے محسن تھے۔

ڈاکٹر صاحب کی ماں، بہو کے لباس، اس کا گھر کو توجہ نہ دینا، لیٹ اٹھنا کھانا نہ پکانا وغیرہ ان سب باتوں سے وہ سخت نالاں تھی۔ اس کو گئے چند ماہ ہو چکے تھے اور انہوں نے شوہر کے کہنے پر اسے فون کیا تھا تو اس نے رکھائی سے جواب دے کر آنے سے صاف انکار کر دیا تھا۔ اس کے بعد سے ڈاکٹر صاحب نے سختی سے منع کر دیا کہ وہ اب دوبارہ اسے فون نہیں کریں گی۔ اس کے باپ نے ایک بار ڈاکٹر صاحب کو فون کیا تو ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ اس نے میری ماں سے بدتمیزی کی ہے میں اسے لینے نہیں آؤں گا۔ اس کے بعد ان کی طرف سے رابطہ نہ ہوا۔

اب ڈاکٹر صاحب کی ماں شبنم سے شادی پر زور دینے لگی۔

شوہر منع کرتا تو بیوی غصے سے کہتی 

"اس کی حرکتیں دیکھی ہیں نہ وہ بسنا چاہ رہی ہے نہ اس میں گھر داری کا سلیقہ ہے۔" 

ڈاکٹر صاحب بھی رضامند ہوگئے اور شبنم کو اصرار کرنے لگے انہوں نے ماں کو کہا کہ وہ ابھی مان نہیں رہی مگر وہ اسے منا لیں گے۔

شبنم کو پہلے روز ڈاکٹر صاحب کی ماں کا فون آتا وہ اسے مناتی تو شبنم بڑے پیار سے سمجھا بجھا کر منع کر دیتی۔ ڈاکٹر صاحب کا اصرار بھی بڑھنے لگا مگر وہ نہ مانتی۔

ڈاکٹر صاحب کی بیوی نازونعم میں پلی تھی۔ وہ والدین کو صاف کہتی کہ وہ ادھر اب کھبی نہیں جائے گی اس کی ساس اسے بات بات پر ٹوکتی ہے اسے ناپسند کرتی ہے وہ شبنم کو بہو بنانا چاہتی تھی۔ والد نے پوچھا 

"وہ تو شبنم کو بہت اہمیت دیتے ہیں پھر شادی کیوں نہ کی۔"

ڈاکٹر صاحب کی بیوی تھوڑی دیر کے لیے سوچ میں پڑ گئی کہ باپ کو بتا دے پھر ڈاکٹر صاحب کی کہی ہوئی بات یاد آ گئی کہ انہوں نے سختی سے کہا تھا کہ اگر یہ بات تم نے کسی کو بتائی تو میں تمہیں طلاق دے دوں گا تو وہ بس اتنا بتا سکی کہ وہ بیوہ تھی اس لیے۔

ڈاکٹر صاحب کے سسر مسکرا کر بولے 

"بیوہ سے شادی کرنا آسان بات نہیں بڑے جگر کی بات ہے۔"

ڈاکٹر صاحب کی بیوی شوہر کو چھوڑنا نہیں چاہتی تھی وہ اس سے پیار بھی کرتی تھی۔ وہ چاہتی تھی کہ ڈاکٹر صاحب اسے منتیں کر کے لے کر جائیں اور شبنم سے زیادہ اسے اہمیت دیں۔ مگر وہ تو چند بار مختصر فون کر کے اسے جتا رہے تھے کہ جیسے گئی ہو ویسے خود آ جاؤ میں لینے کھبی نہیں آوں گا اور وہ اکڑ جاتی اور شبنم کو کوسنے لگتی تو وہ غصے سے فون بند کر دیتے۔

ڈاکٹر صاحب کے سسر بیٹی کو سمجھاتے کہ تم اپنا گھر دوسروں کے لیے خراب نہ کرو۔ ساس کو خوش رکھو تو شوہر بھی خوش ہو جائے گا۔ اس کی باتوں کو مان کر دیکھو اچھا لگے گا۔ اب وہی تمھارا گھر ہے۔ ماں غصے سے کہتی کیوں کیا ہم بیٹی کو پال نہیں سکتے کیا جو ساس کی غلامی کرنے بھیج دیں میری بیٹی ادھر ہی رہے گی اور میں اسے ان سے چھٹکارا دلاؤں گی۔

بیٹی ماں کو کہتی 

"میں طلاق بھی نہیں لوں گی اور جاؤں گی بھی نہیں۔"

باپ بیٹی کو سمجھاتا کہ شبنم بیوہ اور اکیلی ہے اگر وہ اس کی خبرگیری کرتا ہے تو کرنے دو۔ جو تمھارا مقام ہے وہ اس کا تو نہیں ہے نا تم اسے خوش رکھو۔ وہ اس کے پاس نہیں جائے گا پھر اس کا بھی کوئی رشتہ ڈھونڈ کر شادی کرا دینا۔ اب اس کی ماں اسے شبنم سے شادی پر اصرار کر رہی ہے اور وہ مان بھی گیا ہے بس شبنم نہیں مان رہی۔ یہ نہ ہو کہ وہ تمہیں طلاق دیے بغیر ہی شادی کر لے پھر کیا کرو گی کہاں جاؤ گی۔

بیوی اکڑ کر غصے سے کہتی 

"کرتا ہے تو کرے طلاق تو ہم خود لے کر رہیں گے۔ آخر کون سی بیوی شوہر کو کسی دوسری عورت سے ناطہ رکھنے دیتی ہے یا برداشت کرتی ہے۔"

شوہر بیوی کو سمجھاتا 

"تم بیٹی کو طلاق دلوا کر کیا کرو گی۔ وہ وثوق سے کہتی اس کی کسی سلجھے ہوئے اچھے شخص سے شادی کروا دوں گی یہ لوگ میری بیٹی کے قابل نہیں۔"

شوہر نے کہا 

"ایک طلاق یافتہ سے کون اچھا شادی کرے گا۔" 

بیٹی والدین کی بحث و تکرار سے پریشان ہوتی اور کوئی فیصلہ نہ کر پاتی کہ باپ اصرار کرتا کہ وہ تمھارا اپنا گھر ہے تم خود چلی جاؤ شکر کرو وہ تمھیں آنے دے رہا ہے، جبکہ ماں نہ جانے دیتی۔

ڈاکٹر صاحب ماں کے بےحد اصرار اور بیوی کی بےرخی سے تنگ آ کر مسلسل شبنم کو شادی پر منانے لگے۔ شبنم کہتی میں کسی کا گھر خراب کر کے اس پر سوکن بن کر نہیں جا سکتی میرا مقصد والدین کو تلاش کرنا ہے۔

ڈاکٹر صاحب کی ماں روز شبنم کو فون کر کے اسے منانے کی کوشش کرتی۔ شبنم نے ڈاکٹر صاحب کی بیوی سے ملنے کا فیصلہ کیا اور اسے میسج کیا کہ وہ ڈاکٹر صاحب کی کوئی ضروی بات کرنے اس سے ملنا چاہتی ہے۔ میسج کا جواب نہ آیا تو وہ ان کے گھر آٹو کر کے چل پڑی۔ ڈاکٹر صاحب کی ڈھولکی پر ان کے گھر جا چکی تھی۔

وہ وہاں پہنچی تو ڈاکٹر صاحب کے سسر اس سے اخلاق سے ملے حال احوال پوچھا اور عزت سے ڈرائنگ روم میں بٹھایا ملازم کو جوس لانے کا کہا، وہ لے آیا اسے پیش کیا اور کہا 

"بیٹا آپ انتظار کریں میں بیٹی کو بھیجتا ہوں۔"

شبنم آہستہ آہستہ جوس پیتی اس کا انتظار کر رہی تھی۔

ڈاکٹر صاحب کے سسر بیٹی کے پاس گئے اور اسے سمجھانے لگے کہ اس سے اخلاق سے پیش آنا اس سے بدتمیزی نہ کرنا ورنہ ڈاکٹر صاحب ناراض ہوں گے تو بیوی تڑخ کر بولی 

"میرا خیال ہے کہ اسے سبق سکھایا جائے۔"

شوہر نے بیوی کو سختی سے کہا 

"تم نے اندر نہیں جانا"

اور بیٹی سے کہا 

"اگر تم واقعی اپنے شوہر کو چھوڑنا چاہتی ہو اور اسے شبنم سے شادی ہوتے دیکھنا چاہتی ہو تو جو مرضی کرو۔ اگر اس کے ساتھ رہنا چاہتی ہو تو اس کے ساتھ تمیز سے پیش آنا یہ نہ ہو ڈاکٹر صاحب اس سے بدتمیزی پر غصے سے طلاق بھجوا دیں۔ ویسے بھی وہ اب ماں کے اصرار پر اس سے شادی پر راضی ہیں۔ مجھے ان کا ملازم خبریں دیتا ہے۔ اب تم نے فیصلہ کرنا ہے اسے شبنم کو سونپنا ہے اور خود اس کو ہمیشہ کے لیے دور کرنا ہے تو جاؤ جو جی میں آئے کرو میں تم ماں بیٹی کے غلط فیصلوں سے تنگ آ چکا ہوں۔" 

ڈاکٹر صاحب کی بیوی کچھ سوچتے ہوئے ڈراہنگ روم میں چل پڑی۔

جاری ہے۔

پلیز اسے لاہک، شہیر اور کمنٹ کرنا نہ بھولیں۔ شکریہ

ناول نگار عابدہ زی شیریں۔



Continue Reading
Episode 23
محبت دل کا زہر یا سرور 23

Reader Comments

No comments yet. Be the first to share your thoughts!

Log in to leave a comment.

Related Novels

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Premium Membership

Unlock the Full Library

One subscription. Every story. Unlimited reading.

PKR 300
30 Days of Unlimited Access
Go Premium Now

Secure payment  ·  Instant access

Full Novel Library
Access every premium & exclusive novel — no episode locked
Unlimited Reading
Read as much as you want, whenever you want, at your pace
Support the Author
Your subscription directly supports Abida Z Shireen's work
New Episodes First
Be the first to read every new episode as soon as it drops
A F S R N
Join thousands of readers already enjoying premium access
Loved by readers
Our Literary World

Experience the Best Urdu Novels Online

Dive into decades of storytelling by Pakistan's most beloved author, now at your fingertips.

50+
Published Novels
30+
Years of Writing
1M+
Readers Worldwide
100%
Authentic Stories
01

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Read Her Story
Abida Z Shireen
Author
02

Captivating Novels & Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Browse All Novels
Reading Urdu Novels on Tablet and Phone
Novels
03

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen's verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Explore Poetry
Elegant Desk with Pens and Books
Poetry