Muhabbat Dil Ka Zehr Ya Suroor
Episodes
شبنم جب سجدہ شکر میں جب رو رو کر تھک گئی دل کی بھڑاس کم ہوئی تو ایک نئے عزم سے اٹھی۔ پورے گھر کا جاہزہ لیا تو دل مطمئن ہو گیا کہ ڈاکٹر صاحب نے ضرورت کی ہر اشیاء ڈال دی تھی حتکہ اس کی الماری میں درجن بھر لیڈیز سوٹ بھی لٹکائے ہوئے تھے۔ چند جوڑے جوتے بھی موجود تھے۔ یہ دیکھ کر وہ حیران و پریشان ہو گئی۔ چاے بنا کر بریڈ اور آملیٹ بنایا اور ٹی وی الاونج میں ٹی وی لگا کر بیٹھ کر سوچنے لگی کہ آخر ڈاکٹر صاحب اس پر اتنے مہرباں کیوں ہیں۔ یہ نہ ہو کہ وہ مجھے یہاں لا کر اپنی رکھیل بنا کر رکھیں جس گناہ کی زندگی سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے یہاں آئی تھی یہاں بھی اس سے جان نہ چھوٹے۔ مگر وہ اللہ پاک کی رحمت سے مایوس بھی نہ تھی جو اسے اس خطرناک قید سے رہائی دلا سکتا ہے وہ اسے والدین سے بھی ضرور ملا دے گا اسے اپنے رب پر کامل یقین تھا۔ اس نے tv آن کیا کیبل بھی لگی ہوئی تھی۔ اس لیے اس نے ریموٹ سے چینل بدلنے شروع کر دیے اسے اپنی آزادی پر یقین نہیں آتا تھا۔ سارے گھر کو خوشی سے دیکھنے لگی جہاں ملکہ بی کا نام ونشان نہ تھا بلکہ مہربان پڑوسی خالہ جی مل گئی تھی جنہوں نے رات کا کھانا اسے بھجوایا تھا۔ رات کو ڈاکٹر صاحب کا فون بھی آ گیا دیر تک وہ ان سے کھل کر بے خوف ہو کر سکون سے بات کر رہی تھی وہ اسے کافی دیر تسلیاں دیتے رہے والدین سے ملنے کی آس بھی دلاتے رہے۔ پھر اسے سونے کی تلقین کر کے فون بند کر دیا اور وہ سکون سے نیند کی وادی میں چلی گئی۔
اس نے گھر میں کوکنگ شروع کر دی خالہ جی اسے کچھ نہ کچھ بھیجتی رہتی تھی۔
میلاد پر انہوں نے اسے محلے بھر کی عورتوں سے ملایا۔ بڑا سا دوپٹہ لپیٹے سپارہ پڑھتی سب سے اخلاق و محبت سے پیش آنے والی کو سب نے پسند کیا اور اس کی جوانی میں بیوگی پر افسوس کا اظہار کیا۔ پورے محلے میں اس کی تعریفیں ہونے لگیں جو مردوں سے مکمل پردہ کرتی تھی۔ ڈاکٹر صاحب آئے دن چکر لگاتے رہتے تھے۔ گھر اس کے نام کر دیا تھا۔ شبنم نے زبردستی رقم ادا کی تھی۔
ڈاکٹر صاحب نے پرائیویٹ اسکول میں نوکری بھی دلوا دی تھی وہ برقعے میں اسکول جاتی۔ محلے کا رکشہ بھی اسکول آنے جانے کے لئے لگا دیا تھا۔ محلے والے اس کی شرافت کے قابل ہو گئے۔
شبنم نے کسی اچھی فیملی کو اوپر والا حصہ کراے پر دینے کے لیے خالہ جی کو کہہ دیا تھا مگر رستہ اندر سے تھا اوپر کچن بھی نہ تھا تو لوگ پسند نہ کرتے۔
شبنم نے ڈاکٹر صاحب کے لیے کھبی آس دل میں نہ لگای۔ وہ سمجھتی تھی کہ ڈاکٹر صاحب نے کھبی اس کی تنہائی کا بھی ناجائز فائدہ نہیں اٹھایا۔ وہ اس کے لیے فرشتوں سے کم نہ تھے۔ وہ سوچتی کہ ڈاکٹر صاحب کی نظروں میں اس کے لیے پسندیدگی نظر آتی۔ شبنم سوچتی کہ اگر انہوں نے اسے شادی کی آفر کی تو وہ انکار کر دے گی وہ اپنے آپ کو ان کے قابل نہ سمجھتی تھی۔
ڈاکٹر صاحب کی والدہ کی طبیعت خراب تھی تو انہوں نے اسے چند دن دیکھ بھال کرنے کی آفر کی تو وہ خوش ہو گئی۔
ڈاکٹر صاحب کی والدہ بہت اچھی تھی اس کی بیوگی پر افسوس کرتی۔ وہ اب اکثر اسے گھر بلانے لگیں۔ ایک بار وہ ڈاکٹر صاحب کے ساتھ کسی کام سے آئی تو اس کے گھر کا چکر بھی لگا لیا۔ خالہ جی جو شبنم کی پل پل کی خبر رکھتی تھی وہ بھی ملنے چلی آئی۔ ڈاکٹر صاحب کی عزت محلے والے بہت کرتے تھے کیونکہ وہ سب سے اخلاق سے پیش آتے تھے۔
شبنم کو آج ڈاکٹر صاحب کا فون آیا تھا کہ ان کی والدہ اسے گھر بلا رہی ہیں وہ بولے ڈرائیور بھیجوں گا جب وہ وہاں پہنچی تو ڈاکٹر صاحب کی والدہ نے اسے بتایا کہ ڈاکٹر صاحب کی شادی کی ڈیٹ فکس کر دی ہے تو وہ کافی حیران ہوئی دل کو دھچکہ سا لگا۔ ڈاکٹر صاحب نے اسے خبر تک نہ ہونے دی ویسے تو وہ اسے روز فون کرتے آتے جاتے گھر کی باتیں بتاتے۔ اب اتنی بڑی اور اہم بات وہ چھپا گئے۔ وہ آئے تو اس سے نظریں چرا رہے تھے۔ شبنم نے جلد ہی اپنے آپ پر قابو پا لیا تھا۔ رات کو لیٹی وہ گزرے دن کو یاد کر کے اپنے آنسوؤں سے تکیے کو گیلا کر رہی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ بھلا ایک طوائف سے کون شریف اور عزت دار انسان شادی کرے گا۔ پھر بھی سوچتی ہو سکتا ہے ڈاکٹر صاحب نے گھر والوں کو منانے کی کوشش کی ہو اور گھر والے نہ مانے ہوں۔
اس نے سوچا کہ وہ اب ان کی شادی کی تیاری میں ان کی والدہ کی حسبِ وعدہ پوری مدد کرے گی۔
روز وہ روز ڈرائیور شبنم کو بلا لیتی اور وہ بھی جی جان سے مدد کرنے لگی۔ گھر کے کھانے پکانے میں بھی ان کی مدد کرنے لگی وہ اس کے کھانے پسند کرتیں۔ وہ گھر کے فرد جیسی ہو گئی وہ اب ڈاکٹر صاحب سے گریزاں رہنے لگی وہ بھی نظریں چرانے لگے۔ کھبی وہ دکھی نظروں سے بھی اسے دیکھتے۔
شبنم ان کے گھر جاتی تو سب خوش ہو جاتے شادی میں آے مہمان بھی اس سے خوش ہوتے۔ ڈاکٹر صاحب کی منگیتر اپنی شادی کاسوٹ لینے گھر آئی وہ بھی اسے اخلاق سے ملی۔
شبنم کی وہاں ایک جوان ملازمہ سے بھی دوستی ہو گئی۔ اج اس نے اپنے اور ڈاکٹر صاحب کے بارے میں اس سے جو انکشاف سنا تو دنگ رہ گئی۔
جاری ہے۔
پلیز اسے لاہک، شہیر اور کمنٹ کرنا نہ بھولیں۔ شکریہ
ناول نگار عابدہ زی شیریں

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.