Muhabbat Dil Ka Zehr Ya Suroor
Episodes
قیوم نے فواد کو ڈھونڈنے کی کوشش کی مگر ڈھونڈنے میں ناکام رہا تو سوچنے لگا کہ چلو قبضہ تو میرا ہی ہے نا اسی پر عیش کرتے ہیں۔ اس نے پٹواری کو بلا کر زمینوں کا حساب کتاب لگوایا تو اس کے پاوں تلے سے جیسے زمین نکل گئی ایک حویلی اور کچھ زمینوں کے علاوہ ساری زمینیں فروخت ہو چکی تھی۔ وہ بہت پریشان ہوا کہ وہ تو بےسود انہیں تلاش کر رہا ہے فواد کا باپ تو بڑا تیز نکلا۔ اس نے بیٹوں سے کہا کہ اب اسی پر گزارہ کرو وہ سن کر بہت سٹپٹاے۔ انہوں نے تو جمع پونجی عیاشی میں اڑا دی تھی اور اب تو وہ کنگلے ہو رہے تھے۔
فواد شبنم کو پا کر بہت خوش تھا جس نے اس کی زندگی میں سکھ ہی سکھ بھر دیے تھے اور زندگی آسان ہو چکی تھی اس نے بزنس کی طرف دھیان لگانا شروع کر دیا بقولِ شبنم کے کارون کا خزانہ بھی ختم ہو جاتا ہے اس لیے جمع شدہ رقم سے بزنس شروع کرتے ہیں اس نے مشورہ دیا کہ پہلے چھوٹے پیمانے پر شروع کرتے ہیں پھر اس کا رزلٹ دیکھ کر اس کو بڑھا لیں گے اس نے کہا کہ مجھے ڈریس ڈیزائنر بننے کا شوق ہے اور آجکل پارلر بہت نفع بخش بزنس ہے اگر اس کام کو اللہُ تعالیٰ کا نام لے کر شروع کیا جائے اور اس کام کے ماہر لوگوں کو جاب پر رکھا جائے۔
فواد نے اس تجویز کو پسند کیا مگر اسے بیٹے کی طرف سے پریشانی لاحق تھی جو شبنم سے نفرت کرنے لگا تھا اور اس سے سیدھے منہ بات نہ کرتا اس سے رکھائ اور بدتمیزی سے پیش آتا۔
شبنم نے فواد کو پہلے دن سے ہی سمجھا دیا تھا کہ اس کا بیٹا ابھی ٹین ایج کا ہے اور وہ اسے جلدی قبول نہیں کرے گا اور اس کا ردعمل شدید ہو گا اگر آپ نے اس کو بےشک سمجھانے کے لیے ہی سہی میری طرفداری کی تو وہ مجھے اپنا دشمن سمجھنے لگے گا اور اسے مجھ سے پرسنیلٹی کلیش ہو جائے گا جو وقت کے ساتھ کم ہونے کی بجائے بڑھے گا اگر اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا جائے اس کے غصے اور نفرت کی طرف دھیان نہ دیا جائے تو وقت گزرنے اور میچور ہونے تک اس کا غصہ کم ہوتا جاے گا وہ بولی میں اس کی کسی بات کا برا نہیں مناوں گی آپ بھی اپنی روٹین میں اس سے پیار کرتے رہنا اور اسے یہ یقین دہانی کرواتے رہنا کہ آپ مجھے مجبوراً گھر سنبھالنے کے لیے لاے ہیں اس سے زیادہ آپ کی میرے لیے کوئی اہمیت نہیں ہے اور نہ ہی اس کے سامنے میری طرف دھیان دینا اس کی موجودگی میں آپ کی فل توجہ اس کی جانب ہونی چاہیے اگر آپ میری طرف متوجہ بھی ہوں تو اس پر اظہار کرتے رہیں گے دنیا میں بیٹے سے زیادہ انہیں کوئی عزیز نہیں ہے تاکہ وہ احساس محرومی اور احساس کمتری کا شکار نہ ہو۔
فواد نے شبنم کی نصیحت پر عمل کیا اور اس کا فائدہ یہ ہوا کہ وہ جو پہلے بدتمیزی کرتا تھا اس سے باز آ گیا اور ضرورت کے تحت اس سے رکھائ سے کھانا پینا مانگتا اور بلا ضرورت بات نہ کرتا۔
فواد بیٹے کے رویے پر شرمندہ اور دکھی ہوتا مگر شبنم حوصلہ دیتی۔ شبنم کی حوصلہ افزائی کی وجہ سے فواد نے پارلر اور بوتیک کا کام شروع کر دیا شبنم کو اس نے جاب چھوڑنے کا حکم دے دیا جو اس نے صاف لگتا تھا کہ دکھی ہو کر چھوڑ رہی ہے مگر انکار نہیں کیا۔
فواد نے اسے پہلے دن ہی سے کہہ دیا تھا کہ اسے جھوٹ سے نفرت ہے اور اس سے کھبی جھوٹ نہ بولنا۔ اس بات سے اکثر شبنم کھبی پریشان ہو جاتی وہ اسے سچائی بتا کر کھونا نہیں چاہتی تھی اور سچائی کے ظاہر ہونے کا بھی ڈر لگا رہتا تھا۔ شبنم نے اسے بتایا تھا کہ وہ بیوہ ہے اور اس کا اس دنیا میں کوئی نہیں ہے۔
فواد کے ساتھ مل کر شبنم نے خوب بزنس میں محنت کی اور کم عرصے میں ہی کافی اچھا رزلٹ ملا کہ فواد نے اسے بڑھانا شروع کر دیا۔
امر نے شبنم کو کھبی قبول نہ کرنے کا ارادہ کیا کہ وہ صرف اس کے باپ کی بیوی رہے گی اس کی ماں کی جگہ نہ لے سکے گی۔ باپ کی شادی کی پہلی رات اس نے قیامت کی گزاری۔ ساری رات اس نے کروٹیں بدلتے اٹھتے بیٹھتے اور روتے گزاری۔ اسے ماں بہت یاد آتی رہی۔ اس نے سوچا شبنم خوبصورت اور پڑھی لکھی عورت ہے جبکہ اس کی ماں انپڑھ اور اتنی خوبصورت بھی نہ تھی پھر اب تو باپ کی دل کی مراد بھر آئی تھی تو اب تو امر کے خیال کے مطابق اس کا باپ شبنم کی رفاقت میں اسے بھول جاے گا اسے دادا دادی بھی بہت یاد آتے رہے کہ وہ ہوتے تو شاید باپ دوسری شادی کی جرات نہ کر سکتا تھا۔ وہ ساری رات گھٹ گھٹ کر روتا اور تڑپتا رہا کافی بار خودکشی کا بھی خیال آیا مگر جرات نہ کر سکا۔
جاری ہے۔ پلیز اسے شہیر، لاہک اور کمنٹ کرنا نہ بھولیں۔
جزاک اللہ۔

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.