Loading...
Logo
Back to Novel
Muhabbat Dil Ka Zehr Ya Suroor
Episodes
قسط 1: محبت دل کا زہر یا سرور 1 قسط 2: محبت دل کا زہر یا سرور 2 قسط 3: محبت دل کا زہر یا سرور 3 قسط 4: محبت دل کا زہر یا سرور 4 قسط 5: محبت دل کا زہر یا سرور 5 قسط 6: محبت دل کا زہر یا سرور 6 قسط 7: محبت دل کا زہر یا سرور 7 قسط 8: محبت دل کا زہر یا سرور 8 قسط 9: محبت دل کا زہر یا سرور 9 قسط 10: محبت دل کا زہر یا سرور 10 قسط 11: محبت دل کا زہر یا سرور 11 قسط 12: محبت دل کا زہر یا سرور 12 قسط 13: محبت دل کا زہر یا سرور 13 قسط 14: محبت دل کا زہر یا سرور 14 قسط 15: محبت دل کا زہر یا سرور 15 قسط 16: محبت دل کا زہر یا سرور 16 قسط 17: محبت دل کا زہر یا سرور 16 قسط 18: محبت دل کا زہر یا سرور 18 قسط 19: محبت دل کا زہر یا سرور 19 قسط 20: محبت دل کا زہر یا سرور 20 قسط 21: محبت دل کا زہر یا سرور 21 قسط 22: محبت دل کا زہر یا سرور 22 قسط 23: محبت دل کا زہر یا سرور 23 قسط 24: محبت دل کا زہر یا سرور 24 قسط 25: محبت دل کا زہر یا سرور 25 قسط 26: محبت دل کا زہر یا سرور 26 قسط 27: محبت دل کا زہر یا سرور 27 قسط 28: محبت دل کا زہر یا سرور 28 قسط 29: محبت دل کا زہر یا سرور 29 قسط 30: محبت دل کا زہر یا سرور 30
Muhabbat Dil Ka Zehr Ya Suroor

محبت دل کا زہر یا سرور 10

From Muhabbat Dil Ka Zehr Ya Suroor - Episode 10

ملکہ بی نے شبنم کے کہنے پر ایک درمیانی عورت کا بندوبست کر دیا۔ شبنم بہت خوش ہوئی کہ شاید اب اس چنگل سے نکلنے کی کوئی سبیل نکل سکے۔ اس نے احتیاط کے نظریے اور اسے پرکھنے کے لیے ملکہ بی کی تعریفیں کرنی شروع کردی۔ ٹیچر نے اسے جانچنے والی نظروں سے دیکھا تو وہ سنبھل گئی۔


ٹیچر اسے بہت محنت سے پڑھانے لگی۔ شبنم بہت خوش تھی اور خود بھی جی جان سے محنت کرنے لگی۔


ایک دن اس نے ٹیچر کو ملکہ بی سے کہتے سنا کہ اس پر اعتبار نہ کرنا یہ باغی ہو کر بھاگ سکتی ہے کافی سمجھدار ہے۔


ملکہ بی نے کہا کہ میں اس پر مزید سخت پہرہ لگا دوں گی تم فکر نہ کرو۔


شبنم اداس ہو گئی اس نے سوچا تھا کہ وہ اب ایک عورت کو اپنا دکھ بتا کر مدد کی اپیل کرے گی مگر وہ بھی بسود نکلا۔


شبنم میٹرک کے بورڈ کے پیپرز دینے گئی تو وہی ٹیچر ادھر بھی تھی ملکہ بی کے سخت پہرے میں اسے لایا لے جایا جاتا۔ اندر بھی دو عورتیں اس کے ساتھ جاتیں۔


ٹیچر کی سخت محنت کی وجہ یہ تھی کہ ملکہ بی نے اسے کہا تھا کہ وہ جتنی جلدی اسے کورس ختم کرواے گی اتنا ہی وہ اسے معاوضہ ادا کرے گی۔


ٹیچر کے کہنے پر ہی اسے ایم اے تک تعلیم دینے کی کوشش کی گئی تاکہ وہ سی ایس ایس کا امتحان دے سکے اور ان کے لیے فاہدہ مند بنے۔


ٹیچر نے کہا کہ ویسے خطرہ بھی لاحق رہے گا اسے عہدہ


ملنے پر۔


ملکہ بی نے کہا کہ عزت ہی سب سے بڑی چیز ہوتی ہے۔ جب وہ نہیں رہے گی تو اسے کون قبول کرے گا اس لیے پھر یہ ہمارے ہی اشاروں پر ناچے گی ہم نچانا جانتے ہیں۔


میٹرک کے بعد اسے گاہک کے آگے پیش کرنے کے لیے تیار ہونے کا حکم ملا وہ دنگ رہ گئی تو ملکہ بی نے کہا کہ ہم تم سے زبردستی اپنی بات منوا تو لیں گے مانے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے بہتر ہے تم خود مان جاو ورنہ سختی کرنے پر مجبور نہ کرو۔


وہ ان معصوم لڑکیوں کے اوپر سختی ہوتے دیکھتی رہتی تھی اور ان کو درد سے سویا نہیں جاتا تھا وہ روتی چیختی تھیں آخر انہیں ماننی ہی پڑتی۔


جو لڑکی آسانی سے مان جاتی اسے اچھا لباس، اچھا کھانا اور آرام پہنچایا جاتا۔


شبنم کو ملکہ بی نے کہا کہ تمھارا اس کام کے لیے احتجاج کرنا یہ ثابت کرتا ہے کہ تم باغی زہن کی مالک ہو اس لیے تمہیں سبق سکھانا ہی پڑے گا۔


شبنم کے سامنے ان لڑکیوں کا تصور گھوم گیا جن پر تشدد ہوتا تھا تو اسے جھرجھری سی آ گئی۔


ملکہ بی نے کہا کہ اگر تم تشدد سے بچ کر بات مانو گی تو ہم تمہیں پڑھا لکھا کر بڑا عہدہ دلوا دیں گے۔ عہدہ ملنے کے باوجود تم ہمارے چنگل سے کھبی نہیں نکل سکتی ہر جگہ ہمارے چیلے موجود ہیں۔ ایک لڑکی دو بار باغی ہوئی ہر بار پکڑی گئی پھر اسے دوسروں کے لیے عبرت بنانے کے لیے اس کی وڈیو بنائی گئی اس پر تشدد دیکھ کر سب ڈر کر آرام سے راضی ہو جاتی ہیں۔ پھر اسے وڈیو دکھائی گئی تو شبنم کو پسینہ آ گیا اور آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ اس نے ملکہ بی سے پوچھا کہ آپ بھی عورت ہو عورت تو رحم دل ہوتی ہے تو ملکہ بی نے کہا کہ تم واحد لڑکی ہو جسے میں فالتو بات کر لیتی ہوں ورنہ ایک لڑکی نے ایسا سوال پوچھا تھا تو اسے کوڑے پڑے تھے۔ ویسے بھی کچھ عورتیں ہی عورت کے ساتھ ظلم کرتی ہیں ہماری طرح ان پر تشدد نہیں کرتیں مگر ان کا بسا بسایا گھر اجاڑ دیتی ہیں ان سے شوہر چھین لیتی ہیں اور ان کے بچوں کو بات کے ہوتے ہوئے یتیم کر دیتی ہیں۔ اب تم بھی اسے اپنی قسمت سمجھ کر قبول کر لو۔ اگر تم مانو گی تو تمھارا تعلیمی شوق بھی پورا ہوتا رہے گا۔ تم نہ بھی پڑھو تب بھی ہمارا کام چل رہا ہے۔ شبنم نے سوچا اب مان جانے میں ہی شاید گاہک کو ترس آ جاے اور اس کی جان چھوٹ جائے ان لوگوں سے رحم کی بھیک مانگنی بےسود ہے۔


شبنم کو تیار کیا گیا ملکہ بی نے صاف کہا کہ گاہک کو خوش کرو گی تو ہمیں مہربان پاو گی اگر اس نے شکایت کی تو سزا ملے گی۔


شبنم کا دل دکھ سے بھر رہا تھا مگر وہ ضبط کر رہی تھی وہ ملکہ بی کے سامنے رونا نہیں چاہتی تھی۔ اس نے گاہک کو دیکھا گنجا سا تھا درمیانی عمر کا تھا وہ جب کمرے میں آیا شبنم کو پرشوق نظروں سے غور سے دیکھا اور کمرے سے باہر چلا گیا۔ شبنم اسے باہر جاتا دیکھ کر حیران ہونے لگی۔اور دل میں ڈرنے لگی کہ اب شاید اس پر تشدد ہو گا وہ تشدد پر بھی تیار ہو جاتی مگر تشدد کے ساتھ ان پر زبردستی کی جاتی عزت پھر بھی نہ بچتی۔


شبنم صرف پندرہ سال کی معصوم کلی تھی۔ مگر وقت اور حالات نے اسے سمجھدار بنا دیا تھا وہ خوبصورت تھی۔ نیک دل کی مالک تھی وہ نماز سیکھ چکی تھی اسے ماں بچپن میں ساتھ پڑھایا کرتی تھی وہ چھپ کر چادر پر ہی نماز ادا کرتی کیونکہ جو لڑکی نماز وغیرہ پڑھتی اس پر سخت پہرہ ہوتا کہ یہ لڑکی بھاگ سکتی ہے۔ شبنم خاموشی سے ڈانس کی تربیت بھی لیتی۔ فیشن بھی کروانے پر احتجاج نہ کرتی کہ وہ اسے باغی نہ سمجھیں۔ گانے کی تربیت بھی لیتی اس کی آواز بھی اچھی تھی کچھ گاہک اس کے گانے کی فرمائش کرتے کچھ ڈانس کی۔ وہ زہین تھی اس نے اپنے آپ کو قسمت کے دھارے پر چھوڑ دیا تھا مگر وہ اپنے رب سے اس دوزخ اور گندگی سے نجات کی دعائیں ہر وقت کرتی۔ اپنے والدین سے ملنے کی دعائیں کرتی اور پاکیزہ اور گھریلو زندگی گزارنے کی اپنے رب سے دعائیں کرتی۔ ہر وقت وضو میں رہنے کی کوشش کرتی۔


ملکہ بی نے زور دار جھٹکے سے دروازہ کھولا تو شبنم ڈر گئی پیچھے سے وہ مرد بھی اندر آ گیا۔


جاری ہے۔


پلیز اسے لاہک، شہیر اور کمنٹ کرنا نہ بھولیں۔


جزاک اللہ


ناول نگار۔ عابدہ زی شیریں۔



Reader Comments

Be the first to leave a comment on this episode!


Log in to leave a comment.

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Unlock the Full Library

PKR 300

For 30 Days of Unlimited Access

  • Read all premium and exclusive content
  • Enjoy a seamless, uninterrupted reading experience
  • Directly support the author and her work
Go Premium Now

Experience the Best Urdu Novels Online

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Captivating Novels and Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Reading Urdu Novels on Tablet and Phone

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen’s verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Elegant Desk with Pens and Books