Logo
Muhabbat Dil Ka Zehr Ya Suroor
30 Episodes
Muhabbat Dil Ka Zehr Ya Suroor EP 2
Episode 2

محبت دل کا زہر یا سرور 2

Muhabbat Dil Ka Zehr Ya Suroor


 دوسرا حصہ - 2nd Part

 

زہر تیری محبت کا شہد سے بھی میٹھا ہے

تیری چاہت کا اثر رگ و پے کا سرور ہے۔

 

امر دین کے رشتے دار کے گاؤں پہنچ گیا تھا اور باہر نکل کر دیکھا تو وہ پہاڑی علاقہ تھا، ایک گھر اس پہاڑ پر اور دوسرا اس پر۔ اسے بھوک لگ رہی تھی۔

مزارعے کا رشتہ دار جو جوان لڑکا تھا۔ یہی اسے فون پر راستہ بتاتا رہا تھا۔ اس نے اسے گرم جوشی سے سلام کیا مگر امر نے لفٹ نہ کرائی۔ وہ شرمندہ سا ہو گیا اس نے دل میں سوچا یہ بڑے لوگ صرف مطلب کی بات کرتے ہیں۔ وہ سوچنے لگا یہ تو ابھی بچہ ہے پھر بھی اس کی گٹی میں یہ عادتیں پڑی ہیں۔

امر کو باپ کی فکر ستانے لگی۔

فواد کا وفادار ملازم اس کا ساتھ دینے لگا وہ ڈاکٹر صاحب کا بیگ اٹھائے اندر آنے سے پہلے خفیہ طور پر فواد کا پیغام دینے لگا تو اس نے اس کو حیرت سے دیکھا۔ ملازم نے التجائی نظروں سے اسے دیکھا تو وہ جواب دیے بغیر اندر چل پڑا۔

اندر آیا تو فواد نے نوٹوں کی گڈی ہلکی سی تکیے کے نیچے سے دکھائی۔ فواد میٹرک پاس تھا ساتھ ہی کمرے میں قیوم داخل ہوا اور ایکٹنگ کرتے ہوئے بولا 

"ڈاکٹر صاحب میں اپنے ویر کے لیے بہت پریشان ہوں آج میں شہر جاؤں گا۔ کسی بڑے ہسپتال میں اسے داخل کرانے۔"

ڈاکٹر صاحب نے کہا 

"جی آپ فکر نہ کریں میں آپ سے ہر قسم کا تعاون کرنے کو تیار ہوں۔"

قیوم نے مسکراتی آنکھوں سے مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے اسے دیکھا۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا 

"زرا آج ایک کپ چائے مل سکتی ہے مجھے آج تھکن محسوس ہو رہی ہے۔"

وہ جلدی سے بولا 

"کیوں نہیں جناب آپ کو دودھ پتی پلاتے ہیں۔"

ڈاکٹر صاحب نے کہا 

"نہیں صاحب مجھے چائے پینے کی عادت ہے اس لیے صرف چائے یا اگر پکوڑے ساتھ مل جائیں تو کیا بات ہے۔"

قیوم نے کہا 

"ابھی حاضر ہوتا ہے صاحب۔"

ڈاکٹر نے بیگ کھولا اور کہا 

"اوہو میں ان کی دوا کلینک بھول آیا ہوں میں جا کر لے کر آتا ہوں۔"

قیوم بولا 

"ڈاکٹر صاحب کوئی بات نہیں آپ دوا بعد میں لے آنا پہلے چائے پی لیں۔ دراصل میں نے آج وکیل صاحب کو بلایا ہے۔ یہ دوائیں کھا کر سو جاتا ہے اور میں نے اس سے ضروری بات کرنی ہے۔ آپ ابھی میرے بھائی کو تسلی دیں میں چائے کا کہہ کر آتا ہوں۔"

وہ باہر نکلا تو فواد نے پوچھا 

"بولو کیا میرا ساتھ دو گے، ساتھ ہی نوٹوں کی گڈی نکالی" 

اس نے وعدہ کر لیا۔ فواد نے رقم دیتے ہوئے کہا 

"اب مجھے ان کے چنگل سے نکالو۔" 

اس نے کہا 

"میں کچھ کرتا ہوں۔" 

اس نے انگلش میں کہا 

"تمہیں کوئی بیماری نہیں ہے نہ ہی تم مرنے والے ہو میں تو تمہیں نیند کا انجکشن ڈرپ میں ڈال کر دیتا ہوں۔ یہ بات میں تمہیں بتانا چاہتا تھا انہوں نے مجھے آفر کی تو میں جھٹ مان گیا تاکہ تمھاری زندگی بچا سکوں انہوں نے مجھے کچھ رقم بھی دی ہے اور بھاری رقم کا وعدہ بھی کیا ہے۔ میں نے پہلے ان کا اعتبار جیتا اب چائے کے لئے کہا تاکہ موقع لگا کر تم سے بات کر سکوں۔ یہ چاہتے تھے کہ تمہیں یقین ہو جائے کہ تم مرنے والے ہو۔ تاکہ تمہیں اور تمہارے بیٹے کو مار کر جائیداد حاصل کر سکیں۔ اپنے بیٹے کو بھی بچاؤ اور کھاؤ پیو تاکہ طاقت آئے۔ یہ تمہیں جان کر کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ میں تمھاری ڈرپ میں طاقت کا انجکشن بھی ڈال دیتا ہوں تم خوب کمزوری کی ایکٹنگ کرو۔ میں تمہیں اس چنگل سے نکالنے کی تدبیر کرتا ہوں۔ وکیل بھی ساتھ ملا ہو گا جاہیداد کی اٹارنی دینے کی غلطی نہ کرنا۔ پولیس بھی اس علاقے کی ان کی سنتی ہے۔"

فواد نے کہا 

"مجھے معمولی زکام بخار تھا تو ان لوگوں کی حرکات مجھے مشکوک لگیں تو میں نے مہلت لینے کے لئے ان کا اعتبار جیتا اور ان کے دل کی بات خود ہی کر دی تاکہ یہ سمجھیں کہ میں انہیں ہی سب کچھ سونپ کر مرنا چاہتا ہوں۔" 

"اب بس تم آنکھیں موند لو میں نے اس دوائی کا نعمل بدل کھلا دیا ہے اور تم سو چکے ہو۔"

اتنے میں قیوم اندر آیا۔ پیچھے سے ملازم جائے اور لوازمات سے بھری ٹرالی لے آیا۔ فواد کی طرف دیکھا تو ڈاکٹر نے کہا  

"میں نے بہانے سے اس جیسی دوسری دوا پلا دی ہے اب چاہے ڈھول پیٹو کافی دیر یہ نہیں اٹھنے والا۔ ویسے اب اس میں لاغری زیادہ آ چکی ہے اور کسی وکیل پر بھی بھروسہ نہ کرنا۔ یہ پرانے اور اعتباری لوگ ہی اکثر دھوکہ دیتے ہیں۔ ایک وکیل نے کسی انپڑھ کی جاہیداد اپنے نام لکھوا لی تھی۔ اس لیے کہتا ہوں کہ تم انپڑھ لوگ ہو بےشک پرانا اور خاندانی وکیل ہو دھوکہ کر سکتا ہے۔ ابھی مجھے اس کے ٹیسٹ کرنے ہیں پھر کسی اور ایسے مریض سے تبدیل کرنے ہیں جس کی لاسٹ اسٹیج ہو۔ کیونکہ عدالت ثبوت مانگتی ہے اور ابھی جلدی نہ کرو اسے کھانا پینا دو تاکہ یہ زندہ رہے۔ آجکل کمپیوٹر کا دور ہے۔ پورا procedure ہوتا ہے۔ یہ نہ ہو کہ اس سے انگوٹھا لگوا کر یا وکیل کے کہنے پر چند کاغذات پر سائن کروا کر اسے مروا دو تو بعد میں جائیداد سے بھی ہاتھ دھو بیٹھو۔ میرا ایک دوست وکیل ہے وہ یہ قصے سناتا ہے۔ اسی طرح کسی کے ایک سائن کی وجہ سے ایک شخص جائیداد سے محروم رہ گیا اس نے بھی اسے مروانے کی جلدی کی تھی۔ بعد میں وہ شک کی بنا پر پکڑے بھی گئے اور باپ بیٹے جیل میں قید ہیں۔"

قیوم پریشانی سے بولا 

"اب کیا کریں ہم انپڑھ لوگ ہیں۔"

ڈاکٹر بولا 

"تو پڑھاو نا بچوں کو۔ کچھ لوگ شوق رکھنے کے باوجود پیسے نہ ہونے کے سبب تعلیم سے رہ جاتے ہیں۔ اور کچھ شوق کے پیچھے غربت میں بھی تعلیم حاصل کر لیتے ہیں اور پھر معزرت کے ساتھ تم جیسے پیسے اور جائیداد والے ڈاکٹروں اور وکیلوں کے محتاج ہوتے ہیں۔ سوچو تم لوگ اگر تعلیم بھی حاصل کر لو تو ان لوگوں کے دھوکے اور محتاجی سے بھی بچ سکتے ہو۔"

قیوم پچھتاتے ہوئے بولا 

"تم صحیح کہتے ہو۔ میرے دو بیٹے ہیں مگر میں نے انہیں تعلیم نہ دلائی کہ کیا ضرورت ہے جب ہم ساری زندگی بیٹھ کر کھا سکتے ہیں۔"

اتنے میں شور اٹھا تو قیوم تیزی سے باہر بھاگا۔


Continue Reading
Episode 3
محبت دل کا زہر یا سرور 3

Reader Comments

No comments yet. Be the first to share your thoughts!

Log in to leave a comment.

Related Novels

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Premium Membership

Unlock the Full Library

One subscription. Every story. Unlimited reading.

PKR 300
30 Days of Unlimited Access
Go Premium Now

Secure payment  ·  Instant access

Full Novel Library
Access every premium & exclusive novel — no episode locked
Unlimited Reading
Read as much as you want, whenever you want, at your pace
Support the Author
Your subscription directly supports Abida Z Shireen's work
New Episodes First
Be the first to read every new episode as soon as it drops
A F S R N
Join thousands of readers already enjoying premium access
Loved by readers
Our Literary World

Experience the Best Urdu Novels Online

Dive into decades of storytelling by Pakistan's most beloved author, now at your fingertips.

50+
Published Novels
30+
Years of Writing
1M+
Readers Worldwide
100%
Authentic Stories
01

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Read Her Story
Abida Z Shireen
Author
02

Captivating Novels & Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Browse All Novels
Reading Urdu Novels on Tablet and Phone
Novels
03

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen's verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Explore Poetry
Elegant Desk with Pens and Books
Poetry