Logo
Muhabbat Dil Ka Zehr Ya Suroor
30 Episodes
Muhabbat Dil Ka Zehr Ya Suroor EP 24
Episode 24

محبت دل کا زہر یا سرور 24

Muhabbat Dil Ka Zehr Ya Suroor


چوبیسواں حصہ - 24th Part

 

شبنم نے کل نکاح کے بندھن میں بندھنا تھا وہ مستقبل کے سہانے خواب دیکھ رہی تھی کہ وہ اب عزت سے زندگی جیے گی۔ ایک دن رہ گیا تھا مگر حیرت تھی کہ پہلے ڈاکٹر صاحب کی ماں اس قدر اتاولی تھی کہ بس نہیں چلتا تھا اسی دن ہی اسے نکاح کروا لے۔ اور جب سے وہ واپس آئی تھی نہ ہی اس کی ماں نے فون کیا اور نہ ہی ڈاکٹر صاحب نے۔ وہ یہ بات مانتی تھی کہ وہ بہت مصروف تھے۔ اب ایک دن رہ گیا تھا اور اسے ان لوگوں کی کوئی خبر نہ تھی۔ پہلے تو وہ شرم میں رہی پھر دہن میں آیا ہو سکتا ہے آنٹی اس سے ناراض ہوں کہ اس نے خود بھی فون نہیں کیا۔ وہ اسی بات کو سوچتی ہوئی ان کے گھر چل پڑی۔ وہاں یہنچی تو سامنے سے ڈاکٹر صاحب آ رہے تھے اسے دیکھ کر چونکے اس نے سلام کیا وہ جواب دے کر تیزی سے گاڑی اسٹارٹ کر کے نکل گئے۔

شبنم نے دل میں سوچا یہ تو ابھی بھی بہت مصروف لگ رہے ہیں کہ بات کرنے کا وقت بھی نہیں۔ پھر اس نے دل میں مسکراتے ہوئے سوچا شاید شرما گئے ہوں گے۔ اس کی واقف ملازمہ سامنے آتی نظر آئی اسے دیکھ کر چونکی سلام کیا اور جانے لگی تو اس نے آنٹی کا پوچھا اتنے میں آنٹی کمرے سے باہر نکلیں اسے حیرت سے دیکھا اس نے گرم جوشی سے سلام کیا انہوں نے سنجیدگی سے ماتھے پر بل ڈالے اسے دیکھا۔

شبنم نے دلار سے ان کی بازو کو پکڑ کر سلام کیا تو انہوں نے جھٹکے سے بازو چھڑوا لی اور اسے اگنور کر دیا۔ شبنم کنفیوژن کا شکار تھی کہ آنٹی کس بات سے اس سے خفا ہیں۔

ابھی وہ یہ سوچ ہی رہی تھی کہ سامنے سے ڈاکٹر صاحب کی بیوی ہاتھوں میں کپڑے اٹھائے آتی نظر آئی شبنم اسے دیکھ کر دنگ رہ گئی۔

اس نے شبنم کو دیکھا اور مسکراتی ہوئی گرمجوشی سے اس سے ملی۔ پھر آنٹی کو دیکھ کر بولی 

"ماما یہ آپ کے کپڑے دھوبی سے دھل کے آ گئے ہیں آپ کی الماری میں رکھ دوں۔"

ساس نے بدستور سنجیدہ شکل بنائی رکھی تھی اور تیوری پر بل تھے۔ اسے پیار سے ڈانٹتے ہوئے بولی

"تم کیوں کام کر رہی ہو تمہیں یہاں کام کے لیے تھوڑی لائے ہیں اس کام کے لیے ملازم ہیں تم آرام کرو۔"

پھر ڈانٹ کر زور زور سے ملازمہ کو آواز دینے لگیں۔ اور کمرے میں چل پڑیں۔ اتنے میں باہر گاڑی کی آواز آئی۔ ڈاکٹر صاحب اندر آ گئے۔ ان کی بیوی شبنم سے بڑے پیار سے گویا ہوئی 

"شبنم آرام سے بیٹھو تمھارا اپنا گھر ہے۔"

ڈاکٹر صاحب اسے اگنور کرتے اندر چل پڑے۔ ڈاکٹر صاحب کی بیوی نے اسے دیکھ کر کہا 

"شبنم میں نے تم سے بات کرنی ہے۔" شبنم بدستور خاموش تماشائی بنی ہوئی بیٹھی تھی۔

ڈاکٹر صاحب کی بیوی نے اس کا ہاتھ پکڑ کر پیار سے سہلاتے ہوئے کہا 

"تم نے میرا گھر بچایا ہے میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتی ہوں کہ تمہیں بھی کوئی عزت دینے والا شخص مل جائے۔"

پھر اس نے بتایا 

"جب وہ اس کے گھر آئی تو اسے بہت مظلوم اور معصوم لگی۔ پھر اس نے سوچا کہ اس کا شوہر ویسے ہی نہیں اس کا گرویدہ۔ حالانکہ میں تمھاری حقیقت جانتی بھی ہوں۔ پھر بھی میرا شوہر مجھے چھوڑ کر تمھاری عزت کرتا ہے۔ آخر میں کیوں نہیں عزت کروا سکتی۔ ساس میری تمھارے گن گاتی ہے۔ میرے کیوں نہیں۔ پھر تمھارے ساتھ ڈاکٹر صاحب کا سوچ کر میں کانپ گئی کہ کیا میں تمہیں ان کے ساتھ برداشت کر پاؤں گی جبکہ تم انہیں پانے اور میں کھونے والی تھی۔ پھر دوسرے دن اپنے پپی کو واک کروا رہی تھی کہ دو عورتوں کی گفتگو سن کر میں نے عقل پکڑ لی کہ عقلمند عورت کھبی زیادہ دیر اپنے شوہر سے ناراض نہیں ہوتی ہے اور نہ ہی اسے اکیلا چھوڑتی ہے اور نہ ہی اس سے لاتعلق رہتی ہے ورنہ وہ اکثر اسے کھو دیتی ہے۔"

"ہماری تعلیم، ہماری ڈگریوں کا کیا فائدہ کہ زندگی کے اہم معاملات کو بھی نہ چلا سکیں جو گھر اور گھر داری سب سے زیادہ ضروری ہے اسے اگنور کر دیں۔ زندگی کے اہم رشتوں شوہر ساری زندگی کا ساتھی اس کے پیارے سب کو چھوڑ کر زندگی بسر کریں۔میں نے اسی وقت ادھر آنے کا فیصلہ کر لیا۔" 

ڈاکٹر صاحب گھر پر تھے۔ سسر صاحب نے بھرپور پزیرائی کی اور تعاون کیا بیٹے اور بیوی کو سمجھایا 

"وہ تمھاری بیوی ہے۔ تمھاری وجہ سے خیال کرتے ہوئے خود واپس آئی ہے اسے ویلکم کرو۔ میں نے سب کو کھڑے کھڑے سوری بول دیا تو ڈاکٹر صاحب خوش ہو گئے۔ پھر انہوں نے کہا کہ پاپا شبنم کا کیا ہو گا۔"

ان کے پاپا بولے 

"ہم کوشش کر کے اس کی کسی اچھی جگہ شادی کروا دیں گے۔فی الحال تم اپنی بیوی کو سنبھالو۔ وہ تمھاری بیوی نہیں ہے۔"

ساس نے بدستور منہ بنائے رکھا ڈاکٹر صاحب بزی تھے چل پڑے۔ وہ ساس کے پاس گئی اور کہا کہ آپ شبنم کو لانا چاہتی ہیں تو میں آپ کو اس کی سچائی بتا دیتی ہوں پھر آپ اسے بےشک لے آنا۔ اس نے ساس کو اس کی ساری سچائی بتا دی۔

ساس دنگ رہ گئی اس نے کہا کہ توبہ استغفار میں ایک طوائف کو اپنی بہو بناؤں ابھی وہ یہ بول ہی رہے تھے کہ ڈاکٹر صاحب کچھ بھول کر اندر لینے آئے تو ماں کو کوسنے دیتے سنا۔ ڈاکٹر صاحب کی بیوی نے ساس کو بتایا کہ وہ پریگننٹ ہے ڈاکٹر صاحب کے کانوں میں یہ آواز پڑی تو وہ دل میں خوشی سے نہال ہو گئے ساس اس کی بلائیں لینے لگی اور بولی تم شبنم کے مقابلے میں کروڑوں درجے بہتر ہو اچھا ہوا میرے بیٹے نے اس سے شادی نہیں کی اگر کی ہوتی اور جب بھی مجھے سچائی پتا چلتی میں اسے ایک منٹ بھی گھر نہ رکھتی۔

ڈاکٹر صاحب کو بیوی کی پریگننسی کی خوشی بھی تھی اور شبنم کے لیے ماں کے خیالات سن کر شدید دکھ بھی ہو رہا تھا انہوں نے شکر کیا کہ وہ اس سے نکاح نہیں کر بیٹھے ورنہ وہ ماں اور بیوی کے درمیان سینڈوچ بن جاتے۔ پھر شبنم کہاں جاتی۔

وہ اندر آئے اور بیوی کو ڈانٹنے لگے 

"تم نے کسی کا پردہ اٹھا کر اچھا نہیں کیا تم جانتی ہو کہ شبنم کا اس میں کوئی قصور نہیں تھا۔"

ماں نے اسے ڈانٹتے ہوئے کہا 

"خبردار میری بہو کو کچھ کہا تو بھول جا اس ڈائن کو۔"

ڈاکٹر صاحب کی بیوی کو شبنم کا دل میں افسوس محسوس ہوا۔ اس نے ڈاکٹر صاحب کو کھڑے ہو کر ہاتھ جوڑ کر معافی مانگتے ہوئے کہا 

"آپ بےشک شبنم کے ساتھ نکاح کر لیں مجھے کوئی اعتراض نہیں۔"

ماں نے گرج کر کہا 

"خبردار جو اب اس کا نام بھی زبان پر لائے تو میں تمھاری شکل دیکھنا ساری زندگی نا پسند کروں گی۔"

باپ کمرے میں آیا اس نے بیٹے کو وارننگ دی کہ میں بھی ایسا ہی کروں گا۔

ڈاکٹر صاحب نے والدین کو دیکھا جنہیں وہ اپنا آئیڈیل مانتے تھے ان کو دل میں رنج ہوا کہ وہ شبنم کے لیے دنیا بھر سے لڑنے کو تیار تھے یہاں تو وہ اپنے پیاروں کو ہی نہ سمجھا سکے تھے۔ انہوں نے روندھی ہوئی آواز میں کہا 

"ٹھیک ہے میں اس سے شادی نہیں کروں گا مگر میرا بھی فیصلہ سن لیں۔ شبنم کا میرے علاوہ اس دنیا میں کوئی سہارا نہیں میں اس کی ساری زندگی کفالت کرتا رہوں گا۔ اس گھر میں سب اس کی عزت کریں گے جو اس کی بے عزتی کرے گا یا اسے طعنہ دے گا تو پھر وہ بھی میری شکل کے لئے ترسے گا۔"

ماں نے گرج کر کہا 

"اس دو کوڑی کی لڑکی کے لیے اپنی شریف خاندانی بیوی کو پرے کر رہا ہے۔"

باپ نے بیوی کو گھورا اور اشارہ کیا اور بیٹے سے کہا 

"ضرور ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ بلکہ اس گھر میں پہلے کی طرح اس کی عزت کی جائے گی اور اس کی کفالت میں مدد کریں گے واقعی وہ مظلوم بچی ہے۔"

بیوی بولی 

"میں اس کی کفالت میں آپ کا ساتھ دوں گی اور اس گھر کی ہر خوشی میں وہ ایک فرد کی طرح شامل ہو گی اور اس کی عزت کروں گی۔ آپ کو شکایت کا موقع نہیں ملے گا انشاءاللہ۔"

ڈاکٹر صاحب خاموشی سے واپس چلے گئے۔

شبنم نے سب سنا اور اس کی بیوی سے معزرت کرتی چل پڑی وہ روکتی رہ گئی۔

ڈاکٹر صاحب کی بیوی نے کہا 

"دیکھو شبنم تمھاری وجہ سے میرا گھر میرے ساس سسر مجھے اپنا رہے ہیں اور اگر تم ناراض ہوئی اور ڈاکٹر صاحب سے رابطہ پہلے جیسا نہ رکھا اور اس گھر میں آنا جانا نہ رکھا تو میرے شوہر مجھ سے نالاں رہیں گے اور مجھے دل سے معاف نہیں کریں گے۔"

شبنم نے کہا 

"تم فکر نہ کرو میں تمھارا گھر خراب نہیں کروں گی۔ اس وقت مجھے مت روکو۔ میں آتی جاتی رہوں گی اور اس میرا آپ لوگوں کے سوا ہے ہی کون۔ والدین پتہ نہیں ملتے بھی ہیں یا نہیں۔"

وہ روتی ہوئی چلی گئی اور ڈاکٹر صاحب کی بیوی کے بھی آنسو نہ تھمے اس نے جاتے جاتے روتے ہوئے اس سے معافی مانگی۔

جاری ہے۔

پلیز اسے لائک، کمنٹ اور دوستوں کو بھی شئیر کرنا نہ بھولیں شکریہ۔

ناول نگار عابدہ زی شیریں۔



Continue Reading
Episode 25
محبت دل کا زہر یا سرور 25

Reader Comments

No comments yet. Be the first to share your thoughts!

Log in to leave a comment.

Related Novels

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Premium Membership

Unlock the Full Library

One subscription. Every story. Unlimited reading.

PKR 300
30 Days of Unlimited Access
Go Premium Now

Secure payment  ·  Instant access

Full Novel Library
Access every premium & exclusive novel — no episode locked
Unlimited Reading
Read as much as you want, whenever you want, at your pace
Support the Author
Your subscription directly supports Abida Z Shireen's work
New Episodes First
Be the first to read every new episode as soon as it drops
A F S R N
Join thousands of readers already enjoying premium access
Loved by readers
Our Literary World

Experience the Best Urdu Novels Online

Dive into decades of storytelling by Pakistan's most beloved author, now at your fingertips.

50+
Published Novels
30+
Years of Writing
1M+
Readers Worldwide
100%
Authentic Stories
01

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Read Her Story
Abida Z Shireen
Author
02

Captivating Novels & Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Browse All Novels
Reading Urdu Novels on Tablet and Phone
Novels
03

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen's verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Explore Poetry
Elegant Desk with Pens and Books
Poetry