Muhabbat Dil Ka Zehr Ya Suroor
Episodes
شبنم نے شادی میں بھرپور مدد کی اس کی ماں اسے دیکھ کر آہیں بھرتی۔ ڈاکٹر صاحب ماں کے اس دکھ کو محسوس کر رہے تھے مگر دل میں کہتے ماما میں نے یہ سب آپ کی بہتری کے لئے کیا ہے ورنہ آپ خاندان سے کٹ کر رہ جاتی۔ پھر آپ کی زندگی مشکل ہو جاتی طعنوں سے جینا حرام ہو جاتا۔ وہ ماں کے سامنے خوش رہنے کی ایکٹنگ کرتے۔ وہ نیک دل انسان تھے اپنی بیوی کے حقوق وفراہض سے بھی غافل نہ تھے۔ ان کی بیوی بہت خوش تھی۔
ڈاکٹر صاحب نے اپنی بیوی کو چند دن بعد آرام سے سمجھایا اور کہا کہ اگر تم مجھ پر بھروسہ کرتی ہو تو مجھے شبنم کی خبرگیری کرنے سے کھبی نہیں روکو گی۔ اسے اس کی سچائی بتا دی وہ کافی حیران ہوئی اور بولی وہ تو واقعی قابل رحم ہے۔ اس کا تو آپ کے علاوہ اس دنیا میں کوئی نہیں۔ اب میں کھبی آپ کو اس کی خبرگیری سے نہیں روکوں گی وہ تو بہت آہیڈیل لڑکی ہے۔ آپ کا انتخاب واقعی لاجواب تھا مگر میں عورت ہونے کے ناطے حسد میں آ گئ تھی۔ اور میرا انتخاب بھی لاجواب ہے مجھے آپ پر فخر ہے اور مکمل بھروسہ ہے۔ مجھے شبنم پر بھی بھروسہ ہے اس نے اپنا وعدہ نبھایا آپ سے گریزاں رہی میں اسے اسپیشل نوٹ کرتی رہی۔ اس نے ہماری شادی میں موم کا بہت ساتھ دیا ہم اس کا شکریہ ادا کرنے اس کے گھر جاہیں گے اور گفٹس بھی لے کر جاہیں گے۔ سنا ہے موم اسے شادی پر سب فنکشنز کے لیے مہنگے سوٹ لے کر دینا چاہتی تھیں مگر وہ نہ مانی اور موم کے ناراض ہونے اور بہت اصرار کرنے پر ایک سوٹ کے پیسے لیے کہ وہ خود خرید لے گی اور موم بتا رہی تھیں کہ اس نے اس رقم سے تین سوٹ بنا لیے اور ان سستے سوٹوں کو بھی اس نے اس طرح ڈیزائنگ کی کہ کمال کر دیا اور ان میں بھی وہ بہت پیاری لگ رہی تھی کہ مجھے اپنے مہنگے سوٹ اس کے مقابلے میں نہ لگے کہ میرا جی چاہ رہا تھا کہ میں اس سے کہوں کہ مجھے بھی ایسے لا دو۔ واقعی شلوار قمیض میں عورت عورت لگتی ہے۔ میں تو شبنم کے لباس سے امپریس ہو گئی ہوں۔ بے ساختہ میں اس کی تعریف بھی کر بیٹھی تھی۔ اب تو مجھے اپنے ڈریسز جو میں نے بری اور جہیز میں لاتعداد خریدے تھے وہ بور لگنے لگے ہیں۔ موم کئی بار شبنم کے لباس کی تعریف کر چکی ہیں اور میں نے جو اتنے مہنگے لیے ان کی ایک بار بھی تعریف نہیں کی بلکہ میں نے ایک بار ان سے اپنے ڈریس کی تعریف کروانا چاہی تو وہ ناگواری سے بولیں یہ شادی شدہ لڑکی کو سوٹ نہیں کرتے۔ اب پلیز آپ بتائیں نا میں موم کو کیسے خوش کروں مجھے بہت خواہش ہے کہ وہ سب کے آگے میری تعریف کریں مگر وہ تو سب کے آگے شبنم کی تعریف کرتی رہتی ہیں اور سب ہاں میں ہاں ملاتے ہیں۔ پلیز آپ مجھے گاہیڈ کریں۔
ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ پہلے تو مجھے اس بات کی خوشی ہوئی ہے کہ میری بیوی رحم دل اور گڈ نیچر ہے۔ (ان کی بیوی کو شوہر کی تعریف سے دل خوشی سے بھر گیا)۔ پھر مجھے خوشی ہے کہ تم نے مجھ پر اور اس مظلوم شبنم پر بھروسہ کیا۔ دوسرے تم نے مجھے اس کی خبرگیری کرنے کی اجازت بھی دے دی۔ (ان کی بیوی کو اجازت کے لفظ سے شوہر کے دل میں اپنی اہمیت کا احساس ہوا اور دل خوش ہو گیا)۔
میں تمہیں کھل کر بتانا چاہتا ہوں اگر تم میری ماما کا دل جیتنا چاہتی ہو تو ان کی پسند اور ناپسند تمہیں بتا سکتا ہوں۔ تم شبنم کی کاپی کرو تو وہ ضرور خوش ہو جائیں گی۔ میں ان کا اکلوتا بیٹا ہوں اور ان کو بہو کے روپ میں شبنم بہت پسند تھی مگر میں سچائی سے بتانا چاہتا ہوں کہ اگر مجھے والدین کے لیے معاشرے کا ڈر نہ ہوتا تو میں اس سے شادی کر لیتا ایسی باتیں کر کے میں تمھاری دلشکنی نہیں کرنا چاہتا مگر میں ماں کو بھی ناخوش نہیں دیکھ سکتا۔ تم اگر مجھے خوش دیکھنا چاہتی ہو تو ماں کی پسند کو اپنی پسند سمجھو۔ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ میری ماں شبنم کے بارے میں اتنی سیریس ہے۔ ماہیں اپنے بیٹوں کی شادی میں سب سے زیادہ خوش ہوتی ہیں۔ مگر میں نے نوٹ کیا کہ وہ اس شادی میں سب سے زیادہ اداس تھیں اور میرا دل کٹ رہا تھا اور میں پچھتا رہا تھا کہ یہ میں نے کیا کر دیا۔ اس نام نہاد معاشرے کی فضول باتوں کے چکر میں ماں کا دل بھی ناخوش کیا ان کی اپنی پسندیدہ بہو لانے کی خواہش پوری نہ کی۔ مجھے یقین ہے کہ اگر میں شبنم کی سچائی بتا بھی دیتا تو تب بھی شاید وہ اسے قبول کر لیتں۔ اس کے علاوہ میں نے معاشرے کی باتوں سے ڈر کر ایک پرفیکٹ لڑکی کو چھوڑ دیا۔ (پرفیکٹ کہنے پر اس کی بیوی حیران ہوئی کہ کیا وہ پرفیکٹ نہیں ہے)۔
ڈاکٹر صاحب دکھ سے سوچتے ہوئے بولے میں جانتا تھا کہ شبنم ہر لمحہ بے قصور تھی وہ اپنی مرضی سے طوائف نہیں بنی تھی اس پر ظلم ہوا تھا اس کا درد بانٹنے کی بجائے اسے اکیلا چھوڑ دیا۔ دو آنسو ان کی آنکھوں سے گرے۔ وہ آنسو صاف کرتے ہوئے بولے اگر ہم اس معاشرے سے ڈرتے ہوئے مظلوم کو نہ اپناتے رہے تو یہ معاشرہ انہیں کھبی ان کو جینے حق نہیں دے گا۔ اور مظلوم ہمیشہ مظلوم رہے گا اور ظالم اور مضبوط ہو گا۔ کیا تھا اگر میں شبنم کو اپنا لیتا۔ رشتے دار اور جان پہچان والے باتیں بناتے تو بناتے رہیں ہم سے ناراض ہوتے ملنا جلنا چھوڑ تے تو اس سے ہمیں کیا فرق پڑنا تھا ہم ان کی پرواہ ہی نہ کرتے۔ کسی کو تو ہمت کر کے اس معاشرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مقابلہ کرنا چاہیے۔ کسی کو اتنی اہمیت ہی ہم کیوں دیتے ہیں کہ وہ ہماری زندگی میں زہر گھولنے کی جسارت کرے۔
انہوں نے بیوی کو سرزش کرتے ہوئے کہا کہ میری ماما کو شادی کے دو ماہ ہو چکے ہیں مگر تم ابھی تک انہیں خوش نہیں کر سکی۔ ان کو تمھارے یہ ڈریسز، پینٹ چھوٹی چھوٹی سی ٹی شرٹس سلیولیس بازو والے لباس سخت ناپسند ہیں انہیں وہ بےہودہ کہتی ہیں۔ کھانا تم ہوٹل سے آرڈر کرتی ہو جبکہ وہ گھر کے کھانے پسند کرتی ہیں شبنم جیسے مزےدار پکاتی ہے۔
ڈاکٹر صاحب کی بیوی غصے سے اٹھی اور تیز آواز میں چیختے ہوئے بولی کہ شبنم شبنم شبنم ان ماں بیٹے کو شبنم جیسا کوئی نہیں لگتا میں اب اس گھر میں ایک منٹ بھی نہیں رکوں گی ساس، سر روکتے رہے۔ مگر وہ بیگ بنا کر گاڑی اسٹارٹ کر کے جانے لگی تو ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ میں یہ سوچ لینا کہ میں تمہیں لینے نہیں آوں گا تم بلاوجہ بات کا بتنگڑ بنا رہی ہو میں تمہیں سچائی بتا کر تمھاری مدد کرنا چاہتا تھا تاکہ تم ہوش کرو اور شادی کو کھیل نہ سمجھو اور گھر داری سیکھو اور اس گھر کی خواہش کے مطابق اس سانچے میں ڈھل جاو۔
مگر وہ نہ رکی اور چلی گئی۔
جاری ہے۔
پلیز اسے لاہک، شہیر اور کمنٹ کرنا نہ بھولیں۔ شکریہ۔
ناول نگار عابدہ زی شیریں۔

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.