Muhabbat Dil Ka Zehr Ya Suroor
30 Episodesتیسرا حصہ - 3rd Part
قیوم شور سن کر تیزی سے باہر بھاگا تو ڈاکٹر نے فواد سے موقع پا کر ادھر سے فرار ہونے کا مشورہ دیا اور اسے ایک فون نمبر دیا جو ان لوگوں کے پاس نہ تھا اور اپنے تعاون کا یقین دلایا اور گاڑی کی چابی دیتے ہوئے کہا کہ وہ چپکے سے نکل جائے۔ میں یہ ظاہر کروں گا کہ تم میری گاڑی لے کر فرار ہوگئے ہو۔
فواد اٹھا اور چپکے سے باہر آیا دینو کھڑا تھا اسے اشارہ دیا اور تیزی سے نکل گیا۔ ڈاکٹر صاحب باہر آئے اور قیوم کو آوازیں دیں وہ لوگ سب ایک کمرے میں جمع تھے اور رونے کی آوازیں آ رہی تھیں۔ اتنے میں قیوم پریشان حال باہر آیا اور کہا
"ڈاکٹر صاحب میری بیوی کرنٹ لگنے سے مر گئی ہے زرا دیکھ لیں"
وہ کمرے میں گیا تمام گھر والے جمع تھے اور رو رہے تھے۔ ڈاکٹر صاحب نے چیک کیا اور موت کی تصدیق کر دی۔
فواد تیزی سے باہر آیا گاڑی اسٹارٹ کی دور سے بس آتی دکھائی دی۔ سڑک سے زرا پیچھے گاڑی لاک کر کے چابی جیب میں ڈالی بس روکی اور سوار ہو گیا۔ بس اس کی مطلوبہ جگہ پر ہی جا رہی تھی۔ اس نے امر کو فون کر دیا کہ وہ اس کے پاس آ رہا ہے۔ سوا گھنٹے کی مسافت طے کرنے کے بعد وہ امر کے پاس گاؤں پہنچ گیا، جہاں گاؤں والا لڑکا اور امر اسے بائک پر بس اسٹاپ لینے پہنچ گئے۔
گاوں والے بہت ڈرے سہمے ہوئے تھے کیونکہ دینو نے گاوں کی شاپ پر سے فون کر کے بتا دیا تھا کہ وہ لوگ سب ملازمین کے گاؤں آکر ان لوگوں کو ڈھونڈنے کی کوشش کریں گے۔ ثبوت جیپ ہے اسے جلد از جلد وہاں سے روانہ کر دو۔ امر نے صبح سے کچھ کھایا پیا نہ تھا وہ لوگ جلدی سے جیپ میں سوار ہوئے فواد نے ایک پیسوں کا لفافہ اس گاؤں کے لڑکے کو دیا جو اس نے لینے سے انکار کر دیا تو فواد کو شرمندگی کا احساس ہوا۔ اس نے سب کا شکریہ ادا کیا اور لفافہ کھڑکی سے زبردستی پکڑا کر جیپ دوڑا دی۔ ڈاکٹر صاحب کا میسج آ گیا کہ ان کو گاڑی مل چکی ہے ان کے پاس دوسری چابی موجود تھی۔ مگر اس نے نہ نکالی کہ ان لوگوں کو شک نہ گزرے اور کہا کہ ملازم سے گھر میں بیوی سے دوسری چابی منگوائی ہے۔ ملازم بائک پر آیا اور ایک چابی ڈاکٹر صاحب کو دی انہوں نے جلدی سے نظر بچا کر جیب میں ڈالی اور جیب سے دوسری چابی نکال کر جلدی سے گاڑی اسٹارٹ کی۔ ان لوگوں کو اس نے بتایا کہ وہ تو شور سن کر باہر آیا تھا تو دیکھا کمرے میں فواد موجود نہ تھا اور جو گولیاں اس نے اسے کھانے کو دی تھیں وہ بھی بستر پر تکیے کے نیچے سے مل گئی تھی اور اس نے سوتے بن کر ان کی گفتگو سن لی تھی اور فرار ہو گیا۔ چابی اس نے ساتھ ٹیبل پر رکھی تھی۔ ان لوگوں نے ڈاکٹر کی بتائی ہوئی سٹوری پر یقین کر لیا۔ کیونکہ ڈاکٹر صاحب نے گاڑی کی چابی موجود نہ ہونے پر کافی شور وشرابہ مچانے کی ایکٹنگ کی تھی اور قیوم اس کو گاڑی کا نقصان بھرنے کی تسلی دے رہا تھا۔
بیوی کی تدفین کے ساتھ ساتھ اس نے خاص ملازمین کو فواد اور امر کی تلاش میں بھی لگا دیا تھا۔ جو جاتی سڑک پر پہرہ دے رہے تھے، ان کا خیال تھا کہ گاڑی ادھر ہی چھوڑ کر وہ گاؤں میں ہی روپوش ہو گیا ہے۔
قیوم نے فرصتِ پا کر سب ملازمین کو خوب مارا پیٹا اور ان کے گاؤں جا کر بھی تلاش کیا۔ مگر کسی نے ڈر کر نہ بتایا۔
چوکیدار سے پوچھا تو اس نے بھی کہا کہ شور سن کر وہ بھی گیٹ سے ہٹ گیا تھا اس لیے اس نے فواد صاحب کو اندر سے باہر جاتے نہیں دیکھا۔
فواد شہر کی طرف تیزی سے روانہ تھا ایک درمیانی درجے کے ہوٹل میں قیام کیا۔ امر کو بیکری آئٹم کھانے کو لے دیے۔ اب وہ سوچ رہا تھا کہ کیسے وہ آگے کا پلان کرے۔ دو دن ہوٹل میں سوچ ووچار میں گزار دیے۔ بیٹے کے مستقبل کا سوال تھا۔ جو گاوں کے اسکول میں میٹرک کا سٹوڈنٹ تھا۔ اس کی پڑھائی کا حرج ہو رہا تھا وہ خود ایف اے پاس تھا اور بیٹے کو گھر میں خود پڑھاتا تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے ایک بیوہ عورت،شبنم، کا زکر کیا تھا جو ایک چھوٹے سے مکان میں رہائش پذیر تھی اور کسی اسکول میں پڑھاتی تھی اس کے گھر کا اوپر کا پورشن خالی تھا وہ کسی فیملی کو رینٹ پر دینا چاہتی تھی۔ ڈاکٹر صاحب کی واقف تھی تو مجبوری کے عزر اس نے ڈاکٹر صاحب کے کہنے پر فواد صاحب کو رینٹ پر دے دیا۔ ڈاکٹر صاحب نے وعدے کے مطابق خفیہ طور پر پورا ساتھ دیا۔
فواد کو اس تین مرلے کے گھر کا اوپر والا پورشن مل گیا، جس کا نقشہ اچھا اور جدید بنا ہوا تھا۔ نیچے ایک کمرہ کچن باتھ، چھوٹا سا ڈرائنگ ڈائننگ اور گیراج بھی تھا جہاں ان لوگوں کی جیپ اندر کھڑی ہو جاتی تھی۔ اوپر دو کمرے تھے ایک فواد اور ایک امر نے لے لیا۔ جیپ کو فوری طور پر بیچا اور چھوٹی گاڑی لے لی۔ ضرورت کا سامان لے لیا۔
بیوہ عورت، شبنم نے ان کھانے کا زمہ بھی لے لیا جس کا فواد نے اسے الگ سے ادا کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ جو اس عورت نے بخوشی قبول کر لیا مگر ساتھ ان سے وعدہ لیا کہ وہ لوگ جلد ہی دوسرے گھر کا بندوبست ہوتے ہی چلے جاہیں گے، کیونکہ وہ کسی فیملی کو دے گی۔
امر کو اس نے اپنے اسکول میں داخلہ دلوا دیا تھا اور اسے ٹیوشن بھی پڑھانے لگی تھی وہ رکشے میں جاتی تھی اور شروع میں امر کو ساتھ لے کر جاتی مگر امر نے باپ سے گاڑی کی فرمائش کر دی تو باپ نے اسے گاڑی دے کر خود بائک لے لیا۔ ڈاکٹر صاحب بھی فواد سے ملنے آ جاتے۔ شبنم، ڈاکٹر صاحب کی دور کی رشتہ دار بھی تھی وہ اسے بہن پکارتے تھے اس کی بہت تعریف کرتے۔
فواد نے شبنم کا بہت شکریہ ادا کیا جو اتنا ساتھ دے رہی تھی۔ فواد نے آفر کی کہ آپ اسکول امر کے ساتھ اس کی گاڑی میں چلی جایا کریں مگر اس نے انکار کر دیا اور اسے ہلکے انداز میں کہا بھی کہ بچے کو اس چھوٹی عمر میں گاڑی نہ دیں اسے بائک دیں اور خود گاڑی لیں۔ فواد کو بھی احساس ہوا کہ اس نے غلط کیا تو اس نے اس پر عمل کیا۔ امر کو بہت ناگوار گزرا اسے شبنم سے چڑ سی ہونے لگی۔ حالانکہ وہ کھانا باہر رکھے چھوٹے ٹیبل پر رکھ کر امر کو آواز دے دیتی۔ اوپر جانے کا راستہ اندر سے ہی تھا اسے مناسب نہ لگتا وہ کھنکار کر آواز دے کر جاتا۔
دو ماہ بعد شبنم نے فواد صاحب کو گھر خالی کرنے کا حکم دے دیا کیونکہ آس پڑوس میں باتیں شروع ہو گئی تھی حالانکہ اس نے لوگوں کو ڈاکٹر صاحب کے کہنے پر فواد کو اپنا قریبی رشتے دار بتایا تھا تاکہ کسی کو اعتراض نہ ہو۔ مگر پھر بھی اسے باتوں کا سامنا تھا۔
فواد بہت پریشان تھا، شبنم نے اسے اور اس کے بیٹے کو بہت سکھ دیا تھا گھر کا مزے دار کھانا نصیب ہوتا تھا۔ کپڑے اور صفائی ماسی سے کروا دیتی تھی۔ فواد کا دل نہ چاہ رہا تھا کہ وہ ادھر سے جائے۔ وہ بہت شریف عورت لگی تھی جو اپنے کام سے کام رکھتی۔ بہت غیرت والی بھی تھی۔ وہ اس سے متاثر تھا اور ڈاکٹر صاحب کے آگے شبنم کی تعریف کر جاتا۔ فواد نے ڈاکٹر صاحب کو اپنی پریشانی بتائی تو انہوں نے دونوں کو الگ الگ سمجھایا کہ دونوں ایک دوسرے کی ضرورت ہو بہتر ہے کہ نکاح کے بندھن میں بندھ جاؤ۔ فواد نے تھوڑی پس و پیش کے بعد رضامندی دے دی مگر شبنم نہ مانی تو ڈاکٹر صاحب نے زمانے کی اونچ نیچ سمجھائی اور فواد کی بہت تعریف کی اور کہا کہ دونوں ہی ابھی جوان جہان ہو تو وہ مان گئی مگر امر نے بھرپور احتجاج کیا۔

Reader Comments
No comments yet. Be the first to share your thoughts!
Log in to leave a comment.