Logo
Muhabbat Dil Ka Zehr Ya Suroor
30 Episodes
Muhabbat Dil Ka Zehr Ya Suroor EP 18
Episode 18

محبت دل کا زہر یا سرور 18

Muhabbat Dil Ka Zehr Ya Suroor


اٹھارھواں حصہ - 18th Part

 

ڈاکٹر صاحب کو جب ماں نے خوشی سے بتایا کہ وہ شبنم سے اس کی شادی کرنا چاہتی ہیں تو وہ حیرت سے انہیں دیکھتے ہوئے بولا 

"ماما کیا آپ میری سگی ماں ہیں۔"

ماں نے حیرت سے پوچھا 

"کیوں کیا ہوا۔"

وہ غصے سے بولا 

'آپ اپنے کنوارے بیٹے کے لیے ایک ایسی لڑکی جس کا آگے پیچھے کوئی نہیں، جو بیوہ ہے اس کے ساتھ میری شادی کے بارے میں کیسے سوچ سکتی ہیں۔ کیا میں آپ کا سگا بیٹا نہیں ہوں یا آپ مجھ سے پیار نہیں کرتیں۔"

ماں نے حیرت سے کہا 

"کیوں کیا برائی ہے اس میں۔ بیوہ ہونے میں اس کا کیا قصور ہے۔ وہ نسلوں کو سنبھالنے والی ہے۔ اس گھر کو سنبھالنے والی ہے۔"

ڈاکٹر صاحب نے کہا 

"ماما آپ کو گھر سنبھالنے کے لیے کوئی لڑکی چاہیے تو وہ میری بیوی یا آپ کی بہو ہی کیوں ہو اسکے لئے ملازمہ رکھی جا سکتی ہے۔ شبنم کو ہی رکھ لیں اس کا ویسے بھی آگے پیچھے کوئی نہیں ہے۔ اس کو گھر مل جائے گا اور آپ کو گھر سنبھالنے والی۔ دونوں کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔ وہ بھی خوشی سے رہنے کو تیار ہو جائے گی۔"

باپ نے کہا 

"بیٹا میری اس رشتے میں کوئی رضا نہ تھی یہ تو تمھاری ماما کا ہی آئیڈیا تھا کہ چلو ان کی گھرداری بھی چلتی رہے گی۔"

ماں نے ٹھنڈی سانس بھر کر کہا 

"ٹھیک ہے اس کو پھر جلدی سے لے آؤ۔ تمھاری شادی میں بھی سو کام ہوں گے۔"

ڈاکٹر صاحب نے کہا 

"ٹھیک ہے میں اس سے بات کرتا ہوں۔ آپ فکر نہ کریں۔"

شبنم چائے بنا کر پینے کے لیے بیٹھی ہی تھی کہ باہر ڈور بیل بجی۔ شبنم نے سوچا خالہ جی ہوں گی۔ وہی وقت بے وقت آتی رہتی تھی اور شبنم کا دل بھی ان کی باتوں سے لگ جاتا تھا کیونکہ وہ چلتی پھرتی بی بی سی تھی۔ پورے محلے کی خبریں ان کے پاس سے ملتی تھی بس وہ صرف شغل شغلِ میں بتاتی تھی، لگائی بجائی کی عادت نہ تھی، پیٹ کی بھی ہلکی تھی اپنے گھر کی ساری رپورٹس بھی آ کر دے جاتی تھی۔

شبنم نے دروازہ کھولا تو سامنے ڈاکٹر صاحب کو دیکھ کر اس کی دل کی کلی کھل گئی کیونکہ ڈاکٹر صاحب ہمیشہ فون کر کے آتے تھے۔

اس نے انہیں اندر آنے کا راستہ دیا اور لاؤنج میں بٹھایا۔ کنفیوز سی ہو رہی تھی کیونکہ وہ جب بھی آتے تو وہ پہلے سے ہی کچھ پکا کر رکھتی۔ آج تو ویسے بھی کچھ نہ پکایا تھا، شام کو چاول پکانے کا پلان تھا۔ اس نے اپنا چائے کا بڑا سا کپ انہیں پیش کیا تو وہ بولے 

"میں چائے زیادہ نہیں پیتا آپ پی لو ٹھنڈی ہو جائے گی۔"

ڈاکٹر صاحب آج حسبِ معمول قدرے پریشان اور خاموش سے تھے۔ شبنم جوس بنا کر لے آئی۔ انہوں نے ایک ہی سانس میں پی لیا۔ شبنم نے قدرے حیران ہو کر انہیں دیکھا۔ وہ کھوئے کھوئے سے لگ رہے تھے۔

شبنم نے بات شروع کی اور ہلکہ سا گلہ کیا 

'کافی دن سے آپ کا کوئی فون نہیں آیا۔ شاید مصروف تھے۔"

شبنم بھی بغیر کسی وجہ کے فون خود سے نہ کرتی تھی۔ وہی اس کا حال احوال پوچھنے کے لیے فون کرتے رہتے تھے۔ شبنم کو الجھن سی محسوس ہو رہی تھی ان کی خاموشی سے۔

شبنم نے کہا 

"گھر میں سب خیریت ہے نا۔ آنٹی کیسی ہیں اگر آنے سے پہلے فون کر دیتے تو میں کچھ پکا دیتی، آنٹی کو میرے ہاتھ کا کھانا پسند ہوتا ہے۔"

وہ جب بھی آتے شبنم ان کے ہاتھ ضرور ان کی ماں کے لیے کچھ نہ کچھ بھیجتی۔ وہ فون کر کے اس کے کھانے کی تعریف کرتی اور شکریہ ادا کرتی جس سے شبنم کو دلی سکون ملتا آخر وہ لوگ اس کے محسن تھے ان کا احسان وہ کیسے اتارتی۔

ڈاکٹر صاحب نے کہا 

"اب یہ مسئلہ بھی حل ہو جائے گا آپ اب روز انہیں اپنے ہاتھ کے کھانے کھلا سکیں گی۔"

شبنم کا دل دھڑکنے لگا اس نے سوالیہ نگاہوں سے ان کی طرف دیکھا تو وہ نظریں چراتے ہوئے، جیب سے شادی کارڈ نکال کر آگے رکھتے ہوئے بولے 

"میری شادی ہو رہی ہے اور ماما چاہتی ہیں کہ آپ ان کے پاس ہی شفٹ ہو جائیں۔ آپ ویسے بھی ادھر اکیلی رہتی ہیں اور ان کو شادی کے کاموں میں آپ کی ہیلپ کی بھی ضرورت ہے۔"

شبنم کے دل پر جیسے گھونسا پڑا ہو، وہ دل برداشتہ ہوئی آنکھوں میں نمی سی آئی۔ 

ڈاکٹر صاحب اس کی کیفیت دیکھ رہے تھے اور دل میں پشیمانی اور دکھ محسوس کیا اور دل میں مصمم ارادہ کر لیا کہ وہ اس کی خبرگیری ہمیشہ کرتے رہیں گے چاہے کچھ بھی ہو جائے۔

شبنم نے اپنے ڈوبتے دل کو سنبھالا اور سوچا وہ آسمان ہیں اور وہ زمین بھلا اس کا اور ان کا کیا میل جوڑ۔ وہ تو پہلے ہی اپنے دل کو تسلی دیتی رہتی تھی کہ وہ اگر آفر بھی کریں گے تو وہ قبول نہیں کرے گی کیونکہ وہ خود کو ان کے قابل نہیں سمجھتی تھی اور ان کی زندگی اپنے ساتھ برباد نہیں کرنا چاہتی تھی۔

شبنم نے خوشی کی ایکٹنگ کرتے ہوئے کہا 

"بہت بہت مبارک ہو آپ کو میں شادی کے کاموں میں بھرپور تعاون کروں گی مگر میں ہمیشہ کے لیے ادھر شفٹ نہیں ہو سکتی میں یہاں خوش اور مطمئن ہوں۔ ویسے بھی میں نے اپنے والدین کو بھی تلاش کرنا ہے وہ ایسی ہی کسی محلے ٹائپ جگہ پر رہتے تھے۔"

ڈاکٹر صاحب نے کہا 

"ٹھیک ہے جیسے آپ کی مرضی" 

اور تیزی سے اٹھ کر چل پڑے۔ وہ گاڑی میں بیٹھ کر شبنم کے بارے میں سوچ سوچ کر دکھی ہوتے رہے۔ وہ جانتے تھے کہ شاید قسمت کھبی مہربان ہو اور شبنم کو والدین مل جائیں تو اگر وہ بیوہ کا جھوٹ بول کر اس سے شادی کر بھی لیتے تو شادی کے بعد ان کے گھر والے، خاندان والے اسے قبول نہ کرتے اگر حقیقت کھل جاتی پھر اس کی زندگی بھی برباد تھی اور ان کا خاندان بھی بدنام ہو جاتا۔ وہ یہ سب باتیں سوچ کر اپنے خاندان کو ایک نئی مصیبت میں مبتلا نہیں کرنا چاہتے تھے اس لیے انہیں اسے چھوڑنا ہی پڑا وہ تو ان کے گھر والے رحم دل تھے جو اس سے ناطہ رکھنے دیتے تھے۔

آنسو ان کی آنکھوں سے گر رہے تھے وہ اسے پسند کرتے تھے اگر وہ ماں کو اس طرح سختی سے نہ کہتے تو ماں کھبی پیچھے نہ ہٹتی۔ ماں شبنم کو بہت پسند کرتی تھی۔ اگر اس کا ماضی نہ ہوتا اور وہ صرف بیوہ ہوتی تو وہ اسے اپنانے کی کوشش کرتے اور فخر محسوس کرتے مگر وہ معاشرے سے لڑنے کی تاب نہ رکھتے تھے انہیں اپنے والدین کی عزت بھی عزیز تھی انہوں نے دل پر پتھر صرف اپنے پیاروں کے لیے رکھا۔

جاری ہے۔

پلیز اسے لاہک، شہیر اور کمنٹ کرنا نہ بھولیں۔ شکریہ

ناول نگار عابدہ زی شیریں



Continue Reading
Episode 19
محبت دل کا زہر یا سرور 19

Reader Comments

No comments yet. Be the first to share your thoughts!

Log in to leave a comment.

Related Novels

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Premium Membership

Unlock the Full Library

One subscription. Every story. Unlimited reading.

PKR 300
30 Days of Unlimited Access
Go Premium Now

Secure payment  ·  Instant access

Full Novel Library
Access every premium & exclusive novel — no episode locked
Unlimited Reading
Read as much as you want, whenever you want, at your pace
Support the Author
Your subscription directly supports Abida Z Shireen's work
New Episodes First
Be the first to read every new episode as soon as it drops
A F S R N
Join thousands of readers already enjoying premium access
Loved by readers
Our Literary World

Experience the Best Urdu Novels Online

Dive into decades of storytelling by Pakistan's most beloved author, now at your fingertips.

50+
Published Novels
30+
Years of Writing
1M+
Readers Worldwide
100%
Authentic Stories
01

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Read Her Story
Abida Z Shireen
Author
02

Captivating Novels & Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Browse All Novels
Reading Urdu Novels on Tablet and Phone
Novels
03

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen's verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Explore Poetry
Elegant Desk with Pens and Books
Poetry