Muhabbat Dil Ka Zehr Ya Suroor
Episodes
ڈاکٹر صاحب کی منگیتر کی کال آئی تو شبنم نے سلام کیا اور بات شروع کرنے کی اجازت چاہی۔
اس نے کہا کہ مجھے پہلے تو اس بات کی بہت خوشی ملی کہ آپ نے ڈاکٹر صاحب کو شادی سے انکار کر دیا ہے اور آپ انہیں پسند بھی نہیں کرتیں ہیں۔ اس سے میں بڑی پرسکون ہو گئی ہوں ورنہ پہلے مجھے ٹینشن تھی کہ میں کیسے انہیں آپ سے شادی سے روکوں گی اور میں نے ویسے ہی انہیں حاصل کرنے کے لیے کہا تھا ورنہ میں نے انہیں کرنے نہیں دینی تھی۔ اب آپ کی طرف سے میں مطمئن ہو گئی ہوں اور اب میں سکون سے شادی کی تیاریاں کروں گی اور مجھے پتا ہے کہ جب تک لڑکی خود نہ چاہے لڑکا کچھ نہیں کر سکتا ہے۔
شبنم نے کہا کہ میں تو کسی سے شادی کا سوچ بھی نہیں سکتی ہوں۔ اپنے مرحوم شوہر کی یادیں ہی میرے لیے کافی ہیں۔ ہاں جیسا کہ آپ کو بتایا ہوگا ڈاکٹر صاحب نے کہ میرا اس دنیا میں کوئی نہیں ہے۔ ڈاکٹر صاحب کی میں دل سے مشکور ہوں کہ انہوں نے مجھے گھر خریدنے میں مدد کی۔ اور کچھ معاملات ایسے ہوتے ہیں جو مردوں کے ساتھ ڈیل کرنے پڑتے ہیں جیسے گھر خریدنا وغیرہ آجکل فراڈ بھی بہت ہے تو مجبوراً اس کام کے لیے مرد کی ہیلپ کی ضرورت پڑتی ہے۔ جو ڈاکٹر صاحب نے کی۔ ان جیسا شریف اور نفس پر قابو رکھنے اور اپنے کردار میں ثابت قدم رہنے والا انسان میں نے آج تک نہیں دیکھا میں آنکھیں بند کر کے ان پر بھروسہ کرتی ہوں۔ آپ کی شادی کے بعد میں ان سے کھبی ناطہ نہیں رکھوں گی ہاں چونکہ میرا اس دنیا میں کوئی نہیں ہے اس لیے ڈاکٹر صاحب کی غیر موجودگی میں آنٹی سے کھبی کبھار مل لیا کروں گی اگر آپ کو وہ بھی پسند نہیں تو کوئی بات نہیں میں نہیں ملوں گی۔ آنٹی اکیلی ہیں اس لیے میں ان کی شادی کی تیاریوں میں پوری مدد کروں گی انشاءاللہ۔
ڈاکٹر صاحب کی بیوی بولی آپ سے بات کر کے مجھے اطمینان مل گیا ہے۔ آپ شادی کے بعد بھی اگر کھبی کوئی مدد کی ضرورت پڑے تو جب چاہیں آپ کال کر کے مدد لے سکتی ہیں۔
شبنم نے ممنون انداز میں شکریہ کہتے ہوئے کہا کہ ویسے تو بلا وجہ میں نے پہلے بھی کھبی کال نہیں کی تھی۔ ڈاکٹر صاحب ہی حال احوال پوچھنے کے لئے کال کرتے رہتے تھے اور فالتو بات کھبی نہیں کی یہ تو پہلی بار ڈاکٹر صاحب نے اس قسم کی بات کر دی شاید وہ بہت رحم دل انسان ہیں اسی لیے فکر میں انہوں نے ایسا سوچا ہو گا۔شبنم نے کہا کہ اگر کوئی مجبوری آن پڑی تو پہلے میں آپ کو کال کروں گی پھر۔۔۔
ڈاکٹر صاحب کی منگیتر جلدی سے بات کاٹ کر بولی نو نو نو میں نہ تو فالتو کسی کو کال کرتی ہوں نہ سنتی ہوں۔ آپ جب چاہو ان کو کال کر سکتی ہو۔ مجھے ڈسٹرب کرنے یا مجھے بتانے کی ضرورت نہیں۔ مجھے یقین آ گیا ہے میں آپ پر کھبی شک نہیں کروں گی۔ آپ فکر نہ کرو۔ اور جھٹ سے فون بند کر دیا۔
شبنم سمجھ گئی کہ یہ کافی مغرور قسم کی لڑکی ہے مگر دل کی اچھی ہے اسے تسلی مل گئی۔
شبنم نے دل میں سوچا کہ اب وہ مضبوط اور ہمت والی مرد بن کر رہے گی اور اپنے دکھوں پر رونا کم کر دے گی بہت رو لیا اب اسی زندگی کو انجوائے کرے گی۔ جب قسمت میں ہوا تو اس کے والدین انشاء اللہ ضرور مل جائیں گے وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہیں ہو گی بس دعائیں ضرور کرتی رہے گی۔ جس رب نے اتنا کرم کیا اس گندے ماحول سے نجات دلائی اور عزت کی زندگی بخشی۔ ورنہ تو وہ رات پڑتے ہی ڈرنے لگتی تھی کہ نہ جانے کب ملکہ بی کا بلاوا آ جائے اور اسے نہ چاہتے ہوئے بھی ماننا پڑے گا۔
روز ڈاکٹر صاحب کی ماں ڈرائیور بھیج کر اسے منگوا لیتی اور اپنے ساتھ شاپنگ پر لے جاتی اس کی چواہس بھی اچھی تھی۔ دولہن نے اپنے جوڑے ڈاکٹر صاحب کے ساتھ جا کر خود پسند کیے۔ ڈاکٹر صاحب نے بھی اپنی شاپنگ اس کی پسند سے کی۔
دونوں کا نکاح پہلے ہو چکا تھا نکاح پر ڈاکٹر صاحب کی ماں اسے بھی ساتھ لے گئی۔ نکاح کا جوڑا شبنم نے پسند کیا تھا اتفاق سے اسے بہت پسند آیا ورنہ اس نے کوئی ڈیمانڈ نہ کی تھی اور خود سے جوڑا خریدا ہوا تھا مگر شگن کے طور پر اس نے وہی پہنا۔ اس کے والدین بھی کہہ رہے تھے کہ وہ کسی کی چیز کو مشکل سے ہی پسند کرتی ہے شکر ہے اس کو پسن آ گیا۔ اسی لیے ڈاکٹر صاحب کے والد نے انہیں کہہ دیا کہ بری کی ساری شاپنگ بچے مل کر خود کریں تو وہ خوش ہو گئے۔
ڈاکٹر صاحب کی منگیتر سے اب اکثر ڈاکٹر صاحب کے گھر شبنم کی ملاقات ہو جاتی۔ شبنم سلام کرتی تو وہ کھبی جواب دیتی کھبی گردن ہلا دیتی۔
جاری ہے
پلیز اسے لاہک، شہیر اور کمنٹ کرنا نہ بھولیں۔ شکریہ
ناول نگار عابدہ زی شیریں۔

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.