Muhabbat Dil Ka Zehr Ya Suroor
Episodes
شبنم نے اور اس کے گھر والوں نے فواد اور امر پر کچھ ظاہر نہ ہونے دیا۔ شبنم کی بھابی اب شبنم کے آگے پھنس چکی تھی۔ شبنم بھی قدرت کے اس نرالے کھیل پر حیران اور خوش تھی کہ اس کی سگی بھتیجی اس کی بہو بنے گی جو ماں سے بلکل مختلف تھی اور بہت خوش تھی کہ اس کی پھوپھو اس کی ساس ہیں۔ وہ شبنم سے بہت پیار کرنے لگی تھی۔
ڈاکٹر صاحب نے فون پر ایک دن بتایا کہ ملکہ بی بہت بری حالت میں تھی اس کے ساتھ بھی دھوکہ ہوا اس کا پرانا ملازم اس سے ساری لڑکیاں لے گیا وہ فاقوں مرنے لگی حتکہ بیمار ہو کر مر گئی۔
شبنم نے بازار میں ایک مانگنے والے کو دیکھا اس کی ٹانگ ٹوٹی ہوئی تھی اور بڑھاپے کی وجہ سے بہت لاغر ایک جگہ پڑا بھیک مانگ رہا تھا قریب جا کر دیکھا تو وہ باشو تھا۔
فواد گاوں سے واپس آیا تو اس نے بتایا کہ اسے دھوکہ دینے والا اپنے انجام کو پہنچا۔ اس کا ایک بیٹا قتل ہو گیا۔ بیوی اس کی مر چکی تھی۔ دوسرا بیٹا جیل میں عمر قید کاٹ رہا تھا دونوں لڑکے کنوارے رہے کسی نے رشتہ نہ دیا۔ آخری عمر میں گاوں والے کھبی ترس کھا کر کچھ دے جاتے بری حالت میں فوت ہوا۔
شبنم نے توبہ توبہ کی۔ برے کام کا برا انجام۔ اچھے کام کا اچھا۔
ڈاکٹر صاحب فواد کے ساتھ مل کر اس کی گاوں والی زمینوں پر ایک اسکول اور ایک کلینک تعمیر کروانا چاہتے تھے تاکہ گاوں والوں کو سہولت ملے۔ فیس بھی کم رکھنا چاہتے تھے جو آسانی سے گاوں والے ادا کر سکیں۔
امر کی شادی کی تیاریاں زوروں پر تھیں شبنم اپنی بھتیجی کی پسند سے ساتھ لے جا کر شاپنگ کرواتی تھی امر اس بات سے کوئی اعتراض نہ کرتا۔ وہ ساتھ نہ جاتا بلکہ خوش ہوتا۔
شادی میں شبنم بہت خوش تھی کیونکہ اس نے سارے انتظامات مکمل کیے تھے۔ فواد کی بیٹے کو شرط تھی کہ تم شادی کے سارے معاملات شبنم کو دیکھنے دو گے جو اس نے بہت احسن طریقے سے پورے کیے۔ سب نے خوب تعریف کی۔ شادی میں شبنم بہت خوش تھی۔
حسب وعدہ بارات امر کے کراے کے گھر روانہ کی گئی۔ شبنم غیرت میں نہ گئ۔ کیونکہ امر کا رویہ اس کے ساتھ بدستور سپاٹ ہی تھا۔
شادی ہو گئی شبنم خالی گھر دیکھتی تو اسے رونا آتا اس نے تو امر کے بچوں کو گود میں کھانے کی آرزو کی تھی۔ وہ اپنے میکے بھی غیرت میں نہ جاتی بس شادی کے موقع پر ہی جو جانا ہوا۔ اسے بھابی سے کیا ہوا وعدہ یاد تھا اور اب تو زیادہ چھپانے کی ضرورت تھی۔ کسی رشتے دار نے اسے نہیں پہچانا۔ وہ اندازے سے اور کچھ چھوٹی بھابی کے تعاون سے سب کو پہچان رہی تھی۔
امر سسرال کی دعوتیں کھا رہا تھا۔ شبنم کے چھوٹے بھائی نے اس کی دعوت کی اور والدین کی شمولیت پر زور دیا۔ امر بیوی کے کہنے پر والدین کو لے جانے پر مجبور ہو گیا۔ جبکہ امر کا باپ جانے پر راضی نہ ہوا تو مجبوراً امر کو شبنم کو لے جانا پڑا۔ شبنم کے لیے یہ خوشی کا مقام تھا۔ چھوٹا بھائی بہت اہمیت دیتا تھا۔
شبنم نے دعوت کرنا چاہی مگر فواد نہ مانا۔ وہ بھتیجی کے ساتھ رہنا چاہتی تھی مگر قسمت کے ہاتھوں مجبور وبے کس تھی۔
شبنم کی بھتیجی اپنی پھوپھو کے لیے دکھی تھی۔ وہ امر کو اس کی طرف رام کرنا چاہتی تھی۔ امر اپنی شادی سے بہت خوش تھا۔ سسر بھی اب اس کی تعریف کرتا تھا کہ اس کو بھی میری طرح بیوی اچھی مل گئی ہے۔ وہ بھی سسر کی عزت کرتی۔ کہتی پاپا ہم سب ساتھ کیوں نہیں رہ سکتے۔ وہ جواب دیتا۔ امر جب تک اسے ماں تسلیم نہیں کرتا میں اسے ساتھ نہیں رکھ سکتا۔
بیوی ام کو سمجھانے کی کوشش کرتی کہ وہ بہت اچھی ہیں تمھاری ماں ہیں۔
وہ رکھائ سے جواب دیتا وہ میری ماں نہیں ہیں۔
دونوں ہنی مون پر چلے گئے۔ واپس آئے تو بیوی نے سوچا ہماری شادی کو تین ماہ ہو چکے ہیں۔ آج میں امر کو سچائی بتا کر اسے رام کرنے کی کوشش کرتی ہوں۔ اس نے کہا کہ امر آج ایک راز کی بات میں آپ کو بتانا چاہتی ہوں کہ میری پھو پھو بچپن میں اغواء ہو گئی تھی اور پھر انہیں طوائف بنا دیا گیا اب وہ ملی ہیں شادی میں بھی شامل تھیں۔
اتنا سننا تھا کہ اس نے اسے جھٹکے سے اٹھایا اور چیخ کر بولا تم ایک طوائف کی بھتیجی ہو اور اسے گاڑی میں زبردستی بٹھایا اور میکے کے دروازے پر اتار کر چلا گیا۔ اور واپس ا کر باپ کے گھر آیا اور سچائی بتائ۔ شبنم سن کر دنگ رہ گئی جب فواد نے اسے کہا کہ اسے فوراً طلاق دے دو۔ شبنم سمجھانے لگی تو فواد نے پہلی بار اسے بھی بری طرح ڈانٹ دیا۔ اور بولا ایسے لوگوں سے تو رشتہ جوڑنا اپنی نسل کو گندہ کرنا ہے۔ اب وہ رکھنے کے قابل نہیں۔
امر سخت پریشان تھا اپنی بیوی سے پیار بھی کرتا تھا۔ شبنم نے موقع پا کر اسے آہستہ سے بولنے لگی اسے اتنی جلدی طلاق نہ دو یہ نہ ہو بعد میں پچھتاتے رہو۔ تھوڑا انتظار کرو دیکھو اس کے بغیر رہ سکتے ہو یا نہیں۔
امر خاموشی سے باتیں سنتا رہا سر جھکائے رہا ایسا ظاہر کر رہا تھا جیسے وہ اس کی باتوں کو اہمیت نہیں دے رہا مگر اس کی بات دل کو لگی تھی اور وہ جلدی سے چل پڑا کہ باپ اسے ابھی طلاق دینے پر مجبور نہ کرے۔
شبنم کو اپنی فکر لگ گئی کہ اب وہ کیا کرے اپنی بھتیجی کو اپنی وجہ سے اجڑتے کیسے دیکھے۔
وہ میکے گی تو بھابی نے اسے خوب سنائی کہ اگر تم نہ ملنے آتی تو آج یہ نوبت نہ آتی۔
بیٹی نے ماں کو کہا ماما یہ سب آپ کی نیت کا پھل ہے جو آپ کو اولاد کی صورت میں ملا ہے۔ آپ نے پھوپھو کو میکے کا حق نہ دیا اس کی سزا مجھے ملی۔
شبنم کو ماں نے بھی سمجھا دیا کہ ابھی مت آنا۔ ورنہ بہو کو ہم سمجھا نہیں سکتے وہ ہمیں تمھارے طعنے دیتی ہے۔
شبنم نے دیکھا امر برے حالوں میں ہے۔ ایک میاں بیوی ملازم رکھے ہوئے تھے وہ کام بھی ٹھیک سے نہ کرتے کھانا بھی ٹھیک سے نہ پکاتے۔ امر کھانے پر بھی توجہ نہ دیتا۔ شبنم پہلی بار فواد کے ساتھ اس کے گھر آئی تھی اور اسے بہت دکھ ہو رہا تھا امر کو کوئی ہوش نہ تھا اسے شبنم کے آنے پر کوئی فرق نہیں پڑا۔
شبنم نے ملازموں کو ڈانٹا۔ سارے گھر کی صفائی کروائی۔ تھوڑے تھوڑے چند کھانے پکا کر ملازموں کو ہدایت کر کے دے آئی کہ یہ صاحب کو دے دینا۔
ملازم نے بتایا کہ آج کافی دنوں بعد صاحب نے ٹھیک طرح سے کھانا کھایا ہے۔
شبنم غیرت میں رکی نہیں کہ امر نے اسے نہ روکا تھا۔ اس کی خواہش اس کے ساتھ رہنے اور اس کے بچوں کو گود میں کھانے کی تھی وہ اسے اپنا بیٹا مانتی تھی فواد نے کہا کہ رک جاتے ہیں مگر اس نے رکنے سے انکار کر دیا۔
شبنم کا چھوٹا بھائی شبنم اور بھتیجی کے لیے بہت پریشان تھا اس نے کہا کہ وہ اوپر والے پورشن میں الگ ہونا چاہتا ہے۔ بھابی نے کافی باتیں بنائی کہ وہ تفرقہ ڈالنا چاہتا ہے۔
مگر وہ ڈٹا رہا اور اپنا بجلی کامیٹر تک الگ کرلیا اور والدین کو بھی کہا کہ میرے ساتھ رہیں۔ بڑے بھائی کو غیرت آئی اس نے کہا کہ وہ میرے ساتھ رہیں گے۔ انہوں نے بھی نیچے اپنے کمرے سے شفٹ ہونا گوارا نہ کیا۔
شبنم کی بھتیجی ماں کو اپنی پھوپھو پر الزام تراشی سے نالاں تھی۔ وہ امید سے بھی تھی۔
فواد کو آج شبنم نے سوچا کہ سب سچائی بتا دے گی اور اپنی بھتیجی کے لئے منت کرے گی۔شبنم کو اس کے حاملہ ہونے کی خوشی تھی۔ شبنم نے بھتیجی سے رو کر معافی مانگی۔ اس کے ناکردہ گناہوں کی سزا اسے ملی۔
اس نے ترپ کہا کہ پھوپھو جانی اس میں آپ کا کیا قصور۔ میں تو اس لیے بتانا چاہتی تھی کہ آپ کو ساتھ رکھ سکوں امر کو آپ کے لئے رام کر سکوں۔ مگر میری بےوقوفی کہ میں نے طوائف والی بات پہلے کر دی وجہ نہیں بتا سکی کہ اس میں آپ کا قصور نہیں۔ مگر اس بعد امر نے پوری بات ہی نہ سنی اور مجھے نکال دیا میں نے اسے اپنے حاملہ ہونے کا میسج کر دیا ہے۔ روز میسج کرتی ہوں معافی مانگتی ہوں مگر وہ پتھر دل نہیں پگھلتا۔
شبنم نے اسے تسلی دی کہ وہ تم سے بہت پیار کرتا ہے تمہیں بلاک بھی نہیں کیا۔ فکر نہ کرو وہ طلاق نہیں دے گا ہاں اکڑ اس کی توڑنی مشکل عمل ہے۔ میں اتنے سالوں سے جوجہد کر رہی ہوں مگر وہ نہیں پگھلا۔ پھر بھی میں خدا کی رضا پر راضی ہوں۔ صبر کر رہی ہوں جس کا بہت اجروثواب ہے۔ میں اپنے رب کی رحمت سے کھبی مایوس نہیں ہوئی اگر اس جہاں میں صلہ نے ملا تو اگلے جہاں تو ضرور ملے گا۔ تم بھی بس رب سے دعا کے ساتھ کوشش جاری رکھو اللہ تعالیٰ کرم فرمائے گا۔
اپنی پھوپھو کی باتیں اسے حوصلہ اور ہمت دلاتی تھیں۔
شبنم نے امر کو اپنی آپ بیتی میسج کر کے اپنی بھتیجی کے لئے اسے رام کرنے کی کوشش کی۔
فواد گھر آیا تو شبنم کو بتانے لگا کہ اس نے اپنے وکیل کو تیار کر لیا ہے اور اب وہ بیٹے سے طلاق کے کاغذات پر ساہن کروا کر اس گندگی کو مٹا کر اس کی کسی اچھے شریف خاندان میں اس کی شادی کرواں گا۔
شبنم بولی اب آپ کو ایک نہیں دو طلاق کے کاغذات تیار کروانے پڑیں گے۔
وہ حیرت سے بولا کیا مطلب؟
شبنم نے کہا کہ میں نے آپ کے موبائل پر میسج کر دیا ہے اور تمام آپ بیتی لکھ دی ہے۔ آپ پڑھ کر فیصلہ کر لیجیے گا۔
فواد کو کچھ شک گزرا اتنے میں امر گھر کی دوسری چابی سے گیٹ کھول کر گھر کے اندر داخل ہوا شبنم نے اسے دیکھا فواد غصے سے بولا مجھے اپنے منہ سے بتاو کیا میسج ہے۔
شبنم نے دونوں کو دیکھ کر کہا کہ میں ہی آپ کی بہو کی پھوپھو ہوں۔ جس کی وجہ سے آپ نے اسے گھر سے نکالا۔
فواد ایکدم غضبناک ہو گیا اور شبنم کو بری طرح مارنے لگا اور دھوکے باز، مکار اور گالیوں سے نوازنے لگا۔
امر نے بڑی مشکل سے اسے بچایا۔
باپ حیران ہو کر بولا اس طوائف کو تم بچا رہے ہو۔ جس نے اپنے طوائفوں والے ہتھکنڈے سے مجھے الو بنا کر لبھاے رکھا۔ میں اس کی اداؤں میں کھو کر اپنے پیارے بیٹے کو بھولا رہا۔ اپنے بیٹے کے اوپر اسے اہمیت دیتا رہا۔ افسوس ازحد افسوس۔ میں اب اسے طلاق دے کر اس گھر سے دھکے دے کر رخصت کر دوں گا۔ مجھے معاف کر دو میرے بیٹے۔ وہ رندھی ہوئی آواز میں بولا۔
امر بولا واہ پاپا واہ مظلوم ہونے کی ایکٹنگ مرد خوب کر لیتا ہے۔ ایک مظلوم بے قصور عورت پر آپ کس آسانی سے الزامات کی بوچھاڑ کر رہے ہیں۔
شبنم کے ساتھ ساتھ اس کے باپ کامنہ بھی کھلا رہ گیا۔
دونوں حیرت سے اسے دیکھنے لگے۔
امر فرج سے پانی کی بوتل اور گلاس لے آیا اور شبنم کو پلانے لگا۔ پھر باپ کو پانی کا گلاس پکڑایا جو وہ ایک سانس میں ہی پی گیا۔
امر نے اسے کرسی پر بٹھایا اور کہا کہ اگر مجھے پہلے پتہ ہوتا کہ میری ماں میری بیوی کی پھوپھو ہیں تو میں کھبی اسے گھر سے نہ نکالتا بلکہ اس کی پھوپھو پر فخر کرتا۔ اگر ایسی طوائف ہوتی ہیں تو میں انہیں ماں کہنے پر فخر کرتا ہوں۔ عورت کو طوائف کون بناتا ہے مرد۔ ان کو ایک مرد نے اغواء کر کے طوائف کے آگے بیچا۔ کچھ لالچی عورتیں بھی ان کا ساتھ دیتی ہیں جس سے وہ کامیاب ہوتا ہے۔
وہ بھرائی ہوئی آواز میں روتے ہوئے شبنم کے قریب گیا۔ اور ہاتھ جوڑ کر اس سے معافی مانگتے ہوئے بولا ماں مجھے معاف کر دیں میں نے آپ کے ساتھ برا رویہ رکھے رکھا اس کے باوجود آپ کے پیار میں کمی نہ آئی۔ آپ نے سگی ماں کی طرح مجھے چاہا اور میں بدنصیب خود بھی ازیت میں رہا۔ کاش آپ مجھے پہلے ہی اپنی حقیقت بتا دیتیں تو شاید میں سمجھ جاتا یا پھر اس وقت بھی شاید نہ سمجھ سکتا جب تک اپنے لیے آپ کی مامتا کا اصلی نظارہ نہ کر پاتا۔ آپ نے سچے دل سے مجھے بیٹا مانا کھبی کھبی آپ کی محبت پر میں حیران بھی ہوتا تھا۔
باپ نے التجاہیا لہجے میں اسے کہا بیٹا مت بےوقوف بن یہ عورت جھوٹی اور فریبی ہے۔ اور میں اب تمھارے ساتھ رہوں گا اسے میں طلاق دے کر گھر سے باہر کروں گا بس زرا میں لیگل طریقے سے اس کو فارغ کروں تاکہ میرے لیے بعد میں کوئی مسئلہ نہ بنا دے۔
امر نے کہا کہ پاپا سوچ لیں اگر آپ انہیں طلاق دیں گے تو میں تو انہیں اپنے ساتھ اب ہمیشہ رکھوں گا کیونکہ انہوں نے مجھے بڑی مشقت سے جھیل کر پالا ہے اور آپ سے میں ناطہ توڑ لوں گا۔ اور پھر آپ میری صورت کو ترسیں گے۔ باپ نے دھاڑ کر کہا نکل جاو تم دونوں اس گھر سے۔
اس نے شبنم کو بالوں سے پکڑ کر جھنجھوڑ ڈالا۔ امر دوڑ کر آیا اور شبنم کو بولا چلیں میرے ساتھ اور اسے گاڑی میں فرنٹ سیٹ پر بٹھا کر اس کے میکے کے سامنے گھر کے آگے گاڑی روکی۔
شبنم کا چھوٹا بھائی باہر نکلا اور امر پر نظر پڑتے ہی اس کو مارنے لگ گیا۔
بڑی مشکل سے اسے شبنم نے ڈانٹ کر منع کیا شبنم کی بھتیجی بھی چاچو کو برا بھلا کہنے لگی اور بھاگ کر اس کے لئے کرسی لائ۔ شبنم اسے اندر ہاتھ پکڑ کر لے آئی تھی۔ بھتیجی نے شوہر کو پانی پلایا۔
امر شرمندہ سا سر جھکائے بیٹھا تھا۔ شور سن کر سب جمع ہو گئے تھے۔
امر نے بیوی کو کہا مجھے معاف کر دو بیوی نے اس کے آگے بڑھ کر ہاتھ پکڑ کر کہا پلیز ایسا نہ کہیں۔
امر نے سب کو بتایا کہ وہ اپنی بیوی کو لینے آیا ہے پھر ساس سسر کی طرف دیکھتے ہوئے بولا پر میری ایک شرط ہے کہ شبنم کی طرف اشارہ کر کے بولا میری ماما کو مناہیں کہ وہ بھی بیٹے کے ساتھ رہیں اب میں ان سے دور نہیں رہ سکتا۔ ان سے دور رہ کر میں نے آزمایا کہ میرا دل ان کے بغیر نہیں لگتا ہے۔ میں اپنی ماں سے بھی معافی مانگتا ہوں۔
شبنم نے اس کے ماتھے کو چوما اور بولی میرے لال میں بھی تیرے بغیر نہیں رہ سکتی۔ وہ اٹھا اور اس کے پاؤں کو چھو کر روتے ہوئے گلے لگ گیا۔
سب نے امر کو معاف کر دیا۔امر باپ کے تشدد کا بتانے لگا تو شبنم نے بات بدل کر اس کو اشارہ کر کے منع کر دیا۔
امر نے ڈاکٹر صاحب کو باہر جا کر چپکے سے سارا واقعہ سنایا اور کہا کہ اس وقت میرے پاپا کو دوا اور ایک دوست کی ضرورت ہے جو ان کو سمجھا کر انتہائی اقدام سے روک سکے۔
ڈاکٹر صاحب نے بہت افسوس کا اظہار کیا اور مدد کا وعدہ کیا۔ پھر انہوں نے شبنم کو بھی تسلی دی۔
امر نے ساس کو کہا کہ میری ماں کو بھی وہی حق ملنا چاہیے جو آپ کی بیٹی کو ملا ہے۔
ساس اٹھ کر شبنم کو گلے لگا کر پیار کرتے ہوئے بولی کیوں نہیں یہ اس کا اپنا گھر ہے۔
اس کی ساس سسر کا چہرہ خوشی سے دھمک اٹھا۔
شبنم کے چھوٹے بھائی نے کہا کہ میں نے تو آپا کا کمرہ بھی سیٹ کر کے رکھا ہے کہ کھبی تو ہماری بہن اس گھر میں رہنے آہیں گی۔ انشاءاللہ۔
گھر میں شبنم کے میکے میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ امر سے سب گھل مل گئے اور وہ بھی ان سب کے ساتھ خوش گپیوں میں مشغول ہو گیا۔
امر ڈاکٹر صاحب سے باپ کی طبیعت کا پوچھتا رہا۔
ڈاکٹر صاحب نے تسلی دی اور کہا کہ انہیں اکیلے شبنم کے بغیر رہنے دو تب ہی انہیں اس کی قدر آئے گی۔
رات کا کھانا کھا کر امر نے جانے کی رخصت چاہی تو سب نے روکا کہ رات رک جاو مگر امر کی بیوی بھی اپنے گھر جانے کے لئے بےچین تھی امر نے شبنم کو کہا تو وہ بولی ابھی تم لوگ جاو میں آ جاوں گی ابھی میں والدین کے ساتھ کچھ وقت گزارنا چاہتی ہوں۔
امر اپنی بیوی کو لے کر چلا گیا۔
شبنم اپنے گھر والوں کے ساتھ خوشی سے رہ رہی تھی۔ کھبی کھبی شوہر اور اس کی زیادتی کی یاد آتی تو دل دکھ سے بھر جاتا۔
امر روز فون کرتا کھبی ملنے آ جاتا اسے چلنے پر اصرار کرتا مگر وہ بہانے بناتی۔
اس کا جی چاہتا وہ بیٹے اور بہو کے ساتھ ان کے بچوں کے درمیان زندگی گزارے مگر جس کے ساتھ رشتہ تھا وہ چپ سادھے بیٹھا تھا تو شبنم کا ضمیر گوارہ نہ کرتا کہ وہ امر کے گھر جا کر رہے جبکہ اس کی بھتیجی منتیں کر کر کے تھک چکی تھی۔
ایک دن شبنم ماں کے پاس بیٹھی تھی کہ اس کے بھتیجے نے بتایا کہ فواد انکل، ڈاکٹر انکل، امر اور آپی آے ہیں۔
سب ڈرائنگ روم میں بیٹھ گئے۔
شبنم کو بلایا گیا تو شبنم سلام کر کے خاموشی سے ماں کے پاس بیٹھ گئی۔
سب ڈرائنگ روم میں جمع تھے اور ڈاکٹر صاحب نے بات شروع کی کہ فواد صاحب شبنم سے معافی کے طلب گار ہیں اور شبنم کو گھر لے جانے کے لیے آئے ہیں۔
فواد نے شبنم کو مخاطب کرتے ہوئے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگتے ہوئے کہا کہ کہ اب زندگی کے کسی موڑ پر وہ شکایت کا موقع نہیں دیں گے۔ وہ اٹھ کر ساس کے پاس آیا اور لجاجت سے بولا ماں جی آپ سفارش کر دیں ناں۔
وہ اس کے سر پر ہاتھ پھیر کر بولی نہ بیٹا یہ تو تیری تعریفیں کرتی نہیں تھکتی۔ اس نے تو کچھ بتایا ہی نہیں کہ کیا بات ہوئی ہے۔ پوچھو تو کہتی ہے کہ ہم میاں بیوی کا آپس کا معاملہ ہے۔ اب بتاو بھلا کچھ پتہ چلے تو ہم اسے سمجھائیں ناں۔
امر بھی قریب آ کر ماں کی منت کرنے لگا بھتیجی بھی اصرار کرنے لگی ڈاکٹر صاحب نے بھی سفارش کی کہ اب ایسا دوبارہ کھبی نہیں ہو گا۔
شبنم جواب میں خاموش رہی۔
پھر سب نے انہیں اکیلے بات کرنے کا موقع دیا۔
فواد اپنے کان پکڑ کر شبنم سے بولا میں جانتا ہوں کہ میرا گناہ بہت بڑا ہے اور سزا کا مستحق ہوں مگر پلیز ساری رات ایک ڈانگ پر کھڑا رکھو مجھے مارو وہ اس کے ہاتھ پکڑ کر اپنے منہ پر تھپڑ مارنے لگا۔ وہ بولا بےشک مجھے اپنے ہاتھ کے پکے کھانے نہ کھلاو۔ بس مجھ سے دور رہنے کی سزا نہ دو۔ میں تمھارے بغیر نہیں رہ سکتا۔ میں بہت گھٹیا انسان ہوں۔ میری سوچ گھٹیا ہے۔ تم اعلیٰ ترین کردار کی مالک ہو۔ شرافت کامجسمہ ہو۔ میں تمھارے قابل نہیں ہوں۔ تم آسمان ہو اور میں زمین کا ایک زرہ۔ بس ایک بار معاف کر دو دوبارہ کھبی ایسا نہیں ہو گا وہ اس کے پاوں پڑ گیا۔
شبنم کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے ایک دم اس نے اپنے پاوں پیچھے کیے اور کہا کہ کوئی بات نہیں مجھے میری سگی بھابی نے قبول نہیں کیا تھا۔ سگے بھائی نے بھی بیٹی کا عزر بنا کر مجھے اپنے گھر آنے کا حق نہ دیا تو پھر آپ تو شوہر تھے شوہر تو ویسے بھی بیوی کی کسی پہلی غلطی کو کھبی معاف نہیں کرتے۔ میں نے آپ کو معاف کیا کہ اپ کو اپنی غلطی کا احساس ہو چکا ہے۔ ویسے بھی میاں بیوی کا رشتہ مقدس ہوتا ہے۔ میں بھی آپ کے گزشتہ اچھے روپے کی وجہ سے معاف کرتی ہوں۔
فواد خوشی سے اسے گلے لگا کر بے تہاشہ روتے ہوئے بولا میں خوش قسمت ہوں کہ مجھے تم جیسی نیک بیوی ملی۔
شبنم نے بھی روتے ہوئے کہا کہ وہ بھی اپ کے بغیر نہیں رہ سکتی۔ دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا۔ فواد نے اس کا بہت شکریہ ادا کیا۔
شبنم اب شوہر اور امر کے ساتھ سب اکٹھے رہنے لگے۔ امر اپنے گھر واپس آ گیا۔ اس کا پیارا سا بیٹا تھا جو شبنم اور فواد کی جان تھا۔ شبنم کی بھتیجی اس کا ایک بیٹی کی طرح خیال رکھتی۔ شبنم اپنے رب کا شکر بجا لاتی جو اس کی رحمت سے کھبی مایوس نہ تھی۔ اب وہ شان اور عزت سے بیٹے کی محبت کے ساے میں تھی وہ اس کا بہت فرمانبردار بیٹا تھا جو اس کی خدمت کرتا۔
شبنم اب شوہر اور بہو بیٹے کے ساتھ عزت سے میکے جاتی اور اللہ تعالیٰ کاشکر بجا لاتی۔
ختم شد۔
پلیز اسے لاہک، شہیر اور کمنٹ کرنا نہ بھولیں۔ شکریہ۔
ناول نگار عابدہ زی شیریں
ناول اختتام پذیر ہوا
You've reached the end of this journey. We hope you enjoyed it!

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.