Loading...
Logo
Back to Novel
Muhabbat Dil Ka Zehr Ya Suroor
Episodes
قسط 1: محبت دل کا زہر یا سرور 1 قسط 2: محبت دل کا زہر یا سرور 2 قسط 3: محبت دل کا زہر یا سرور 3 قسط 4: محبت دل کا زہر یا سرور 4 قسط 5: محبت دل کا زہر یا سرور 5 قسط 6: محبت دل کا زہر یا سرور 6 قسط 7: محبت دل کا زہر یا سرور 7 قسط 8: محبت دل کا زہر یا سرور 8 قسط 9: محبت دل کا زہر یا سرور 9 قسط 10: محبت دل کا زہر یا سرور 10 قسط 11: محبت دل کا زہر یا سرور 11 قسط 12: محبت دل کا زہر یا سرور 12 قسط 13: محبت دل کا زہر یا سرور 13 قسط 14: محبت دل کا زہر یا سرور 14 قسط 15: محبت دل کا زہر یا سرور 15 قسط 16: محبت دل کا زہر یا سرور 16 قسط 17: محبت دل کا زہر یا سرور 16 قسط 18: محبت دل کا زہر یا سرور 18 قسط 19: محبت دل کا زہر یا سرور 19 قسط 20: محبت دل کا زہر یا سرور 20 قسط 21: محبت دل کا زہر یا سرور 21 قسط 22: محبت دل کا زہر یا سرور 22 قسط 23: محبت دل کا زہر یا سرور 23 قسط 24: محبت دل کا زہر یا سرور 24 قسط 25: محبت دل کا زہر یا سرور 25 قسط 26: محبت دل کا زہر یا سرور 26 قسط 27: محبت دل کا زہر یا سرور 27 قسط 28: محبت دل کا زہر یا سرور 28 قسط 29: محبت دل کا زہر یا سرور 29 قسط 30: محبت دل کا زہر یا سرور 30
Muhabbat Dil Ka Zehr Ya Suroor

محبت دل کا زہر یا سرور 13

From Muhabbat Dil Ka Zehr Ya Suroor - Episode 13

شبنم اپنے کمرے میں بیٹھی اس کی آہ و بکاہ سن کر دکھی ہو رہی تھی۔ مگر اس کے لئے کچھ نہ کر سکتی تھی اس معاملے میں کوئی اس کا ساتھ دینے والا نہ تھا۔ بس اپنے رب سے ہی التجا کرتی کہ اس سمیت تمام ایسی بےکس ومجبور عورتوں کی مدد فرما جو اپنے لالچ اور دولت کی حوس میں کتنی ماوں کی گود اجاڑتے ہیں کتنی لڑکیوں کی زندگی تباہ کرتے ہیں۔ کتنے والدین کو خون کے آنسو رلاتے ہیں اس نے دل میں زور وشور سے اپنے رب سے دعائیں کرنی شروع کر دیں اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں۔ ملکہ بی چلا کر غصے سے بولی ابھی اس پر شرافت کا بھوت چڑھا ہے ہم یہ بھوت اتارنا اچھی طرح جانتے ہیں۔ اتنے میں ملکہ بی کو فون آیا کہ کسی کسٹمر کی آمد ہے اور اسے کوئی احتجاج کرنے اور چیخنے چلانے والی لڑکی چاہیے تو ملکہ بی مسکراتے ہوئے اپنے ساتھی سے بولی لو اب تمھیں بھی تشدد کی زحمت نہیں کرنا پڑے گی اور اس کی عزت نہ بچی تو بعد میں خود ہی ہمارے اشاروں پر چلنے پر مجبور ہو جاے گی۔ اس کی قسمت بھی اچھی ہے جو تشدد سے بچ گئی۔


شبنم کی اس طرح ٹینشن سے طبیعت خراب ہو گئی۔ اس کو بخار نے آ لیا۔ شبنم کو اس نے بتایا کہ اس کی طبیعت خراب ہے۔ پہلے بھی وہ کافی بار اس ڈاکٹر صاحب کے پاس گئی تھی اور بہانے سے مدد کی اپیل بھی کی تھی جواب میں اس نے وعدہ بھی کیا تھا اور کھبی کبھار اسے فون بھی کر لیتا تھا اور کہتا تھا کہ موقع ملتے ہی وہ اس کی مدد کرے گا ابھی اس کا میرے پاس آنے کا اعتماد بحال ہونے دو۔ میں خود بھی بےبس ہوں میرے پاس کوئی زریعہ نہیں ہے اکیلے ہی مدد کروں گا مگر سمجھ نہیں آتی کیسے کروں کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔ کسی کو مجھ پر شبہ بھی نہ ہو اور میری فیملی پر بھی آنچ نہ آئے۔


شبنم دن رات محنت کر کے تعلیم کے منازل طے کرتی جا رہی تھی اس کی ٹیچر کو بھی لالچ تھا کہ جلد از جلد اسے پرائیوٹ طور پر ایم اے کروا دے۔ اب اس نے ایم اے کے پیپرز دینے تھے۔


شبنم نے اپنے مہربان کسٹمر سے التجا کی کہ وہ کچھ مدد کرے اسے اس گندگی کے ماحول سے نکلنے کی۔ جب وہ آیا تو اس کا حسبِ معمول ایک ہی جواب تھا کہ وہ پیسے سے مدد کر سکتا ہے مگر عملی ان چکروں میں پڑ کر اپنی فیملی کو مشکل میں نہیں ڈال سکتا۔


شبنم نے کافی رقم پس انداز کر لی تھی اس نے کہا کہ وہ ملکہ بی سے اسے خرید کر آزاد کر دے بس وہ اسے اس چنگل سے نکال دے پھر وہ ڈاکٹر صاحب سے ہیلپ لے لے گی جنہوں نے اس کی مدد کا وعدہ کیا ہوا ہے۔ وہ بمشکل راضی ہوا اس نے ملکہ بی سے بات کرنے کا وعدہ کیا۔


شبنم جی جان سے محنت کر کے ایم اے کی تیاری کر رہی تھی۔ اس نے بہت محنت سے اور کامیابی سے ایم اے کا امتحان پاس کیا۔ اب اسے اس کسٹمر کے جواب کا انتظار تھا کہ اس نے ملکہ بی سے اس کے خریدنے کی بات کی اور کیا جواب ملا۔


ڈاکٹر صاحب نے اسے فون کر کے بتایا کہ انہوں نے ایک تین مرلے کا گھر خریدا ہے اور ان کے زہن میں ایک پلان ہے کہ اگر تم کسی طریقے سے ادھر سے فرار ہو کر اس کے پاس آ جاو تو تمہیں اس گھر میں رکھ لوں گا تم اس محلے میں اپنے آپ کو بیوہ ظاہر کرنا چھوٹا سا محلہ ہے قریب ہی ایک پرائیویٹ اچھا اسکول بھی ہے جس کا پرنسپل میرا واقف ہے میں نے اس سے بات کر لی ہے کہ میری کزن بیوہ ہے۔ اس کو وہاں جاب چاہیے تو اس نے رضامندی ظاہر کی ہے تم باہر کھبی برقعے کے بغیر نہ نکلنا ادھر کسی کو شک بھی نہیں جاے گا میں بھی آتا جاتا رہوں گا میں نے گھر میں ضرورت کا سب سامان ڈال دیا ہے۔ اب تم جب بیمار ہو تو میں تمہیں ہاسپٹل سے فرار کرنے کی کوشش کروں گا پھر کسی بہانے سے تمہیں ایکسرے کروانے کے لیے بھیجوں گا وہاں پر تمہیں برقع بہانے سے پکڑا دوں گا تم موقع لگا کر باہر نکل کر میرے بتاے ہوئے اس گھر کے ایڈریس پر رکشے میں چلی جانا چابی اسی شاپر میں ہو گی میں فون پر رابطہ رکھوں گا مگر ہاسپٹل روٹین میں بیٹھا رہوں گا تاکہ کسی کو شبہ نہ ہو۔


شبنم نے ملکہ بی سے کہا کہ اسے ہاسپٹل جانا ہے۔ ملکہ بی نے اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھا تو وہ اسے بیمار لگی اس نے کہا کہ آج ایک خاص کسٹمر آ رہا ہے اور وہ نہیں جا سکتی۔ تم کوئی گولی کھا لو کل لے جاوں گی۔ وہ مایوس ہو گئی ملکہ بی نے اسے گولی دیتے ہوئے آرام کرنے کی ہدایت دی۔


وہ چاے کے کپ کے ساتھ کمرے میں آئی اور کمرے میں آ کر کسٹمر کو فون کیا کہ کیا اس نے اسے خریدنے کی بات کی ہے تو وہ غصے سے بولا کہ سنو لڑکی میں تمہیں پہلے بھی بتا چکا ہوں اور اب آخری بار بتا رہا ہوں کہ اب دوبارہ مجھے فون کیا یا اس قسم کی بات کی تو میں ملکہ بی کو بتا دوں گا۔ میں نے ہلکی سی بات کی کہ کیا تم یہ لڑکیاں بیچتی بھی ہو تو وہ سخت برہم ہو گئ اور بولی نہیں۔ اگر بیچا بھی تو کروڑوں میں دوں گی۔ اور سنو میں اپنی فیملی کو تمھارے پیچھے ان خطرناک لوگوں کی دشمنی میں نہیں ڈال سکتا اور آہندہ سے مجھ سے ایسی کوئی توقع نہ رکھنا۔ میں تمھیں بلاک کرنے لگا ہوں۔


شبنم بہت روئی۔ اب رہ گیا ڈاکٹر صاحب اب اسے آزمانا تھا مگر پھر بھی وہ اوپر والے کی رحمت سے مایوس نہیں ہوئی اور آخری سانس تک اس جہنم سے نکلنے کا عزم کر لیا۔


جاری ہے۔


ازقلم عابدہ زی شیریں۔


پلیز اسے لاہک، شہیر اور کمنٹ کرنا نہ بھولیں۔


شکریہ۔


Reader Comments

Be the first to leave a comment on this episode!


Log in to leave a comment.

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Unlock the Full Library

PKR 300

For 30 Days of Unlimited Access

  • Read all premium and exclusive content
  • Enjoy a seamless, uninterrupted reading experience
  • Directly support the author and her work
Go Premium Now

Experience the Best Urdu Novels Online

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Captivating Novels and Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Reading Urdu Novels on Tablet and Phone

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen’s verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Elegant Desk with Pens and Books