Loading...
Logo
Back to Novel
Muhabbat Dil Ka Zehr Ya Suroor
Episodes
قسط 1: محبت دل کا زہر یا سرور 1 قسط 2: محبت دل کا زہر یا سرور 2 قسط 3: محبت دل کا زہر یا سرور 3 قسط 4: محبت دل کا زہر یا سرور 4 قسط 5: محبت دل کا زہر یا سرور 5 قسط 6: محبت دل کا زہر یا سرور 6 قسط 7: محبت دل کا زہر یا سرور 7 قسط 8: محبت دل کا زہر یا سرور 8 قسط 9: محبت دل کا زہر یا سرور 9 قسط 10: محبت دل کا زہر یا سرور 10 قسط 11: محبت دل کا زہر یا سرور 11 قسط 12: محبت دل کا زہر یا سرور 12 قسط 13: محبت دل کا زہر یا سرور 13 قسط 14: محبت دل کا زہر یا سرور 14 قسط 15: محبت دل کا زہر یا سرور 15 قسط 16: محبت دل کا زہر یا سرور 16 قسط 17: محبت دل کا زہر یا سرور 16 قسط 18: محبت دل کا زہر یا سرور 18 قسط 19: محبت دل کا زہر یا سرور 19 قسط 20: محبت دل کا زہر یا سرور 20 قسط 21: محبت دل کا زہر یا سرور 21 قسط 22: محبت دل کا زہر یا سرور 22 قسط 23: محبت دل کا زہر یا سرور 23 قسط 24: محبت دل کا زہر یا سرور 24 قسط 25: محبت دل کا زہر یا سرور 25 قسط 26: محبت دل کا زہر یا سرور 26 قسط 27: محبت دل کا زہر یا سرور 27 قسط 28: محبت دل کا زہر یا سرور 28 قسط 29: محبت دل کا زہر یا سرور 29 قسط 30: محبت دل کا زہر یا سرور 30
Muhabbat Dil Ka Zehr Ya Suroor

محبت دل کا زہر یا سرور 16

From Muhabbat Dil Ka Zehr Ya Suroor - Episode 17

شبنم کو جب اس گھر کی ملازمہ نے بتایا کہ اس گھر میں ڈاکٹر صاحب کی شادی کی باتوں شبنم کے ساتھ ہو رہی تھی۔ ان کی ماں کو پہلے شبنم بہت پسند آئی تو اس نے شوہر کو قاہل کیا کیونکہ وہ اپنے بیٹے کو ایک بیوہ سے نہیں بیاہنا چاہتے تھے مگر بیوی نے کہا کہ وہ نیک شریف لڑکی ہے۔ رشتوں کو نبھانے والی ہے نسلوں کو سنوارنے والی ہے۔ ہمیں بڑھاپے میں سنبھالنے والی ہے۔ خوبصورت ہے پڑھی لکھی ہے۔ ڈاکٹر صاحب کے باپ بیوی کی بات کو بڑی مشکل سے مانے۔ والدہ نے کہا کہ ہمارا بیٹا بھی لگتا ہے اسے پسند کرتا ہے دیکھا نہیں اس کے آنے سے کتنا خوش ہو جاتا ہے اس کے آگے پیچھے پھرتا ہے۔ اس کی کیسے مدد کے لیے دوڑا جاتا ہے اسے کتنی اہمیت دیتا ہے۔ ہمیں اپنے بیٹے کی خوشی کو دیکھنا چاہیے اور اس کو ساری زندگی کی خوشی دینے کا سوچنا چاہیے۔ باپ قاہل ہو گیا۔ ڈاکٹر صاحب کے باپ نے کہا کہ آج بیٹا آتا ہے تو ہم اس سے بات کرتے ہیں مگر جو رشتہ اس وقت آیا ہوا ہے اور ہم نے بیٹے سے پوچھا بھی تھا۔ اس نے کہا تھا کہ جیسے آپ لوگوں کی مرضی۔ اب انکو بھی ہاں کر دی ہے۔


ماں نے تڑخ کر جواب دیا کہ تو کیا ہوا ہم کہہ دیں گے کہ ہمیں معلوم نہ تھا کہ بیٹا کسی اور میں انٹرسٹیڈ ہے۔ اگر ہم نے زبردستی کی تو وہ اسے خوش نہیں رکھ پائے گا۔


شوہر نے قاہل ہوتے ہوئے کہا کہ تم ٹھیک کہتی ہو۔ پھر ہنستے ہوئے ازراے مزاق کہا کہ میں جانتا ہوں کہ آپ کو نسلوں کو سنوارنے کی فکر نہیں بلکہ اپنی خدمتیں کروانے کی پڑی ہے۔ آپ کو اس کے آنے سے بڑا آرام ملتا ہے آپ گھر کی زمہ داریوں سے بے فکری ہو جاتی ہیں۔ سیدھی طرح سے کیوں نہیں کہتی کہ آپ اپنے سکھ کے لیے اسے لانا چاہتی ہیں۔


بیوی شرمیلی اور خجل مسکراہٹ سے انہیں دیکھتے ہوئے بولی تو کیا برائی ہے۔ سب کا بھلا ہوگا۔ آپ بھی تو اس کے ہاتھ کے پکے کھانے مزے سے کھاتے ہیں اور چپکے چپکے اس کے آنے پر مجھے فرمائشیں کرتے ہیں۔


شوہر مسکرا کر بولا اچھا ان لوگوں کو انکار کر دوں کیا۔


بیوی نے کہا کہ تو اور کیا جلدی سے فون کر دیں ورنہ وہ لوگ آس نہ لگا لیں۔ پیچھے نہ پڑ جائیں۔


شوہر نے کہا کہ ارے ان کی بیٹی اکلوتی ڈھیروں جاہیداد کی مالک، پڑھی لکھی، خوبصورت۔ اس کے باپ کا بزنس کی دنیا میں ایک نام ہے مقام ہے۔ ان کی بیٹی کے لیے رشتوں کی لاہن لگی ہے ہم ان کے ہم پلہ بھی نہیں ہیں پھر بھی ان لوگوں نے ہمارے گھر کا انتخاب کیا۔ ویسے بیگم ایک بار پھر سوچ لو بیٹے کا مستقبل اس طرح بھی سنور جائے گا۔


بیگم پھٹ پڑی اور غصے سے بولی بھاڑ میں جاے ایسا مستقبل۔ جس کی وجہ سے ہمیں ساری زندگی باہر کے کھانے کھانے کو ملتے رہیں ہم ہوٹلوں کے محتاج رہیں۔ ان کے گھر میں تو ہوٹل سے ہی کھانا آتا ہے۔ ان کے ملازم روز سب کی پسند کا مینو لیتے ہیں اور پھر کھانا آتا ہے۔ اس نے ادھر آ کر یہی سسٹم چلانا ہے۔


شوہر نے کہا کہ تم چند دن بعد اپنا سسٹم چلتے رکھنا نا اسے بھی آہستہ آہستہ عادت ہو جائے گی۔


بیوی نے ناراض ہوتے ہوئے کہا کہ آپ ابھی بھی دل سے نہیں مانے ہیں۔ آپ دور کی نہیں سوچتے۔ ہمارے پاس سب کچھ اللہ تعالیٰ کا دیا موجود ہے۔ عزت دار گھرانے میں شمار ہوتا ہے بہت زیادہ دولت نہ سہی عزت تو خدا کے کرم سے ملی ہے ہمیں ناشکری نہیں کرنی چاہیے۔ بس اب آپ نے مجھے مزید پریشان نہیں کرنا۔


شوہر نے ہنستے ہوئے کہا کہ اگر شبنم نہ ملی ہوتی تو آج آپ اس رشتے کے آنے پر فخر محسوس کر رہی ہوتی اور تعریفوں کے پل باندھ رہی ہوتی۔


بیوی نے کہا کہ شکر ہے شبنم وقت پر مل گئی ورنہ بعد میں ملتی تو ہم پچھتا رہے ہوتے۔ بس بیٹا آے تو فوراً اس سے بات کریں دیکھنا کتنا خوش ہو گا۔ پھر ان لوگوں کو فوراً جواب دے دیں گے بڑے آے ہمارے بیٹے کو رشتہ دینے والے۔ وہ بڑبڑائی۔ آپ بیٹے کو فون کریں جلدی آ جائے۔ اب صبر نہیں ہو رہا۔


شوہر نے شرارت سے کہا کہ ایک بار پھر سوچ لو بیوی نے غصے سے گھورا تو اس نے مسکراتے ہوئے فون اٹھایا اور بیٹے سے کہا کہ آج جلدی آ جاو۔ وہ وجہ پوچھنے لگا اور بتانے لگا کہ بزی ہے۔ باپ نے کہا کہ بیٹا تھوڑی دیر کے لیے آ جاو تمھارے لیے تمھاری ماں کے پاس سرپراہز ہے اس سے ہضم نہیں ہو رہا پیٹ میں درد پڑا ہے جب تک تمھارے کانوں میں انڈیل نہ لے اس کے پیٹ کا درد ٹھیک نہیں ہو گا۔


بیٹے نے کہا اچھا میں آتا ہوں۔


ماں باپ کو بیٹے کے آنے کا انتظار تھا۔ ماں جوش میں بےقرار ہو رہی تھی۔ششوہر اس کی بےتابی کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔


بیٹا آیا تو ماں نے اٹھ کر جزباتی ہو کر اسے چوما اور کہا کہ ہمیں تمھارے خوشی کا پہلے ہی خیال کر لینا چاہیے تھا


وہ حیرت سے ماں کو دیکھ رہا تھا۔


باپ نے سرزنش کی اور کہا کہ وہ بزی ہے تھوڑی دیر کے لیے آیا ہے پہلے اسے بلانے کی وجہ بتا دو بعد میں خوشی مناتی رہنا۔


ماں نے کہا کہ بیٹا ہم نے سوچا ہے کہ شبنم کو اپنی بہو بنا لیں۔


ڈاکٹر صاحب نے سنا اور حیرت سے ماں کو دیکھا۔


جاری ہے۔


پلیز اسے لاہک، شہیر اور کمنٹ کرنا نہ بھولیں۔ شکریہ۔


ناول نگار عابدہ زی شیریں


Reader Comments

Be the first to leave a comment on this episode!


Log in to leave a comment.

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Unlock the Full Library

PKR 300

For 30 Days of Unlimited Access

  • Read all premium and exclusive content
  • Enjoy a seamless, uninterrupted reading experience
  • Directly support the author and her work
Go Premium Now

Experience the Best Urdu Novels Online

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Captivating Novels and Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Reading Urdu Novels on Tablet and Phone

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen’s verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Elegant Desk with Pens and Books