Muhabbat Dil Ka Zehr Ya Suroor
Episodes
شبنم کو جب اس گھر کی ملازمہ نے بتایا کہ اس گھر میں ڈاکٹر صاحب کی شادی کی باتوں شبنم کے ساتھ ہو رہی تھی۔ ان کی ماں کو پہلے شبنم بہت پسند آئی تو اس نے شوہر کو قاہل کیا کیونکہ وہ اپنے بیٹے کو ایک بیوہ سے نہیں بیاہنا چاہتے تھے مگر بیوی نے کہا کہ وہ نیک شریف لڑکی ہے۔ رشتوں کو نبھانے والی ہے نسلوں کو سنوارنے والی ہے۔ ہمیں بڑھاپے میں سنبھالنے والی ہے۔ خوبصورت ہے پڑھی لکھی ہے۔ ڈاکٹر صاحب کے باپ بیوی کی بات کو بڑی مشکل سے مانے۔ والدہ نے کہا کہ ہمارا بیٹا بھی لگتا ہے اسے پسند کرتا ہے دیکھا نہیں اس کے آنے سے کتنا خوش ہو جاتا ہے اس کے آگے پیچھے پھرتا ہے۔ اس کی کیسے مدد کے لیے دوڑا جاتا ہے اسے کتنی اہمیت دیتا ہے۔ ہمیں اپنے بیٹے کی خوشی کو دیکھنا چاہیے اور اس کو ساری زندگی کی خوشی دینے کا سوچنا چاہیے۔ باپ قاہل ہو گیا۔ ڈاکٹر صاحب کے باپ نے کہا کہ آج بیٹا آتا ہے تو ہم اس سے بات کرتے ہیں مگر جو رشتہ اس وقت آیا ہوا ہے اور ہم نے بیٹے سے پوچھا بھی تھا۔ اس نے کہا تھا کہ جیسے آپ لوگوں کی مرضی۔ اب انکو بھی ہاں کر دی ہے۔
ماں نے تڑخ کر جواب دیا کہ تو کیا ہوا ہم کہہ دیں گے کہ ہمیں معلوم نہ تھا کہ بیٹا کسی اور میں انٹرسٹیڈ ہے۔ اگر ہم نے زبردستی کی تو وہ اسے خوش نہیں رکھ پائے گا۔
شوہر نے قاہل ہوتے ہوئے کہا کہ تم ٹھیک کہتی ہو۔ پھر ہنستے ہوئے ازراے مزاق کہا کہ میں جانتا ہوں کہ آپ کو نسلوں کو سنوارنے کی فکر نہیں بلکہ اپنی خدمتیں کروانے کی پڑی ہے۔ آپ کو اس کے آنے سے بڑا آرام ملتا ہے آپ گھر کی زمہ داریوں سے بے فکری ہو جاتی ہیں۔ سیدھی طرح سے کیوں نہیں کہتی کہ آپ اپنے سکھ کے لیے اسے لانا چاہتی ہیں۔
بیوی شرمیلی اور خجل مسکراہٹ سے انہیں دیکھتے ہوئے بولی تو کیا برائی ہے۔ سب کا بھلا ہوگا۔ آپ بھی تو اس کے ہاتھ کے پکے کھانے مزے سے کھاتے ہیں اور چپکے چپکے اس کے آنے پر مجھے فرمائشیں کرتے ہیں۔
شوہر مسکرا کر بولا اچھا ان لوگوں کو انکار کر دوں کیا۔
بیوی نے کہا کہ تو اور کیا جلدی سے فون کر دیں ورنہ وہ لوگ آس نہ لگا لیں۔ پیچھے نہ پڑ جائیں۔
شوہر نے کہا کہ ارے ان کی بیٹی اکلوتی ڈھیروں جاہیداد کی مالک، پڑھی لکھی، خوبصورت۔ اس کے باپ کا بزنس کی دنیا میں ایک نام ہے مقام ہے۔ ان کی بیٹی کے لیے رشتوں کی لاہن لگی ہے ہم ان کے ہم پلہ بھی نہیں ہیں پھر بھی ان لوگوں نے ہمارے گھر کا انتخاب کیا۔ ویسے بیگم ایک بار پھر سوچ لو بیٹے کا مستقبل اس طرح بھی سنور جائے گا۔
بیگم پھٹ پڑی اور غصے سے بولی بھاڑ میں جاے ایسا مستقبل۔ جس کی وجہ سے ہمیں ساری زندگی باہر کے کھانے کھانے کو ملتے رہیں ہم ہوٹلوں کے محتاج رہیں۔ ان کے گھر میں تو ہوٹل سے ہی کھانا آتا ہے۔ ان کے ملازم روز سب کی پسند کا مینو لیتے ہیں اور پھر کھانا آتا ہے۔ اس نے ادھر آ کر یہی سسٹم چلانا ہے۔
شوہر نے کہا کہ تم چند دن بعد اپنا سسٹم چلتے رکھنا نا اسے بھی آہستہ آہستہ عادت ہو جائے گی۔
بیوی نے ناراض ہوتے ہوئے کہا کہ آپ ابھی بھی دل سے نہیں مانے ہیں۔ آپ دور کی نہیں سوچتے۔ ہمارے پاس سب کچھ اللہ تعالیٰ کا دیا موجود ہے۔ عزت دار گھرانے میں شمار ہوتا ہے بہت زیادہ دولت نہ سہی عزت تو خدا کے کرم سے ملی ہے ہمیں ناشکری نہیں کرنی چاہیے۔ بس اب آپ نے مجھے مزید پریشان نہیں کرنا۔
شوہر نے ہنستے ہوئے کہا کہ اگر شبنم نہ ملی ہوتی تو آج آپ اس رشتے کے آنے پر فخر محسوس کر رہی ہوتی اور تعریفوں کے پل باندھ رہی ہوتی۔
بیوی نے کہا کہ شکر ہے شبنم وقت پر مل گئی ورنہ بعد میں ملتی تو ہم پچھتا رہے ہوتے۔ بس بیٹا آے تو فوراً اس سے بات کریں دیکھنا کتنا خوش ہو گا۔ پھر ان لوگوں کو فوراً جواب دے دیں گے بڑے آے ہمارے بیٹے کو رشتہ دینے والے۔ وہ بڑبڑائی۔ آپ بیٹے کو فون کریں جلدی آ جائے۔ اب صبر نہیں ہو رہا۔
شوہر نے شرارت سے کہا کہ ایک بار پھر سوچ لو بیوی نے غصے سے گھورا تو اس نے مسکراتے ہوئے فون اٹھایا اور بیٹے سے کہا کہ آج جلدی آ جاو۔ وہ وجہ پوچھنے لگا اور بتانے لگا کہ بزی ہے۔ باپ نے کہا کہ بیٹا تھوڑی دیر کے لیے آ جاو تمھارے لیے تمھاری ماں کے پاس سرپراہز ہے اس سے ہضم نہیں ہو رہا پیٹ میں درد پڑا ہے جب تک تمھارے کانوں میں انڈیل نہ لے اس کے پیٹ کا درد ٹھیک نہیں ہو گا۔
بیٹے نے کہا اچھا میں آتا ہوں۔
ماں باپ کو بیٹے کے آنے کا انتظار تھا۔ ماں جوش میں بےقرار ہو رہی تھی۔ششوہر اس کی بےتابی کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔
بیٹا آیا تو ماں نے اٹھ کر جزباتی ہو کر اسے چوما اور کہا کہ ہمیں تمھارے خوشی کا پہلے ہی خیال کر لینا چاہیے تھا
وہ حیرت سے ماں کو دیکھ رہا تھا۔
باپ نے سرزنش کی اور کہا کہ وہ بزی ہے تھوڑی دیر کے لیے آیا ہے پہلے اسے بلانے کی وجہ بتا دو بعد میں خوشی مناتی رہنا۔
ماں نے کہا کہ بیٹا ہم نے سوچا ہے کہ شبنم کو اپنی بہو بنا لیں۔
ڈاکٹر صاحب نے سنا اور حیرت سے ماں کو دیکھا۔
جاری ہے۔
پلیز اسے لاہک، شہیر اور کمنٹ کرنا نہ بھولیں۔ شکریہ۔
ناول نگار عابدہ زی شیریں

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.