Muhabbat Dil Ka Zehr Ya Suroor
Episodes
شبنم ڈاکٹر صاحب کے جانے کے بعد کافی دیر تک شادی کارڈ کو دیکھتی رہی۔ آنسو کارڈ کو بھگوتے رہے۔ حالانکہ اس نے دل میں پکا سوچا تھا کہ وہ اگر شادی کی آفر بھی کریں گے تو وہ صاف انکار کر دے گی۔ ڈاکٹر صاحب اس کے محسن تھے وہ ان سے شادی کر کے معاشرے کے طعنوں کی زد میں نہیں لانا چاہتی تھی اچھا ہے انہوں نے خود ہی اپنا راستہ چن لیا۔ اس کی چائے بھی ٹھنڈی ہو چکی تھی اور اس کا کچھ نہ کھانے کو دل چاہ رہا تھا نہ ہی کچھ کرنے کو۔ وہ جا کر بیڈ پر لیٹ گئی کافی دیر اپنی قسمت پر آنسو بہاتی رہی۔ والدین کو بھی یاد کرتی رہی۔ رات نو بجے ڈاکٹر صاحب کی کال آ گئی۔
پہلے جب کال آتی تو وہ خوشی سے چہک کر بات کرتی تھی آج اس کی آواز گلے میں پھنس رہی تھی۔ مری مری آواز میں ہیلو بولی۔
ڈاکٹر صاحب نے بھی آج دکھی سی آواز میں ہی بات کی تو اس نے کہا کہ طبیعت زرا خراب ہے۔
ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ دیکھو شبنم مجھے باتیں بنانی نہیں آتی ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ تمھارا میرے علاوہ اس دنیا میں کوئی نہیں۔ اور میں بھی اب شادی کرنے والا ہوں۔ مجھے پتا ہے کہ تم آج ڈسٹرب ہو اور یقیناً روتی بھی رہی ہو۔
میں نے تم سے کوئی محبت کے دعوے نہیں کیے نہ ہی آس لگوائ۔ مگر پھر بھی قدرتی طور پر اک امید سی بندھ جاتی ہے۔ جب کوئی اپنوں کی طرح تعاون کرے ہیلپ کرے۔ ملنے جلنے سے لگاو بھی ہو جاتا ہے۔ جو ہم دونوں کو ہوا۔
میں آج کھل کر تم سے دل کی ساری باتیں کرنا چاہتا ہوں اس کے بعد میں زمہ داریوں میں پڑ جاوں گا اور موقع نہیں ملے گا۔ تمہیں شاید لگے کہ میں فضول میں یہ سب بول رہا ہوں تو پلیز مجھے اجازت دے دو کہ میں اپنا دل کھول سکوں بولو اجازت ہے۔
شبنم دکھی اور آہستہ آواز میں بولی جی سب کہہ دیں جو دل میں ہے۔
ڈاکٹر صاحب نے شکریہ ادا کیا اور گویا ہوئے کہ جب پہلی بار تم میرے کلینک آئی تو مجھے تم بہت بھولی اور معصوم سی لگی تم نے جب لکھ کر ہیلپ مانگی تو میں گھر آ کر بھی تمھارے بارے میں ہی سوچتا رہا۔ جب دوبارہ تم ملیں تو یہ جان کر افسوس ہوا کہ تم کس گندی جگہ رہتی ہو۔ پھر تمھاری حقیقت جان کر میں مایوس ہو گیا مجھ پر باور ہو چکا تھا کہ میں تمہیں پسند کرنے لگا ہوں۔ ہر وقت تمھارا ہی خیال رہتا۔ میرا رشتہ آیا لڑکی مجھ پر فدا ہو گئی والدین کی اکلوتی، لاڈلی بیٹی تھی تو وہ رشتہ کرنے پر اصرار کرنے لگے۔ میں نے لڑکی کا فون نمبر لیا اور جان چھڑانے کے لیے بول دیا کہ میں کسی اور کو پسند کرتا ہوں۔ اس نے کہا کہ مجھے کوئی اعتراض نہیں آپ اس سے ملیں جلیی مگر شادی مجھ سے ہی کریں۔
میں نے اسے کہا کہ میں کیوں تم سے شادی کروں اس سے کیوں نہ کروں تو وہ بولی پہلی آپ کو مجھ سے ہی کرنی پڑے گی دوسری آپ اس سے بعد میں کر لینا میں رکاوٹ نہیں بنوں گی۔ورنہ میں خودکشی کر کے الزام آپ کے سر لگا دوں گی۔ سو میں نے اس سے وعدہ لیا کہ وہ بعد میں مجھے تم سے دوسری شادی کرنے دے گی۔ میں اسے الگ ہی رکھوں گا اور شاید خفیہ بھی شادی کو رکھنا پڑے تو اس نے منظور کر لیا۔ گھر والوں کو میرے اس پلان کا نہیں علم۔ اب تمہیں تھوڑا صبر سے کام لینا ہوگا انہوں نے فون بند کرتے ہوئے جلدی سے کہا کہ ان کی کال آ رہی ہے۔ باقی باتیں صبح کرتا ہوں اور جلدی سے بند کر دیا۔
شبنم نے سوچا واہ ری قسمت محبوب کا پیار بھی ملا اظہار بھی ملا مگر راہ میں منزل پانے کے لئے کتنی رکاوٹیں کھڑی ہیں۔ اس نے سوچا کہ وہ ڈاکٹر صاحب کی شادی شدہ زندگی کو دو حصوں میں تقسیم نہیں ہونے دے گی اس طرح ان کی شادی شدہ زندگی ڈسٹرب رہے گی۔ اس نے سوچا کہ وہ اسے بھول کر اپنی زندگی جییں اس کے لیے اسے انہیں بے دردی سے ٹھکرانا ہو گا۔
وہ ایک نیے عزم سے اٹھی اور ڈاکٹر صاحب کا فون ملا دیا۔ وہ جانتی تھی کہ وہ ابھی جاگ رہے ہوں گے اور پریشان ہوں گے۔
ڈاکٹر صاحب نے کاٹ کر خود ملایا اور ہیلو بولے۔
شبنم نے گلہ صاف کرتے ہوئے بڑے اعتماد سے بولی صاحب آپ بھی نا عام مردوں کی طرح ہی نکلے۔ مجھے وہ سمجھ لیا کہ اس کی مدد کی اور اس کی زندگی کے فیصلے بھی خود کریں گے۔ پہلے مجھے اپنے گھر شفٹ کروا کر گھر کی آیا بنانا چاہتے تھے اور اب دوسری شادی کا احسان کر کے مجھے اپنی زندگی میں شامل رہنے دینا چاہتے ہیں۔ مجھ سے پوچھنا میری مرضی کیا ہے خود ہی سارے فیصلے کر لیے۔آپ نے مجھے اپنی منگیتر کی نظروں میں گرا دیا بےشک آپ نے اسے میرا ماضی نہیں بتایا بیوہ بتایا ہے مگر میں تو اس کے آگے شرمندہ رہوں گی نا کاش آپ نے اسے نہ بتایا ہوتا۔ وہ دل میں سوچے گی کہ میں بیوہ ہو کر بھی آپ سے محبت کا کھیل کھیل رہی ہوں۔ میں نے شادی کا سوچا ہی نہیں میرا مقصد اپنے والدین کو تلاش کرنا ہے چاہے بوڑھی ہو جاوں۔ میں اکیلی اس ماحول میں محفوظ اور خوش ہوں آپ کو میری اب مزید فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں آنٹی کے ساتھ مل کر آپ کی شادی کی تیاریاں کروانے میں پوری مدد کروں گی اور اس کے بعد آپ سے کبھی ناطہ نہیں رکھوں گی زیادہ ہوا تو کھبی کھبی آپ کی غیر موجودگی میں آنٹی سے ملنے آیا کروں گی۔ آپ مجھے اپنی منگیتر کا نمبر سینڈ کریں میں اس کی غلط فہمی دور کروں۔
ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ ٹھیک ہے میں کرتا ہوں سینڈ۔ اور اپنے کیے پر میں شرمندہ ہوں واقعی مجھے پہلے تم سے بات کر لینی چاہیے تھی۔ مجھے معاف کر دو۔
شبنم جھٹ سے بولی پلیز آپ کے احسانات کے آگے یہ غلطی بہت معمولی ہے۔ آپ معافی مانگ کر مجھے شرمندہ نہ کریں۔ اور شادی ہونے والی ہے۔ اپنی منگیتر کے ساتھ مستقبل کے پلان بناہیں شکر کریں اتنی چاہنے والی ملی ہے اس کی قدر کریں۔ میرا خیال دل سے کھرچ دیں۔
ڈاکٹر صاحب نے اس کا شکریہ ادا کیا کہ وہ واقعی ڈسٹرب تھے اب وہ فل ٹائم منگیتر کو خوش کرنے میں لگائیں گے تاکہ بعد میں وہ اسے طعنے نہ مارے۔
شبنم کو انہوں نے نمبر سینڈ کرتے ہوئے کہا کہ وہ جاگ رہی ہے میں نے اسے ڈیٹیل بتا دی ہے وہ بہت خوش ہوئی ہے اور ابھی فون کرے گی۔
تھوڑی دیر بعد شبنم کو ڈاکٹر صاحب کی منگیتر کی کال آ گئی۔
جاری ہے
پلیز اسے لاہک، شہیر اور کمنٹ کرنا نہ بھولیں۔ شکریہ
ناول نگار عابدہ زی شیریں

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.