Loading...
Logo
Back to Novel
Muhabbat Dil Ka Zehr Ya Suroor
Episodes
قسط 1: محبت دل کا زہر یا سرور 1 قسط 2: محبت دل کا زہر یا سرور 2 قسط 3: محبت دل کا زہر یا سرور 3 قسط 4: محبت دل کا زہر یا سرور 4 قسط 5: محبت دل کا زہر یا سرور 5 قسط 6: محبت دل کا زہر یا سرور 6 قسط 7: محبت دل کا زہر یا سرور 7 قسط 8: محبت دل کا زہر یا سرور 8 قسط 9: محبت دل کا زہر یا سرور 9 قسط 10: محبت دل کا زہر یا سرور 10 قسط 11: محبت دل کا زہر یا سرور 11 قسط 12: محبت دل کا زہر یا سرور 12 قسط 13: محبت دل کا زہر یا سرور 13 قسط 14: محبت دل کا زہر یا سرور 14 قسط 15: محبت دل کا زہر یا سرور 15 قسط 16: محبت دل کا زہر یا سرور 16 قسط 17: محبت دل کا زہر یا سرور 16 قسط 18: محبت دل کا زہر یا سرور 18 قسط 19: محبت دل کا زہر یا سرور 19 قسط 20: محبت دل کا زہر یا سرور 20 قسط 21: محبت دل کا زہر یا سرور 21 قسط 22: محبت دل کا زہر یا سرور 22 قسط 23: محبت دل کا زہر یا سرور 23 قسط 24: محبت دل کا زہر یا سرور 24 قسط 25: محبت دل کا زہر یا سرور 25 قسط 26: محبت دل کا زہر یا سرور 26 قسط 27: محبت دل کا زہر یا سرور 27 قسط 28: محبت دل کا زہر یا سرور 28 قسط 29: محبت دل کا زہر یا سرور 29 قسط 30: محبت دل کا زہر یا سرور 30
Muhabbat Dil Ka Zehr Ya Suroor

محبت دل کا زہر یا سرور 23

From Muhabbat Dil Ka Zehr Ya Suroor - Episode 23

ڈاکٹر صاحب کی بیوی ڈرائنگ روم میں آئی تو شبنم گلاس ہاتھ میں پکڑے سوچوں میں گم تھی۔ ڈاکٹر صاحب کی بیوی اسے دیکھ کر چونک سی گئی۔ وہ بہت معصوم اور مظلوم سی لگ رہی تھی تھوڑی دیر کے لیے ڈاکٹر صاحب کی بیوی اسے دیکھ کر پگھل سی گئی اور اخلاق سے ملی۔ شبنم نے کہا کہ اگر آپ کو مییرا مسئلہ ہے تو بتاو۔ وہ دل میں غصہ کھاتے ہوئے بولی اسے میں اتنی اہمیت کیوں دوں۔ رکھائ سے بولی ہمارا پرسنل میٹر ہے اور آپ سنائیں خیریت سے آئی ہیں۔


شبنم نے سوچا یہ کچھ سننے کو تیار نہیں۔ شبنم نے کہا کہ آپ گھر واپس آ جاہیں آنٹی پریشان ہیں۔


ڈاکٹر صاحب کی بیوی جل کر بولی نہیں وہ تو خوش ہو رہی ہوں گی ویسے بھی وہ بیٹے کی دوسری شادی کروانے کے چکر میں ہیں انہیں میری کیا پروا ایک بار بھی لینے آئی ہیں کیا۔


شبنم نے صفائی پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ تو ڈاکٹر صاحب انہیں نہیں آنے دیتے۔


ڈاکٹر صاحب کی بیوی بولی آپ ہمارے گھر میں کچھ ضرورت سے زیادہ انٹر فیر نہیں کرتی کیا۔ ڈاکٹر صاحب نے آپ کو ٹھکرا دیا اب میرے آنے سے آپ دوبارہ کوشش میں لگ گئ ہیں۔


شبنم نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب سے شادی مشکل نہیں ہے وہ تو روز میری منتیں کرتے ہیں شکر کرو کہ میں سوکن بن کر نہیں آ رہی۔ آنٹی جی بھی میری منت کرتی ہیں کہ بیٹی مجھے اور اس گھر کو میرے بیٹے کو تمھاری ضرورت ہے۔


وہ تمسخر سے مسکرائی اور بولی اتنا آسان ہوتا تو اب تک کر چکی ہوتی۔ اپنی ناکامی پر پردے نہ ڈالو۔


شبنم جوش میں اٹھی اور بولی ٹھیک ہے پھر میں اب شادی کر کے دیکھاتی ہوں۔ یہ کہتی ہوئی وہ تیزی سے نکل گئی۔


شبنم نے سیدھا جا کر ڈاکٹر صاحب کے گھر جا کر ان کی ماں کو شادی کے لیے ہاں بول دی۔


ڈاکٹر صاحب کی ماں اس پر واری صدقے جانے لگی۔ اور فوراً مٹھائی منگوا کر سب کا منہ میٹھا کروایا۔ ڈاکٹر صاحب خوشی سے نہال ہو گئے۔


ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ ماں میں کم از کم دو ہفتے بہت بزی ہوں اور اس کے بعد سادگی سے نکاح کرنا ہے۔


شبنم نے کہا کہ اب وہ نکاح سے پہلے ادھر نہیں آے گی اور نہ ہی کسی خرچے اور تیاری کی ضرورت ہے۔ بس ایک نکاح کا جوڑا آپ لوگ لے لینا اس سے زیادہ کچھ نہیں چاہیے۔


ڈاکٹر صاحب کی ماں بولی میرا بس چلے تو میں ابھی نکاح کروا کر تمھیں جانے ہی نہ دوں۔


ڈاکٹر صاحب کے والد بولے صبر کرو نا اب جانے دو اسے۔ شبنم کو محسوس ہوا جیسے وہ کوئی خاص خوش نہ ہوے۔ مگر پھر اس نے وہم سمجھا اور گھر واپس آ گئی۔


گھر آ کر بھی کشمش کا شکار تھی۔ سوچا خالہ جی کو بتا دے پھر سوچا رہنے دو سارے محلے کو پتا لگ جائے گا اور ابھی ان کی پہلی شادی کو بھی تھوڑا وقت ہی ہوا ہے وہ کس طرح سب کو صفائیاں دے گی جب ڈاکٹر صاحب کی بیوی کو پروا ہی نہیں ہے آنے کی۔ جب اسے پتا بھی چل گیا تھا کہ ڈاکٹر صاحب کی ماں مجھ سے شادی پر زور دے رہی ہے۔ ان تک یہ ساری خبریں ان کا ملازم دیتا تھا جس کو ڈاکٹر صاحب کے سسر کے کہنے پر رکھا تھا اور وہ لوگ بھی جانتے تھے کہ وہ سب رپورٹس دیتا ہے۔ اسی لئے کوئی بات پہچانی ہو تو اس کے سامنے بول دیتے تھے۔


شبنم نے سوچا نکاح کر کے یہاں سے چلے ہی جانا ہے نکاح سے ایک دو دن پہلے بتا دوں گی۔


رات کو ڈاکٹر صاحب نے اسے شکریے کا فون کیا اور کہا کہ وہ اس کی زندگی میں بہار لانے والی ہے۔ شبنم نے سخت نیند کا بہانہ بنا کر معزرت کر کے مختصر بات کی۔ اسے اچھا نہ لگا کہ وہ ابھی ان کے نکاح میں نہیں ہے۔ اور ان سے رومینٹک باتیں کرے۔ اس نے صاف کہہ دیا کہ اب وہ نکاح سے پہلے نہ ہی آنٹی جی کو فون کرے گی اور نہ ہی آپ کو۔ پلیز آپ آنٹی جی کو بتا دیجئے گا کہ وہ ماہنڈ نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ یہی باتیں تو مجھے پسند ہیں۔ اس نے شرما کر جلدی سے فون بند کر دیا۔


شبنم روز سوچتی وہ کسی عورت کا گھر تو نہیں خراب کر رہی۔ پھر سوچتی اگر میں چوری سے خود لالچ کر کے ان کی بیوی کی موجودگی میں کرتی تو غلط ہوتا۔میں تو اسے بتا کر ایسا کر رہی ہوں۔ پھر اگر اسے کوئی مسئلہ ہوتا تو وہ فون کرتی اسے سناتی مگر ایسا کچھ نہ ہوا کوئی فون نہیں آیا۔وہ اب شدت سے نکاح کے دن کا انتظار کر رہی تھی۔


ڈاکٹر صاحب کی بیوی شبنم کے جانے کے بعد اپنے والدین سے بولی وہ اب خود ہی اپنے گھر جانا چاہتی ہے۔ شبنم کو اپنی سوکن نہیں بننے دے گی۔


ماں نے ڈانٹ کر کہا کہ تم ہوش میں تو ہو اپنے آپ کو زلیل کروانا ہے کیا تم کوئی راہ پڑی لڑکی ہو ایک بڑے بزنس مین کی بیٹی ہو جس کی معاشرے میں ایک عزت ہے ایک مقام ہے۔ دفع کرو ان ناقدرے لوگوں کو۔ اچھا ہے خود ہی رستے سے ہٹ رہے ہیں تو جان چھوٹی ویسے بھی ان کا بہت گھٹا ہوا ماحول تھا یہ نہ پہنو گھ میں کھانا بناو وغیرہ وغیرہ۔ بھلا جب باہر سے ہر چیز میسر ہے تو ضرور ہم کچن میں ہی عمر گزار دیں۔ میری بیٹی کو بھی وہ کچن میں گھسانا چاہتی تھی وہ نامعقول عورت۔ تمھیں ہی پسند تھے وہ پینڈو ٹائپ لوگ توبہ شکر ہے تم آ گئی ہو اب جانے کی دوبارہ بےوقوفی نہ کرو۔ میں تمہیں اب دوبارہ بےوقوفی کر کے اس دوزخ میں نہ جانے دوں گی۔میی تمھاری شادی مسز فاروقی کے بیٹے سے کروں گی۔ ان سے بات ہو گئی ہے وہ لوگ خوشی سے راضی ہیں۔ وہ لوگ تو کہہ رہے ہیں کہ جلدی سے خلع لو۔


ڈاکٹر صاحب کی بیوی غصے سے بولی موم وہ ڈاہن آنٹی توبہ توبہ ان کے پاس تو میں دو منٹ نہیں بیٹھ سکتی۔ اپنی موٹی موٹی خوفناک آنکھوں سے گھور کر دیکھتی ہیں۔ میک اپ ایسے تھوپا ہوتا ہے جیسے خسرہ ہیں۔ اور ان کا بیٹا جس کے اسکینڈلز نکلے رہتے ہیں۔ ان کو شاید کوئی اپنی بیٹی دینے کو تیار نہیں ہے اس لئے وہ آپ پر احسان جتا کر رشتہ کر رہے ہیں کہ چلو طلاق یافتہ ہے تو کوئی بات نہیں۔ وہ صرف ہماری دولت کے پیچھے ہیں۔ میں پہلے بھی انکار کر چکی تھی اب دوبارہ ٹرائی کر رہے ہیں۔ اس سے تو لاکھ درجے میرے سسرال والے ہیں آنٹی سمپل سی عورت ہیں۔ میرے شوہر شبنم سے ہمدردی کرتے ہیں بس۔


ماں نے طنزیہ کہا کہ ہاں اب شادی بھی کر رہا ہے ہمدردی میں۔


باپ نے کہا کہ بیٹی اپنے گھر خود جانے میں کوئی عزت کم نہیں ہوتی۔ اس سے پہلے کہ پھر دیر ہو جائے تو اپنے گھر کو بچا لو۔


ماں نے غصے سے کہا کہ بھاڑ میں جائے ایسا گھر جہاں قدم قدم پر پابندی اور سکون نہ ہو۔ ہم نے اپنی نازوں پلی بیٹی کی شادی اس کی ماں کی فرمائشیں پوری کرنے کے لیے نہیں دی۔ آخر تمہیں اچانک جانے کی سوجی کیسے۔


ڈاکٹر صاحب کی بیوی ماں سے غصے سے بولی میں صبح اپنے پپی کو واک کروا رہی تھی تو کام والیاں آپس میں باتیں کر رہی تھی کہ عقل مند عورت کھبی اپنے شوہر کو زیادہ دیر ناراض نہیں رہنے دیتی نہ ہی اس سے دور اور لاتعلق رہتی ہے۔ ورنہ وہ اکثر اسے کھو دیتی ہے میں بھی ایسی ہی بےوقوفی کرنے لگی تھی میں جارہی ہوں۔


باپ نے شاباش دی۔ ماں نے اس سے ناطہ توڑنے کی دھمکی دی مگر وہ نہ رکی۔


جاری ہے۔


پلیز اسے لاہک،


شہیر اور کمنٹ کرنا نہ بھولیں شکریہ۔


ناول نگار عابدہ زی شیریں


ناول نگار عاب


Reader Comments

Be the first to leave a comment on this episode!


Log in to leave a comment.

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Unlock the Full Library

PKR 300

For 30 Days of Unlimited Access

  • Read all premium and exclusive content
  • Enjoy a seamless, uninterrupted reading experience
  • Directly support the author and her work
Go Premium Now

Experience the Best Urdu Novels Online

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Captivating Novels and Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Reading Urdu Novels on Tablet and Phone

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen’s verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Elegant Desk with Pens and Books