Logo
Muhabbat Dil Ka Zehr Ya Suroor
30 Episodes
Muhabbat Dil Ka Zehr Ya Suroor EP 15
Episode 15

محبت دل کا زہر یا سرور 15

Muhabbat Dil Ka Zehr Ya Suroor


پندرواں حصہ - 15th Part

 

شبنم نے گھبرائی ہوئی آواز میں پوچھا 

"کون ہے" 

تو کوئی جواب نہ ملا دروازہ مسلسل بجتا رہا۔ شبنم نے ہمت کر کے زور سے پوچھا 

"کون ہے" 

تو کسی عورت کی آواز آئی بیٹا 

"دروازہ کھولو میں ساتھ والے گھر سے آئی ہوں۔"

شبنم نے ڈرتے ڈرتے دروازہ کھولا تو سامنے ایک ادھیڑ عمر عورت کھڑی تھی۔ شبنم نے خود پر قابو پاتے ہوئے سلام کیا اور اسے اندر بلا کر دروازہ لاک کر دیا۔ عورت کو عزت سے بٹھایا اور فرج سے جوس نکال کر گلاس میں ڈال کر لے آئی۔ عورت اس کے اخلاق سے بہت متاثر ہوئی۔ اس نے اس کے بارے میں پوچھنا شروع کر دیا۔

شبنم جو آزادی مل جانے پر خوش بھی تھی اور والدین کو جلد ملنے کے لیے بےقرار بھی تھی۔ اس کا دل خوشی اور غم کے ملے جلے جزبات سے بھرا ہوا تھا اسے کوئی غم گزار چاہیے تھا مگر کوئی ملا نہیں تھا اب اماں نے پوچھا تو اس نے کہا 

"وہ اکلوتی تھی والدین نہیں رہے شادی ہوئی مگر اولاد نہ ہوئی سسرال والوں نے طعنوں سے جینا حرام رکھا۔ جب تک شوہر زندہ تھے۔ انہوں نے ڈھال بنائی رکھی مگر اچانک ان کی وفات پر سسرال والوں نے گھر سے نکل جانے کا حکم صادر کر دیا۔ ڈاکٹر صاحب قریبی رشتہ دار ہیں میرے شوہر کے دوست بھی تھے، اب وہ ساتھ دے رہے ہیں اور رشتے دار بھی زمہ داری اٹھانے کو تیار نہیں ہیں کوئی مجھ اکیلی کو ساتھ رکھنے کو تیار نہیں ہے۔ ایک ڈاکٹر صاحب صاحب ہی ہیں جنہوں نے حوصلہ افزائی کی اور کہا کہ اکیلی ہمت کر کے رہو۔ ایک پورشن کرائے پر کسی اچھی فیملی کو دے دینا اور ایک میں خود رہنا۔ میں قریبی اسکول میں نوکری بھی دلوا دوں گا۔" 

یہ سب بتاتے بتاتے وہ بری طرح رونے لگی، عورت اسے تسلیاں دینے لگی۔ اس عورت نے کہا 

"اس کے دو بیٹے ہیں، دونوں شادی شدہ اور بچوں والے ہیں۔ دونوں بہوئیں میری بھتیجیاں ہیں اور سگی بہنیں ہیں اور بہت اچھی ہیں۔ آج سے تم مجھے اپنی ماں سمجھنا اور کسی بھی قسم کی مدد چاہیے تو مجھے بتانا۔ اپنے آپ کو اکیلا مت سمجھنا سب محلے دار بہت اچھے اور آپس میں گھل مل کر رہتے ہیں۔ میں تمھارے بارے میں سب کو بتا دوں گی وہ بھی تمھاری مدد کو ہر وقت تیار رہیں گے تم سمجھو کہ اپنوں میں آ گئی ہو۔ یہاں اکیلے بھی تمھیں ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ میری بڑی بہو نے چھت پر سے تمہیں دیکھا اور مجھے بتایا کہ لگتا ہے ساتھ والے گھر میں کوئی ہے۔ ڈاکٹر صاحب اپنی بیوی کو لے کر آ گئے ہیں۔ وہ میرے بیٹے کو ملے تھے بتا رہے تھے کہ انہوں نے یہ گھر خریدا ہے اور جلد یا بدیر اس میں شفٹ ہو جاہیں گے یا کرائے پر دے دیں گے۔"

شبنم نے کہا

"ان کا کلینک ادھر سے دور پڑتا ہے اس لیے گھر والے شفٹ نہیں ہونا چاہتے، اس لئے میں نے ان سے کہا کہ وہ یہ گھر مجھے فروخت کر دیں۔ ویسے بھی شاید وہ اسے فروخت کر دیتے، میں نے شوہر کی زندگی میں کچھ رقم پس انداز کر رکھی تھی۔" 

شبنم نے دل میں سوچا کہ آئیڈیا اچھا ہے کہ میں اس تکیے میں جمع شدہ رقم سے اس گھر کو خرید لوں گی۔ ڈاکٹر صاحب کا کچھ احسان کا بدلہ چکا سکے گی ورنہ وہ اسے فری میں رکھنا چاہتے تھے۔

اس کو بھوک بھی زور سے لگی تھی۔ رونے اور اماں کی تسلیوں سے دل کا درد بھی کچھ کم ہو گیا تھا۔ عصر کی نماز کا وقت بھی ہونے لگا تھا۔ اس نے اماں سے معزرت کرتے ہوئے کہا 

"وہ زرا نماز پڑھ لے۔" 

اماں خوشی سے بولی 

"شاباش بیٹی نماز کی پابندی کرنی چاہیے۔ کل ہمارے گھر قرآن مجید کا ختم ہے۔ تم بھی آنا۔ محلے کی عورتوں سے بھی میل ملاپ ہو جائے گا۔"

شبنم نے کہا 

"مجھے پہلے تو سسرال والے ہی کہیں آنے جانے نہ دیتے تھے پھر مجھے عادت بھی نہیں ہے کہیں آنے جانے کی۔ پھر بھی میں اس اچھے کام کے لئے آپ کے گھر ضرور آؤں گی اور محلے والوں سے ملوں گی۔"

شبنم نے موبائل چیک کیا جو غلطی سے سائلنٹ پر لگا ہوا تھا اور عورت سے باتوں میں مگن تھی تو فون کا خیال ہی نہ آیا۔ اب موبائل دیکھا تو کئی کالز اور میسجیز تھے کہ کدھر ہو سب خیریت ہے۔ اس نے جلدی سے ڈاکٹر صاحب کو کال ملا کر کہا 

"پڑوس سے خالہ جی بیٹھی ہوئی ہیں، میں ٹھیک ہوں آپ سے بعد میں بات کرتی ہوں۔"

ڈاکٹر صاحب نے پریشانی سے کہا 

"بی کیر فل اور ہر وقت لاک لگا کر رکھنا۔"

اس نے جی کہا اور دل خوشی سے بھر گیا کہ کوئی اس دنیا میں اس کی فکر کرنے والا موجود ہے۔ اس نے فون بند کیا تو خالہ جی نے اس سے اجازت چاہی اور اسے کل آنے کی تاکید کر کے اٹھی تو اتنے میں دروازے پر بیل بجی۔ خالہ جی نے کہا 

"میرا بیٹا ہو گا اتنی دیر جو ہو گئی ہے۔" 

خالہ جی نے دروازہ خود ہی کھول دیا شبنم پیچھے کھڑی کچھ ڈر گئی تو سامنے خالہ جی کا بیٹا کھڑا تھا۔ شبنم پیچھے کھڑی تھی۔ خالہ جی نے بیٹے کو کہا 

"یہ اب آج سے تمھاری بہن ہے۔" 

اس نے شبنم کو سلام کیا شبنم نے احتیاطی طور پر دوپٹے سے منہ ڈھانپ رکھا تھا۔

لڑکے نے شبنم کو سلام کیا جواب کیا جواب میں شبنم نے گردن ہلا دی۔ شبنم دروازہ لاک کر کے اندر آ گئی۔ پہلے نماز ادا کی اپنے رب تعالیٰ کا ڈھیروں شکر ادا کیا اور اپنے لئے نیک گھریلو زندگی کی دعائیں کیں اپنے گھر والوں سے ملنے کے لئے تڑپ کر گڑگڑا کر پاکیزہ زندگی گزارنے اور گھر والوں سے ملنے کی دعائیں کرتے ہوئے رونے لگی۔ جب دل جی بھر کر رو چکا تو ڈاکٹر صاحب کو فون کر کے بہت شکریہ ادا کیا، جنہوں نے اپنی زندگی داؤ پر لگا کر ان خوفناک لوگوں کی پروا کیے بغیر اسے ان کے چنگل سے رہائی دلائی۔ اس نے تمام قصہ ان کے گوش گزار کیا تو وہ پھر بھی بولے 

"نقاب کے بغیر باہر نہ نکلنا اور میں جلد ہی تمہیں نوکری دلوا دوں گا اور کسی چیز کی ضرورت ہو تو بتانا یا قریبی مارکیٹ چلی جانا مگر برقعے میں۔ میں تمھارے اکاؤنٹ میں پیسے بھی ڈال دوں گا" مگر اس نے کہا

"وہ اپنے پاس موجود رقم سے اس گھر کو خریدنا چاہتی ہے" 

تو پہلے تو وہ انکار کرتے رہے پھر مان گئے اور جلد اس کے نام گھر کرنے پر راضی ہو گئے۔ اس سے کھانے کا پوچھا اور بتایا کہ گراسری ڈال دی ہے کچھ بنا کر کھا لو اور اپنا خیال رکھنے اور بہادر بن کر رہنے کا حوصلہ دینے لگے کہ باہر بھی نکلو مگر نقاب میں۔ اہل محلہ سے بھی ملو مگر مردوں سے پردہ رکھو اسے ان کی باتوں سے حوصلہ ملا۔

جاری ہے۔

ازقلم عابدہ زی شیریں۔

پلیز اسے لاہک، شہیر اور کمنٹ کرنا نہ بھولیں۔ شکریہ۔



Continue Reading
Episode 16
محبت دل کا زہر یا سرور 16

Reader Comments

No comments yet. Be the first to share your thoughts!

Log in to leave a comment.

Related Novels

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Premium Membership

Unlock the Full Library

One subscription. Every story. Unlimited reading.

PKR 300
30 Days of Unlimited Access
Go Premium Now

Secure payment  ·  Instant access

Full Novel Library
Access every premium & exclusive novel — no episode locked
Unlimited Reading
Read as much as you want, whenever you want, at your pace
Support the Author
Your subscription directly supports Abida Z Shireen's work
New Episodes First
Be the first to read every new episode as soon as it drops
A F S R N
Join thousands of readers already enjoying premium access
Loved by readers
Our Literary World

Experience the Best Urdu Novels Online

Dive into decades of storytelling by Pakistan's most beloved author, now at your fingertips.

50+
Published Novels
30+
Years of Writing
1M+
Readers Worldwide
100%
Authentic Stories
01

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Read Her Story
Abida Z Shireen
Author
02

Captivating Novels & Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Browse All Novels
Reading Urdu Novels on Tablet and Phone
Novels
03

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen's verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Explore Poetry
Elegant Desk with Pens and Books
Poetry