Niyat Be-Naqaab
Episodes
علی آہستہ آہستہ سے تحہ خانے کی طرف بڑھا تو ادھر کے گارڈ نے علی پر پیچھے سے پسٹل تان لی۔ علی بے بس ہو گیا۔ آخر تم کون ہو تمھاری وردی کا ڈیزائن فرق ہے۔ علی نے کہا کہ تم ادھر ملازم ہو۔ میں تمہیں اس سے زیادہ تنخواہ دوں گا۔ ادھر میرا باپ اور بہن قید ہیں۔ تم بتاؤ کیا ادھر ہی ہیں۔ وہ غصے سے بولا میں بکنے والا نہیں۔ علی نے سوری بولا اور کہا جب تم اپنے کام میں اور مالک کے اتنے فرمانبردار ہو تو کام تم کسی اچھے انسان کے لیے کرو تو گناہ اور دوزخ کی جگہ جنت ملے۔ تم اچھے انسان ہو۔ میں یہ کام مجبوری میں کرتا ہوں۔ میری ماں کا آپریشن کروانا تھا رقم نہ تھی اس سے مدد مانگی۔ اس نے مدد کے بدلے خرید لیا اور اب مجھے اس کی ہر بات ماننی پڑتی ہے۔ علی نے کہا کہ میں تمھاری ماں کی زمہ داری اٹھاوں گا بغیر کسی ڈیمانڈ کے۔ وہ بولا ٹھیک ہے ویسے بھی یہ بہت ظالم انسان ہے۔ مجھے تمہاری بہن اور باپ پر ترس آتا ہے۔ یہ اس گھر کی وراثت چاہتا ہے اور تم ان کی جاہیداد کے وارث ہو اس لئے تمہیں مارنے کا پکا پلان ہے اس کا۔ میں اب تمھارے ساتھ ہوں بظاہر اس کے ساتھ رہوں گا اور رپورٹ دیتا رہوں گا۔ اتنے میں امجد بٹ آ گیا اور اس سے پوچھنے لگا کہ کس سے باتیں کر رہے تھے۔ سر میں ان لوگوں کو ہدایت کر رہا تھا کہ الرٹ رہیں۔ احد صاحب کے آنے کا وقت ہو گیا ہے۔ تم جاو دیکھ پہنچا ہے اس نے کہا کہ وہ پہنچنے والا ہے۔ میں تحہ خانے کے باہر کھڑا ہوتا ہوں۔ وہ بولا نو سر آپ کی ضرورت نہیں میں نے ایک گارڈ کھڑا کر دیا ہے۔ علی نے جھٹ اسے سلام سر کہا۔ اس نے ایک نظر اس پر ڈالی اور ہلکا سا جواب دیا۔ اتنے میں احد علی کے ہی گارڈ کے ساتھ داخل ہوا بریف کیس اس کے ہاتھ میں تھا امجد اسے دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولا دیکھو کوئی ہوشیاری نہ کرنا میرے تمام آدمی اس پورے گھر میں چوکس کھڑے ہوئے ہیں۔ اور اسے پیچھے آنے کا اشارہ کیا۔ علی نے اشارے سے اسے پیچھے جانے سے منع کیا وہ رک گیا اور وجہ پوچھی تو اس نے کہا کہ اندر اس کے اصلی گارڈز ہیں۔ ان کو کچھ کر نہیں سکے۔ہماری وردی کا ڈیزائن زرا مختلف ہے اس گارڈ نے پہچان لیا مگر اب یہ ہمارا ساتھی ہے۔ تم جلدی سے سجل اور ابو کو لے کر ادھر سے نکل جاو۔ احد کے گھر چھوڑ دو۔
امجد بٹ کی بیٹی کو اس کا خاص آدمی جابر پسند کرتا تھا مگر وہ باپ سے بےزار تھی۔ کہ اس نے اس کی ماں سے شادی کیوں نہیں کی۔ احد کے آدمی اسے اور اس کی ماں کو لے آئے تھے۔ احد نے اسے تھوڑی دیر باہر انتظار کرنے کا بولا۔ جابر اندر گیا اور ان دوسرے گارڈز کو باہر گیٹ پر پہرہ دینے کا بولا۔ امجد بٹ نے اعتراض کرنا چاہا تو اس نے کہا کہ سر باہر زیادہ ضرورت ہے اور وہ باہر نکلے اور دبوچ لیے گئے۔ علی بھی اندر آ گیا اور احد کے سر پر پسٹل تان کر کھڑا ہو گیا۔ جابر امجد بٹ کے پیچھے کھڑا تھا۔ امجد بٹ بولا پیسے دیکھاو۔ اس نے کہا پہلے سجل اور اس کا باپ لاو۔ امجد بٹ بولا تم اس وقت میرے گھیرے میں ہو۔ پیسے دو اور چپ چاپ نکل جاو۔ اتنے میں امجد کی بیٹی اور اس کی بیٹی روبی اندر داخل ہوئی۔ امجد حیران ہو کر بولا روبی تم یہاں اس وقت ادھر کیا کرنے آئی ہو۔ وہ ایک ادا سے بولی۔ کیا بیٹی باپ سے ملنے نہیں آ سکتی۔ پاپا جانی۔ وہ غصے سے بولا کیا بکواس ہے میری کوئی بیٹی نہیں۔ اتنے میں روبی کی ماں اندر داخل ہوئی۔ امجد بٹ بولا تم یہاں۔ وہ زور سے بولی ہاں۔ یہ دیکھو تمھاری خوبصورت بیٹی۔ اور یہ ہے ثبوت۔ DNA۔ ٹیسٹ کی رپورٹ۔ وہ چکرا گیا۔ بولا تم نے مجھے پہلے کیوں نا بتایا کہ یہ میری بیٹی ہے میں خود اس کے سودے کرواتا رہا ہوں۔ یہ تمھاری بیٹی تم سے ناجائز اولاد پیدا کرنے کا انتقام لے رہی تھی۔ تم نے مجھ سے شادی نہ کر کے اس کی پیدائش پر حرام کا لیبل لگوا دیا۔ روبی پاس آئی اور بولی۔ پاپا میں خوبصورت ہوں نا تو کوئی ڈھونڈھیے نا کوئی اچھا سا گاہک میرے لئے جو آپ کو بڑی رقم دے۔ امجد بٹ کی آنکھوں میں شرمندگی کے آنسو تھے۔ اتنے میں علی کی پولیس نے اسے ہتھکڑیاں لگا کر کہا اب تمھارا کھیل ختم۔ پولیس اسے لے کر جانے لگی تو روبی دکھ سے بولی کاش آپ میرے باپ نہ ہوتے۔ جو خود ہی اپنی بیٹی کا سودا کر کے خوش ہوتا تھا میں اپنے آپ کو دنیا کی بدنصیب بیٹی سمجھتی ہوں۔ وہ روتے ہوئے بولا تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں کہ تم میری بیٹی ہو۔ کیوں بتاتی۔ دوسری بھی تو کسی کی بیٹیاں تھیں۔ آپ کو ان پر رحم نہ آیا ان کی مجبوری سے فائدہ اٹھاتے رہے۔ میں نے جان کر انتقاماً اپنی زندگی برباد کی۔ تاکہ تم جیسے لوگ دوسروں کے لیے عبرت کا باعثِ بنیں۔۔ وہ روتے ہوئے بولی اب مجھ
جیسی سے اب نہ کوئی شادی کرے گا اور میری بربادی کے آپ زمہ دار ہیں۔

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.