Niyat Be-Naqaab
Episodes
سجل بہت نیک سیرت لڑکی تھی بڑوں کی نصیحت کو دھیان سے سنتی اور عمل کرتی۔ باپ، دادا، دادی کی باتوں کو پلے باندھ لیتی۔ آج وہ باتیں کام آ رہی تھی۔ دادا کہتے کھبی کسی کا ناجائز حق نہیں کھانا چاہیے انسان تباہ وبرباد ہو جاتا ہے۔ دنیا مکافات عمل ہے۔ سجل سوچتی آج وہ سچ ہو گیا تھا۔ اس کی ماں نے کھبی معاشی مسئلہ دیکھا ہی نہ تھا اب کافی حیران ومجبور تھی۔ اگر جان کا ڈر نہ ہوتا تو کافی واویلا مچاتی۔ مگر اب صبر کر رہی تھی۔ کیونکہ لاڈ اٹھانے والا شوہر جا چکا تھا۔ اس کے پیار کے سہارے وہ والدین کا غم برداشت کر سکی تھی۔ اب تو اس کی سمجھدار بیٹی ہی اسے دلاسے دے رہی تھی جو پہاڑ جتنے غم کو بڑی ہمت سے برداشت کر رہی تھی گھر کے نظام کو بھی دیکھتی تھی۔ وقت بڑا مرہم ہے۔
خالہ رشیدہ نے پاس سوسائٹی کے ایک پارلر میں شام دو گھنٹے کے لئے نوکری دلا دی تھی۔ سجل نے شوقیہ پارلر کا کورس کیا تھا آج وہ کام آ گیا تھا۔ اس نے صاف کہہ دیا تھا کہ اس کی بیمار ماں ہے اسے بھی دیکھنا ہوتا ہے۔ وہ بہت اچھا کام کرتی تھی۔ پارلر والی اسے کھونا نہیں چاہتی تھی۔ اس لیے اسے کچھ نہ کہتی شکر کرتی کہ وہ دو گھنٹے ہی لگا جائے۔
سجل نے تعلیم شروع کر دی تھی۔ لوگوں کو بتاتی کہ وہ نوکری کرتی ہے۔ اور اندر سے رقم نکال کر خرچ کرتی مگر مالکن کے سامنے خرچے کا رونا روتی رہتی تاکہ اسے شک نہ ہو۔ ماں نے بھی اپنے آپ کو ماحول کے مطابق ڈھال لیا تھا خالہ رشیدہ کا بیٹا اسے کالج چھوڑنے اور لے جانے لگا جہاں جانا ہوتا وہ اس کے رکشے میں چلی جاتی اور ماں کو تسلی رہتی۔ پیسے ختم ہو رہے تھے تعلیم مکمّل کر کے اس نے نوکری کی تلاش شروع کی۔ آخر احد کے آفس مل گئی۔ اب وہ لوکل بس میں جاتی۔ رکشے کا کرایہ مہنگا پڑتا تھا۔ بینک سے زیور نکال کر بیچنا چاہ رہی تھی مگر وہاں کے منیجر نے اسے دیکھتے ہی اٹھ کر گیا سجل کو شک ہوا وہ بھی دبے پاؤں اوٹ میں ہو کر سننے لگی وہ امجد بٹ کو فون کر رہا تھا۔ سجل داو لگا کر فوراً وہاں سے بھاگی اور دوبارہ اس بینک نہ گئی اس طرح اس نے زہور کا خیال چھوڑ دیا اور کسمپرسی میں وقت کٹنے لگا۔ اب تو ماں ،بیٹی کو غربت کی عادت ہو چکی تھی۔ پیسے ختم ہو چکے تھے۔ ماں نے خالہ رشیدہ سے گھر کے کام سیکھ لیے تھے وہ یہ سمجھتی تھی کہ وہ لوگ پہلے امیر تھے سب سرمایہ تباہ ہو گیا اس لیے اب ان کے پاس کچھ نہیں بچا۔
سجل بھی گھر کے کاموں میں ماں کی مدد بھی کرتی۔ نوکری بھی کرتی۔ شام پارلر بھی جاتی۔ ایک مشین بن چکی تھی۔ اسی محلے میں اسی گھر میں غربت میں رہتے ہوئے کافی وقت گزر گیا تھا اس کے باوجود سواے مالکن رشیدہ اور پارلر والی کے محلے والوں سے سلام دعا سے زیادہ قربت نہ رکھی تھی۔ سجل کے پاس وقت ہی نہ تھا اور ماں گھر میں ہی رہتی۔ خالہ رشیدہ اس کے پاس چکر لگاتی رہتی۔ سودا سلف بھی لا دیتی۔ کچھ اچھا پکاتی تو دے جاتی۔ وہ لالچی تھی مگر مشکل وقت میں ساتھ بھی دے دیتی۔ اس کی ماں کے ساتھ بازار جاتی۔ ڈاکٹر کے ساتھ چلی جاتی۔ سجل کی ماں کو سستے کپڑے پہننے اور خریدنے کی عادت پڑ چکی تھی۔ دونوں اپنی زات کو بھول چکی تھیں کہ وہ پہلے کیا تھیں۔ سجل کو دادا کی بات یاد آ جاتی کہ ہر حال میں خدا کا شکر ادا کرو چاہے وہ جس حال میں رکھے اچھے یا برے۔ اگر صبر کرو گے تو اس کا اتنا اجر ہے کہ انسان سوچتا کاش میں ساری زندگی صبر وشکر کرتا رہتا۔ دادا کہتے تھے۔ اگر اچھا وقت نہ رہے تو برا بھی نہیں رہتا۔ برے وقت میں واویلا کرنے سے کچھ نہیں ملتا۔ اگر صبر کرو تو بہت اجر ہے۔ اللہ پاک دے کر بھی آزماتا ہے اور لے کر بھی۔ دونوں میں ثابت قدم رہنا چاہیے۔ یہ سب باتیں سجل کو سمجھ نہ آئی تھیں مگر اس نے زہن نشین کر لی تھی اب کام آ رہی تھی۔
سجل کی ماں کو اب غربت کی وجہ سے احساس ہو چکا تھا اب وہ وہی باتیں اکثر ماں کے گوش گزار کرتی رہتی اور ماں اب نرم اور رحم دل ہو چکی تھی۔ اکثر اپنے رویے پر پچھتاتی۔نوکروں کے ساتھ ناروا سلوک پر شرمندہ تھی۔ اپنے سسرال میں گاوں والوں کے ساتھ بےاعتناہی برتنے پر شرمسار تھی۔ وہ اکثر گاوں والوں کو یاد کرتی۔ وہ بتاتی اس کی زندگی کا سب سے اچھا وقت گاوں میں گزرا۔ جہاں اسے عزت اور خلوص کی دولت ملی۔ سچا پیار کیا ہوتا ہے وہ ان لوگوں نے ثابت کیا۔ اس کی ہزار غلطیوں اور برے روہیے کے باوجود ان کے پیار وخلوص اور رویے میں کمی نہ آئی۔ اس کی پیروں کی طرح عزت کرتے۔ وہ پچھتاتی کاش وہ سمجھ سکتی۔ اس کو سوتیلے بیٹے کی صورت میں خدا نے بیٹا دیا مگر اس نے کھبی دور کی نہ سوچی۔ اس وقت اگر وہ اسے اپنا لیتی۔ آج اس کا امجد بٹ جیسے لوگوں سے پالا نہ پڑتا۔ اور وہ اپنے محل جیسے گھر سے دربدر نہ ہوتے۔ سجل نے جاتے ہی نیا فلش لگوا دیا کہ ماں کو گندے باتھ روم سے الجھن ہوتی تھی۔ خالہ رشیدہ کع بھی اعتراض نہ ہوتا کہ اس کا گھر ٹھیک ہو رہا تھا اور وہ کرایہ بھی پورا دیتی تھی۔ چھوٹا موٹا کام کروا کر پیسے لگ جاتے تو تنگی آ جاتی۔ سجل کی ماں سوچتی کیا غریبوں کے اتنے مسائل ہوتے ہیں۔ اب تو وہ بھی ہر چیز میں بھاو تاو کروانے لگی تھی۔ شروع میں خالہ رشیدہ کرواتی تو اسے عجیب لگتا۔ کیونکہ اس نے تو ہمیشہ برینڈڈ ہر چیز خریدی فکس پراہز ادا کی۔ اب تو اس کا حلیہ غریبوں جیسا بن گیا تھا۔ پلاسٹک کے سلیپر، سستا لباس زیب تن تھا۔ اگر یہ چیزیں خریدیں تو گھر میں تنگی آ جاتی۔ اسی لئے شاید غریب لوگ پرانے کپڑے بھی ملیں تو شکر کرتے ہیں اب اسے سمجھ آ چکی تھی وہ روتی کاش میں نے علی کو اس کا حق دیا ہوتا۔ اب کاش اگر
مجھے وہ گھر ملتا تو میں سارا علی کے نام کر دیتی بیٹی کو بھی نہ دیتی۔ علی کو باپ بہن کے قریب نہیں ہونے دیا۔ حالانکہ اس کی ماں سے شادی کرنے میں اس کا کیا قصور تھا۔ اب وہ ہر وقت سجل سے اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتی رہتی۔ سجل احترام کے پیش نظر ٹھنڈی سانس بھر کر صرف اتنا کہتی موم اللہ تعالیٰ سے سچے دل سے معافی مانگتی رہیں وہ ضرور معاف کر دے گا۔ امجد بٹ نے کہا کہ تمھارے والد کو ان کے گاوں میں دفن کیا ہے۔ کاش ہم گاوں جاسکتے مگر کس منع سے جاوں۔

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.