Niyat Be-Naqaab
Episodes
سجل کے باپ نے ایک پراڈو اور ایک ہنڈا سٹی رکھی ہوئی تھی۔ سجل نے گاڑی کی ڈگی میں دو بیگ رکھے ہوئے تھے۔ بیگ کے نیچے کاغذات اور قیمتی سامان رکھا اوپر کپڑے ڈال دیے۔ تاکہ کوئی کھولے تو اسے پتا نہ چلے۔ اسے ڈر بھی لگ رہا تھا کہ اگر بیگ اس نے دیکھ لیا تو پکڑے جاہیں گے پھر سوچ کر خود کو تسلی دے لی۔اللہ تعالیٰ مدد فرمائیں گے۔ ناشتے کے بعد اس نے ماں کو سمجھا دیا کہ وہ شور مچاے گی اور جلدی ڈالے گی آپ کو بیگ والی گاڑی میں بٹھا دوں گی پھر کسی کچی آبادی میں کمرہ کراے پر لے لیں گے۔ وہاں میں خود کچھ بول لوں گی۔ بس کسی کو پتہ نہ چلے کہ ہمارے پاس بہت پیسے ہیں۔ کیونکہ امجد بٹ کھبی نہیں سوچ سکے گا کہ ہم ادھر رہ سکتے ہیں۔ کیا تم رہ لو گی۔ ہاں اس نے کہا۔ اس نے بار بار ماں کو باپ کے غم پر صبر اور حوصلہ رکھنے کی تلقین کی۔ خود اس کا دل غم سے پھٹا جا رہا تھا۔ اس کا جی چاہ رہا تھا کہ وہ چیخ چیخ کر روے اس کے ڈیڈ تو اس کا ایک آنسو نہیں برداشت کر سکتے تھے اب بھری ظالم دنیا میں وہ اکیلی تھیں اسے دادی کی نصیحت یاد آ گی کہ مشکل میں کھبی ہمت نہیں ہارنا۔ اور صرف اپنے اللہ تعالیٰ سے مدد کی بھیک مانگنا۔ وہی اس مشکل سے نکال سکتا ہے۔ وہ دل میں گڑگڑا کر رب سے مدد کی بھیک مانگ رہی تھی۔ ماں کو الگ حوصلہ دیتی تھی۔ ماں کو گاڑی میں بٹھایا وہ ڈرائیونگ جانتی تھی گاڑی کی چابی اٹھای۔ آواز سے امجد بٹ تیزی سے باہر آ گیا اور جلدی سے بولا کدھر جا رہی ہو۔ وہ اسے دیکھ کر بوکھلا سی گئی پھر جلد اپنے آپ پر قابو پانے کے بعد بولی انکل موم کی طبیعت سخت خراب ہے ڈاکٹر کے پاس جا رہی تھی۔ وہ بولا ٹہرو ڈرائیور لے جاتا ہے۔ ڈرائیور کو ڈگی کھولنے کا اشارہ کیا۔ سجل پریشان ہو گئی۔ ڈرائیور بولا سر اس میں تو یہ دو بیگ پڑے ہیں۔ سجل تیزی سے بیگ کے پاس آ کر بیگ کھول کر جس میں کپڑے تھے نکالنے لگی۔ اور اسے تیز تیز بتانے لگی۔ ڈیڈ کی بیماری کا سن کر ہم نے خود ہی ادھر جانے کی تیاری کر لی تھی اوہو میں کیا کر رہی ہوں۔ امجد بٹ کو تسلی دلانے کے لیے کہ اس میں صرف کپڑے ہی ہیں پھر دوسرا بیگ کھولا ایک دو کپڑے نکالے۔ ڈرائیور بولا لاہیں میں انہیں ادھر رکھ آتا ہوں۔ سجل نے جواب دیا میں سوچ رہی تھی کہ کیا پتا موم کو ایڈمٹ نہ کر لیں اس لئے ان کے اور اپنے چند کپڑے لے کر جانا چاہتی تھی اوہو ٹائم ویسٹ ہو رہا ہے اپنی گاڑی ہے۔ ادھر جاکر اگر رہنا پڑا تو ضرورت کے نکال کر باقی واپس بھیج دوں گی۔ بیگ کی زپ بند کی ڈگی بند کی۔ اور ڈرائیور سے بولی چلو جلدی۔ اپنا اور ماں کا فون ساہلنٹ کر کے بیگ میں ڈال لیا تھا امجد بٹ کھڑا دیکھ رہا تھا جب زرا گاڑی آگے چلی تو اس نے ڈرائیور سے کہا روکو روکو۔ پھر وہ انکل جی زرا اپنا فون دیجئے میرے پاس بیلنس نہیں ہے ڈاکٹر کو کال کرنی ہے۔ پھر تیزی سے گاڑی کی طرف چل پڑی اور تیزی سے گاڑی میں بیٹھ کر بولی جلدی چلو۔ پھر گاڑی سے منہ نکال کر بولی انکل جی میں رستے میں بیلنس ڈلوا کر آپ کو فوراً ڈرائیور کے ہاتھ فون واپس بھیج دوں گی۔ وہ حیران دیکھتا رہ گیا۔ اس نے چپکے سے سم نکال لی۔ پھر ڈرائیور کے سامنے ایکٹنگ کرتے ہوئے بولی۔ انکل کے موبائل کی بیٹری بھی ختم ہونے والی ہے اور ایکٹنگ کر کے ڈاکٹر کو بند موبائل سے کال کرنے لگی۔ ہاسپٹل اتر کر بیلنس کارڈ اور پانی کی بوتل لینے بیھج دیا۔ تاکہ اس کا وقت ادھر زیادہ لگے۔ اسے دادا کی نصیحت یاد آی۔ جتنی بھی پریشانی اور الجھن ہو اپنے حواس قائم رکھنے ہیں۔ اس نے ڈرائیور سے چلتے چلتے کہا انکل کے فون کی بیٹری ختم ہو گئی ہے تم زرا تھوڑی دیر کے لئے اپنا فون دے دو ایک ڈاکٹر بزی ہے دوسرے کو ٹرائی کرنا ہے۔ اس نے مروت میں دے دیا اور لاک کھولنے کا بھی بتا دیا۔ یہ امجد کا خاص بندہ تھا مگر وہ تو سوچ بھی نہ سکتا تھا کہ اس کا باپ دو دن پہلے مرا ہے اسے کچھ اور سوجے گا۔ وہ جوں ہی مڑا نظروں سے اوجھل ہوا سجل نے سواری کی تلاش میں نظر دوڑائی۔ زرا فاصلے پر کھڑے رکشے کے پاس جلدی سے گی اس کو پوچھا خالی ہے وہ بولا کدھر وہ بولی پرائیوٹ کلینک جانا ہے اس نے کہا کہ کتنی دور ہے وہ بولی جتنے بنے اس سے فالتو دے دوں گی۔

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.