Loading...
Logo
Back to Novel
Niyat Be-Naqaab
Episodes
Niyat Be-Naqaab

نیت بےنقاب 18

From Niyat Be-Naqaab - Episode 18

سجل کے باپ نے ایک پراڈو اور ایک ہنڈا سٹی رکھی ہوئی تھی۔ سجل نے گاڑی کی ڈگی میں دو بیگ رکھے ہوئے تھے۔ بیگ کے نیچے کاغذات اور قیمتی سامان رکھا اوپر کپڑے ڈال دیے۔ تاکہ کوئی کھولے تو اسے پتا نہ چلے۔ اسے ڈر بھی لگ رہا تھا کہ اگر بیگ اس نے دیکھ لیا تو پکڑے جاہیں گے پھر سوچ کر خود کو تسلی دے لی۔اللہ تعالیٰ مدد فرمائیں گے۔ ناشتے کے بعد اس نے ماں کو سمجھا دیا کہ وہ شور مچاے گی اور جلدی ڈالے گی آپ کو بیگ والی گاڑی میں بٹھا دوں گی پھر کسی کچی آبادی میں کمرہ کراے پر لے لیں گے۔ وہاں میں خود کچھ بول لوں گی۔ بس کسی کو پتہ نہ چلے کہ ہمارے پاس بہت پیسے ہیں۔ کیونکہ امجد بٹ کھبی نہیں سوچ سکے گا کہ ہم ادھر رہ سکتے ہیں۔ کیا تم رہ لو گی۔ ہاں اس نے کہا۔ اس نے بار بار ماں کو باپ کے غم پر صبر اور حوصلہ رکھنے کی تلقین کی۔ خود اس کا دل غم سے پھٹا جا رہا تھا۔ اس کا جی چاہ رہا تھا کہ وہ چیخ چیخ کر روے اس کے ڈیڈ تو اس کا ایک آنسو نہیں برداشت کر سکتے تھے اب بھری ظالم دنیا میں وہ اکیلی تھیں اسے دادی کی نصیحت یاد آ گی کہ مشکل میں کھبی ہمت نہیں ہارنا۔ اور صرف اپنے اللہ تعالیٰ سے مدد کی بھیک مانگنا۔ وہی اس مشکل سے نکال سکتا ہے۔ وہ دل میں گڑگڑا کر رب سے مدد کی بھیک مانگ رہی تھی۔ ماں کو الگ حوصلہ دیتی تھی۔ ماں کو گاڑی میں بٹھایا وہ ڈرائیونگ جانتی تھی گاڑی کی چابی اٹھای۔ آواز سے امجد بٹ تیزی سے باہر آ گیا اور جلدی سے بولا کدھر جا رہی ہو۔ وہ اسے دیکھ کر بوکھلا سی گئی پھر جلد اپنے آپ پر قابو پانے کے بعد بولی انکل موم کی طبیعت سخت خراب ہے ڈاکٹر کے پاس جا رہی تھی۔ وہ بولا ٹہرو ڈرائیور لے جاتا ہے۔ ڈرائیور کو ڈگی کھولنے کا اشارہ کیا۔ سجل پریشان ہو گئی۔ ڈرائیور بولا سر اس میں تو یہ دو بیگ پڑے ہیں۔ سجل تیزی سے بیگ کے پاس آ کر بیگ کھول کر جس میں کپڑے تھے نکالنے لگی۔ اور اسے تیز تیز بتانے لگی۔ ڈیڈ کی بیماری کا سن کر ہم نے خود ہی ادھر جانے کی تیاری کر لی تھی اوہو میں کیا کر رہی ہوں۔ امجد بٹ کو تسلی دلانے کے لیے کہ اس میں صرف کپڑے ہی ہیں پھر دوسرا بیگ کھولا ایک دو کپڑے نکالے۔ ڈرائیور بولا لاہیں میں انہیں ادھر رکھ آتا ہوں۔ سجل نے جواب دیا میں سوچ رہی تھی کہ کیا پتا موم کو ایڈمٹ نہ کر لیں اس لئے ان کے اور اپنے چند کپڑے لے کر جانا چاہتی تھی اوہو ٹائم ویسٹ ہو رہا ہے اپنی گاڑی ہے۔ ادھر جاکر اگر رہنا پڑا تو ضرورت کے نکال کر باقی واپس بھیج دوں گی۔ بیگ کی زپ بند کی ڈگی بند کی۔ اور ڈرائیور سے بولی چلو جلدی۔ اپنا اور ماں کا فون ساہلنٹ کر کے بیگ میں ڈال لیا تھا امجد بٹ کھڑا دیکھ رہا تھا جب زرا گاڑی آگے چلی تو اس نے ڈرائیور سے کہا روکو روکو۔ پھر وہ انکل جی زرا اپنا فون دیجئے میرے پاس بیلنس نہیں ہے ڈاکٹر کو کال کرنی ہے۔ پھر تیزی سے گاڑی کی طرف چل پڑی اور تیزی سے گاڑی میں بیٹھ کر بولی جلدی چلو۔ پھر گاڑی سے منہ نکال کر بولی انکل جی میں رستے میں بیلنس ڈلوا کر آپ کو فوراً ڈرائیور کے ہاتھ فون واپس بھیج دوں گی۔ وہ حیران دیکھتا رہ گیا۔ اس نے چپکے سے سم نکال لی۔ پھر ڈرائیور کے سامنے ایکٹنگ کرتے ہوئے بولی۔ انکل کے موبائل کی بیٹری بھی ختم ہونے والی ہے اور ایکٹنگ کر کے ڈاکٹر کو بند موبائل سے کال کرنے لگی۔ ہاسپٹل اتر کر بیلنس کارڈ اور پانی کی بوتل لینے بیھج دیا۔ تاکہ اس کا وقت ادھر زیادہ لگے۔ اسے دادا کی نصیحت یاد آی۔ جتنی بھی پریشانی اور الجھن ہو اپنے حواس قائم رکھنے ہیں۔ اس نے ڈرائیور سے چلتے چلتے کہا انکل کے فون کی بیٹری ختم ہو گئی ہے تم زرا تھوڑی دیر کے لئے اپنا فون دے دو ایک ڈاکٹر بزی ہے دوسرے کو ٹرائی کرنا ہے۔ اس نے مروت میں دے دیا اور لاک کھولنے کا بھی بتا دیا۔ یہ امجد کا خاص بندہ تھا مگر وہ تو سوچ بھی نہ سکتا تھا کہ اس کا باپ دو دن پہلے مرا ہے اسے کچھ اور سوجے گا۔ وہ جوں ہی مڑا نظروں سے اوجھل ہوا سجل نے سواری کی تلاش میں نظر دوڑائی۔ زرا فاصلے پر کھڑے رکشے کے پاس جلدی سے گی اس کو پوچھا خالی ہے وہ بولا کدھر وہ بولی پرائیوٹ کلینک جانا ہے اس نے کہا کہ کتنی دور ہے وہ بولی جتنے بنے اس سے فالتو دے دوں گی۔


Reader Comments

Be the first to leave a comment on this episode!


Log in to leave a comment.

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Unlock the Full Library

PKR 300

For 30 Days of Unlimited Access

  • Read all premium and exclusive content
  • Enjoy a seamless, uninterrupted reading experience
  • Directly support the author and her work
Go Premium Now

Experience the Best Urdu Novels Online

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Captivating Novels and Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Reading Urdu Novels on Tablet and Phone

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen’s verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Elegant Desk with Pens and Books