Loading...
Logo
Back to Novel
Niyat Be-Naqaab
Episodes
Niyat Be-Naqaab

نیت بےنقاب 16

From Niyat Be-Naqaab - Episode 16

امجد بٹ سجل کے گھر کا فرد بن گیا اس کا چچا بن گیا۔ سجل کے باپ کی بزنس میں ہیلپ کرنے لگا۔ کافی ایمانداری دیکھاتا۔ بھاگ بھاگ کر ان کے گھر کے کام کرتا۔ سارا دن رہتا۔ سجل کو گڑیا رانی کہتے نہ تھکتا وہ بھی اس سے خوش رہتی۔ سجل کی ماں بھولی عورت تھی۔ اسے اس نے سگی بہن بنا لیا۔ کہ میری کوئی بہن نہیں ہے۔ چند بار کسی کو اپنی نقلی بیوی بنا کر لایا۔ پھر جلد واپس لے جاتا کہ اسے اچانک دورہ پڑ جاتا ہے۔ اس لئے وہ ادھر نہیں لاتا۔ اس نے بتایا کہ اس کے دور کے رشتے دار غریب تھے تو اس نے انہیں بیوی کی دیکھ بھال کے لئے رکھ لیا ہے اور بھاری رقم دیتا ہے جس کی وجہ سے وہ اس کا بہت خیال رکھتے ہیں اور اب وہ بےفکر ہو کر کام کرتا ہے۔ سجل کے والدین نے اس کی باتوں کا یقیں کر لیا۔ شروع شروع میں اس نے سجل کے لیے قیمتی گفٹ لانے شروع کیے۔ سجل کے والد منع کرتے تو پیار جتاتے ہوئے کہتا میری یہ جائداد کی بھی وارث ہو گی۔ ورنہ میرا آپ لوگوں کے سوا کون ہے۔ میرا سب کچھ سجل کا ہی تو ہے۔ وہ اس بات سے متاثر ہو جاتے اور مروت میں اسے گھر آنے اور گھلنے ملنے سے نہ روک سکتے۔ وہ اکثر بتاتا کہ آج اس نے ایک غریب بچی کی شادی پر جانا ہے۔ اس کی شادی کے اخراجات میں ہی اٹھا رہا ہوں۔ کچھ شادیوں میں شرکت اس وجہ سے کرتا بھی تاکہ وہ جن سے شادی کے نام پر پیسے لوٹے ان کو دیکھا سکے۔ سجل کو تصویریں لا کر دیکھای اب تو وہ صرف بتاتا اور سجل کے والدین اعتبار کر لیتے۔ اس نے ان کو اعتبار دلانے کے خوب ہتھکنڈے استعمال کیے۔ اور وہ شریف لوگ اس کے جال میں پھنستے چلے گئے۔ وہ سجل کے باپ کے ساتھ بزنس پارٹنر بن گیا۔ اس کے ساتھ بزنس ٹور پر آوٹ آف سٹی جانے لگا۔

سجل کے ساتھ وہ آوٹ آف سٹی گیا اگلے دن اگلے دن امجد بٹ نے سجل کی ماں کو فون پر بتایا کہ سجل کا باپ اچانک بے ہوش ہو گیا تھا اور اسے ہاسپٹل لے کر گئے پر وہ ابھی تک بےہوش ہے۔ آپ فکر نہ کریں میں اس کے ساتھ ہوں زرا طبیعت سنبھلی تو اسے اپنے شہر لے آوں گا اور ادھر اس کا اچھا علاج کروں گا اگر ضرورت پڑی تو اپنی بہن کا سہاگ بچانے کے لیے جان بھی دینی پڑی تو دوں گا وہ رونے پیٹنے لگی کہ ہم آ جاتے ہیں تو اس نے کہا کہ کل تک صبر کرو اور دعا کرو اللہ تعالیٰ میرے بھائی کو جلد شفا عطا فرمائے۔ اور میری عمر بھی اسے لگ جائے۔ اگر زیادہ دن ادھر رکنا پڑا تو میں خود آپ کو بلوا لوں گا اور میں آپ کو مسلسل رپورٹ دیتا رہوں گا آپ بس میری گڑیا رانی کو سنبھالنا اسے رونے نہ دینا اس کی طبیعت خراب ہو جائے گی۔ تب سجل کی ماں اس کی طرف سے فکر میں اپنے آپ کو حوصلہ دینے لگی۔ کچھ امجد بٹ پر بھروسہ تھا کہ وہ ان کے پاس ہے۔ سجل تو رو رو کر نڈھال ہو رہی تھی کہ امجد بٹ کا فون سجل کو آ گیا۔ وہ اسے بڑے پیار سے سمجھانے لگا دیکھو میری گڑیا رانی تم تو brave girl ہو نہ۔ بس پریشان نہیں ہونا دعا کرنا رونے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے بولا میرے بھائی کو کچھ نہ ہو میری عمر بھی اسے لگ جائے۔ اپنی بوڑھی ماں کا خیال کرنا اس کو حوصلہ اور تسلی دینا۔ ورنہ وہ بھی بیمار ہو گئی تو۔ ڈاکٹر نے خطرہ بتایا ہے کچھ بھی ہو سکتا ہے بس تم ماں کو سنبھالنا۔ سجل بامشکل روتے ہوئے بولی۔ آخر انہیں ہوا کیا ہے کیا رپورٹس آی ہیں۔ اس نے کہا ابھی ٹیسٹ ہو رہے ہیں۔ جو بھی رپورٹ آی میں اطلاع دوں گا بس تم بہادر بن کر ماں کو بھوکی نہ سونے دینا۔ خود بھی کچھ کھا لینا۔ سجل فون بند کر کے روتے ہوئے ماں کو تسلی دینے لگی۔ صبح صبح ہی فون پر باپ کی بیماری کی خبر سن کر وہ وضو کر کے ماں کے ساتھ جاے نماز پر بیٹھ کر روتے ہوئے دعائیں کرنے لگی۔ کافی دیر تک وہ دعائیں کرنے کے بعد لاونج میں صوفے پر بیٹھ گئیں۔ سجل نے ماں کی گود میں سر رکھ لیا۔ پھر کچھ سوچ کر اٹھی اور باپ کے پاس جانے کے لئے اپنا اور ماں کا بیگ تیار کرنے لگی۔ سوچا قیمتی سامان ایک بیگ میں ڈال کر حتکہ اس نے گھر کے کاغذات سیف میں پڑی ساری نقدی وغیرہ بھی ڈال کر گیراج میں جا کر گاڑی کی ڈگی میں اپنا اور ماں کا بیگ بھی رکھ آی کہ نہ جانے کتنے دن ادھر لگ جائیں۔ ماں کو بولی انکل سے ایڈریس پوچھ کر ہم خود ہی ڈرائیور کے ساتھ چلے جاہیں گے۔ آپ تیار رہیں۔ اسی وقت فون بجا سجل کی ماں نے فون اٹھایا سجل نے زور سے کہا موم سپیکر آن کر دیں۔ امجد بٹ نے روتے ہوئے کہا کہ بھابھی حوصلے سے سنیے گا بری خبر ہے۔ میرا جگر میرا بھائی ہم سے دور چلا گیا ہے ہم اسے لا رہے ہیں۔ اس کی حالت بہت خراب ہے۔ پیٹ پھول رہاہے۔ پیٹ پھٹنے کا خطرہ ہے ڈاکٹر نے جلد دفنانے کا بولاہے۔ ہم جہاز میں آ رہے ہیں جلد پہنچ جائیں گے میں نے اپنے بندوں کو قبر کا بھی بول دیا ہے۔ ماں بیٹی نیم بے ہوش سکتے کے عالم میں ایک دوسرے کو دیکھ رہی تھی۔


Reader Comments

Be the first to leave a comment on this episode!


Log in to leave a comment.

Selected For You

View More Free Novels

Editor's Choice

Handpicked favorites that you shouldn't miss.

Unlock the Full Library

PKR 300

For 30 Days of Unlimited Access

  • Read all premium and exclusive content
  • Enjoy a seamless, uninterrupted reading experience
  • Directly support the author and her work
Go Premium Now

Experience the Best Urdu Novels Online

The Legacy of Abida Z Shireen

Welcome to the digital sanctuary of Abida Z Shireen, one of Pakistan's most celebrated literary icons. As a premier Urdu storyteller, she has spent decades crafting narratives that capture the soul of our society. This online Urdu reading platform is designed to preserve her vast Urdu literature archive, offering readers a chance to read Urdu novels online that explore the depths of human emotion, culture, and resilience.

Captivating Novels and Social Sagas

From suspense-filled thrillers to heart-touching social dramas, our collection features the best Urdu novels that have captivated millions in publications like Aanchal Digest. Whether you are looking for new Urdu novels 2024 or timeless classics, Abida's work provides a unique lens into family dynamics and romantic storytelling. Dive into her world and discover why she is considered a top Urdu digest writer by fans globally.

Reading Urdu Novels on Tablet and Phone

Soul-Stirring Urdu Poetry Collection

Beyond prose, this platform hosts an extensive Urdu poetry collection. Abida Z Shireen’s verses offer a profound look into spiritual and philosophical themes, available in both Urdu and English. As a featured Urdu poet, her work serves as a bridge between traditional rhythms and modern thought. Join our community of literature lovers to explore famous Urdu poems and exclusive literary insights found nowhere else.

Elegant Desk with Pens and Books