Niyat Be-Naqaab
Episodes
امجد بٹ سجل کے گھر کا فرد بن گیا اس کا چچا بن گیا۔ سجل کے باپ کی بزنس میں ہیلپ کرنے لگا۔ کافی ایمانداری دیکھاتا۔ بھاگ بھاگ کر ان کے گھر کے کام کرتا۔ سارا دن رہتا۔ سجل کو گڑیا رانی کہتے نہ تھکتا وہ بھی اس سے خوش رہتی۔ سجل کی ماں بھولی عورت تھی۔ اسے اس نے سگی بہن بنا لیا۔ کہ میری کوئی بہن نہیں ہے۔ چند بار کسی کو اپنی نقلی بیوی بنا کر لایا۔ پھر جلد واپس لے جاتا کہ اسے اچانک دورہ پڑ جاتا ہے۔ اس لئے وہ ادھر نہیں لاتا۔ اس نے بتایا کہ اس کے دور کے رشتے دار غریب تھے تو اس نے انہیں بیوی کی دیکھ بھال کے لئے رکھ لیا ہے اور بھاری رقم دیتا ہے جس کی وجہ سے وہ اس کا بہت خیال رکھتے ہیں اور اب وہ بےفکر ہو کر کام کرتا ہے۔ سجل کے والدین نے اس کی باتوں کا یقیں کر لیا۔ شروع شروع میں اس نے سجل کے لیے قیمتی گفٹ لانے شروع کیے۔ سجل کے والد منع کرتے تو پیار جتاتے ہوئے کہتا میری یہ جائداد کی بھی وارث ہو گی۔ ورنہ میرا آپ لوگوں کے سوا کون ہے۔ میرا سب کچھ سجل کا ہی تو ہے۔ وہ اس بات سے متاثر ہو جاتے اور مروت میں اسے گھر آنے اور گھلنے ملنے سے نہ روک سکتے۔ وہ اکثر بتاتا کہ آج اس نے ایک غریب بچی کی شادی پر جانا ہے۔ اس کی شادی کے اخراجات میں ہی اٹھا رہا ہوں۔ کچھ شادیوں میں شرکت اس وجہ سے کرتا بھی تاکہ وہ جن سے شادی کے نام پر پیسے لوٹے ان کو دیکھا سکے۔ سجل کو تصویریں لا کر دیکھای اب تو وہ صرف بتاتا اور سجل کے والدین اعتبار کر لیتے۔ اس نے ان کو اعتبار دلانے کے خوب ہتھکنڈے استعمال کیے۔ اور وہ شریف لوگ اس کے جال میں پھنستے چلے گئے۔ وہ سجل کے باپ کے ساتھ بزنس پارٹنر بن گیا۔ اس کے ساتھ بزنس ٹور پر آوٹ آف سٹی جانے لگا۔
سجل کے ساتھ وہ آوٹ آف سٹی گیا اگلے دن اگلے دن امجد بٹ نے سجل کی ماں کو فون پر بتایا کہ سجل کا باپ اچانک بے ہوش ہو گیا تھا اور اسے ہاسپٹل لے کر گئے پر وہ ابھی تک بےہوش ہے۔ آپ فکر نہ کریں میں اس کے ساتھ ہوں زرا طبیعت سنبھلی تو اسے اپنے شہر لے آوں گا اور ادھر اس کا اچھا علاج کروں گا اگر ضرورت پڑی تو اپنی بہن کا سہاگ بچانے کے لیے جان بھی دینی پڑی تو دوں گا وہ رونے پیٹنے لگی کہ ہم آ جاتے ہیں تو اس نے کہا کہ کل تک صبر کرو اور دعا کرو اللہ تعالیٰ میرے بھائی کو جلد شفا عطا فرمائے۔ اور میری عمر بھی اسے لگ جائے۔ اگر زیادہ دن ادھر رکنا پڑا تو میں خود آپ کو بلوا لوں گا اور میں آپ کو مسلسل رپورٹ دیتا رہوں گا آپ بس میری گڑیا رانی کو سنبھالنا اسے رونے نہ دینا اس کی طبیعت خراب ہو جائے گی۔ تب سجل کی ماں اس کی طرف سے فکر میں اپنے آپ کو حوصلہ دینے لگی۔ کچھ امجد بٹ پر بھروسہ تھا کہ وہ ان کے پاس ہے۔ سجل تو رو رو کر نڈھال ہو رہی تھی کہ امجد بٹ کا فون سجل کو آ گیا۔ وہ اسے بڑے پیار سے سمجھانے لگا دیکھو میری گڑیا رانی تم تو brave girl ہو نہ۔ بس پریشان نہیں ہونا دعا کرنا رونے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے بولا میرے بھائی کو کچھ نہ ہو میری عمر بھی اسے لگ جائے۔ اپنی بوڑھی ماں کا خیال کرنا اس کو حوصلہ اور تسلی دینا۔ ورنہ وہ بھی بیمار ہو گئی تو۔ ڈاکٹر نے خطرہ بتایا ہے کچھ بھی ہو سکتا ہے بس تم ماں کو سنبھالنا۔ سجل بامشکل روتے ہوئے بولی۔ آخر انہیں ہوا کیا ہے کیا رپورٹس آی ہیں۔ اس نے کہا ابھی ٹیسٹ ہو رہے ہیں۔ جو بھی رپورٹ آی میں اطلاع دوں گا بس تم بہادر بن کر ماں کو بھوکی نہ سونے دینا۔ خود بھی کچھ کھا لینا۔ سجل فون بند کر کے روتے ہوئے ماں کو تسلی دینے لگی۔ صبح صبح ہی فون پر باپ کی بیماری کی خبر سن کر وہ وضو کر کے ماں کے ساتھ جاے نماز پر بیٹھ کر روتے ہوئے دعائیں کرنے لگی۔ کافی دیر تک وہ دعائیں کرنے کے بعد لاونج میں صوفے پر بیٹھ گئیں۔ سجل نے ماں کی گود میں سر رکھ لیا۔ پھر کچھ سوچ کر اٹھی اور باپ کے پاس جانے کے لئے اپنا اور ماں کا بیگ تیار کرنے لگی۔ سوچا قیمتی سامان ایک بیگ میں ڈال کر حتکہ اس نے گھر کے کاغذات سیف میں پڑی ساری نقدی وغیرہ بھی ڈال کر گیراج میں جا کر گاڑی کی ڈگی میں اپنا اور ماں کا بیگ بھی رکھ آی کہ نہ جانے کتنے دن ادھر لگ جائیں۔ ماں کو بولی انکل سے ایڈریس پوچھ کر ہم خود ہی ڈرائیور کے ساتھ چلے جاہیں گے۔ آپ تیار رہیں۔ اسی وقت فون بجا سجل کی ماں نے فون اٹھایا سجل نے زور سے کہا موم سپیکر آن کر دیں۔ امجد بٹ نے روتے ہوئے کہا کہ بھابھی حوصلے سے سنیے گا بری خبر ہے۔ میرا جگر میرا بھائی ہم سے دور چلا گیا ہے ہم اسے لا رہے ہیں۔ اس کی حالت بہت خراب ہے۔ پیٹ پھول رہاہے۔ پیٹ پھٹنے کا خطرہ ہے ڈاکٹر نے جلد دفنانے کا بولاہے۔ ہم جہاز میں آ رہے ہیں جلد پہنچ جائیں گے میں نے اپنے بندوں کو قبر کا بھی بول دیا ہے۔ ماں بیٹی نیم بے ہوش سکتے کے عالم میں ایک دوسرے کو دیکھ رہی تھی۔

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.