Niyat Be-Naqaab
Episodes
سجل نے کہا کہ چند ماہ میں مصروف ہوں۔ میں نوکری کے کنٹریکٹ پر ہوں۔ نیلم نے پوچھا کہ احد کے بچہ ہونے تک فارغ ہو جاو گی وہ بولی امید تو ہے۔ نیلم بولی ہمیں اس کے بچے کے لیے کسی سمجھدار اور پڑھی لکھی آیا کی ضرورت ہے تم اس معیار پر پوری اترتی ہو۔ پیچھے سے احد کی آواز آئی نیلو آپی کس سے بات کر رہی ہیں۔ وہ بولی کچھ نہیں تمھارے آنے والے شہزادے کے لیے آیا کا انتظام کرنے میں لگی ہوں۔ پھر سجل سے رعب سے بولی سنو اگر تم شادی شدہ نہ ہوتی تو کبھی تمھیں گھر میں گھسنے نہ دیتی۔ اور احد سے دور رہنا سمجھی۔ کہہ کر فون بند کر دیا۔ سجل خوش ہوتے ہوئے دل میں گویا ہوئی۔ شکریہ نیلم آپا۔ آپ نے احد کے دل کا حال بتا کر مجھے خوش کر دیا۔ ورنہ احد صاحب نے تو کبھی نہیں تھا بتانا۔
اب وہ اپنا خاص خیال رکھنے لگی تھی ورنہ ماں شور کرتی رہتی مگر وہ دھیان نہ دیتی تھی۔ نیلم سے بات کر کے وہ مطمئن ہو گی تھی کہ وہ اب بیٹے کو خود پالے گی باپ کے ساے میں بھی رہے گا اور اس کی نظروں کے سامنے بھی رہے گا۔
احد کی بیوی اچانک آ گی خالہ رشیدہ نے جلدوں سے بیٹی کے پیٹ پر گدی ڈال کر چادر اڑا کر اس کے سامنے کر دیا اور سجل کی رپورٹس اسے دیکھا دیں۔ اس نے چیک کیں پھر اس کی بیٹی سے پوچھا تم خوشی سے دے رہی ہو نا بچہ۔ جی جی خوشی سے دے رہی ہوں۔ خالہ جھٹ بولی کہ اور پیدا کر لے گی بچہ۔ ویسے بھی غریبوں کے بچے زیادہ ہوتے ہیں۔ اس کو دے گی تو اس پیسے سے اور بچوں کو اچھا پال لے گی۔ وہ ہدایت دیتے ہوئے بولی۔ اس کا خیال رکھنا اس کو ریگولر چیک اپ کرانا۔ اس کی خوراک کا خیال رکھنا۔ اس نے نوٹوں کی گڈی اس کی طرف بڑھا کر چل پڑی۔ خالہ رشیدہ بولی یہ سجل تو اس کے لئے بڑی لکی ہے۔ دونوں ہنسنے لگیں۔
سجل کا لاسٹ ماہ چل رہا تھا احد کی بیوی خالہ سے رابطے میں رہتی۔ اچانک پارلر والی کا فون آیا کہ اس نے پارلر فروخت کر دیا ہے۔ وہ لوگ ابھی آنے والے ہیں۔ سب کچھ ان کے حوالے کر دینا۔ سجل کو غصہ آیا اس نے کہا کہ آپ نے اسے کیوں بیچا۔ مجھے کم از کم پہلے بتا دیتی میں اپنا رہائش کا انتظام کر سکتی۔ اب میں اتنی جلدی کیسے بندوبست کروں۔ کم از کم مجھ ون ویک کا وقت چاہیے تاکہ میں بندوبست کر سکوں۔

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.