Niyat Be-Naqaab
Episodes
سجل نے ڈرائیور اور امجد بٹ کی موبائل کی سم نکال کر موبائل گاڑی کی سیٹ پر رکھ کر لاک کر کے ماں کو جلدی اتر کر رکشے میں بیٹھنے کا کہا۔ رکشے والے کو ہزار کا نوٹ پکڑا کر کہا یہ لو کرایہ باقی ادھر جا کر حساب کر دیں گے۔ رکشہ نیا اور ڈبل سیٹ والا تھا جس کے سامنے بھی سیٹ ہوتی ہے۔ سجل نے رکشے والے کی مدد سے رکشے میں بیگ رکھواے۔ اور اسے جلدی چلنے کا کہا کہ اس کی ماں کی طبیعت سخت خراب ہے۔ رکشہ تھوڑی دور گیا تو سجل نے رکشے کے دروازے کی اوٹ سے دیکھا ڈرائیور ادھر ادھر دیکھ رہا تھا پھر اس نے لاک کھول کر موبائل بغیر دیکھے جیب میں ڈال کر گاڑی لاک کی۔ پانی کی بوتل اس نے اٹھائی ہوئی تھی۔ پھر اس نے گاڑی لاک کی اور ہاسپٹل کے اندر چلا گیا سجل نے سکھ کا سانس لیا۔ رکشے والا جوان لڑکا تھا سجل سے پوچھنے لگا کدھر ہے کلینک۔ وہ بولی ابھی سیدھے چلتے جاو۔ وہ ہاسپٹل سے دور نکل جانا چاہتی تھی۔ دل میں کرائے کا گھر ملنے کی دعائیں کر رہی تھی سخت پریشان تھی۔ اس کے باپ کی جس طرح اچانک موت ہوئی تھی وہ امجد بٹ سے ڈر گئی تھی۔ اب بھی ڈر رہی تھی کہ نہ جانے آگے کیا ہو۔ اس نے رکشے والے سے پوچھا کہ تم کہاں رہتے ہو اس نے کہا کہ ادھر سے تھوڑا دور ہی ہے۔ اس نے اپنی اور ماں کی بھی جلدی سے سم نکال دی کہ وہ موبائل سے لوکیشن ٹریس نہ کر لے۔ پھر اس سے پوچھا تمھارے علاقے میں کوئی ایک کمرے کا گھر خالی ہے۔ ہمارا کمرہ ہے نا اماں اسے کراے پر لگانا چاہتی ہیں۔ سجل نے کہا کہ پہلے اسے گھر لے چلو اماں تھک گئی ہیں لیٹنا چاہتی ہیں۔ گھر پسند آیا تو لے لیں گے۔ وہ گھر کی تعریفیں کرنے لگا پھر اس نے ماں کو فون پر بتا دیا۔ اس نے خوش ہو کر کہا جلدی لے آو۔ جب اس علاقے میں پہنچے تو کوئی گھر خستہ حال اور کچھ بہتر تھے مگر پاس ہی ایک زرا بہتر سوسائٹی تھی۔ سجل نے اتر کر کرایہ پوچھا اس کی ماں انتظار میں کھڑی تھی اس نے کہا کہ آپ نے کریا دے دیا۔ میں نے دے دیا مگر باقی واپس دو میرے پاس چینج نہیں تھا وہ بولا مگر آپ تو کہہ رہی تھی کہ فالتو دوں گی۔ جتنے بنتے ہیں اس کے اوپر پچاس لے لو۔ وہ بولا صرف پچاس۔ سجل بولی میں اس سے زیادہ نہیں دے سکتی۔ میرے پاس زیادہ رقم نہیں ہے گھر کی چیزیں لینی ہیں کرایہ دینا ہے ماں کی دوا کے بھی نہیں بچے اس لئے آ گی ہوں۔ ماں حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔ پھر بیٹی کی بات یاد آ گی کہ موم لوگ ہمارے حلیے دیکھ کر امیر سمجھ کر لوٹنے کی کوشش کریں گے اور ابھی ہم نے پیسے بچا کر سوچ سمجھ کر خرچ کرنے ہیں۔ نہ جانے کب تک ان پر گزارہ کرنا ہے لوگوں کو ظاہر کرنا ہے کہ ہم غریب ہیں ورنہ کوئی چوری بھی کر سکتا ہے۔ رکشے والے کی ماں بیٹے سے بولی چل ٹھیک ہے اس کی بیٹی بھی مسکراتی ہوئی آ کر کھڑی ہو گئی۔ رکشے والے نے باقی رقم اسے دی اور سامان کمرے میں رکھ کر چلا گیا۔ اس کمرے کا کتنا کرایہ ہے۔ دس ہزار اسے بہت کم لگا پھر بھی وہ بولی ہم اتنا نہیں دے سکتے یہ بہت زیادہ ہے میرے والد سب سرمایہ بیچ کر باہر کمانے چلے گئے وہاں جاتے ہی وہ حادثے کا شکار ہو کر فوت ہو گئے مالک مکان نے گھر خالی کروا لیا۔ اب ہم بہت مشکل میں ہیں۔ میں ساتھ کوئی نوکری کر لوں گی تاکہ گھر کا خرچہ نکلتا رہے۔ مالکن بولی ٹھیک ہے مگر آٹھ ہزار سے کم نہ ہو گا۔ سجل نے کمرے کا جاہزہ لیا۔ دیواروں پر سے سیمنٹ اکھڑ رہا تھا فرش بھی سیمنٹ کا تھا لکڑی کا خستہ حال دروازہ لکڑی کا خستہ حال۔ کمرے کے باہر ایک ٹین کے چھت کا خستہ حال چھوٹا سا کچن تھا پھر تھوڑا سا صہن۔ باہر ایک اور لکڑی کا پرانا دروازہ کونے میں کچن کی طرح ٹین کے چھت والا پرانی سیٹ والا باتھ روم۔ باتھ روم کے باہر ایک اونچا نلکہ لگا ہوا تھا۔ سجل نے پوچھا کچھ پرانا سا مان خریدنا ہے۔ نیا نہیں خرید سکتی۔ مالکن نے کہا کہ پاس ہی بازار ہے۔ میں تمہیں سارا سامان سستا لے دوں گی۔ اس نے اپنا کچھ پرانا سامان بیچنے کے لیے آفر کیا وہ سجل نے لے لیا۔ اس میں پرانا درمیانی ساہز کا فرج دو لوہے کی چارپائیوں کے علاوہ دو لکڑی کی کرسیاں ایک لکڑی کی پرانی میز ایک لوہے کی پرانی الماری جس کا مضبوطی لاک بھی تھا سجل نے آدھی رقم دی باقی اسے التجا کی کہ وہ بعد میں قسطوں میں ادا کر دے گی۔ ابھی وہ نہیں دے سکتی۔ اس نے مان لیا۔ سجل نے سامان سیٹ کیا۔ ماں بولی سارے پیسےا کھٹے کیوں نہیں دہیے۔ اور یہ نوکری کا کیا چکر ہے تمھاری پڑھائی۔ سجل بولی موم اگر میں نوکری کا نہ بتاتی تو یہ لوگ ہمیں امیر سمجھ کر لوٹنےآ جاہیں گے اور ہمیں مار کر چلے جاہیں گے۔ میں کالج میں پڑھنے جاوں گی اور ان لوگوں کو یہ بتاوں گی۔ کہ میں ادھر نوکری بھی کرتی ہوں اور تھوڑی بہت پڑھائی بھی کر لیتی ہوں۔ یہ ان پڑھ لوگ۔ ان کو کیا پتا۔ ماں اس کی دوراندیشی کی قاہل ہو گی بولی بلکل دادا پر گی ہے وہ بھی دور کی سوچتے تھے۔ پہلی رات ان کے گھر میں قیامت کی رات تھی غم بھی باپ کا ابھی تازہ تھا مالکن نے سبزی اور روٹیاں بھیج دی تھی۔ وہ دونوں دروازہ بند کر کے ساری رات اپنی قسمت کو روتی رہی۔ ماں نے کہا کہ تو پڑھنے جائے گی اور اگر اس نے دیکھ لیا تو۔ سجل بولی موم رسک تو لینا ہی پڑے گا ورنہ میں جاہل رہ جاوں گی۔ ماں نے اسے گلے لگا کر خوب پیار کیا اور تعریف کی کہ تو بہت عقلمند ہے اور مصیبت میں نہ گھبراتی ہے اور ڈٹ کر مقابلہ کرتی ہے۔ میں تو ایسی باتیں سوچ بھی نہ سکتی تھی۔ مجھے امید ہے کہ تو آگے بھی کامیاب رہے گی۔ انشاءاللہ۔

Reader Comments
Be the first to leave a comment on this episode!
Log in to leave a comment.